قبل اس کے کہ یار فرید بولے!


waqar ahmad malikاس سے پہلے کہ بھائی فرید اپنے تخیل کی جگمگاہٹ سے دنیائے سائنس کو روشن کریں کیوں نہ ہم ان نظریات کو ذہن میں تروتازہ کر لیں جن کی عمر بھائی فرید کی پریس کانفرنس تک ہی نظر آ رہی ہے ۔

نیوٹن کے کشش ثقل کے قانون کی حیثیت آج بھی کلاسیکل فزکس میں مسلمہ ہے ۔ نیوٹن اور آئن سٹائن کے نظریات کا موازنہ کرتے ہوئے پاکستانی اخباروں میں یہاں تک پڑھنے کو ملا کہ دنیا کہاں پہنچ گئی ہے، آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت مکمل طور پر ثابت ہو چکا ہے لیکن ہم اب بھی نیوٹن کے قوانین پڑھا رہے ہیں۔ اب ایسی باتوں پر حیرت اس لیے نہیں ہوتی کہ ہماری سائنس کے ساتھ وابستگی پاپولر سائنس کی چٹ پٹی خبروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ نیم سائنس سے ہمیں عشق ہے کہ ہماری عجیب و غریب یقین کی دنیا کو جواز اسی کے وسیع دامن سے حاصل ہوتے ہے۔

جب تک کہ ہم روشنی کی رفتار کے برابر سفر کرنے کے قابل نہیں ہوتے اس وقت تک تو نیوٹن کی یہ ریا ضیاتی کاوشیںکلاسیکل میکینکس اور انجئینرنگ میں استعمال ہوتی رہیں گی۔ جس روز ہم روشنی کی رفتار کی رفتار میں سفر کرنے کے قابل ہو گئے تو پھر ہم یقینا نیوٹن اور اس کے قوانین کو جاننے سے باقاعدہ انکاری ہو جائیںگے۔ ہم پہچانیں گے ہی نہیں!

نیوٹن کے قوانین اسی طرح مستعمل ہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ نیوٹن کشش ثقل کی قوت پر تحقیق کر رہے تھے۔

کشش ثقل اپنی فطرت میں کیا ہے یہ نیوٹن کا دائرہ تحقیق نہیں تھا۔

12784385_10154058977513578_1131950820_nان کا مشہور زمانہ اخذ کردہ کلیہ جس سے ہم نے بہت بڑے بڑے مسائل حل کیے (ماسوائے سیارہ عطارد کی سورج کے گرد مدار بدلتی حرکت کے) اتنا بڑا کلیہ ہے کہ ان کی وفات کے قریبا اسی سال بعد اس کی تصدیق ہوئی اور آج بھی استعمال ہو رہا ہے۔

یہ وہی فارمولے ہیں جو پاکستان میں طالبعلموں کے قوت حافظہ کی جانچ کے لیے استعمال ہوتے ہیں

نیوٹن کے مطابق اگر سورج ایک دم کسی لمحے میں ختم ہو جائے تو زمین اسی وقت مدار چھوڑ دے گی۔ جبکہ آئن سٹائن کے نظریے کے مطابق کائنات زمان و مکان کی چار جہتی چادر پر مشتمل ہے اور کشش ثقل کی امواج کی رفتار روشنی کی رفتا ر جتنی ہے اس لیے ایک دم کسی لمحے میں سورج ختم ہونے کی صورت میں زمین تک اس کے اثرات پہنچنے میں آٹھ منٹ لگیں گے۔ اتنا ہی عرصہ جتنا روشنی کو سورج سے زمین پر پہنچنے میں لگتا ہے۔ اس کے بعد زمین اپنا مدار چھوڑ دے گی۔

ایک اور نمایا ں فرق یہ ہے کہ نیوٹن کے دور میں کمیت اور توانائی علیحدہ علیحدہ تصور کی جاتی تھیں جس کو آئن سٹائن کی مشہور زمانہ مساوات نے بدل ڈالا۔

ایک اور فرق یہ بھی ہے کہ نیوٹن زمان و مکان اور وقت کو علیحدہ تصور کرتے تھے، جو آئن سٹائن کے دیومالائی تخیل نے ایک کر دیے۔
نیوٹن کی کشش ثقل کے مطابق زمین ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی(Pull) ہے اورآئن سٹائن کے نظریہ کے مطابق زمان و مکان اور وقت کی چار جہتی چادر ہمیں نیچے کی طرف دھکیلتی (Push) ہے۔

اس سے پہلے کہ فرید بھائی کی پریس کانفرنس شروع ہو جائے ، آئیے ذرا نیوٹن کے کائناتی کلیے کا تجزیہ کر لیںجس میں کشش ثقل نتیجہ ہے دو اجسام کی کمیتوں کے مجموعہ کا جو تقسیم کیا جاتا ہے دونوں اجسام کے باہمی فاصلے کے مربع پر اورضرب دی جاتی ہے کشش ثقل کی ایک مستقل مقدار سے ۔

اس مضمون میں یہ مشہور زمانہ کلیہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔

آئیے ایک کھیل سے لطف اندوز ہوں کہ یہ کلیے کمال لطف دیتے ہیں۔

آپ اس کلیہ کو استعمال کرنے کے لیے مندرجہ ذیل مقداریں لے لیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کھانے کی کسی زبردست ترکیب کے لیے مختلف اجزا اکھٹے کرتے ہیں۔

12767409_10154058977518578_398274701_nپہلی مقدار تو ایک مستقل مقدار ہے ۔ دوسری زمین کی کمیت ، تیسری آپ کی اپنی کمیت ، چوتھی آپ اور زمین کا رداسی فاصلہ۔

G=6.67*0.00000000001
m2=5.927*10^24kg
m1: 70kg
r = 6371 km + 3 ft (یہاں پر تین فٹ جیسی کم مقدار کو نظر انداز ہی کر دیں ، یہ در حقیقت آپ کا رداس ہے بالفرض آپ کا قد چھ فٹ ہے)

اب آپ کیسے کیسے دلچسپ سوال حل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ m1 کو نظر انداز کریں اور باقی فارمولے کو حل کریں تو جواب آئے گا 9.8 فی سیکنڈ کا مربع ۔ یہ وہ رفتار ہے یا اسراع ہے جس سے زمین کو آپ کو کھینچتی ہے۔ اب نظر انداز کیے گئے m1 یعنی اپنی کمیت بالفرض 70kgکو اپنے 9.8 سے ضرب دیں ۔حاصل ضرب آئے گا 686 نیوٹن
یعنی 686 نیوٹن سے زمین آپ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ اور اگر نیوٹن کو کلو گرام میں تبدیل کر دیں تو 69.95 kg حاصل ہو گا۔۔۔ارے!! یہی تو آپ کا وزن ہے ۔

اب ایک اور انتہائی دلچسپ سوال کی جانب جاتے ہیں۔ کہ آپ اور زمین کی باہمی کشش 686 نیوٹن ہے ۔ آپ اگر کسی عمارت سے گرتے ہیں تو زمین کی جانب 9.8 میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے گرتے چلے جاتے ہیں لیکن یہی اگر ہم زمین کے حوالے سے مسئلہ حل کرنا چاہیں کہ آپ کی کشش ثقل کی وجہ سے وہ آپ کی جانب کس رفتار سے آتی ہے۔
چاہے یہ سوال وزن اور آپ کی کمیت کے موازنے کو مد نظر رکھیں تو لاکھ مضحکہ خیز سہی ، لیکن سوال تو ہے اور سائنس کا یہی تو کمال ہے کہ وہ ہر سوال کا سنجیدہ جواب دیتی ہے

اب آئیے ایک اور کلیہ کی جانب

F=ma یعنی قوت ، کمیت اور اسراع کا حاصل ہے
Fکی قیمت آپ نکال چکے ہیں جو 686 نیوٹن ہے۔
mآپ کی اپنی ذات مبارکہ کی کمیت ہے یعنی 70کلو گرام
686=70*a

ارے واہ اگر ہمیں قوت کا معلوم ہو تو ہم کتنی آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں کہ زمین ہمیں 9.8میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے کھینچ رہی ہے ۔ لیکن یہی کلیہ ہم اس کے لیے کیوں نہ استعمال کریں کہ آپ پوری زمین کو کس رفتارسے کھینچ رہے ہیں۔ بس آپ کو کرنا یہ ہے کہ m کی جگہ اپنی کمیت کے بجائے زمین کی کمیت دے دیں۔ یعنی 5.927*10^24kg

جواب مجھ سے نہ پوچھیں۔ کیونکہ جب آپ 686نیوٹن پر زمین کی کمیت تقسیم کریں گے تو کیلکولیٹر غش کھا جائے گا۔

بہت بہت بہت ہی کمزور سا ہندسہ نکلیں گا۔۔آپ منحنی سے تو ہیں۔

اسی نیوٹونین فزکس کو لیں اور ایک دلچسپ سوال حل کریں۔ ہم خلا میں کسی مصنوعی سیارے کو کس رفتار سے چھوڑیں کہ نہ زمین کی جانب آئے اور نہ ہی اپنا مدار چھوڑ کر باہر جائے۔
جب آپ زمین کی سطح پر کشش ثقل نکالتے ہیں تو جواب 9.81 میٹر فی سیکنڈ فی سیکنڈ آتا ہے۔ لیکن ایک مصنوعی سیارہ تقریبا چار سو کلومیٹر زمین سے دوری پر ہوتا ہے۔

یہاںبھی کشش ثقل موجود ہے ۔ کتنی؟

جب آپ زمین کے رداس میں چار سو کلومیٹر جمع کرتے ہیں (یاد رہے زمین کی سطح پر میں نے آپ کا رداس نظر اندا ز کیا تھا کیونکہ مقدار نہ ہونے کے برابر تھی) لیکن جب آپ چار سو کلو میٹر جمع کرتے ہیں تو جواب 8.69 آئے گا۔ یعنی کشش ثقل چار سو کلومیٹر پر بھی شان کے ساتھ موجود ہے۔

اب کیا کیا جائے ؟ مصنوعی سیارے کو کتنی رفتار چاہیے ہو گی کہ وہ کشش ثقل کو کینسل کر دے اور گھومتا پھرے۔ کیونکہ رگڑ کی صورت میں اس سطح پر کچھ زیادہ رکاوٹ درپیش نہیں ہے۔

12784202_10154058977478578_1630067267_nیعنی ہم نے سینٹری پیٹل اسراع معلوم کرنا ہے۔ اس کے فارمولہ کی تصویر آپ اس مضمون میں دیکھ سکتے ہیں۔

جب ہم اس فارمولہ میں مقداریں ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر مصنوعی سیارہ 7670میٹر فی سیکنڈ یا 7.6 کلومیٹر فی سیکنڈ یا 27614 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے تو مدار میں گھومتا رہے گا۔ اس سے زیادہ رفتار اس کو باہر لے جائے گی اور اس سے کم رفتار اس کو زمین کی طرف کھینچ لائے گی

واہ واہ ، شکریہ نیوٹن! آپ نے نہ صرف رفتار کا مسئلہ حل کر دیا بلکہ آپ ہی کے دیے حرکت کے پہلے قانون کی روشنی میں سیارہ رواں دواں رہے گا۔

لکھنے بیٹھا تو سوچا تھا کہ آپ کی کشش ثقل پر کی گئی تحقیق پر بات کروں گا اور آئن سٹائن کا کشش ثقل کی ماہیت کے حوالے سے ذکر کروں گا ، لیکن سارا مضمون آپ کھا گئے ۔

لیکن پیارے نیوٹن ایک ملک ہے پاکستان، جہاں آپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ کافی ہو گیا، نیوٹن کے قوانین آﺅٹ دیٹڈ ہو گئے ہیں۔ اور میں آپ کو راز کی بات بتاﺅں ایسا ممکن بھی ہے۔ بھائی فرید کی پریس کانفرنس آپ اور آئن سٹائن کے نظریات کو دفن بھی کر سکتی ہے۔

(بشکریہ: خان اکیڈمی )


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 64 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “قبل اس کے کہ یار فرید بولے!

  • 26-02-2016 at 3:15 pm
    Permalink

    Very Simple and Excellent

Comments are closed.