آرمی چیف، پیپلز پارٹی اور قومی مفاد


\"mujahid پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو نومبر میں ریٹائر ہونے کی اجازت نہ دے بلکہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو مکمل کرسکیں۔ واضح رہے کہ جنرل راحیل شریف نے اپنی مدت ملازمت کے حوالے سے مباحث اور افواہوں کا خاتمہ کرنے کے لئے گزشتہ ماہ یہ اعلان کیا تھا کہ وہ مدت ملازمت میں توسیع پر نہ تو یقین رکھتے ہیں اور نہ اس کے خواہش مند ہیں۔ کوئی وجہ تو ہوگی کہ اب اس ذاتی فیصلہ کا احترام کرنے کی بجائے ملک کی اہم سیاسی پارٹی جو خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کہلوانے کا اعزاز بھی رکھتی ہے، وفاقی حکومت کو کہہ رہی ہے کہ وہ زبردستی آرمی چیف کو توسیع دے۔ شاید یہ بھی قومی مفاد کی کوئی نئی جہت ہوگی۔
جنرل راحیل شریف نومبر میں آرمی چیف کے طور پر تین سال کی مقررہ مدت مکمل کرکے نومبر میں ریٹائر ہوجائیں گے۔ اس واضح ضابطے کے باوجود ملک بھر کے میڈیا میں اس حوالے سے مباحث کا آغاز کردیا گیا تھا۔ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے طرح طرح کی پیش گوئیاں کی جارہی تھیں۔ حتیٰ کی سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ جنرل راحیل شریف کو توسیع دینا ملک کے مفاد میں ہے۔ تاہم جنرل راحیل کی اپنی وضاحت نے اس ہنگامے کو ختم کردیا تھا لیکن ان کے ہمدرد بدمزہ نہیں ہوئے۔ جنرل راحیل شریف کو بدستور ملک کا آرمی چیف رہنے کے لئے مختلف افراد اور تنظیموں کی طرف سے شہروں میں بینر بھی آویزاں کئے گئے ہیں اور جلوس نکالے گئے۔ تاہم کل سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف علی زرداری نے بھی جنرل راحیل کے اس فیصلہ کو قبل از وقت اور عوام میں مایوسی پیدا کرنے کا سبب قرار دے کر قومی سطح پر اس مطالبے کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔
آصف زرداری جون میں فوج کو للکارنے کے بعد سے دبئی میں مقیم ہیں اور فی الوقت امریکہ کے دورے پر ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما کل سارا دن اس بیان کی اہمیت کو کم کرنے کے لئے زور لگاتے رہے اور دبے لفظوں میں اس کی تردید کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ اب پنجاب اسمبلی میں اس حوالے سے جو قرارداد پیش کی گئی ہے ، اس کے محرک پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو کے صاحبزادے اور پنجاب اسمبلی کے رکن خرم وٹو ہیں۔ اس قرار داد میں جنرل راحیل شریف کے فیصلہ کی تعریف کی گئی ہے لیکن نازک قومی حالات کی وجہ سے وفاقی حکومت سے ان کی خواہش کے برعکس ان کو بدستور فوج کا سربراہ رکھنے کے لئے مروجہ اصولوں اور ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس قرارداد کے بعد پیپلز پارٹی کی ساری قیادت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ شاید یہی ان کے لیڈر کی مرضی و منشا ہے۔ اور اسی میں پارٹی اورقوم کا مفاد وابستہ ہے۔
پیپلز پارٹی عام طور سے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ملک کی عسکری قیادت نے کبھی پارٹی کو قبول نہیں کیا ہے۔ اسی لئے پیپلز پارٹی اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی کہلوا کر عوام کی ہمدردی اور مبصرین کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ گزشتہ سال جون میں آصف زرداری نے اپنی مشہور زمانہ تقریر میں فوج کو پارٹی کا دشمن قرار دیا تھا بلکہ یہ چیلنج بھی کیا تھا کہ فوج اگر طاقتور ہے تو وہ بھی عوام کی قوت کی بنا پر نظام کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لگتا ہے چھ سات ماہ میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ اس کی وجوہات یا پارٹی قیادت کو معلوم ہیں یا شاید جی ایچ کیو ان پر روشنی ڈال سکتا ہے۔
یہاں اس قرار داد او ر فوج کے بارے میں پیپلز پارٹی کی تبدیلی قلب پر بحث کرنے کی بجائے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ کوئی پارٹی یا کوئی باضمیر رکن اسمبلی کبھی یہ قرارد داد بھی سامنے لائے گا کہ سیاست دانوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر مقرر ہونی چاہئے تاکہ نئی قیادت کو ملک کے معاملات چلانے کا موقع مل سکے۔ تاہم ایسا تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس میں بھی کوئی قومی مفاد وابستہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہمارے قومی لیڈر اور عوامی نمائندے صرف قوم کے فائدے کے لئے ہی سوچتے اور تجاویز سامنے لاتے ہیں۔ فی الوقت یہ قومی مفاد سیاسی قلابازیاں کھانے اور پیر تسمہ پا کی طرح پارٹی اور قوم کے سر پر سوار رہنے سے وابستہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 564 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali