ایران کی پاکستان سے کلبھوشن یادو تک رسائی کی درخواست


ایران نے پاکستان میں گرفتار کیے جانے والے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن یادو تک رسائی کے لیے پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اس بات کا انکشاف کوئٹہ میں مقیم ایران کے قونصل جنرل محمد رفیع نے دو روز قبل ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ خیال رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گذشتہ ہفتے پاکستان کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا تھا۔ انھوں نے یہ دورہ ان دس ایرانی بارڈر فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد کیا تھا جن کو شدت پسندوں نے پاکستان کی سرحد کے قریب ایرانی حدود میں ہلاک کیا تھا۔ جب کوئٹہ میں مقیم ایران کے قونصل جنرل محمد رفیع سے یہ پوچھا گیا کہ آیا اس دورے کے دوران کلبھوشن یادو کے بارے میں بھی کوئی بات ہوئی یا نہیں؟ تو ان کا کہنا تھا: ’کلبوشن یادو کے حوالے سے سارے اجلاسوں میں کسی بھی قسم کی کوئی بات چیت عمل میں نہیں آئی۔‘

تاہم انھوں نے بتایا کہ ایرانی حکومت نے کلبھوشن یادو سے پوچھ گچھ کے لیے پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے دستاویزات مانگی گئی تھیں اور ملاقات کے لیے درخواست کی گئی تھی تاکہ ان سے پوچھ گچھ کی جائے۔ اس حوالے سے ابھی تک بات چیت جاری ہے تاہم کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘ کلبھوشن یادیو ایک انڈین جاسوس ہیں اور وہ بلوچستان اور کراچی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں اور کاروائیوں میں مصروف تھے: پاکستان
یاد رہے کہ کلبھوشن یادو کی گرفتاری کا دعویٰ پاکستانی حکام نے گذشتہ سال کیا تھا۔ پاکستانی حکام کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادو ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے۔ پاکستانی حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن یادو ایک انڈین جاسوس ہیں اور وہ بلوچستان اور کراچی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں اور کارروائیوں میں مصروف تھے۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان ایران کے لیے ایک انتہائی اہم ہمسایہ ملک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی سرزمین کو کسی طرح بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اسی بارے میں: ۔  امریکی صدارتی انتخابات؛ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ فتح سے چند قدم دور

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 930 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp