استاد رئیس خان! وہ اپنے عہد سے ناراض اور اُن کا عہد ان سے غافل رہا


صوفی اور سیانے، دونوں”میں“ سے نالاں ۔ یہی کہتے کہ بات بے بات اپنا ذکر مت کیا کرو۔ سفر صحافت میں بھی اساتذہ نے یہی نصیحت کی ۔ کسی زمانے میں وہ مضامین رد ہوجاتے تھے ، جس میں مضمون نگار اپنا ذکر کر بیٹھتا۔ مگر اب زمانہ بدل گیا، بلکہ قیامت کی چال چل گیا۔ نہ تو اب یہ نسخہ فن کاروں کے لیے موزوں، نہ ہی صحافیوں کے لیے ۔ بلکہ دونوں کے لیے اب یہ لازم ٹھہرا کہ قارئین، حاضرین، ناظرین سے اپنے تجربات بانٹیں۔ لوگ اُس کہانی میں، جس میں کہانی کار شامل نہ ہو، جلد دل چسپی کھو دیتے ہیں۔

استاد رئیس خان کو اِس بات کا بہ خوبی ادراک تھا، اِس لیے وہ اپنا، اپنے فن اپنے گھرانے کا،اپنے کارناموں اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکراحساسات سے بھرپور ،بلند آہنگ اور دل چسپ ڈھب پر کرتے۔ جیسے وہ بتاتے کہ موسیقی کے جتنے بھی گھرانے ہیں یہ اٹاوا پٹا وا، کیرانا پرانا یہ سب ان کے، یعنی میوات گھرانے کے شاگرد ہیں۔ اور یہ کہ ستار نوازی میں ”گائیکی انگ“ دراصل اُن کے والد، محمد خان صاحب اور اُن کی ایجاد تھی۔ باقی دعوے دار جھوٹے ہیں۔ اپنے ہم عصروں میں وہ کسی سے متاثر نہیں تھے۔ اور بھلا کیوں ہوں۔ برملا کہا کرتے، ناپا جیسے ادارہ ایک بھی فن کار پیدا نہیں کر سکا۔ پاکستانی کلچر کو موسیقی دشمن کلچر ٹھہراتے۔ کہتے، پی ٹی وی ایوارڈ اور پرائیڈآف پرفارمینس اُنھیں اِس خوف سے دیے گئے کہ لوگ یہ نہ کہیں، اتنا بڑا آرٹسٹ ہے، اِسے ہی ایوارڈ نہیں دیا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بالی وڈ کے ہیرو اُن کااسٹائل کاپی کیا کرتے تھے، سلک کا کرتا پہلے اُنھوں نے پہنا،پھر اوروں نے۔

راقم الحروف نے اپنے گیارہ سالہ صحافتی کیریر میں لگ بھگ سات سو انٹرویوز کیے۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ اُن انٹرویوز میں سب سے مشکل انٹرویو کون سا تھا؟ تو زیادہ سوچ بچار کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ بلاشبہہ وہ رئیس خان کا انٹرویو تھا۔ اُن سے بات کرنا آسان نہ تھا۔ بیش تر صحافی مایوس لوٹتے، اور اُن سے متنفر ہوجاتے۔ کچھ انٹرویو نگار اُس بنیادی معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہتے، جس کی مدد سے کسی فن کار کا تعارف لکھا جاتاہے۔ ہمارے انٹرویو کی اشاعت کے بعد ایک صحافی دوست نے، جو اُن کا انٹرویو کر چکے تھے، جہاں ہماری تعریف کی، تو وہیں اُن مشکلات کا بھی تذکرہ کیا، جن سے وہ خود گزرے تھے۔ دباﺅ تو ہم پر بھی تھا۔ جس ادارے سے منسلک تھے، اُس کے اعلیٰ ترین عہدے دار استاد رئیس خان کے مداح تھے۔ استاد محترم، جناب احفاظ الرحمان نے سمجھا دیا تھا کہ یہ ایک” ہائی پروفائل “ انٹرویو ہے۔ ہماری قسمت اچھی تھی کہ اُس روز وہ خوش گوار موڈ میں تھے۔ چٹکلے سنانے اور غصے کرنے کو پوری طرح تیار ۔ شاید سبب یہ رہا ہو کہ ہم اُنھیں سننے کو تیار تھے۔ بالخصوص ماضی کے ان قصوں کو، جنھیں وہ سنانا پسند کرتے تھے۔

 وہ ایک بڑے فن کار کے مانند، جو کہ وہ تھے، خود پسند اور نک چڑھے تھے۔ مکمل آرٹسٹ تھے۔ یعنی جب ستار ہاتھ میں نہ ہوتا، تب بھی پرفارم کرتے محسوس ہوتے۔ یہ مشہور مثل اُنھوں نے خود ہی سنائی کہ” امیر خسرو نے ستار بنایا، رئیس خان نے بجایا!“ممتاز ستار نواز، استاد ولایت خان اُن کے والد کے شاگرد تھے، اِسی وجہ سے سگا ماموں ہونے کے باوجود نہ تو اُنھیں ماموں کہتے، نہ مانتے۔

وہ ہندوستان میں پیدا ہوئے، ادھر سارا جیون گزرا۔ پاکستان آنے کا سبب محبت ٹھہری۔ انھوں نے تین شادیاں کیں، تینوں ناکام ہوئیں۔ چوتھی پاکستانی غزل گائیک بلقیس خانم سے کی، جو 86ء میں انھیں پاکستان لے آئی۔ بعد میں وہ اس فیصلے پر پچھتائے۔ کہا کرتے، یہاں کی حکومت نے شہریت کے عوض اُن سے پانچ لاکھ روپے مانگے تھے۔ مگریہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں پرفارم کرنے والے اکلوتے ”پاکستانی فن کار“ ہیں، ورنہ کسی مائی کے لال میں ہمت نہیں!

ویسے اگر وہ خود پسند تھے، تو یہ خود پسندی اُن پر جچتی تھی۔ ہندوستان میں تومقابلہ تھا، مگر پاکستان میں فن ستار نوازی میں اُنھیں اپنا کوئی ہم پلہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ٹی وی ، ریڈیو اور فروغ فن کے لیے کام کرنے اداروں میں ایسے لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں، جو اُن کے فن کا ادراک رکھتے ہوں۔ فلم انڈسٹری زوال پذیر تھی، اور اگر ترقی یافتہ ہوتی، تب بھی اُن کے فن سے استفادہ کرنا اُس کے لیے ممکن نہ تھا۔ وہ صاحب ذوق باثروت شائقین بھی اب کہاں رہے، جو تفریح طبع کے لیے محافل منعقد کیا کرتے ، کلاکاروں کے ناز اٹھاتے۔ موسیقی کے ایک شائق نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا تھا:”اپنے عہد کا اتنا بڑا ستار نواز اب غزلیں گاتا دکھائی دیتا ہے۔ “

انٹرویو میگزین کے لیے تھا۔ فن موسیقی پر بھی بات ہوئی، مگر ہمارا اصل مقصد اُن دل چسپ حقائق کی کھوج تھی، جو قارئین کو لبھا سکیں۔ اور اُن کے معاملے میں ایسی باتوں کی فراوانی تھی۔ مثلا ؛وہ بیڈمنٹن کے شان دار کھلاڑی تھے ۔ تین برس مہاراشٹر کے چیمپیئن رہے۔ 53ء اور 55ء میں سوئمنگ کے مقابلوں میں فاتح ٹھہرے۔ بلیرڈ پر اتنی گرفت تھی کہ ہزار ہزار روپے کی شرط لگا کر کھیلا کرتے۔ شوٹنگ اور ڈانس بھی سیکھا۔ ”فارمولا ون ریسنگ“ کے مقابلوں میں حصہ لیا۔ اندرو کے ایک فلائنگ کلب سے فلائنگ کا لائسینس لیا۔ اور ہاں،اُنھوں نے 71ء میں ممبئی کے برلا ہال میں لگاتار اٹھارہ گھنٹے ستار بجانے کا منفرد ریکارڈ قائم کیا ۔ اس کے پیچھے ہندوستان کے بہت بڑے ڈانسر، گوپی کرشن کی ساڑھے سات گھنٹے کی پرفارمینس تھی، جس کے جواب میں گوپی کرشن کی پھوپھی، ستارہ دیوی نے مسلسل ساڑھے نو گھنٹے رقص کیا۔ آخر وہ میدان میں اترے۔ وگیان بھون سَپرو ہاﺅس، دہلی میں بغیر رُکے اٹھارہ گھنٹے ستار بجایا۔ ایک جانب برف رکھی تھی، جس میں وہ وقفے وقفے سے اپنی انگلیاں ڈبو دیتے کہ وہ کٹ گئی تھیں۔

بھوپال، مدھیہ پردیش ان کا آبائی وطن تھا۔ وہ 25 نومبر 1939 کو پیدا ہوئے۔ شعور کی دہلیز بمبئی میں عبور کی۔ پانچ برس کی عمر میں ممبئی کے سندر بائی ہال میں پہلی پرفارمینس دی۔ نو برس کی عمر میں اپنی شناخت بنا چکے تھے۔ تیرہ برس کی عمر میں ریڈیو پر پرفارم کرنے لگے۔ چند ہی برس میں اُنھوں نے شایقین فن کے دلوں میں گھر کر لیا۔ پہلا غیرملکی دورہ پولینڈ کا تھا۔ پھر روس کا رخ کیا۔ یورپ کے کئی ملکوں میں پرفارم کیا۔ 63ءمیں رئیس صاحب پہلی بار پاکستان آئے تھے، اور کراچی میں پرفارم کیا۔

ہندوستانی فلم انڈسٹری نے بھی ان کے فن سے استفادہ کیا۔ نوشاد، مدن موہن، شنکر جے کشن جیسے قدآور فن کاروں کے ساتھ کام کیا۔ کئی گانے کمپیوز کیے، مگر موسیقار کی حیثیت سے خود کو شناخت کروانا انھیں گوارا نہیں تھا۔ غزل کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی۔ غزل ”گھنگرو ٹوٹ گئے“ پہلی بار 68 ءمیں اُن ہی کی آواز میں، لندن میں ریکارڈ ہوئی۔ 80ء میں اُن کی شادی ہو گئی۔ یہ پہلا موقع تھا، جب پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو فن کار شادی کے بندھن میں بندھے۔ پاکستان آنے کے بعد کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستان میں 65 ہزار سامعین کے سامنے پرفارم کیا کرتے تھے، یہاں تعداد سیکڑوں تک محدود رہتی ہے، جس کا انھیں قلق رہا۔

6مئی 2017 کا یہ قدآور فن کار اس دنیا سے رخصت ہوا۔ وہ ایک عہد سازفن کار تھے، جس سے اُس کا عہد غافل تھا۔ اور جو اپنے عہد سے ناراض!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔