پھر وہی مقدمہ!!


 صرف 160 سال پہلے ہندوستان میں ایک مقدمہ کمپنی بہادر بنام بادشاہ چلا تھا جس میں بہادر شاہ ظفر، اس کے دو بیٹوں اور دو بیگمات کو جلاوطنی کی سزا ملی تھی۔ تاریخ کے جھروکے سے دیکھیں تو اب بھی کچھ نہیں بدلا وہی مقدمہ بار بار چلتا آ رہا ہے صرف مقدمے کے کردار بدلتے رہے ہیں۔ جس طرح دہلی کی فوجی عدالت سے بہادر شاہ ظفر کو ان کے درباریوں مرزا الہٰی بخش اور حکیم احسن اللہ خان کی گواہیوں پر سزا دی گئی، اسی طرح پاکستان کے کئی حکمرانوں کو بھی کئی وعدہ معاف گواہوں اور کابینہ کے ساتھیوں نے تختہ دار یا جیل کی کوٹھڑی تک پہنچایا۔

برصغیر کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے سکاٹش مصنف ولیم ڈالریمپل اپنی شہرۂ آفاق تصنیف “The Last Mughal” میں لکھتے ہیں کہ بہادر شاہ ظفر کے خلاف جو الزامات لگائے گئے ان میں غداری‘ بغاوت اور سازش سرفہرست تھے شہزادوں پر الزام تھا کہ وہ کرپشن کرتے ہیں گھروں پر قبضے کرتے ہیں اور تو اور وہ عصمتوں پر حملے کرتے ہیں۔ ہماری تاریخ کی اس منفرد کتاب (جو ولیم ڈالریمپل کے اپنے دستخطوں سے میرے پاس محفوظ ہے) میں لکھا ہے کہ فوجی عدالت میںکمپنی بہادر کے وکیل میجر ہیریٹ نے 84 سالہ بادشاہ پر الزام لگایا کہ ”وہ ایک ایول جینئیس ہے اور دراصل یہ شخص ایک بڑی مسلم سازش کی اہم ترین کڑی تھا۔ اس سازش کے تانے بانے قسطنطنیہ‘ مکّہ اور ایران سے شروع ہو کر لال قلعے کی دیواروں تک پہنچتے ہیں‘

ڈیڑھ صدی گزرنے کے باوجود اب بھی غداری کے تانے بانے وزیراعظم ہائوس کی دیواروں تک پہنچتے ہیں اس وقت لال قلعہ سکیورٹی رسک تھا اب وزیراعظم ہائوس سکیورٹی رسک ہے واقعی کچھ نہیں بدلا۔

بہادر شاہ ظفر پر الزام تھا کہ اس نے محسن کشی کی اور کمپنی بہادر کے خلاف سازشیں کرتا رہا۔ بادشاہ کی مہر اور دستخطوں سے کمپنی بہادر کے خلاف احکامات اور خطوط جاری ہوتے رہے۔ 160 سال بعد بھی وزیراعظم ہائوس سے غلط اور ادھورا نوٹیفکیشن جاری ہونے کا الزام لگتا ہے۔ بادشاہ نے اپنے دفاع میں کہا کہ شاہی مہر ”باغی سپاہیوں کے قبضے میں تھی وہ خود ہی احکامات جاری کر دیتے تھے مگر بادشاہ کی یہ دلیل کسی نے نہ مانی اور اسے سازش کا مرتکب قرار دیا۔ اب بھی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان لاکھ کہتے رہیں وضاحتیں دیتے رہیں کہ یہ نوٹیفکیشن ابھی ادھورا ہے یہ پورا نوٹیفکیشن میری وزارت نے جاری کرنا ہے۔ کیا بادشاہ کی کسی نے سنی تھی؟ جواب وزیراعظم کی سنی جائے گی۔

ڈیڑھ صدی گزر گئی ہمارے حکمران بھی ویسے کے ویسے ہیں بہادر شاہ ظفر کو جوانی ہی سے ”آئوٹنگ‘‘ پسند تھی میلے ٹھیلوں جلوسوں اور مشاعروں میں خوش رہتے تھے ہمارے حکمران بھی جلسے جلوسوں اور بیرون ملک دوروں کے شائق ہیں۔ ظفر مشاعرے سنتے اور سناتے آج کے وزیراعظم ، لطیفے سنتے اور سناتے ہیں لکھنؤ کے نوابین کھانے کے اتنے شوقین تھے کہ ان کے دور میں پلائو کی ترکیب اس انتہا تک پہنچ گئی کہ ایک سیر گوشت کی یخنی میں ایک پائو چاول ڈالے جاتے تھے پلائو ایسا مزیدار ہوتا تھا کہ لوگ انگلیاں چاٹتے تھے مغلیہ دسترخوان کی تو دال بھی گوشت سے زیادہ مزیدار ہوتی تھی، آج کے خاندان شریفیہ کا پلائو بھی ذائقے میں لکھنؤی رنگ کے برابر ہے۔

بادشاہوں اور حکمرانوں کی عادتیں نہیں بدلیں تو ان کے حالات بھی نہیں بدلے‘ ڈالریمپل ”دی لاسٹ مغل‘‘ میں سوال اٹھاتے ہیں کہ ہندوستانی سکّے پر بادشاہ کا نام اور تصویر کندہ تھی۔ آئینی اور قانونی لحاظ سے کمپنی بہادر فدوی بھی تھی مگر اختیارات کے اعتبار سے حاکم تھی دوسری طرف بہادر شاہ ظفر ہندوستانی ریاست کا حاکم بھی تھا مگر ریاست دہلی کا قیدی بھی۔ بادشاہ کمپنی کی حفاظت میں تھا تو وہ ایک طرح کا قیدی تھا اب بھی وزیراعظم ریاست کا قیدی ہے۔ آئین کی رو سے وزیراعظم ریاست کا حکمران ہے مگر طاقت کے اعتبار سے اب بھی فدوی۔ اس کے فون ٹیپ ہوتے ہیں ،مقصد اس کی حفاظت ہے یا اسے محصور رکھنا‘ یہ معاملہ ابھی تک معّمہ ہے۔ ڈیڑھ صدی گزر گئی مگر اسے سمجھنا اور سمجھانا مشکل ہے۔

کمپنی بہادر نے بادشاہ کو حراست میں لیا تو میجر ہڈسن نے وعدہ کر لیا کہ آپ کی جان کی حفاظت کی جائے گی۔ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے ایک بار خلاف ورزی ہوئی کیونکہ قبر ایک تھی اور بندے دو بالآخر وزیراعظم کو ہی جانا پڑا۔ بہادر شاہ ظفر قید ہوا تو آزاد منش صحافی اور فادر آف وار جنرنلزم ولیم ہاورڈ رسل نے قیدی بہادر شاہ ظفر کو دیکھا تو لکھا ”تنگ و تاریک کوٹھڑی کا پچھواڑہ‘ نحیف‘ دانتوں کے بغیر جبڑے‘ ویران آنکھیں اور ادھ سویا ہوا شخص بہادر شاہ ظفر تھا‘‘ رسل نے غیر جانبدارانہ فیصلہ دیا کہ بادشاہ کو سزا دینا ظلم ہو گا۔ مگر ریاستیں کب مانتی ہیں اس وقت کی کمپنی بہادر نے بھی نہ مانا اور آج کی ریاست بہادر بھی کسی کے مشورے نہیں مانتی…

آج سے ٹھیک 159 سال پہلے مقدمہ چلا تو بادشاہ نے کہا ”مجھے تو باغی سپاہی دھمکیاں دیتے تھے کہ تمہاری جگہ مرزا مغل کو بادشاہ بنا دیں گے کہتے تھے زینت محل کے رابطے انگریزوں سے ہیں اسے ہمارے حوالے کرو‘‘ مصنف لکھتے ہیں کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران بادشاہ آنکھیں موندے نیم دراز رہا البتہ اس کا بیٹا مرزا جواں بخت فوجی عدالت میں بیٹھا تمسخر اڑاتا رہا۔ اسے عدالت اور نظام پر اعتماد نہیں تھا اس لیے اسے عدالت میں آنے سے ہی روک دیا گیا۔

حالات اب بھی نہیں بدلے اب بھی وزیراعظم اور صدر کا ٹرائل جاری رہتا ہے جواں سال اولاد مریم نواز کو اس ٹرائل پر اعتراض ہے تو یہ بھی تاریخ کا تسلسل ہے۔

ہر تاریخی واقعے کے ہیرو بھی ہوتے ہیں اور ولن بھی اگر جولیس سیزر ہیرو تھا تو بروٹس ولن‘ ٹیپو سلطان ہیرو تھا تو میر جعفر ولن اور بہادر شاہ ظفر کو ہیرو قرار دیا جائے تو پھر تھیومٹکاف اصلی ولن تھا۔ مٹکاف نے سینکڑوں لوگوں کو پھانسیاں اور سزائیں دیں آج کے تھیومٹکاف خود سوچ لیں وہ کون ہیں اور تاریخ کے کٹہرے میں ان کو کہاں کھڑا کیا جائے گا؟

رنگون میں قید بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں نے اپنے جیلر کیپٹن نیلسن ڈیویز سے درخواست کی کہ انہیں بھی مہاراجہ دلیپ سنگھ کی طرح انگلینڈ بھیج دیا جائے وہ وہاں جا کر انگریزی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے افسوس کہ ان کی درخواست کلکتہ کے جابر حکمرانوں نے ”Reject‘‘ کر دی ورنہ ہندوستان کے زوال زدہ مغل خاندان کا انجام بھی انگلینڈ میں ہی جا کر ہوتا۔ پنجاب کے آخری حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وارث دلیپ سنگھ انگلینڈ کے باسی بن گئے وہاں ایک کنٹری ہوم میں رہائش پذیر رہے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے بھی انگلینڈ جا کر جائیداد خریدتے اور وہیں کے ہو رہتے اب بھی سب کچھ ویسا ہی ہے۔ وزیراعظم کے بیٹوں کی جائیداد انگلینڈ میں ہے۔150 سال گذر گئے اب بھی وزیراعظم کے خاندان کی انگلینڈ میں جائیداد کا مقدمہ زیرسماعت ہے غرضیکہ اگر ریاست نہیں بدلی تو حکمران بھی نہیں بدلے۔ ہندوستان کو غلام بنانے کے مخالف نامور فلاسفر ایڈمٹڈبرک نے کہا تھا کہ جو تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے وہ بار بار وہی غلطیاں دہراتے ہیں۔ کاش ریاست اور حکمران دونوں بدل جائیں!!

بشکریہ روز نامہ دنیا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سہیل وڑائچ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

suhail-warraich has 39 posts and counting.See all posts by suhail-warraich