فرانس میں انتہا پسند اور قدامت پسند ہار گئے


 فرانس کے صدارتی انتخاب میں لبرل خیالات کے حامل مینیول میخواں کی کامیابی سے انتہا پسند پارٹی نیشنل فرنٹ کو شدید دھچکا لگا ہے اور یورپ بھر میں اس کامیابی کو انتہا پسند اور پاپولسٹ پارٹیوں کے خلاف ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔ مینیول میخواں نے صدارتی انتخاب کے دوسرے راؤنڈ میں 66,1 ووٹ حاصل کرکے مارین لے پین کے مقابلے میں تیس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ یہ کامیابی انتخاب سے پہلے قائم کئے جانے والے اندازوں سے بھی زیادہ ہے۔ مارین لے پین کو اس نتخاب میں 33 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ تاہم ان کے لئے بھی اس قدر زیادہ تعداد میں ووٹ حاصل کرنا تاریخی کامیابی ہے۔ اس سے پہلے ان کے والد جین لے پین 2002 صدارتی انتخاب کے دوسرے راؤنڈ میں آنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن صرف 17 فیصد ووٹ حاصل کرسکے تھے۔ اس تناظر میں نیشنل فرنٹ نے جو مسلمانوں اور غیر ملکیوں کے خلاف انتہا پسند نظریا تکا پرچار کرتا ہے ، پندرہ برس میں اپنی مقبولیت دو گنا کر لی ہے۔

فرانس کے نو منتخب صدر کی کامیابی پر یورپین یونین کے ملکوں نے بھی خوشی محسوس کی ہے۔ لے پین یونین سے نکلنے کے ایجنڈے پر انتخاب میں شریک ہوئی تھیں جبکہ میخواں یونین کو مضبوط کرنے کے حامی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یونین سے نکلنے والے ملکوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ اسی لئے وہ بریکسٹ ووٹ کے بعد برطانیہ کے یونین سے نکلنے کے عمل میں سخت مؤقف اختیار کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم یونین کے ساتھ فرانس کے تعاون اور منتخب صدر کی دیگر اقتصادی پالیسیوں پپر عملدرآمد کا انحصار نو منتخب صدر کو حاصل ہونے والی سیاسی حمایت پر بھی ہوگا۔ میخواں 1958 کے بعد پہلے صدر ہوں گے جو ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں سوشلسٹ پارٹی اور قدامت پسند پارٹی کے امید واروں کو ہرا کر پہلے راؤنڈ سے دوسرے راؤنڈ میں گئے تھے۔ اب جون میں فرانس کی پارلیمنٹ کا انتخاب ہوگا۔ میخواں کی اپنی کوئی پارٹی نہیں ہے اس لئے وہ اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی پارٹیوں کی حمایت کے محتاج ہوں گے۔

فرانس کے نئے صدر کو حاصل ہونے والی کامیابی ان کی اپنی مقبولیت سے زیادہ نیشنل پارٹی کی لیڈر مارین لے پین کی مخالفت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ دوسرے راؤنڈ میں بہت سے ووٹروں نے لے پین کی شکست کو یقینی بنانے کے لئے میخواں کو ووٹ دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ ووٹروں کی بڑی تعداد نے بلینک بیلیٹ پیپر ڈال کر بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ انتخاب میں ووٹروں کی شرح بھی ستر فیصد سے کم رہی ہے جو فرانس میں انتخابی ریکارڈ کے حساب سے بہت اچھی شرح نہیں ہے۔ اسے بھی میخواں کی ناکامی کہا جا رہا ہے۔ تاہم نو منتخب صدر نوعمر ہیں اور اپنے انتخابی ایجنڈے کے بارے میں پر جوش بھی ہیں۔ انہوں نے بیروزگاری کم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ کامیابی کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پانچ برس بعد انتہا پسندوں کی حمایت کرنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی۔

نیشنل فرنٹ نے غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے خلاف تند و تیز لب و لہجہ اختیار کرنے کے علاوہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور ملک کے دگرگوں معاشی حالات کی وجہ سے مقبولیت حاصل کی ہے۔ مارین لے پین کوشش کے باوجود صدر تو منتخب نہیں ہو سکیں لیکن انہیں اور ان کی پارٹی کو ملک کے ایک تہائی ووٹروں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ جون کے انتخاب میں بھی یہ ووٹر نیشنل فرنٹ کے امید واروں کو کامیاب کرواکے پارلیمنٹ میں بھیجیں گے۔ اس طرح نیشنل فرنٹ حکومت اور صدر کے خلاف اپنا پاپولسٹ ایجنڈا سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اس رجحان کو ختم کرنے کے لئے ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کو نئے صدر کے ساتھ ملک کر معاشی بحالی کے منشور پر کوشش کرنے کی ضرورت ہوگی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 649 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali