اشک دامن میں بھرے، خواب کمر پر رکھا


یوں ہے کہ موسم میں جس قدر شدید گرمی ہو، تیز آندھیاں آ رہی ہوں، چلچلاتی دھوپ ہو، دوپہریں سنسان ہو جائیں یا پھر وہ حبس ہو کہ لو کی دعا مانگی جائے، پھول کھل کر رہتا ہے۔ گل سے کوئی کہے کہ شگفتن سے باز آ۔ پھول نے کھلنا ہی کھلنا ہے، سنسان اجڑے بیابانوں میں جہاں پانی کے نام پر صرف بارش کے چند قطرے برستے ہوں، پھول وہاں بھی کھلتے ہیں، آک کا پودا مٹیوں میں اٹا کھڑا جھومتا رہتا ہے، بڑے سے بڑا ہوا کا بگولا بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ پاتا۔ یہ لمبے چوڑے دیوقامت درخت، صدیوں سے زمین کے سینے میں اپنی جڑیں گاڑے کھڑے ہوتے ہیں، آندھیاں انہیں بھی لے جاتی ہیں، آک حرام ہے جو اپنی جگہ چھوڑ جائے، جدھر اگا ہے، وہیں جما رہے گا۔ اور پھر یہ ہو گا کہ ایک صبح کاسنی اور سفید بڑے نازک سے پھول کھل آئیں گے، بہت سارے ہوں گے، اور جو بارش پڑ گئی تو سارا پودا نہا دھو کے ایسی چمک دے گا کہ بڑے بڑے درخت پریشان ہو جائیں گے، موج ہے، سکون سے اپنی جگہ کھڑے رہ کر، زمین کو گرفت میں لے کر، آندھیوں کے وقت جھک کر، ادھر ادھر شاخیں بکھیر کر گڑے رہنے میں بڑی موج ہے۔

اسی شدید گرمی میں کیکٹس بھی پھولوں پر آ جاتا ہے۔ یہ کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ ایریزونا کے صحراؤں سے لے کر افریقہ کے جنگلوں تک پھیلا کیکٹس ایسے پھول دیتا ہے کہ بندہ پریشان ہو جائے۔ یہ سو سو فٹ اونچے بھی ہو سکتے ہیں جب کہ بعض قسمیں ایسی ہیں جو پانچ دس سال آدھے فٹ تک بھی بڑی نہیں ہوتیں لیکن پھول ہر ایک کا ہوتا ہے۔ ایک کانٹوں بھرا گولا جو سارا سال ایک کونے میں پڑا رہتا ہے اچانک جاگے گا، تھوڑی انگڑائی لے گا اور بیسیوں چھوٹی چھوٹی کلیاں نمودار ہو جائیں گی۔ پھر اگر موڈ میں ہوا تو دیکھنے والے یہ بھی دیکھتے ہیں کہ پودا چھپ گیا اور پھول ہی پھول نظر آنے لگے۔ نارنجی، شوخ گلابی، لہو رنگ سرخ، کھلتے ہوئے پیلے، سچے موتیوں کے سے سفید، گاڑھے کرمزی، موتیے کے سے رنگوں والے اور پھر سارا پھول ایک ہی رنگ کا نہیں ہو گا، عجیب و غریب کمینیشن ہوں گے تیز اور ہلکے رنگوں کے، بس آنکھ بھر کے دیکھنا شرط ہے۔ بعض قسمیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا پھول ہاتھ بھر چوڑا ہوتا ہے۔ ایک کلی نکلے گی، دو چار دن بعد وہ آدھے فٹ کی ڈنڈی میں تبدیل ہو جائے گی لیکن بدستور کلی ہی رہے گی۔ پھر یہ ہو گا کہ ایک صبح اچانک اس پر سبحان تیری قدرت قسم کا پھول کھل جائے گا۔ ایک پرابلم ہے بس، اسی نوے فیصد کیکٹس کے پھول صرف بارہ تیرہ گھنٹے کے ہی ہوتے ہیں، اس کے بعد چھٹی۔ پھر اگلی کلیوں کا انتظار کیجیے۔ کچھ تو ایسی نخریلی نسلیں بھی ہیں جو صرف رات کو پھول کھلاتی ہیں۔ شرفا کے سوتے ہوئے وہ کھلتی ہیں اور عابدین کی بیداری کے وقت سو جاتی ہیں۔

جو کچھ مرضی ہو، زندگی میں ایک بار یہ تجربہ ضروری ہے۔ ویسے تو کئی ایسے کام ہیں جو نہ کر کے بھی انسان مرتا نہیں ہے لیکن پھر بھی، جیسے لہور لہور ہے ویسے کیکٹس کا پھول بس کیکٹس کا پھول ہے۔ گھر سے نکلیے، راستے میں کوئی بھی نرسری آتی ہو تو دو منٹ کو رک کر بندہ جا کے دیکھ لے۔ مصروف زندگی میں سے کھینچ کھانچ کر نکالے گئے یہ چند منٹ شاید اس میں کچھ رنگ بھر دیں۔ ہونے کو یہ بھی سکتا ہے کہ نرسری سے واپس آتے ہوئے یار لوگ کوسنے دے رہے ہوں کہ عجیب خبطی ہے، ایویں پھول دیکھنے بھیج دیا، کیا ہے، کانٹے ہیں اور بیچ میں ایک ایویں سا چھوٹا سا پھول کھلا ہوا ہے۔ تو وہ جو ایویں سا، جو چھوٹا سا پھول ہے، اس سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ بھئی اس قدر واہیات کانٹوں میں بھی تم جو اگ آتے ہو، تمہاری کوئی پنکھڑی زخمی نہیں ہوتی، چمکتے شنیل کے جیسے لشکارے مارتے ہو، تو یار ایسا ہوتا کیسے ہے؟ کوئی کانٹا تمہارا راستہ نہیں روکتا؟ کوئی نوک تمہارا جسم زخمی نہیں کرتی؟ تمہاری کلی کیسے اتنے مزے سے ساری رکاوٹیں توڑ کر نان سٹاپ نکل آتی ہے؟ ایسا کون سا گر ہے؟

ایسی ہی گرمی کہ جس میں سڑک پر انڈا توڑا جائے تو وہ فرائے ہو کر ملے، بوگن ویلیا بھی پھول دیتی ہے۔ جتنا مرضی کم پانی ملے، نہ ملے، ایسا درویش پودا ہے کہ بس پتے وتے جھاڑ کر بھی پھول دئیے جائے گا۔ سڑکوں کے بیچ میں لگا ملے گا، گھروں کی باونڈری کے ساتھ بیلیں چڑھی ہوں گی، بڑے بڑے میدانوں میں اسی کی باڑ بنی ہو گی اور ہلکے جامنی، سفید، گلابی، کچھ بھورے سے، بے تحاشا قسم کے پھول بھرے ہوں گے۔ جو پودا کراچی کی سڑک پر پھول دیتا ہو اسے دنیا کے کسی بھی کونے میں گاڑ آئیں انشاللہ نہیں مرے گا۔ غضب خدا کا، گاڑیوں کا دھواں، دھول مٹی، پان کی پیکیں، سبھی کچھ سہہ کر جوان جما رہتا ہے اور اس پر بھی دے پھول پہ پھول، مجال ہے جو ساری گرمیاں شگفتن سے باز آ جائے۔ اب تو باہر سے گرافٹ ہوئی بیلیں بھی آتی ہیں۔ ایک ہی پودا پچ رنگے پھولوں سے بھرا ہوتا ہے اور دن رات کی سیر ہے، انہیں تو مرجھانے میں بھی اچھا خاصا وقت لگتا ہے۔ تو ثبات ایک تو تغیر کو ہے زمانے میں اور دوسرا تھوڑا بہت اس فاقہ مست پودے کو بھی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ اسے اپنی جڑوں کی کوئی خاص ٹینشن نہیں ہوتی۔ برسات میں یا بہار کے شروع میں اگر بیس پچیس سال پرانے پودے کو بھی ایک دو فٹ گہرائی تک کھود کر نکال لیا جائے اور کسی گملے میں ڈال کر ایک طرف دھر دیں تو وہ چل جاتا ہے، دھوپ، گرمی، سردی، دھند، ہوا سبھی کچھ برداشت کرتا ہے اور پھر، آہا، پھر وہی پھولوں سے لدا ہوتا ہے۔

کوئی زور زبردستی نہیں ہے لیکن پھولوں کا ذکر چھڑا تو یاد آیا کہ ہر طرح کے ڈپریشن، اینزائٹی، بے چینی وغیرہ میں پودوں سے بڑا دوست اور ہمدرد کوئی نہیں ہوتا۔ اگر خدا نے کوئی چھ سات فٹ جگہ دی ہے جس میں ایک کیاری سی بن سکتی ہے اور اسی مالک نے اگر کچھ ہمت بھی عطا کی ہے تو باغبانی کے لیے اس جگہ کو استعمال میں لانے سے اچھا کچھ نہیں ہو سکتا۔ مٹی کی تاثیر دیکھنی ہو تو جوتے اتار کر اور کھرپی سنبھال کے بسم اللہ کی جائے۔ اتنی محنت ضروری ہے جس کے بعد دبا کے پسینہ آئے۔ کیاری بن جائے تو اس میں اپنی پسند کے پودے گاڑ دیں، پھر دیکھیے گرمی کی بہاریں۔ وقت بے وقت انہیں پانی دیں، انہیں بڑے ہوتا دیکھیے، پھلوں پھولوں کا انتظار کیجیے اور جب دونوں میں سے کوئی ایک چیز حاصل ہو جائے تو اس دن کنگ آف دا ورلڈ ہونے کا لطف اٹھائیے۔ ہوتا یوں ہے کہ مٹی اپنے اندر تمام پریشانیوں کو سمونے کی طاقت رکھتی ہے، ساتھ میں پسینہ بہتا ہے تو وہ جو تھکاوٹ ہے وہ دماغ کو پچھلی ٹینشنوں سے نکال کر اس نئی طرف دھکیلتی ہے کہ ہائے پیر تھک گئے، اف کمر میں درد ہو گیا لیکن چار پانچ روز بعد یہی مٹی یہی روٹین خود انسان کو آواز دیتی ہے۔ وہی سبزہ، وہی گھاس، وہی پودے جو اپنے ہاتھوں سے لگائے گئے ہوں اپنے پیاروں کی طرح لگتے ہیں اور ان کے درمیان وقتی طور پر ہی سہی لیکن کافی دکھ درد بھلائے جائے سکتے ہیں۔

یہ نسخہ ان بچوں کے لیے ہرگز نہیں ہے جنہوں نے ایک ہاتھ میں کتابیں اور دوسرے میں دل تھاما ہوا ہو۔ کچی عمر کی عاشقی اور وقت سے پہلے توڑا گیا خربوزہ ایک جیسے نکلتے ہیں۔ اس مرض کا علاج زمین کھودنا تو کیا آسمان روندنا بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ تو وہ عمر ہے جس میں پھول صرف حنائی ہاتھوں، خوشبودار زلفوں یا ہیپی برتھ ڈے والے کارڈوں کے ساتھ اچھے لگتے ہیں۔ جب شاخ پر لگا ہوا پھول گلدستے میں لگے پھول سے زیادہ پسند آنا شروع ہو جائے تو ڈرنے اور اپنے آپ کو چیک کرنے کی ضرورت ہے، یہ بڑھاپے کی سزا ہے یا جوانی کا عذاب!

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 297 posts and counting.See all posts by husnain