پاکستان 1962ء میں ٹوٹ گیا تھا


 کیا آپ یقین کریں گے کہ پاکستان کے ایک وفاقی وزیر قانون نے 1962ء میں اپنی ڈائری میں لکھ دیا تھا کہ پاکستان ٹوٹ گیا ہے؟ جی ہاں! جنرل ایوب خان کی مارشل لا حکومت کے بنگالی وزیر قانون جسٹس محمد ابراہیم کی کتاب ’’ڈائریز آف جسٹس محمد ابراہیم‘‘ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان 1971ء میں نہیں 1962ء میں ٹوٹ گیا تھا۔ 1971ء میں تو مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کا نام دینے کی رسمی کارروائی ہوئی تھی۔ جسٹس محمد ابراہیم کی ڈائریوں اور جنرل ایوب خان کے ساتھ اُن کی خط و کتابت پر مشتمل یہ کتاب اُن کی صاحبزادی ڈاکٹر صوفیہ احمد نے مرتب کی ہے جو ڈھاکہ یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک ہسٹری اینڈ کلچر کی سابق سربراہ ہیں۔ جسٹس محمد ابراہیم کی یادداشتوں پر مشتمل یہ کتاب 1960ء سے 1966ء تک کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے اور کتاب میں حساس نوعیت کی خفیہ دستاویزات کو بھی شامل کیا گیا ہے، شاید اسی لئے یہ کتاب جسٹس محمد ابراہیم کی وفات کے  45سال بعد شائع کی گئی ہے۔ جسٹس محمد ابراہیم 1958ء سے 1962ء تک جنرل ایوب خان کی پہلی کابینہ میں وزیر قانون تھے۔ ایوب خان کے ساتھ اُن کے اختلافات کا آغاز 1962ء کے صدارتی آئین پر ہوا۔ جسٹس محمد ابراہیم پارلیمانی نظام حکومت کے حامی تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ صدارتی نظام مشرقی پاکستان کے احساس محرومی میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے وزیر قانون کی حیثیت سے جو آئینی تجاویز دیں وہ مسترد کر دی گئیں۔ نومبر 1961ء کے بعد اُنہوں نے کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کرنا بند کر دی۔ جنرل ایوب خان نے اُن کو راضی کرنے کے لئے وزیر خزانہ محمد شعیب، وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور ہاشم رضا کو بھیجا لیکن جسٹس محمد ابراہیم نے ان سب کو جواب دیا کہ وہ پاکستان کی تباہی کے آئینی منصوبے میں شامل نہیں ہو سکتے۔ کابینہ کے تین دیگر بنگالی وزراء حفیظ الرحمان، حبیب الرحمان اور اے کے خان بھی جسٹس محمد ابراہیم کے موقف کی تائید کرتے تھے لیکن انہوں نے کبھی استعفے کی دھمکی نہ دی۔ جنوری 1962ء میں حسین شہید سہروردی کو کراچی میں گرفتار کر لیا گیا تو 5فروری کو جسٹس محمد ابراہیم نے جنرل ایوب خان سے ملاقات کی اور انہیں کہا کہ سہروردی کی گرفتاری ایک ’’بلنڈر‘‘ ہے لیکن ایوب خان نے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ میں نے اُسے ڈھاکہ کے بجائے کراچی میں گرفتار کیا ہے تاکہ زیادہ عوامی ردعمل نہ ہو۔ جسٹس محمد ابراہیم نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ صدر ایوب خان کو بھی پتا ہے کہ اُن کے صدارتی آئین کے خلاف شدید مزاحمت ہو گی اور متوقع مزاحمت کو روکنے کے لئے وہ ایک ظالم ڈکٹیٹر کے انداز میں انسانی آزادیاں چھین رہے ہیں۔ اپنی ڈائری میں یہ الفاظ لکھنے والا دردمند شخص وزارت سے استعفے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

حسین شہید سہروردی کو غداری کے الزام میں جیل پہنچانے کے بعد جنرل ایوب خان راجشاہی یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کے لئے مشرقی پاکستان پہنچے جہاں اُنہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی جانی تھی۔ جسٹس محمد ابراہیم اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب خان کے ڈھاکہ پہنچتے ہی پورے مشرقی پاکستان میں طلبہ نے سہروردی کی رہائی کے لئے مظاہرے شروع کر دیئے۔ کتاب کے صفحہ 140پر وہ لکھتے ہیں کہ طلبہ نے پاکستان سے علیحدگی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس موقع پر جسٹس محمد ابراہیم نے جنرل ایوب خان سے ڈھاکہ میں ملاقات کی اور استعفے کی پیشکش کر دی۔ فوجی صدر نے اپنے وزیر قانون کو استعفے سے روک دیا۔ خیال تھا کہ وہ پاکستانی عوام پر صدارتی آئین مسلط کرنے کا ارادہ ترک کر دیں گے لیکن جب اس آئین کو نافذ کرنے کا اعلان ہو گیا تو پہلے مشرقی پاکستان کے گورنر جنرل اعظم خان اور پھر وزیر قانون جسٹس محمد ابراہیم نے وزارت قانون سے استعفیٰ دے دیا۔ حکومت نے ایک اعلامیے کے ذریعے اخبارات کو بتایا کہ وزیر قانون نے بیماری کے باعث استعفیٰ دیا ہے جس پر جسٹس محمد ابراہیم نے جنرل ایوب خان کو خط لکھا کہ وہ اپنے استعفیٰ میں 1962ء کا آئین مسترد کر چکے ہیں اور استعفے کی نقل اخبارات کو جاری کرنا چاہتے ہیں۔ فوجی صدر نے جواب میں جسٹس محمد ابراہیم کو ایسی کسی حرکت پر سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ کتاب پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود جسٹس محمد ابراہیم نے کوئی قانونی ضابطہ اور اخلاقی روایت نہیں توڑی لیکن جنرل ایوب خان دھونس پر اُتر آئے تھے۔ اگر ٹوئٹ کا زمانہ ہوتا تو جسٹس محمد ابراہیم ایک مختصر ٹوئٹ کرتے کہ میں 1962ء کا آئین مسترد کرتا ہوں اور پھر خاموشی اختیار کر لیتے۔ لیکن وہ ٹوئٹ کے نہیں ٹیلی گرام اور ٹیلی فون کے زمانے میں زندہ تھے۔ انہوں نے جنرل ایوب خان کے دھمکی آمیز خط کے جواب میں چار صفحات پر مشتمل طویل خط لکھا اور اپنے دور کے ’’گاڈ فادر‘‘ کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے مشرقی پاکستان کے حقوق کے لئے لڑائی کی ہے کیونکہ مجھے پاکستان سے محبت ہے۔

جنرل ایوب خان نے جسٹس محمد ابراہیم کی جگہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس محمد منیر کو اپنا نیا وزیر قانون بنایا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے یہ جج صاحب جمہوریت کے قتل کو جائز قرار دینے کے لئے نظریہ ضرورت ایجاد کر چکے تھے۔ موصوف نے وزیر قانون بنتے ہی قائد اعظمؒ کے پاکستان کو قتل کرنے کے ایک باقاعدہ اعلان کی تیاری شروع کر دی۔ جسٹس محمد منیر اپنی کتاب ’’فرام جناح ٹو ضیاء ‘‘ میں اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے وزیر قانون بننے کے بعد جنرل ایوب خان کے مشورے سے 1962ء کی قومی اسمبلی کے بنگالی ارکان سے علیحدگی یا کنفیڈریشن کے لئے باقاعدہ مذاکرات کئے لیکن ایک بنگالی رکن اسمبلی رمیض الدین نے اُنہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ ہم اکثریت ہیں اور ہم پاکستان ہیں پاکستان سے علیحدگی کا فیصلہ اکثریت کو نہیں اقلیت کو کرنا ہے۔ 1971ء میں یہ اکثریت لڑجھگڑ کر اقلیت سے علیحدہ ہو گئی۔

جسٹس محمد ابراہیم کی یادداشتوں میں بار بار جنرل ایوب خان کے علاوہ حسین شہید سہروردی اور اے کے فضل الحق کا ذکر آتا ہے۔ اے کے فضل الحق نے 23مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور پیش کی تھی اور سہروردی نے 1946ء میں قرارداد دہلی پیش کی تھی جس کے ذریعے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو ایک ملک بنایا گیا۔ جنرل ایوب خان نے ناصرف سہروردی بلکہ محترمہ فاطمہ جناح کو بھی غدار قرار دیا۔ سہروردی اور فاطمہ جناح کو غدار کہنے والے ایوب خان کے نام پر راولپنڈی میں ایک ایوب پارک ہے۔ اس ایوب پارک کے قریب ہی فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی ہے اور چند کلو میٹر دور اسلام آباد میں حسین شہید سہروردی روڈ اور اے کے فضل الحق روڈ بھی موجود ہیں۔ دوسری طرف 1971ء کے بعد ڈھاکہ کے جناح ایونیو کو بنگلہ بندھو ایونیو بنا دیا گیا حالانکہ 1964ء کے صدارتی الیکشن میں مشرقی پاکستان والوں نے فاطمہ جناح کو اکثریت دلوائی تھی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کے باوجود بہت سے رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ 1962ء کے صدارتی نظام کی ناکامی کے بعد پاکستان میں 1973ء کا پارلیمانی آئین چل رہا ہے۔ کچھ لوگ پاکستان کو واپس صدارتی نظام کی طرف لے جانا چاہتے ہیں جن میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سرفہرست ہیں۔ اُنہیں جسٹس محمد ابراہیم کی کتاب پڑھ لینی چاہئے اور پاکستان کو مزید ٹوٹ پھوٹ کی طرف دھکیلنے سے گریز کرنا چاہئے۔

بشکریہ روز نامہ جنگ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔