استاد رئیس خان کا ستار اور ہندوستانی فلمی گیت


فلم ’پاکیزہ‘ 1972 ء کا وہ منظر کسے یاد نہ ہوگا جب فلم کا ہیرو ریل گاڑی کے ڈبے میں بے سدھ سوئی ہیروئن کے خوبصورت پاوں دیکھ کر مبہوت رہ جاتا ہے۔ چلتی ریل گاڑی کے ہچکولوں سے ہلتے دودھیا سفید پاوں میں چاندی کے ننھے ننھے گھنگروﺅں والی پازیب ہلکورے لے رہی ہے۔ اس رومانوی نظارے کے پس منظر میں بجتاستار کا جھالا اس منظر کی جمالیات کو کئی گنا بڑھا رہا ہے، یہاں تک کہ آج لگ بھگ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود اسے دیکھنے والے اس کے سحر سے آزاد نہیں ہوسکے۔

یہ جادوئی ستار استاد رئیس خان کا تھا۔

استاد رئیس خاں کو ایک باکمال ستار نواز کی حیثیت سے کون نہیں جانتا۔ کلاسیکی موسیقی پر ان کی مہارت کا مظاہرہ ہم میں سے اکثر نے ملاحظہ کیا ہوگا لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ہندوستانی فلمی سنگیت کے سنہرے دور کے بے شمار گیتوں کو اپنے سریلے ستار سے سجانے کا سہرا بھی استاد رئیس خان کے سر ہے۔ 60 ءاور70 ء کی دہائی میں استاد رئیس خان نے کتنے ہی ہندوستانی فلمی گیتوں کو اپنے ستار سے چار چاند لگائے۔ ذرا یاد کیجیے ’نینوں میں بدرا چھائے‘ (میرا سایا، 1966 ) کا ابتدائیہ جو رئیس خان کے ستار سے شروع ہوتا ہے،”ڈھونڈو ڈھونڈو رے ساجنا‘ (گنگا جمنا، 1961 ) کے انترے کے بعد وقفے کا سازینہ۔”پاکیزہ“ 1972 ) میں جابجا سنائی دیتیں ستار کی مدھر دھنیں اور پوری طرح سے ستار کے فریم میں جڑی ہوئی موسیقار مدن موہن کی دھنیں ’آج سوچا تو آنسو بھر آئے‘ (ہنستے زخم، 1973 )، ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح (دستک، 1970 )، رسمِ الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے (دل کی راہیں، 1973 ) ، بیاں نہ دھرو (دستک، 1970 ) اور ستار کے ایسے ہی دلکش سازینوں سے سجے موسیقار مدن موہن کے کتنے ہی شاہکار گیت۔

مدن موہن اپنے وقت کے عظیم موسیقار تھے۔ وہ اپنی دھنوں میں اعلیٰ پائے کے سازندوں سے سازینہ بجوانے کے لیے مشہور تھے۔ستار مدن موہن کا پسندیدہ ساز تھا اس لیے ان کی دھنوں میں ستار پر بجائے ہوئے ٹکڑے ہمیشہ نمایاں ہوتے تھے۔ استاد رئیس خان اور ان کا ستار، مدن موہن کے بنائے ہوئے گیتوں کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔ اسی طرح ہری پرساد چوراسیہ کی بانسری اور رام نارائن کی سارنگی بھی ان کی دھنوں کا خاص حصہ تھی۔ اور صرف مدن موہن ہی کیا، ہندوستان میں ہر بڑا اور اہم موسیقار اپنی دھنوں کو سجانے کے لیے اعلیٰ درجے کے سازندوں سے مدد لیتا تھا۔ سلیل چوہدری، ایس ڈی برمن، شنکر جے کشن، آرڈی برمن اور اس زمانے کے تقریباً تمام اہم موسیقار اس فہرست میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔ آج سازینہ بجانے والے لگ بھگ تمام بڑے کلاسیکی فنکار50ء اور 60ء کی دہائی میں فلمی گیتوں میں ساز بجایا کرتے تھے۔

مدن موہن اوراستاد رئیس خان کا ساتھ لتا منگیشکر کے گائے ہوئے گیت ’میری آنکھوں سے کوئی نیند لیے جاتا ہے‘ (پوجا کے پھول۔ 1964 ) سے ہوا۔ مدن موہن عظیم ستار نواز استاد ولایت خان کے دوست تھے اور رئیس خان ولایت خان کے بھانجے۔ مدن موہن کو ستار کے ساتھ ایک جذباتی لگاو تھا یہی وجہ تھی کہ ان کا اور رئیس خان کا ساتھ بہت جلد ایک ٹیم میں بدل گیا جس نے ہمیں ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار گیت سننے کو دِیے۔

یہ فلم ’ عدالت‘ کے گیت تھے جنھوں نے مدن موہن کے اسلوب کو ایک شناخت دی اور یہ شناخت تھی فلمی غزل۔ 60 ءکی دہائی میں مدن موہن اپنے فن کے عروج پر تھے، اس دور میں انھوں نے جن فلموں کے لیے بے مثال دھنیں تخلیق کیں ان میں سے ’ان پڑھ‘ (1962 )،’ وہ کون تھی‘ (1964 )، ’حقیقت ‘ (1964)، اور ’میرا سایا‘ (1966 ) چند ایک ہیں۔ کہتے ہیں کہ نوشاد صاحب کو فلم ’ان پڑھ‘ کے لیے ان کی دھن ’ہے اسی میں پیار کی آبرو‘ اس قدر پسند تھی کہ انھوں نے کہا میں اس دھن کے بدلے بخوشی اپنی ساری دھنیں دینے کو تیار ہوں۔ اِس دھن کی نمایاں خوبی مدن موہن کا پسندیدہ ساز ستار تھا جسے ان کے پسندیدہ ستار نواز استاد رئیس خان نے بجایا تھا۔

مدن موہن کی دھن اور استاد رئیس خان کا ستار گویا لازم و ملزوم ہوگئے۔ ستار پر بجائے گئے یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے گیت کی دھن کے ساتھ اس طرح مربوط ہوتے تھے اور گیت کے مجموعی تاثر کو ابھارنے میں ایسا کردار ادا کرتے تھے کہ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ موسیقار نے ستار نواز کی صلاحیت کو اجاگر ہونے کا موقع دیا ہے یا یہ ستار نواز ہے جس نے اپنی انگلیوں سے ستار کے تاروں کو اس ہنرمندی سے چھیڑا ہے کہ موسیقار کی دھن اور گائیک کی گائیکی شاہکار کے درجے پر جا پہنچی ہے۔

استاد رئیس خان مدن موہن کے پڑوسی بھی تھے ، خود رئیس خان کا کہنا تھا کہ مدن موہن نے کتنے ہی گیت ان کی یعنی رئیس خان کی موسیقی سے براہ راست متاثر ہوکر بنائے، اور شاعری اور طرز کی مدد سے ان کو نئی دھن میں ڈھال دیا۔ ایسی ہی ایک دھن فلم ’ہم دونوں‘ (1961) کا مشہور گیت ’ اللہ تیرو نام، ایشور تیرو نام‘ بھی ہے۔ استاد رئیس خان نے شاید کبھی نام و نمود کی پروا نہیں کی۔ وہ تخلیقی صلاحیت کو ہی اصل کامیابی سمجھتے تھے، اس چیز نے ان کی موسیقی کو ہمیشہ ثروت مند کیا۔

مدن موہن اور استاد رئیس خان کا تعلق 1973ء تک، اس وقت تک قائم رہا جب دونوں عظیم موسیقاروں کے درمیان کسی بات پر تلخی ہوئی اور انھوں نے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا۔ مدن موہن اس واقعے سے اس قدر دلبرداشتہ ہوئے کہ انھوں نے اپنی دھنوں میں ستار استعمال کرنا ہی چھوڑ دیا۔ ’ دل کی راہیں‘ اور ’ ہنستے زخم‘ وہ آخری فلمیں ہیں جن کی دھنوں میں ہمیں رئیس خان کے ستار کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مدن موہن کی بعد کی فلموں مثلاً موسم، ہندوستان کی قسم، اور لیلیٰ مجنوں وغیرہ کی دھنیں ستار سے عاری ہیں۔

استاد رئیس خان لگ بھگ 200 فلموں کی موسیقی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک رہے۔ انھوں نے صرف فلمی گیتوں کی دھنوں ہی کو اپنے ستار سے نہیں سجایا بلکہ پس پردہ موسیقی میں بھی اپنے ساز سے رنگ بھرے۔

وہ صرف مدن موہن ہی کے پسندیدہ ستار نواز نہیں تھے بلکہ جے دیو، شنکر جے کشن، اوپی نیر، لکشمی کانت پیارے لال اور خیام بھی ان کے فن کے دلدادہ تھے اور اپنی دھنوں میں ان کے ستار سے چار چاند لگایا کرتے تھے۔

ان کے ستار کی نمایاں خوبی اس کا ’گائیکی انگ‘ تھا جو کہ اتاوا گھرانے کی خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔ اتاوا گھرانے کو ہم امداد خانی گھرانہ کے نام سے بھی جانتے ہیں جو ستار نوازی کے حوالے سے شمالی ہندوستان کا مشہور گھرانہ ہے۔ وہ 1939ء میں اندور کے میواتی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ گھرانہ ہدو، حسو اور نتھو خان جیسے عظیم فن کاروں سے جانا جاتا ہے۔ ان کی والدہ کا تعلق امداد خان کے خاندان سے تھا جو ولایت خان کے دادا تھے۔ استاد رئیس خان بھوپال میں پلے بڑھے۔ بمبئی میں انھوں نے تعلیم حاصل کی لیکن ان کی اصل تعلیم تو ستار کی وہ تربیت تھی جو انھوں نے اتاوا گھرانے سے حاصل کی جس کا وہ حصہ تھے۔

1968 ءمیں وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں آکر بھی انھوں نے اپنے فن کو متحرک رکھا۔ وہ باقاعدگی سے کلاسیکی موسیقی کا مظاہرہ کرتے رہے البتہ پاکستان کی فلمی صنعت کو ان کے فن سے استفادہ کرنے کی توفیق کبھی نہ ہوئی۔ انھوں نے 1969ء میں ایک فلم ’سورج پہ دستک میں‘ اپنے بھتیجے موسیقار محسن رضا کے ساتھ شراکت میں موسیقی ترتیب دی لیکن یہ فلم کبھی ریلیز نہ ہوسکی۔ پی ٹی وی کے لیے بھی انھوں نے بعض گیت بنائے جن میں میڈم نورجہاں کی گائی ہوئی غزل ’کبھی کتابوں میں پھول رکھنا‘ اور مہدی حسن کی آواز میں سلیم کوثر کی غزل ’میں خیال ہوں کسی اور کا‘ مقبول ہوئیں۔

رئیس خان صرف ستار نواز ہی نہ تھے بلکہ ایک گھرانے دار، تربیت یافتہ گائیک بھی تھے اور ستار بجانے کے ساتھ ساتھ اپنے فن کی اس جہت کو بھی سامنے لاتے رہتے تھے۔ قتیل شفائی کا مشہور گیت ’کہ گھنگرو ٹوٹ گئے‘ کتنے ہی گلوکاروں نے گایا ہے لیکن شاید اس کی سب سے عمدہ ادائی رئیس خان ہی نے اپنی گائیکی کے ذریعے کی۔ گائیکی کے دوران خان صاحب کی لے کاری عجب لطف دیتی تھی۔

وہ ان معدودے چند فنکاروں میں سے تھے جنھوں نے ’بندھی ہوئی دھن‘ میں کلاسیکی سازینے کے ٹکڑے نہایت خوبی اور مہارت سے جڑے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ’یہ ٹھیک ہے کہ کلاسیکی موسیقی کا مقام اونچا ہے لیکن پرانے زمانے کا فلمی سنگیت ٹھیک کلاسیکی موسیقی کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ‘ شاید یہ ایسے عظیم فنکاروں کی کشادہ دلی ہی تھی جس کی بدولت ہم ایسے خوش نصیب سامعین کو فلمی موسیقی کے اس سنہرے زمانے کے گیتوں میں ایسے سریلے سازینے سننے کو ملتے رہے۔ میں سوچتا ہوں ’کوک سٹوڈیو‘ کی موسیقی کے اس زمانے میں کیا آج کے سننے والے استاد رئیس خان جیسے فنکاروں کے فن کی معنویت کو سمجھ سکیں گے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انعام ندیم کی دیگر تحریریں
انعام ندیم کی دیگر تحریریں