مردان میں اب دولے شاہ کے چوہے ہی زندہ رہ سکتے ہیں


آپ نے مختلف چوراہوں پر سبز رنگ کے چوغے پہنچے ایسے عجیب الخلقت بچے دیکھے ہوں گے جن کا سر بہت چھوٹا ہوتا ہے اور وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی نارمل مرد یا عورت ہوتا ہے جو ان بچوں سے بھیک منگوا رہا ہوتا ہے۔ ان بچوں کو دولے شاہ کے چوہے کہا جاتا ہے۔

گجرات کے قدیم شہر کے مشرقی دروازے کی طرف حضرت شاہ دولہ دریائی کا مزار ہے۔ یہ بچے انہیں شاہ دولہ سے منسوب ہیں۔ عام روایت چلی آتی ہے کہ بے اولاد عورتیں اس مزار پر جا کر دعا مانگتی ہیں تو پہلا بچہ چھوٹے سر والا پیدا ہوتا ہے۔ وہ بول نہیں سکتا۔ اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اگر اس بچے کو مزار کے لئے وقف نہ کیا جائے تو بقیہ اولاد بھی ویسی ہی پیدا ہوتی ہے۔ روایت یہاں تک موجود ہے کہ اگر بچے کو اس آستانہ پر نہیں لایا جاتا تھا تو وہ بڑا ہو کر خود بخود یہاں پہنچ جاتا تھا۔ یہ بچے مختلف علاقوں میں بھیک مانگ کر اپنا گزارہ کرتے تھے۔

ایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ پہلوٹھی کے جو بچے مزار پر دیے جاتے ہیں وہ نارمل ہوتے ہیں لیکن انہیں کمسنی میں ہی آہنی ٹوپیاں پہنا دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ بظاہر یہ روایت غلط ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا کہ ایک جنیاتی نقص ‘Microcephaly’ کی وجہ سے ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ پیدائشی بیماری ہوتی ہے یا زندگی کے ابتدائی چند برسوں میں بچے میں اس کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔

روحانی پیشوا شاہ دولہ مغل بادشاہ شاہ جہاں کے زمانہ میں گجرات آئے۔ وہ رفاہی کام کرنے والے شخص تھے۔ انہوں نے جگہ جگہ مساجد اور مسافروں کے لئے سرائیں بنوائیں۔ ایسی ہی ایک سرائے انہوں نے ان چھوٹے سر والے معذور بچوں کے لئے وقف کی جہیں بعد میں دولے شاہ کے چوہے کہا جانے لگا۔ مزار اور یہ سرائے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ اوقاف نے اپنے قبضے میں لے لیے اور وہاں بچے چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی۔

یہ بچے قابل رحم ہوتے ہیں۔ ان کی ذہنی صلاحیت ایسی ہوتی ہے کہ یہ بات چیت کرنا تو دور کی بات ہے، چلنے پھرنے میں بھی ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے ڈیڑھ دو برس کا بچہ چل رہا ہو۔ دولے شاہ کے چوہوں کے ذہن کام نہیں کرتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  برصغیر میں توہین مذہب کے قوانین کی تاریخ و تجزیہ

بدقسمتی سے مردان میں ایسے ہی بچے زندہ رہ سکتے ہیں۔ ستمبر 2016 میں مردان کے کچہری گیٹ کے سامنے ایک خودکش حملہ آور نے فائرنگ کر دی مگر زخمی ہونے کے باوجود پولیس کانسٹیبل جنید نے خود کش حملہ آور پر فائرنگ کی جس پر وہ کچہری سے باہر ہی پھٹ گیا۔ کانسٹیبل جنید بھی شہید ہو گئے۔ مردان پولیس دیوانگی کا شکار ہو گئی۔

اولس خان گذشتہ بیس سال سے کپڑے کے کاروبار سے وابستہ تھا اور وہ شاہین مارکیٹ سے کپڑے لے کر سائیکل پر فروخت کرتا تھا۔ 3 مارچ 2017 کو اولس خان اپنی سائیکل پر کپڑے گی گٹھڑی اٹھائے مردان کچہری کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ پولیس نے آواز دی اور اسے رکنے کا کہا تاہم وہ نہ رکا جس کے بعد ایلیٹ فورس اور بکتر بند کو طلب کرکے سائیکل سوار کا تعاقب کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق بکتر بند نے سائیکل سوار 40 سالہ اولس خان کو ٹکر مار کر گرایا۔ جس پر اولس خان خوفزدہ ہو گیا اور اٹھتے ہی جی پی او کی طرف دوڑا جس پر پولیس نے اسے خودکش بمبار سمجھ کر فائرنگ کر دی۔ اسے متعدد گولیاں لگیں۔ اسے ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچا یا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اولس خان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ بہرا تھا۔ اسے سنائی نہیں دیتا تھا۔

13 اپریل 2017 کو عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں مشال خان کو ایک ہجوم نے بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ سوچتا تھا۔ بولتا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کرپشن کے خلاف بولتا تھا۔ کرپشن کرنے والوں نے اس پر بلاسفیمی کا الزام لگا کر ہجوم کو مشتعل کیا اور اسے مار ڈالا گیا۔ پولیس کے کم از کم 20 اہلکار وہاں موجود تھے جنہوں نے اسے بچانے کی کوشش نہیں کی۔ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ ہجوم کو مشتعل کرنے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ مشال کو قتل کیا گیا، برا ہوا۔ اس سے زیادہ برا یہ ہوا کہ یہ ثابت ہونے کے باوجود کے مشال بلاسفیمی میں ملوث نہیں تھا، مردان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر ایکا کیے ہوئے ہیں کہ اسے بلاسفیمی کا مجرم ٹھہرانا ہے اور اس کے قاتلوں کو بچانا ہے۔

بلال نامی ایک ذہنی معذور آج پھر مردان پولیس کا شکار ہو گیا ہے۔ اس کا باپ اسے موٹر سائیکل پر بٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہا تھا کہ وہ موٹرسائیکل سے اتر کر بھاگ نکلا۔ اس کی بدقسمتی کہ وہ کچہری کے سامنے بھاگا تھا۔ وہاں موجود پولیس اہلکار نے اسے رکنے کو کہا اور ہوائی فائرنگ کی۔ ایک ننھے منے بچے جیسا ذہن رکھنے والا بیس سالہ بلال فائرنگ سے خوفزدہ ہو کر مزید تیز دوڑا۔ بلال کے باپ نے چیخ کر پولیس اہلکار کو بتایا کہ بلال ذہنی طور پر معذور ہے۔ پولیس اہلکار نے سیدھی فائرنگ کی اور اس ذہنی معذور کو خودکش بمبار سمجھ کر اس کے سر میں گولیاں اتار دیں۔

اسی بارے میں: ۔  اور ابلیس نے کہا

ہماری قدیم روایات میں ذہنی معذوروں سے ہمدردی کی جاتی تھی. ان کی ناراضگی سے ڈرا جاتا تھا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں اور ان کی دعا یا بد دعا سیدھی عرش پر جاتی ہے. اب انہیں خودکش بمبار سمجھ کر ان کو قتل کیا جاتا ہے.

مردان میں پولیس کے بہت مختصر عرصے میں اس طرح قتل و غارت میں ملوث ہونے سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اب مردان پولیس کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔ کیا پولیس اہلکاروں کو آتشیں ہتھیار دیتے وقت انہیں یہ سکھانا واقعی بہت مشکل ہوتا ہے کہ جب تک مقابل ہتھیار تانے نہ کھڑا ہو اور اپنی جان کا خطرہ نہ ہو، تو گولی سر میں نہیں ٹانگ میں مارتے ہیں؟

مردان میں اب نہ یونیورسٹی محفوظ ہے کہ ادھر سوچنے والے مار دیے جاتے ہیں۔ نہ ادھر قوت سماعت سے محروم افراد محفوظ ہیں۔ وہ پولیس کی بات نہ سن سکیں تو سیدھی فائرنگ کر کے مار دیے جاتے ہیں۔ نہ ادھر ذہنی طور پر معذور افراد محفوظ ہیں۔

مردان میں اب شاید دولے شاہ کے چوہے ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔ جو نہ بول سکتے ہوں، نہ چل سکتے ہوں، نہ سوچ سکتے ہوں اور ان کے سبز چوغے اور نہایت چھوٹے سر کو دیکھ کر دور سے ہی پتہ چل جائے کہ وہ خودکش بمبار نہیں ہیں۔ وہاں سوچنے والوں کا زندہ رہنا مشکل قرار پایا ہے۔

یا پھر مردان میں پولیس والے زندہ رہ سکتے ہیں۔ پے درپے واقعات سے ثابت ہو رہا ہے کہ مردان پولیس کے ذہن کام نہیں کرتے ہیں۔ دولے شاہ کے چوہوں کے ذہن کام نہیں کرتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 728 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar