غریب حجام کی بیٹی، خادم اعلیٰ پنجاب اور انصاف کے کھنڈر


 ایک دوست کی والدہ کی وفات کی اطلاع ملی۔ ایک دوست کے ہمراہ شجاع آباد کے علاقے موضع رسول پور کی طرف روانہ ہو گئے۔ کافی عرصے بعد اس علاقے میں آنا ہوا تھا، جیسے ہی ایک بستی سے گزر ہوا جگہ کچھ دیکھی بھالی سی لگ رہی تھی۔ ٹھیک طرح یاد نہیں آ رہا تھا کہ کس سلسلے میں ادھر آیا تھا۔ اچانک نظر سڑک کنارے مٹی سے بنے کچے گھر کے کھنڈرات پر پڑی۔ بظاہر تو یہ مٹی سے بنے کسی غریب کے گھر کے کھنڈرات تھے لیکن ان کھنڈرات کے ساتھ جڑی ظلم وبربریت کی ایک داستان منسلک ہے۔

آج سے تقریباَ چار سال قبل یہ کھنڈرات ایک غریب حجام کا گھر تھا۔ جہاں وہ اپنے اہل وعیال کے ہمراہ ہنسی خوشی زندگی گزار رہا تھا۔ گندم کی کتائی کے موسم میں گھر کے سارے افراد مقامی زمینداروں کی گندم کی فصل کاٹتے، جس کے عوض ملنے والی گندم سال بھر کے راشن کے لیے جمع کر لیتے۔ یہی اس غریب خاندان کی کل جمع پونجی تھی۔ لیکن پھر اچانک اس غریب خاندان پر وہ بھیانک رات آپہنچی جس کا شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو، بستی کی بااثربرادری کو اس حجام پر شبہ تھا کہ اس کے ان کے خاندان کی ایک خاتون سے تعلقات ہیں۔ یہ بات اس جاگیردار برادری کے لیے ناقابلِ قبول تھی کہ ایک کمی کسی باعزت خاندان کی خاتون سے تعلقات قائم کر لے۔

انتقام کی آگ میں جلتے اس بااثر برادری کے دس لوگ رات کی تاریکی میں اس غریب کے گھر داخل ہوئے رات بھر خواتین کو جنسی درندگی کا نشانہ بناتے رہے، اس بے بس خاندان کی چیخ وپکار سننے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ اردگرد سب انہیں لوگوں کے گھر تھے۔ ان بھیڑیوں نے گھر کے ایک کونے میں چھپی اس غریب کی 10 سالہ بیٹی کو بھی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا صرف یہی نہیں ان خونخوار درندوں نے اس غریب شخص کو بدفعلی کا نشانہ بنایا اور ایک درخت کے ساتھ باندھ کر اس کی آنکھوں کے سامنے اس 10سالہ معصوم بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے رہے، وہ لاچار باپ بار بار رحم کی اپیل کرتا رہا خدا رسول کے واسطے دے کر کہتا رہا کہ مجھے قتل کر دو۔ میں یہ ظلم برداشت نہیں کر سکتا، لیکن انتقام کی آگ میں جلتے یہ درندے اس معصوم کو اپنی حیوانیت کا نشانہ بناتے رہے۔ وہ رات اس غریب خاندان پر قیامت بن کر گزری، غربت کا یہ عالم کہ اس باپ کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ ان ظالموں کے ظلم کا شکار زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا اپنی اس معصوم بچی کا علاج کرا سکے۔ وہ دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن تھا جب ایک غریب باپ اپنی راشن کی جمع شدہ گندم بیچ کر اپنی بیٹی کی زندگی خرید رہا تھا۔

صبح ہوتے ہی وڈیرے اور جاگیردار سیاست دان ملزمان کی پشت پناہی کے لیے کود پڑے۔ انصاف کے حصول کے لیے تھانے جانے والے اس غریب خاندان کو دھکے دے کر باہر نکال دیا گیا، کیونکہ تھانے میں جاگیرداروں کے فون اس مظلوم خاندان کے پہنچنے سے پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ اس واقعے کے دو روز بعد حسبِ معمول نواحی شہر گیلے وال میں اپنے موٹرسائیکل مکینک دوست کے پاس گیا، اکثر جب بڑے بڑے تاجر ، زمیندار، اور سیاسی دوستوں کی بڑی باتوں سے اکتا جاتا ہوں تو وہاں چلا جاتا ہوں جہاں غریبوں کی باتیں ہوتی ہیں اور اپنے جیسے غریبوں کا ہی وہ ڈیرہ ہے، عبدالرشید غوری نے جب یہ واقعہ سنایا تو میں نے فیصلہ کر لیا میںاس مظلوم خاندان کی مدد ضرور کروں گا میرے دوست نے ملزمان کی پشت پناہی کرنے والے جاگیرداروں کے بارے میں بتایا کہ وہ کتنے خطرناک ہیں جنہوں نے اتنے بڑے جرم کا مقدمہ تک درج نہیں ہونے دیا، دوسرے دن میں ان کے گھر گیا۔ ظلم کی داستان سن چکا تھا۔ مزید آب بیتی نہیں سننا چاہتا تھا وہاں جانے کا مقصد ان سے اجازت لینا تھی کہ میں ان کے بارے میں لکھ رہا ہوں، ان کی مدد کرناچاہتا ہوں لیکن وہ لوگ بہت ناامید تھے۔ انہوں نے بتایا بہت سے لوگ پہلے بھی آئے تصویریں بنا کر گئے ہیں۔ یہی کہا ہے کہ وہ کسی اخبار سے ہیں لیکن یہاں سے جاتے ہی وہ لوگ ان کے ڈیرے پر گئے ہیں وہاں ان کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے اور قہقے لگا کر ہمارا مذاق اڑا رہے تھے۔

اس سے اگلے دن شائع ہونے والے اخباروں میں بھی کوئی خبر نہیں کیونکہ نام نہاد صحافی غریب کی عزت کا سودا کر چکے تھے، ملتان کے ایک مقامی اخبار نے حامی بھر لی کہ آپ اس کے بارے میں لکھ کر بھیجیں کل ہم تصاویر کے ساتھ خصوصی ایڈیشن شائع کریں گے اس سے اگلے دن خادم اعلیٰ پنجاب ملتان میں تھے تو ایک لیگی ایم۔ پی۔ اے نے وہ اخبار ان کے سامنے رکھا، وقتی طورپر خادمِ اعلیٰ سے بھی یہ ظلم برداشت نہ ہوا شائد انہیں علم نہیں تھا کہ ملزمان کی سرپرستی بھی ان کی پارٹی کے لوگ ہی کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے آئی جی پنجاب کو فوراَ جائے وقوعہ پر پہنچنے اور ملزمان کو گرفتار کر نے کا حکم دیا جیسے ہی آئی ۔ جی پنجاب صاحب کا ہیلی کاپٹر نچلی پرواز کرتا ہوا اس مظلوم خاندان کے گھر کے قریب اترا پورے پنجاب کی پولیس اور وہ بے حس معاشرہ جسے اس مظلوم خاندان کی چیخیں سنائی نہیں دی تھیں آج ہیلی کاپٹر کو اور پنجاب کے آئی۔ جی کو دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے۔ لوگوں کا ایک جمِ غفیر تھا۔ تا حدِ نگاہ لوگ ہی لوگ تھے۔ نام نہاد آزاد میڈیا بھی براہ راست کورریج کے لیے پہنچ چکا تھا۔ دوسرے دن ہاتھوں ہاتھ اخبار بکے۔ ملزمان گرفتار ہوگئے لیکن آئی۔ جی پولیس کے جاتے ہی سیاست دانوں اور مقامی پولیس نے اس خاندان کا جینا دو بھر کردیا۔ پہلے صلح کے لیے 70 لاکھ روپے کی آفر کی گئی جسے اس غریب خاندان نے انصاف کی امید کے ساتھ ٹھکرا دیا لیکن پھر وہی رقم سیاستدانوں کے ذریعے پولیس ، اور ڈاکٹروں میں تقسیم کی گئی جنہوں نے کچھ ملزمان کو بے گناہی کا سرٹیفکٹ جاری کر دیا۔ لیکن ہم غریب شخص کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے رہے لیکن وہ بار بار کہتا میں غریب ہوں ا ن لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکوں گا ، اچانک اس کا موبائل نمبر بند ہو گیا چندروز بعد گھر سے پتا کیا تو بتایا گیا وہ ملزمان کے ساتھ صلح کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ علاقہ چھوڑ کرچلے گئے ہیں خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ان جاگیرداروں اور پولیس کے خوف سے یا پھر پیسے لے کر انہوں نے صلح کر لی۔ ملزمان کی سرپرستی کرنے والے کچھ مقامی جاگیردار چیئرمین منتخب ہو چکے ہیں اور سرپرستِ اعلی اس وقت برسراقتدار جماعت کے ممبر قومی اسمبلی ہیں۔ خواتین کے عالمی دن پر بھی ان کا بیان پڑھا تھا اور گزشتہ ہفتے یوم مزدور پر بھی بیان دیکھنے کو ملا۔

میری پنجاب کے خادم اعلیٰ سے صرف ایک درخواست ہے کہ اپنے ان صاحب اقتدار ممبران سے کہہ کر اس غریب حجام کے گھر کے کھنڈرات کو وہاں سے صاف کروا دیں۔ میں چار سال بعد وہاں گیا ہوں آج بھی اس مظلو م خاندان کی آہوں اور سسکیوں کی آوازیں وہاں سے آتی ہیں جہاں سے غریب کی عزت اور پاکستان کے قانون کا جنارہ نکلا تھا جیسے آج چار سال بعد ایک جنونی نے ایک بار پھرآپ کے شرفا کے بارے میں لکھ دیا ہے یہ سب ان کھنڈرات کا قصورہے اگر وہاں سب نشانیاں مٹا دیتے تو آج ایک بار پھر باعزت جاگیرداروں کی پگڑیاں نہ اچھالی جاتیں پہلے بھی معمولی سے حجام کی بیٹی کی وجہ سے ان کی عزت خاک میں مل گئی تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔