پانچ روپے کی آئس کریم اور گرل فرینڈ


پولیس والے ان کے گھر میں داخل ہوئے اور سیدھا ان کے بیڈروم میں آ گئے۔ شیرف نے ان دونوں کے چہروں کی طرف روشنی پھینکی اور پوچھا، “تم بستر میں اس عورت کے ساتھ کیا کر رہے ہو؟” رات کے دو بجے ہوئے تھے۔ اس نے بہت تحمل سے بتایا کہ یہ میری بیوی ہے اور پانچ ہفتے پہلے ہی ہماری شادی ہوئی ہے۔ پولیس نے پھر بھی انہیں گرفتار کر لیا۔ قانون کے مطابق ایک گورا کسی بھی کالے سے شادی نہیں کر سکتا تھا، وہ دونوں نسلی برتری کا عظیم قانون توڑنے کے مرتکب ہو چکے تھے۔
رچرڈ لوونگ نے ایک رات جیل میں گزاری اور اگلی صبح ضمانت پر رہا ہو گیا۔ ملڈرڈ، اس کی بیوی پورے تین دن رات جیل میں قید رہی، کالوں کے لیے ایسا کوئی بھی آسان قانون نہیں تھا جو اس کی جان فوراً چھڑا پاتا۔ مقدمہ چلا اور جج نے ان کو یہ سزا سنائی کہ یا تو پچیس برس کے لیے تم دونوں یہ ریاست چھوڑ جاؤ، یا پھر جیل جانے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ وہ دونوں ریاست سے جلاوطن ہو گئے اور نو برس اسی حال میں گزارے۔
وہ شروع سے ایک ہی علاقے میں رہتے تھے۔ سوسائیٹی کے کلب میں ڈانس کرنے اور گاڑیوں کی ریسوں میں ایک دوسرے سے بار بار ملنے کے بعد وہ بہت قریب آ گئے تھے، اور پھر باقاعدہ محبت میں مبتلا ہو گئے۔ دو سال کی دوستی کے بعد جب ملڈرڈ امید سے ہوئی تو انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اس کے لیے میلوں دور ایک ریاست میں گئے جہاں مختلف النسل انسانوں کی شادی کے لیے قانون موجود تھا۔
عدالت سے جلاوطنی کی سزا ملنے کے بعد وہ دوبارہ اسی ریاست چلے گئے۔ لڑکی کا دل وہاں نہیں لگتا تھا۔ وہ گاؤں دیہات کی پلی بڑھی تھی اور یہ شہر نرا کنکریٹ کی عمارتوں کا ایک جنگل تھا۔ وہ دونوں چھپ چھپ کر اپنے گھر والوں سے ملنے آتے اور آنسو بہاتے واپس چلے جاتے۔ اس صورت حال سے تنگ آ کر انہوں نے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا۔
ان کی پہلی اپیل تو بالکل ہی رد کر دی گئی۔ دور دور تک کوئی ان کی بات تک سننے کو تیار نہیں تھا۔ ایک برس بعد دوبارہ انہوں نے اپیل دائر کی تو جج نے ان الفاظ میں فیصلہ سنایا، “خدائے بزرگ و برتر نے مختلف لوگوں کو سفید، کالا، پیلا، گندمی اور سرخی مائل بنایا ہے اور پھر انہیں ایک دوسرے سے بہت دور مختلف براعظموں پر آباد کیا ہے۔ مختلف نسلوں کو اتنا دور دور رکھنا ہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان کا آپس میں ملاپ نہیں چاہتا۔ اب اگر عدالت ان دونوں کو شادی کی اجازت دے تو یہ خدا کے اپنے قانون کو توڑنے والی بات ہو گی۔” اس تعصب بھرے فیصلے کے بعد انہوں نے اپنے ملک کی سپریم کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کیس لگا، وکیل ان کی طرف سے لڑتے رہے۔ دونوں میں سے کسی کو عدالت میں نہیں بلایا گیا لیکن لوونگ نے ایک خط عدالت میں بھیجا، “ججوں کو اطلاع دی جائے کہ میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں اور یہ شدید ناانصافی ہے کہ مجھے اس کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔” بالاخر کیس کا فیصلہ ان کے حق میں آیا اور 12 جون 1967 کے دن یہ قانون ان الفاظ میں پورے ملک سے ختم کر دیا گیا۔ “ہمارے قانون کے مطابق کسی بھی دوسری نسل کے انسان کے ساتھ رہنے، شادی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ فرد کا انفرادی فیصلہ ہے، ریاست اس میں ہرگز کوئی مداخلت نہیں کر سکتی۔ پرانا قانون کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔”
آٹھ برس کے بعد ان دونوں کی گاڑی کو ایک حادثہ پیش آیا کس میں لوونگ جاں بحق ہو گیا اور ملڈرڈ اکیلی رہ گئی۔ وہ ایک آدھ بار کے علاوہ کبھی میڈیا کے سامنے نہیں آئی، نہ ہی اپنی شہرت کیش کی اور نہ کبھی دوسری شادی کی۔ 12 جون کو اس جوڑے کی یاد میں “لوونگز ڈے” منایا جاتا ہے۔
یہ ریاست ورجینیا تھی، یہ ملک امریکہ تھا، ایک پیار کرنے والے جوڑے نے ملک کا قانون بدل دیا، کتنی تقدیریں بدل دیں، نسلی تعصب کو ختم کر دیا اور کل محترم سراج الحق صاحب کا بیان تھا کہ امریکہ میں جوڑے ایک دوسرے کو پانچ روپے کی آئس کریم نہیں کھلا سکتے۔ وہاں مادیت پرستی بہت بڑھ چکی ہے۔
پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، وہاں پیار کرنے اور نبھانے کی مثالیں ہم سے زیادہ موجود ہیں۔ وہاں امی ابو نہیں مانتے یا فلاں چاچا کی بیٹی میری منگ ہے قسم کے بہانے نہیں چلتے۔ وہاں مرد یا عورت بحیثیت ایک فرد کے مکمل آزاد ہیں اور ان کی حمایت کے لیے ملکی قانون ان کے پیچھے موجود ہے۔ وہ ایک دوسرے سے دل بھر جانے کی صورت میں تیزاب نہیں پھینکتے، نہ ہی ان کے چولہے پھٹتے ہیں، بس  تھوڑا سا رو پیٹ کے الگ ہو جاتے ہیں جسے بریک اپ کہا جاتا ہے۔ جب تک اکٹھے رہتے ہیں موج میلہ کرتے ہیں، الگ ہونے کے بعد ایک دوسرے کی نسلوں تک سے دشمنیاں نہیں پالتے۔ بریک اپ کے بعد پڑوسی، رشتے دار اور دفتر والے ان سے تعزیت کرنے نہیں آتے، یہ حق صرف ایک دو قریبی دوستوں کو حاصل ہوتا ہے۔ شادیاں وہاں دیر تک بھی چلتی ہیں لیکن عورت عموماً مرد جتنی ہی ذمہ داد سمجھی جاتی ہے اور خود دار بھی ہوتی ہے۔
پانچ روپے کی آئس کریم اپنے اپنے پیسوں سے کھا کر میاں بیوی راضی ہیں تو کیا کرے گا قاضی؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 297 posts and counting.See all posts by husnain