اروند کیجریوال، عام آدمی پارٹی اور کرپشن کے الزامات


سماجی کارکن انّا ہزارے دہلی آئے، انھوں نے بدعنوانی کے خلاف تحریک چلائی اور جب تک وہ واپس مہاراشٹر لوٹے اس وقت تک وہ زمین تیار ہوچکی تھی جس پر عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ صرف چھ سات سال میں اس تحریک نے سیاست کے نشیب و فراز دونوں ہی دیکھ لیے اور اب ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سے اسے اپنی منزل اور مستقبل دونوں ہی دھندلے نظر آرہے ہوں گے۔

بدعنوانی کے خلاف تحریک انّا ہزارے کی قیادت میں شروع ہوئی، وہ دلی کے رام لیلا میدان میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے اور اچانک ایسا لگا کہ ملک کی سیاست میں انقلاب آنے والا ہے، لوگ بدعنوانی سے تنگ آچکے ہیں اور صاف شفاف سیاست کے لیے سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں۔ تبدیلی کے لیے ایسی بےچینی اس سے پہلے شاید 1970 کے عشرے میں ایمرجنسی کے دوران ہی دیکھی گئی تھی۔

عام آدمی پارٹی کی کمان اروند کیجریوال، اور ان کے دو ساتھیوں منیش سیسودیا اور کمار وشواس نے سنبھالی، آخرالذکر شاعر بھی ہیں۔ دو سال پہلے، دلی کے اسمبلی انتخابات میں آپ یعنی عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے67 نشستیں حاصل کیں۔ تھوڑے ہی دنوں میں پارٹی میں اندرونی چپقلش بڑھنے لگی، اعلی قیادت میں اختلافات پیدا ہونے لگے

تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے بعد پارٹی نے ایک بڑی غلطی کی اور وہ اپنی جڑیں مضبوط کیے بغیر تیزی سے چاروں طرف قدم بڑھانے لگی۔ کہا جانے لگا کہ اروند کیجریوال کو وزیراعظم بننے کی جلدی ہے۔ اس کے علاوہ یہ الزام بھی ہے کہ بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنانے کے لیے دلی پولیس کو استعمال کیا اور حکمرانی کی راہ میں جو رکاوٹیں ڈالی جاسکتی تھیں، وہ ڈالی گئیں۔

عام تاثر یہ بھی ہے کہ اروند کیجریوال حزب اختلاف سے برسراقتدار پارٹی کا سفر ٹھیک سے طے نہیں کرپائے اور انھوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کی سیاست کا سلسلہ جاری رکھا جس سے کافی لوگ بدظن ہوئے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی میں اندرونی چپقلش بڑھنے لگی، اعلی قیادت میں اختلافات پیدا ہونے لگے اور یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ عام آدمی پارٹی جس فرسودہ سیاسی نظام کے خلاف کھڑی ہوئی تھی، اسی کے رنگ میں رنگتی جارہی ہے۔ کئی سینیئر رہنماؤں نے الزام لگایا کہ پارٹی میں اندرونی جمہوریت ختم ہوگئی ہے اور ایک ‘گروہ’ تمام فیصلے کر رہا ہے۔

اس سب کا مجموعی اثر حالیہ اسمبلی انتخابات میں نظر آیا۔ پنجاب اور گوا میں کہا جارہا تھا کہ عام آدمی پارٹی حکومت بنا سکتی تھی لیکن اس کا مظاہرہ مایوس کن رہا۔ پھر پارٹی دلی کے بلدیاتی انتخابات میں بھی ہار گئی جہاں صرف دو سال پہلے ہر طرف اس کا پرچم لہرایا تھا۔

اور اب عام آدمی پارٹی کے ہی ایک سینیئر رہنما کپل مشرا نے وزارتی کونسل سے ہٹائے جانے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ‘خود اپنی آنکھوں سے’ اروند کیجریوال کو ایک وزیر سے دو کروڑ روپے لیتے ہوئے دیکھا تھا۔ پارٹی نے اس الزام کو مسترد کیا ہے لیکن یہ خبر مستقل ٹی وی چینلوں پر چھائی ہوئی ہے اور حزب اختلاف کے رہنما اروند کیجریوال کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اروند کیجریوال سے ناراض ہو کر پارٹی چھوڑنے والے رہنما بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ نہیں مان سکتے کہ انھوں نے رشوت لی ہو گی۔ بہرحال، سچ سامنے آنے میں وقت لگتا ہے اور تب تک یہ الزامات گردش کرتے رہیں گے، خاص طور پر اس وجہ سے کہ الزام خود عام آدمی پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے لگائے ہیں۔ ‘الزام تراشی’ کی سیاست خود اروند کیجریوال نے بھی بہت کی ہے اور اس وقت بھی انھیں ہتک عزت کے ایک مقدمے کا سامنا ہے جو ان کے خلاف وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے دائر کیا تھا۔

پارٹی اس وقت سخت آزمائش سے گزر رہی ہے اور بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ بکھر بھی سکتی ہے لیکن جس صاف ستھری سیاست کے وعدے کے ساتھ عام آدمی پارٹی اقتدار میں آئی تھی، اس کے لیے سیاسی زمین اب بھی باقی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اروند کیجریوال دوبارہ عوام کو یہ یقین دلاسکتے ہیں کہ ان کا طریقہ کار اور حکمت عملی بھلے ہی غلط ہوں لیکن نیت غلط نہیں؟

اگر ہاں، تو یہ تحریک دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے، اگر نہیں تو یہ ان تمام لوگوں کے لیے بری خبر ہوگی جو اب بھی مانتے ہیں کہ سیاست کے روایتی انداز کو چینلج کیا جاسکتا ہے۔

(سہیل حلیم)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 471 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp