سائنس کیسے سوچتی ہے؟


دنیا کو ترقی کی موجودہ منزل پر پہنچانے میں کلیدی کردار سائنس کا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت سائنس اپنا کام سر انجام دیتی ہے۔ یہ طریقہ کار مشاہدے سے شروع ہوتا ہے اور مختلف مراحل طے کرتا ہوا قدرت کے کسی نظام کی وضاحت پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ جو شخص بھی اپنے مشاہدے کی بنیاد پر کوئی دعویٰ کرتا ہے، اسے اس دعویٰ کو تسلیم کروانے کے لیے اس کا ثبوت پیش کرنا پڑتا ہے یا قابل قبول دلائل دینے پڑتے ہیں۔ اس نظام میں دولت یا طاقت کے بل بوتے پر اپنی بات تسلیم کروانے کی گنجائش نہیں ہے۔ دعویٰ کو تسلیم کروانے کا محض ایک ہی معیار ہے۔ اس کا حقیقت پر مبنی ہونا۔

عقائد و روایات جہاں اپنے حتمی ہونے پر اصرار کرتے ہیں وہاں سائنس غلطیوں کے امکان کو کھلے دل سے تسلیم کرتی ہے۔ یہاں پہلے سے تسلیم شدہ حقائق کو غلط ثابت کرنے پر سزا نہیں دی جاتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ سائنسی طریقہ کار اس بات کا ادراک کرتا ہے کہ انسانی عقل محدود ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ مشاہدے کے بہتر وسائل سامنے آنے کے بعد نتائج میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

سائنس اپنی معلومات کے مکمل ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کرتی اسی لیے ہر آن نئی معلومات کی تلاش میں سرگرم رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شعبہ زندگی سے متعلق سائنس میں معلومات کا بیش بہا ذخیرہ موجود ہے اور اس میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔

سائنس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ محض ایک شعبہ زندگی ہی نہیں بلکہ ایک ضابطہ حیات بھی ہے۔ ماہرفلکیات کارل سیگن جو سائنس کا علم عام لوگوں تک پہنچانے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’سائنس سوچنے کا انداز ہے، بجائے معلومات کے ذخیرے کے۔ سائنسی طرز فکر کو اپنا کر ایک پر اعتماد اور مطمئن زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

جس طرح سائنس جانچے بغیر کسی دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتی اسی طرح عام زندگی میں بھی کسی معاملے میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے اپنے سامنے آنے والی آرا کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے اور کسی بھی رائے کو من و عن تسلیم کر لینے کی بجائے ہر قسم کی متبادل آرا کو جانچنا چاہیے، چاہے رائے دینے والا ذریعہ ہمارے لیے کتنا ہی معتبر کیوں نہ ہو۔

معلومات کے حصول لیے محض مستند ذرائع پر بھروسہ کرنا اور حقائق کو جذباتی باتوں اور جھوٹی تسلیوں پر ترجیح دینا انسان کو بہت سی مشکلات سے بچا سکتا ہے۔ اپنی سوچ اور زندگی گزارنے کے طریقے پر مسلسل نظر ثانی کرتے رہنا اور ان کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے کرنا بھی بےحد ضروری ہے۔

یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہماری سوچ ہمارے رویے پر اثر انداز ہوتی ہے اور ہمارے رویے ہماری زندگی پر، اسی لیے اپنی زندگی

بہتر بنانے کے لیے اپنی سوچ کی تعمیر کرنا بنیادی امر ہے

زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی غلطیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا بھی نہایت اہم ہے۔ عموماً غلط ہونے کو کم عقلی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ اپنی غلطی تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں اور اپنی غلط روش پر قائم رہتے ہیں۔ جبکہ کسی بھی انسان کے لیے ہر معاملے میں مکمل طور پر درست ہونا ممکن نہیں لیکن ہر ممکن بہتری اسی شخص میں آسکتی ہے جو اپنی غلطی تسلیم کر کے اسے درست کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ مشہور ادیب اور شاعر آسکر وائلڈ کا کہنا ہے ‘تجربہ محض وہ نام ہے جو ہم اپنی غلطیوں کو دیتے ہیں’۔

لہٰذا اگر زندگی میں تجربہ کار بننا چاہتے ہیں تو غلطیوں کو تسلیم کر کے ان کی اصلاح کرنے کا حوصلہ رکھیں کیوکہ قدرت نے انسان کو سیکھنے کا یہی طریقہ عطا کیا ہے۔ اور کسی بھی بات کی مناسب تصدیق کے بغیر اس پر یقین نہ کریں اور معلومات کے حصول کے لیے بااعتماد ذرائع تک رسائی ممکن بنائیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں