مجھے بجلی دو مجھے پڑھنا ہے


کراچی کے گورنمنٹ راحت اسلامیہ گرلز سکول کی طالبات ایک سال سے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سڑک پر نکل آئیں اور احتجاج کیا کہ ان کو بجلی دی جائے تاکہ وہ قیامت خیز گرمی سے بچ جائیں۔ اس موقعہ پر طالبات اور اساتذہ کا کہنا تھا کے وہ اس شدید گرمی میں بے ہوش ہو رہی ہیں۔ اس لئے سکول کی بجلی کو بحال کیا جائے تاکہ طالبات تعلیم حاصل کر پائیں۔

پاکستان میں کبھی ایسا بھی وقت تھا جب درخت کی ٹھنڈی چھاوں کے نیچے سکول لگا کرتے تھے اور اس وقت نہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ تھی نہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، مزے سے درخت کے نیچے تعلیم حاصل کی جاتی تھی اور ساتھ ساتھ استاد کے ڈندے سے بڑا ڈر لگا کرتا تھا اور کسی کو اگر اس ڈندے سے مار پڑ گئی تو پھر وہ بچہ یا تو روز سکول آتا تھا یا پھر وہ سکول کی گلی سے بھی بھول کے نہیں گزرتا تھا۔

خیر وہ زمانہ تو گزر گیا اب توہم ماڈرن دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ اب اگر بجلی، یو پی ایس، جنریٹریا سولر سسٹم نہ ہو تو لگتا ہے کہ سانس ہی نہیں آ رہی ہے۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس وقت جب پورے ملک میں موسم گرم اور خشک ہوتا جا رہا ہو اور ایک سکول میں ایک سال سے بجلی نہ ہو، اس میں بے چارے معصوم بچے کس طرح تعلیم حاصل کر رہے ہوں گے اور ان کے اساتذہ کس طرح ان کو تعلیم کا زیور دے رہے ہوں گے۔ پاکستان میں جنگلات اور درختوں کی بے دریغ کٹائی اور موسمی تغیرات کے باعث اب یہ ممکن نہیں ہے کہ بجلی کے بغیر بچے تعلیم حاصل کر پائیں۔ اگر سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے دور دراز کے سرکاری سکولوں کی بات کی جائے، جہاں بجلی کبھی کبھی آتی ہے بے چارے بچے اور ان کے اساتذہ کی کیا صورتحال ہوگی اور کیا یہ ممکن ہوگا کہ اس طرح کے ماحول میں بچے معیاری تعلیم حاصل کر پائیں۔

اسی بارے میں: ۔  بلوچستان میں زندہ کون ہے؟

ابھی بھی پورے ملک میں کھلے آسمان کے نیچے ایسے بھی سرکاری سکول ہیں جن کے پاس، نہ واش روم ہے نہ ہی چار دیواری کا کوئی نظام۔ کیا ایسی صور تحال میں ملک اور قوم ترقی کر سکتی ہے؟ اگر اسلام آباد کے سرکاری سکول کی بات کی جائے تو یہان پر بجلی تو ہے مگر لوڈ شیڈنگ سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں۔ بے چارے بچے جب لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، تو وہ اپنی کاپیوں کو ہاتھ والا پنکھا بنا کر ٹائم پاس کرتے ہیں۔ ایک طرف تو ملک میں اردو میڈیم اور انگریزی میڈیم کا دہرا نظام رائج ہو اور دوسری طرف اکثر سرکاری سکولوں کا برا حال ہو، جہاں پر سہولیات کم اور مشکلات زیادہ ہوں اور ان سرکاری سکولوں کا مد مقابل وہ پرائیویٹ سکول ہوں جہاں معیاری تعلیم سے لے کر ذہنی اور جسمانی نشوو نما کا خیال رکھا جاتا ہو، نہ لوڈ شیڈنگ کا ڈر نہ ہی کوئی سرکاری سکولوں والے مسئلے مسائل۔ یہاں پر تو لگتا ہے کہ ہم خود دہرے نظام اور امیر غریب کی تقسیم کر رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود کہتے ہیں کہ علم کسی کی میراث نہیں ۔

ان تمام تر مشکلات اور دہرے نظام کے باوجود ان سرکاری سکولوں سے ہونہار طلبا اور طالبات نکل کر ملک اور قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ ملک کی تمام صوبائی اور وفاقی حکومتیں بلند و بانگ دعوے تو کرتی ہیں کہ اصل تبدیلی تعلیم کے ذریعے آتی ہیں، مگر ابھی تک تعلیم کا بجٹ GDP کا 5 فیصد نہ ہو پایا ہے اور ہمارے بے چارے سرکاری سکول، طلبا اور اساتذہ محرومیوں کا شکار ہوتے آ رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تمام سرکاری سکولوں میں بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے متبادل انتظام کے ساتھ تمام جدید سہولیات مہیا کریں تاکہ ان سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے غریب عوام کے بچے سکون کے ساتھ معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ ورنہ اس سخت گرمی اور لوڈشیدنگ میں ان سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا کسی سزا سے کم نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  سوات میں تحریک انصاف کے تعلیمی انقلاب کی باتصویر حالت زار

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔