پاکستان سپر لیگ …. پیدا کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں


farnoodپاکستان سپر لیگ کا رنگ ورامش کے ہزار سامان سے لدھا ٹائی ٹینک یادوں کے کسی حسین جزیرے پہ بخوبی لنگر انداز ہوچکا۔ گرداب میں پھنسی قوم کو نفسیاتی خوشگواریاں مہیا کرنے کیلئے اس سے بہتر سرگرمی نہیں ہوسکتی تھی۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ مشق یوں بھی اہم رہی کہ کرکٹ کی صلاحیتیں یہاں بے پناہ ہیں اور مواقع بہت کم۔ عرب امارات کے باشندے کرکٹ سے دور تک کوئی سروکار نہیں رکھتے۔ وہ لگڑری گاڑیوں میں بیٹھ گئے لیکن صحرا کی ریت سے ابھی نکلے نہیں ہیں۔ اس کے باوجود وہ نگاہوں کو خیرہ کر دینے والے کرکٹ گراو¿نڈ رکھتے ہیں۔ پاکستان کی ہر دوسری گلی میں شیشہ توڑ کرکٹ جاری ہے، مگر مطلوبہ میدان ندارد۔ جو میدان موجود ہیں وہ اس قابل بھی نہیں کہ گلی ڈنڈے ہی کا کوئی ٹورنامنٹ کروایا جا سکے۔ صلاحیتیں یونہی سڑکوں پہ جوتے رگڑ رگڑ کے دم توڑ رہی ہیں۔ آگے نکلنے کیلئے اب بھی دو ہی رستے ہیں۔ جیب میں پرچی ہو یا پھر بازو میں زور ہو۔ جو ڈومیسٹک کرکٹ سے وابستہ ہیں وہ جنگل کے مور ہیں۔ ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دیتے ہیں، دیکھتا مگر کوئی نہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں پھر اگر دائمی جگہ ہے تو شاہد خان آفریدی کے لئے ہے، نہیں ہے تو پھر یونس خان کے لئے بھی نہیں ہے۔ حیران ہوں کہ مصباح الحق پہ اس ملک میں جملے کسے گئے۔ مگر خیر، اب ایسی بھی کیا حیرانی۔ کیا یہ کم ہے کہ ہم عاطف اسلم کے دورمیں جی رہے ہیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے زمانے میں سانس لے رہے ہیں۔ وصی شاہ کے عہد میں زندہ ہیں۔ عمر شریف کے وقت کے گواہ ہیں۔ شوق کی اس دنیا میں رہتے ہیں جہاں شاہد خان آفریدی کی ایک دھواں دھار بیٹنگ کیلئے ڈیڑھ برس تک ٹی وی کے سامنے ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم بیٹھے رہنا پڑتا ہے۔ یعنی کرکٹ کے بے پناہ جراثیم کے ہوتے ہوئے بھی ہم کرکٹ کی سائنس سے اس قدر نابلد ثابت ہوئے ہیں کہ شیمپو کے اشتہار میں اور کرکٹ میچ میں کوئی خاص فرق نہیں کر سکے۔ اسے بھی قومی کرشموں کی فہرست میں رکھ لیتے ہیں کہ ماڈلنگ اور بالنگ کا لطف ہم ایک ہی آنکھ سے اٹھا لیتے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ میں کرکٹ کے کھیل کا تو کوئی ایسا پہلو نہیں کہ جس پر کسی ناقدانہ تجزیے کا ڈول ڈالا جا سکے۔ ایک تاریک پہلو البتہ یہ ہے کہ سپرلیگ پاکستان میں نہ ہو سکی، اور یہ ہمارا اجتماعی قصور ہے۔ سرمایہ جس ملک سے سمٹ کر سات سمندر پار جارہا ہو وہاں کوئی مہمان بن کر آنا کیوں پسند کرے گا۔ مہمان کے ساتھ اس سے بڑھ کر زیادتی کیا ہوسکتی ہے کہ اسے ایک ایسے میدان میں کھیلنے پہ مجبور کیا جائے جہاں وہ اپنے جرمن شیفرڈ کو بھی جوتے پہنائے بغیر ٹہلا نے کا تصور نہ کر سکے۔ پھر سری لنکن کرکٹ ٹیم کا ہم نے جس انداز سے سواگت کیا تھا وہ دنیا بھر کے کرکٹرز کو یاد ہے۔ وہ کھیل ہی کیا کھیل ہوا جو خوف وہراس کے ماحول میں بھگتا یا جا ئے۔ شہر سے پرے دور کوئی مقام ہی سہی، خوشیوں کا ایک نگر سجایا تو گیا۔ اذیت کی سیاہ رات طویل تر ہوگئی ہو، تو صبحِ نور کا امکان بندہ بشر کو امید کے شجر سے پیوستہ رکھتا ہے۔ یہ امکان روشن ہوجائے تو آسودگیوں کی منزل دور ہی سہی، افتادگان خاک کھنچے چلے آتے ہیں۔ کیا دوبئی کا میدان کسی بھی پہلو سے یوں محسوس ہوا کہ پاکستان سے باہر کا کوئی مقام ہے؟ عرب کے صحرا چھانتے پاکستانی تو پہنچے سو پہنچے، پاکستان ملائشیا اور جاپان تک سے پاکستانی چلتے چلے آئے۔ خیر کا نمایاں پہلو یہی ہے کہ وسائل بروئے کار آئے ہیں اور مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ ماحول پہلے ہی میسر تھا، سپر لیگ نے اس کی آرائش کردی ہے۔ ابھی یہ فائنل مقابلہ ہوا نہیں تھا کہ شائقین نے اگلے برس کی آرزو کردی۔ ایسے میں امکانات بڑھ رہے ہیں۔ صلاحیتوں کو کچھ اطمینان نصیب ہوا کہ چلیں اب کے برس نہ سہی اگلے برس ہی سہی۔ اب نہیں تو پھر سہی۔ پھر نہیں تو پھر سہی۔

امید بہت تھی مگر پاکستان سپر لیگ کوئی نیا چہرہ متعارف نہیں کرواسکا ہے۔ چہرے تو خیر سامنے آئے ہیں، مگر اطمینان کا کوئی خاطر خواہ سامان نہیں رکھتے۔ ان چہروں میں بھی زور بالنگ کا ہے۔ بیٹنگ لائن کا معاملہ حیران کن حد تک مخدوش ہے۔ ایشیا کپ کیلئے بھی جو صفیں ترتیب دی گئیں، وہ عین اس وقت دی گئیں جب سپر لیگ کا معرکہ درمیانی مراحل میں تھا۔ جن کے کھلاڑیوں کے بیچ جمع تقسیم ہوئی وہی کھلاڑی تھے جنہیں کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی مواقع میسر رہے ہیں۔ سو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ایشیا کپ کیلئے بھی سپر لیگ سے ہم کچھ نچوڑ پائے ہیں۔ معاملہ تو یہ رہا کہ یہاں احمد شہزاد کو ایشیا کپ سے باہر رکھنے کا فیصلہ ہوا اور وہاں احمد شہزاد نے نصف سنچری اسکور کرلی۔ ماہرین کے لئے صورت حال تقریبا وہی ہوگئی جو گزشتہ ورلڈ کپ میں سرفراز کے معاملے میں ہوئی تھی۔ ٹیم میں رکھنے نہ رکھنے کا یہ معیار بھی کچھ غیر متوازن ہے مگر کیجئے۔ انتخاب کے معاملے میں بھی ہمارا معاملہ معاملہ سچن ٹنڈولکر کی کپتانی والا ہے۔ موصوف کپتان ہوئے تو فیلڈنگ میں ایک نیا طرز متعارف کروایا۔ بال جہاں سے ہوتی ہوئی باونڈری لائن جاتی وہیں فیلڈر کھڑا کر دیتے۔ چھوڑی ہوئی جگہ سے اگر اب بال گئی تو فیلڈر کو واپس اسی مقام پہ بھیج دیتے۔ بس جہاں جہاں سے بال کو رستہ ملتا وہاں ایک سپاہی تعینات کر دیا جاتا۔ فیلڈرز کی اس نقدو نقد تعیناتیوں سے منظر کرکٹ کا کم شطرنج کا زیادہ لگتا تھا۔ ہمارے ہاں بھی معاملہ یہ ہے کہ نصف سنچری کیجئے تو جزا پایئے۔ کارکردگی مایوس کن ہو تو سزا کیلئے تیار رہیئے۔ ایک گانے میں ہیروئن کے کپڑے اس رفتار سے نہیں بدلتے جس رفتار سے ہمارے لشکر کے سپاہی بدل دیئے جاتے ہیں۔ لگتا ہے کھلاڑی ماڈلنگ کیلئے آڈیشن دینے آیا تھا، حسبِ توفیق اچھل کود کر کے چلا گیا۔ سپر لیگ میں کیا کھویا کیا پایا یہ کہانی پھر سہی۔ کون جیتا کون ہارا یہ کہانی بھی پھر سہی۔ جو کہانی سامنے کی ہے وہ یہ کہ سپر لیگ سے ہم نے سر ویوین رچرڈ کو دریافت کر لیا ہے۔ سیاہ فام لیجنڈ سپر لیگ کا روشن ترین ستارہ رہا۔ محنت، لگن اور ڈیڈیکیشن اپنی جگہ، اپنے لڑاکوں کی جس طور ہمت انہوں نے بندھائی وہ منظر ہر دیکھتی آنکھ کیلئے لائق تکریم تھا۔ اسے بھی کامیابی ہی کہیئے کہ سر رچرڈ کو انتظامیہ نے ہی نہیں، پوری قوم نے اتفاق رائے سے چن لیا ہے۔

خوشگوار پہلو کی طرف آیئے۔ یہ پہلو سپر لیگ کا سیاسی پہلو ہے۔ اسے سمجھنے کیلئے کوئٹہ اور اسلام آباد کی ٹیموں کا فائنل میں جانے کے بعد تشکیل پانے والے ماحول کو دیکھنا پڑے گا۔ یہ مقابلہ وفاق اور سب سے پسماندہ صوبے کے بیچ رہا۔ یہ حیران کن بات ہوئی کہ شائقین کی اکثریت نے کوئٹہ کی حمایت کی۔ سماجی ذرائع ابلاغ کی عینک چڑھا کر دیکھا جائے تو پنجاب کے اکثر شائقین نے بھی کوئٹہ کی حمایت کی۔ شخصی اور علاقائی بنیاد پر کوئٹہ کی حمایت کرنے والے شائقین کو اگر ایک طرف رکھ لیا جائے، تو بھی اکثر تبصرے اس حقیقت کو نمایاں کرنے کیلئے کافی ہیں کہ پسماندہ علاقوں کا ہونے والا استحصال اب عام طبقے کو بھی فکرمند کیئے ہوئے ہے۔ استحصالی طبقے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اکثریت کو اس کی بروقت پہچان نہیں ہوپاتی۔ اسرار کے کئی نقاب اس طبقے کے چہرے پہ ہوتے ہیں۔ ان کا ترتیب دیا گیا گھن چکر اس قدر دل آویز ہوتا ہے کہ مسلسل فریب کھاتے ہوئے بھی آسودگی ہی ہوتی ہے۔ نقاب کے نیچے دوسرا نقاب اور زبان کے نیچے دوسری زبان۔ قصور کسی کا ہوتا ہے گالی کسی کے حصے میں آتی ہے۔ ایسے ہر معاملے میں اول یہ ضروری ہوتا ہے کہ درپیش مسئلے کے حوالے سے سماج میں کچھ حساسیت پیدا ہوجائے۔ حقیقت کچھ اور تھی، یہی سمجھ آجائے۔ اب حقیقت تھی کیا، اس کا تعاقب کیئے بغیر انسان ویسے بھی نہیں رہ سکتا۔ جستجو کا سفر اسے حقیقت کے سرہانے لا کھڑا کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے اس چائی کو تسلیم کرنے میں روایت رکاوٹ بن جاتی ہے، مگر کب تک؟ دیکھیں آج سے کوئی دس برس قبل تک غیر جمہوری عناصر پہ سوال اٹھانا کارِ بےکار تھا۔ سوال اٹھانے والوں کو ملک دشمن کہہ دیا جاتا، اگر رحم کر لیا جاتا تو اتنا ضرور کہہ دیاجاتا کہ میاں لکھ لکھ کر اپنا ہی وقت ضایع کر رہے ہو۔ پے درپے سیاسی حادثوں نے سماج کے ایک معقول ذہن پر کم از کم اس حقیقت کو آشکار کردیا کہ بات کچھ اور ہے۔ اس کچھ ’اور‘ کی جستجو ہی میں بحث مباحثے کا آغاز ہوا۔ ابھی سماج اسی ’کچھ اور‘ کی دریافت والے مراحل میں ہے۔ اطمینان رکھنا چاہیئے کہ منزل وہ رہی سامنے۔ المدد شوق کہ بس آ پہنچے ….ابھی تو جھوٹ کا نقاب صرف ہی سرکا ہے کہ لگی لپٹی رکھے بغیر بحث کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ بحث ہی پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں ایک بنیادی اینٹ ثابت ہوئی ہے۔ یہی معاملہ پسماندگی کا شکار صوبوں کا ہے۔ کل تک عام ذہن یہ ماننے کو ہی تیار نہ تھا کہ دیوار کے اس پار کوئی آگ بھی لگی ہے۔ معلومات تک رسائی اور کچھ حوادث نے اب شاید عام ذہن کو یہ ماننے پہ مجبور کر دیا ہے کہ عمر ایک فریب میں بسر ہوئی ہے۔ سچائی کو یر غمال بنالیا گیا ہے جس کی بازیابی ضروری ہے۔ یہ بازیابی تو خیر ہو ہی جاتی کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں۔ سپر لیگ کے فائنل سے احساس ہوا کہ بہت تھوڑے ہیں۔جاتے جاتے یونہی دم بھر کو خزاں ٹھہری ہے….


Comments

FB Login Required - comments