ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ آمریت ہے


آمریت کا جو انجام ہوتا ہے سو ہوتا ہے مگر آمریت قائم ہونے سے ملک کو ہمہ وقت اپنی سلامتی کے حوالے سے خطرات سے نبردآزما رہناپڑتا ہے۔ سیاسی بے یقینی اور حزب اختلاف کی جانب سے لگا تار پنجہ آزمائی آمریت کو کسی وقت بھی قومی بدقسمتی کے طور پر سامنے لا کھڑا کر دیتا ہے۔ جنرل فیض چشتی بھٹو حکومت کے خلاف جنرل ضیا کے فوجی اقدام کے اہم ترین ساتھیوں میں سے تھے۔ اگر آپ ان کی کتاب ”بھٹو ضیا اور میں“ کا مطالعہ کریں تو واضح طور پر محسوس ہو گا کہ وہ بھٹو حکومت کے خلاف اٹھائے گئے فوجی اقدام کو ملک کے لئے ناگزیر سمجھتے تھے۔ مگر اس بات کا بھی اس میں اقرار موجود ہے کہ اس اقدام کے سبب وفاق پاکستان کا خاتمہ بھی ہو سکتا تھا۔ اگر جنرل ضیاکسی حادثے کا شکار ہو جاتے۔

جنرل چشتی تحریر کرتے ہیں کہ جنرل ضیا CMLA ہے جنہیں دنیا کے تمام ممالک انتظا می سربراہ کی حیثیت سے جانتے اور مانتے ہیں۔ وہ بری فوج کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کا نہ تو ڈپٹی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہے اور نہ ہی ڈپٹی چیف آف آرمی ا سٹاف اگر خدانخواستہ کوئی جوابی انقلاب آتا ہے یا وہ موت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں اور وہ CMLA نہیں رہتے تو ملک میں کیا ہو گا۔ جب تک فضل الٰہی چوہدری صدر کے عہدے پر قائم رہے ملک کا آئینی سربراہ موجود تھا اور وفاق پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن جب وہ صدارت سے علیحدہ ہو گئے اور جنرل ضیانے صدارتی منصب بھی سنبھال لیا تو صورتحال خاصی تشویش ناک ہو گئی تھی۔ اس لئے سوال یہ تھا کہ اگر جنرل ضیا انتقال کر جاتے ہیں تو ملک کا انتظامی سربراہ یعنی CMLA کون ہے؟

جنرل چشتی نے اس کا حل جنرل ضیا کو یہ پیش کیا کہ کوئی نائب CMLA مقرر کر دیا جائے تا کہ ایسی صورت میں خلا نہ پیدا ہو۔ کیونکہ ایسے خلاکی صورت میں انہوں نے صوبوں میں کچھ مخصوص رجحانات کا اس وقت ذکر کیا کہ جن کا اس کالم میں ذکر مناسب نہیں۔ خیال رہے کہ جب وہ بھٹو حکومت کا تختہ الٹتے وقت اس اہم ترین معاملے کو طاقت کے زور پر نظر انداز کر رہے تھے کہ اگر بعد میں جنرل ضیا نہ رہے تو کیا ہوگا تو ان کی نظریں اس حقیقت تک بھی نہیں پہنچ سکتی تھیں کہ نائب مقرر ہونے کے باوجود اگر معاملات مکمل طور پر غیر آئینی ہی رہتے تو نائب کبھی بھی اس ممکنہ افرا تفری کو روک نہیں سکتا تھا۔ نتیجہ جنرل چشتی کے اپنے الفاظ میں ہے کہ جنرل ضیا کو طاقت کے ذریعے علیحدہ کرنے کا مطلب وفاق کا خاتمہ ہو گا۔ صرف اس جملے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آمریت کے قائم ہونے سے سب سے بڑا خطرہ ملک کو ہی لاحق ہوتا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ آمروں کے لئے دیدہ و دل فرش راہکیے سیاستدان بھی کیا اس حقیقت سے نا آشنا تھے یا جان بوجھ کر انجان بن گئے۔

اسی بارے میں: ۔  پھولوں سے نہیں، صاحب دھماکوں سے ڈر لگتا ہے

جنرل ضیا کو مارشل لاء نافذ کرنے کے سبب ہمیشہ مورد الزام ٹھہرایا جائے گا مگر پی این اے کی اس تحریک کے حوالے سے کیا کہا جائے جو صرف ہر قیمت پر بھٹو ہٹائو منصوبے پر عمل پیرا تھی۔ اور ہر حد تک جانے کے لئے تیار تھی۔ اس میں سب سے اہم امر یہ ہے کہ ملک میں آئینی حکومت کے خاتمے اور فوجی انقلاب کا سبب بننے والی پی این اے کے اکثر رہنما جنرل ضیاء کے دور میں معتوب ہی ٹھہرے اور پھر ایم آر ڈی بنا کر جمہوریت کو بحال کرواتے نظر آئے۔ مگر جو نقصان 1973 کے آئین کو بے حرمت کرنے صوبوں میں پھیل گیا کہ اگر اس دستاویز پر کچھ مان بھی لیا گیا ہے تو اس کی پائیداری کی کوئی ضمانت نہیں جو آج بھی باقی ہے اور قومی سلامتی کو کچوکے لگاتی رہتی ہے۔ یہ تو کوئی بہت پرانا قصہ نہیں کہ پی این اے کی مانند نوازشریف کی گزشتہ حکومت کے خلاف جی ڈی اے وجود میں آیا تھا۔

اس کا صرف ایک ہی نکتہ تھا کہ نوازشریف ہٹائو۔ جی ڈی اے سے قبل حزب اختلاف کی جماعتوں نے پاکستان عوامی اتحاد کے نام سے اتحاد قائم کیا تھا اور اس اتحاد کا ایجنڈا 14نکات پر مشتمل تھا یعنی وسیع تھا۔ مگر بعد میں پاکستان عوامی اتحاد کا خاتمہ ہوا اور صرف نواز ہٹائو ایجنڈے پر جی ڈی اے وجود میں آ گئی۔ پی این اے جیسی تحریک تو نہ چلی مگر پرویز مشرف کی ہوس اقتدار پورا کرنے میں ضرور معاون ثابت ہوئی۔ کہ جب 12 اکتوبر 1999 کو قومی بدقسمتی وقوع پذیر ہوئی تو حزب اختلاف وہی تھا جو پی این اے کا جنرل ضیاکے مارشل لاکے وقت تھا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ صوبائیت اور مذہبی دہشت گردی کے نام پر ہزاروں بے گناہ پاکستانی اپنی جان سے گئے، مقتولوں کے لاکھوں پسماندگان در بدر ہو گئے اور وہ حزب اختلاف جو 12 اکتوبر 1999کو اس غیر جمہوری اقدام پر آئین کے ساتھ کھڑی نہیں تھی کچھ عرصے میں ہی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد برائے بحالی جمہوریت تشکیل دے رہی تھی۔ صرف مسلم لیگ ہی نہیں دیگر سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ زوروشور سے شروع کر دی گئی۔ اسی دوران دھیرے دھیرے توانائی کا بحران منہ کھولے سامنے آ کھڑا ہوا کہ جس سے ابھی تک قوم کی گلو خلاصی نہ ہو سکی۔

اسی بارے میں: ۔  ہوئے مر کے جو ہم رسوا (3)۔

12اکتوبر کے تسلسل میں نواب اکبر بگٹی سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے المناک ترین واقعات کہ جنہوں نے وطن عزیز کے درو دیوار ہلا دیے ہمارا مقدر بنے۔ خدا خدا کر کے مشرف کی آمریت سے جان چھوٹی اور عوام کے پاس رائے دہندگی کا حق واپس آ گیا اور گزشتہ کم و بیش 4 برسوں میں جمہوریت کے ثمرات سی پیک کے معاملات ہوں یا بلوچستان میں علیحدگی کی دم توڑتی تحریکیں یا ہزارہ برادری کے لئے امن کی واپسی، سامنے آنا شروع ہو گئی۔ ان معاملات کی بازگشت صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں سنی جا رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں ICMAP اور ICAP نے اسلام آباد میں سائوتھ ایشین فیڈریشن آف اکائونٹنٹس کی کانفرنس کروائی جس میں بھارت سمیت دنیا بھر کے مندوبین نے شرکت کی۔ دنیا بھر کے اور بالخصوص بھارت کے مالی امور سے وابستہ ممتاز شخصیات پاکستان کے حوالے سے سی پیک اور بلوچستان میں لسانی و فرقہ ورانہ امن اور پاکستان پر اس کے اثرات پر ہی گفتگو کرتی نظر آئیں۔ مگر اس سب کے باوجود حزب اختلاف میں بیٹھی جماعتیں ماسوائے اے این پی اور ایم کیو ایم کے جو طریقہ کار اختیار کر رہی ہیں وہ ماضی کے 1977 اور 1999سے چنداں مختلف نہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔