بول نیوز: اب آگے کیا ہو گا؟


اختیار اور اقتدار کا کھیل بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ سامنے کچھ نظرآتا ہے، پس منظر میں ہرفریق اپنی طاقت دکھاتا ہے۔ کئی فیصلے اور حکم نامے کسی دوسرے ادارے کے ایک’ ٹوئٹ‘ کا ردعمل ہوتے ہیں، بظاہر مگر ان کا آپس میں کوئی ربط نظر نہیں آتا۔ حکومت، فوج، خفیہ ادارے اور عدلیہ سمیت ہر ایک اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہے اور اس کیلئے الگ پیرایہ اختیار کرتا ہے۔

پاکستان کا آئین تو یہ کہتا ہے کہ ’اقتدار کا سرچشمہ صرف اللہ کی ذات ہے‘۔ مگر یہ صرف آئین کی کتاب میں لکھا ہے۔ عمل کی دنیا کے اپنے ضابطے ہیں اور پاکستان میں اصلی اور بڑی سرکار صرف ایک ہے جس کا فرمان اسلام آباد کی کسی نواحی آبادی سے جاری ہوتا ہے۔ حکومت مگر کہتی ہے کہ وہ بھی موجود ہے تو اس موجودگی کا اظہار ’ڈان انکوائری رپورٹ‘ سفارشات کو’مسترد ‘کیے جانے کے بعد بول نیوز کے مالکان (ڈائریکٹرز) کے سیکورٹی کلیرنس کو واپس لے کرکیا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو اس نے بول نیوز کا لائسنس منسوخ کرکے نشریات روکنے کا حکم دے دیا۔

اس معاملے کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ کسی ٹی وی چینل کو لائسنس ملنے کے طریقہ کار پر ایک نظر ڈالی جائے۔ پیمرا اتھارٹی سے لائسنس کیلئے رجوع کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی چینل کے مالکان (ڈائریکٹرز) کے نام سیکورٹی کلیرنس کیلئے وزارت داخلہ کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ وزارت اس درخواست کو طریقہ کار کے مطابق خفیہ اداروں کے حوالے کرتی ہے۔ خفیہ ادارے لائسنس کیلئے رجوع کرنے والے چینل کے مالکان کے بارے میں چھان بین کرکے اپنی رپورٹ دیتے ہیں، اس کے بعد وزارت داخلہ ان افراد کے بارے میں اپنا حکم دیتی ہے اور تب پیمرا اتھارٹی لائسنس دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔

بول ٹی وی کے مالکان نے چینل کیلئے لائسنس ’میسرز لبیک پرائیویٹ‘ سے خریدا تھا اور پھر اپنے ڈائریکٹرز کے نام منتقل کرایا تھا۔ سپریم کورٹ نے اب ’میسرز لبیک‘ کے مالکان کی تفصیلات طلب کی ہیں تو دوسری جانب ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’ہمارے پاس آئی ایس آئی کی جانب سے کلیرنس سرٹیفکیٹ موجود ہے‘۔ پیمرا اتھارٹی نے البتہ سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ بول نیوز نے سندھ ہائیکورٹ سے لائسنس منسوخی کے خلاف جو حکم امتناع حاصل کیا ہے اس کی بنیاد بھی آئی ایس آئی کی جانب سے جاری کیا گیا یہ خط ہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حکم امتناع لائسنس معطلی کے خلاف تو لیا جاسکتا ہے، سیکورٹی کلیرنس ختم ہونے پر منسوخ کیے گئے لائسنس کو عدالت کیسے حکم امتناع جاری کرکے بحال کرسکتی ہے؟۔

تین مئی کو جب یوم آزادی صحافت منایا جا رہا تھا، وزارت داخلہ کے فیصلے کے بعد پیمرا نے بول نیوز کا لائسنس منسوخ کر دیا تو ہم اظہار یک جہتی کیلئے بول ٹی وی کے دفتر پہنچے۔ (اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی پر پابندی کسی طور قبول نہیں کی جاسکتی)۔ وہاں ایک ’بڑے صاحب‘ یہ کہتے سنے گئے کہ ہمیں تو آئی ایس آئی اور ایم آئی نے کلیرنس دی ہوئی ہے صرف آئی بی کی وجہ سے وزرات داخلہ نے میسرز لبیک کے ڈائریکٹرز کی سیکورٹی کلیرنس ختم کی ہے۔ پھر کسی نے کہا کہ عامرلیاقت نے ’ٹوئٹرپیغام‘ دیا ہے کہ چند گھنٹوں کی بات ہے کل ہم پھر ’آن ائیر‘ ہوں گے، عامرلیاقت نے تو ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیا لیکن اگلے روز سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا کے لائسنس منسوخی کے حکم کو معطل کرکے بول نیوز کو نشریات جاری رکھنے کا فیصلہ سنایا۔ اب ہائیکورٹ کے اس حکم امتناع کے خلاف پیمرا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے تو عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کو معاملہ چند دنوں میں نمٹانے کا کہا ہے ۔ دوسری طرف وزارت داخلہ کو بھی نوٹس جاری کیا ہے کہ سیکورٹی کلیرنس معاملے پر اپنی پوزیشن بتائے۔ سپریم کورٹ کے جن تین ججوں نے یہ مقدمہ سنا، ان میں سے ایک سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس ہیں، کیا آپ کو یاد ہے کہ گزشتہ برس ایک جج کا بیٹا اغوا ہوگیا تھا، پھر خفیہ اداروں کی زبردست کوشش کے بعد قبائلی علاقے کی سرحد سے بازیاب کرایا گیا تھا اور مقابلے میں مارے جانے والے ’اغوا کاروں‘ کی آج تک شناخت نہیں ہوسکی۔ خیر، یہ الگ موضوع ہے۔ اسی طرح پیمرا کے اعلی حکام کو بول نیوز معاملے پر ’دھمکی والی کال‘ کو بھی ہم چھوڑ دیتے ہیں۔

لوگ تو کہتے ہیں اور کہتے ہی رہتے ہیں، ان کا کیا کیا جائے۔ اب یہی سن لیں کہ راول پنڈی سے کی گئی ’ٹوئٹ‘ کا وقت اور پھر چودھری نثار کی وزارت کی جانب سے بول نیوز کے ڈائریکٹرز کی سیکورٹی کلیرنس واپس لینے کا ٹائم آگے پیچھے ہے۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ حکومت کے ایک طاقت ور منسٹر نے صحافی سے گپ شپ میں کہا کہ ’جب تک ہماری حکومت ہے بول ٹی وی مت جانا‘۔ اڑائی تو یہ بھی گئی ہے کہ ایک بہت بڑے ’ڈی جی‘ کی بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ سے دوران سفر جہاز میں ملاقات ہوئی ہے۔ سفر تو وسیلہ ظفر ہوتا ہے ساتھ والے مسافر سے اگر دعا سلام کرلی گئی تو کیا یہ بھی کوئی خبر ہوئی؟۔ تشویش ناک خبر البتہ یہ ہے کہ طاقت والے وزیر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پیش رونے ’سیکورٹی کلیرنس‘ دیتے ہوئے قانون میں دیا گیا طریقہ کار نہیں اپنایا تھا۔ کہتے ہیں کہ وزارت میں بول نیوز کی ایسی کسی درخواست کا ریکارڈ ہی دستیاب نہیں ہے، اور صرف ایک ادارے کی جانب سے خط لکھ کر بول ٹی وی کے مالکان کی سیکورٹی کلیر کردی گئی، حالانکہ یہ اختیار کسی خفیہ ادارے کا نہیں بلکہ وزارت داخلہ کا ہے۔ اس بات کی سچائی کا فیصلہ تو اب سپریم کورٹ ہی کرے گی۔ طاقت اور اختیار والے جب عدالت کے سامنے کھڑے ہوں گے تو کیا وہی کچھ بولیں گے جو نجی محفلوں میں صحافیوں کو بتاتے ہیں یا پھر’اداروں کے ٹکراﺅ‘ سے بچنے کیلئے معاملات باہر ہی طے کر لیے جائیں گے اور عدالت کو ’سب اچھا‘ کی رپورٹ دی جائے گی۔

اگر کسی نے پورے معاملے کو درست تناظر میں دیکھنا اور سمجھنا ہے تو بول ٹی وی کے مالک کے پس منظر کا کھوج لگائے۔ موصوف امریکا سے واپس کس لیے آئے تھے۔ کن کے ساتھ، کس لیے، کتنا عرصہ کام کیا۔ ٹی وی چینل کھولنے کا خیال کیسے آیا۔ سب سے بڑے ’چینل‘ کے آئیڈیا پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے بڑے ناموں کو انمول داموں اپنا ملازم رکھا تو ایجنڈا کیا تھا۔ امریکی اخبارمیں جعلی ڈگری اسیکنڈل شائع ہوا، ملک بھر کے ٹی وی چینل، سب سے بڑے ’چینل‘ اور اس کے مالک کے خلاف میدان میں اترے، وزیرداخلہ کے حکم پر تحقیقات شروع ہوئیں، کراچی میں ایف آئی اے نے شعیب شیخ کو تحویل میں لیا۔ چینل شروع ہونے سے پہلے ہی ٹھپ ہوگیا، تمام بڑے ’نام‘ واپس اپنے پرانے مالکوں کے پاس جا کر پرانی تنخواہ پر کام کرنے لگے، شعیب شیخ کی کہیں سے ضمانت نہیں ہو رہی تھی۔ پھرایک دن سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ ایگزیکٹ کمپنی کے صرف منجمد اکاﺅنٹس میں تیس ارب سے زائد کی رقم پڑی ہے۔ اس کے بعد کیا ہونا تھا، ایف آئی اے کے لندن پلٹ، نہایت محنتی وکیل نے اچانک شعیب شیخ کے خلاف مقدمے سے ’ذاتی وجوہات‘ کی بنیاد پر علیحدگی اختیار کرلی۔ شیخ صاحب کی ضمانت بھی ہوگئی اور اب مقدمے میں بھی کچھ نہیں رہا۔ (امریکا میں البتہ ان کے ایک ساتھی نے جعلی ڈگریاں بنانے کے جرم کا اعتراف کیا ہے)۔ یقین جانیے، مجھے نہیں معلوم کہ ایک انتہائی مضبوط کیس کراچی کی نمی والی ہوا میں اچانک کیسے خراب ہوا۔ فقط اتنا جانتا ہوں کہ بول نیوز کے لائسنس کی منسوخی پر آصف زرداری نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

اڑانے والے تو یہ بھی ’چھوڑ‘ رہے ہیں کہ آئندہ الیکشن مہم ’بول نیوز‘ چلائے گا، اور ایسی چلائے گا کہ ن لیگ والے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔