سائنس عورت کی نجات دہندہ ہے (پہلا حصہ)


\"naseemمیں ایک ایسی عورت کو جانتی ہوں جس کے نو بچے ہیں۔ سات بیٹیاں اور دو بیٹے…. آغاز میں لگاتار پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ہر بیٹی کی پیدائش کے بعد اس کا شوہر اس کی خوب پٹائی کرتا تھا کہ لڑکی کیوں پیدا ہوئی۔ وہ عورت مار کھاتی، نوزائیدہ بچے کی پیدائش کی تمام تر صعوبتوں کے ساتھ ساتھ اسکی زندگی کا بوجھ بھی اٹھاتی کیونکہ متعصب شوہر اس بچے کی معاشی ذمہ داریاں اٹھانے میں بھی پس و پیش سے کام لیتا۔

یہ صرف ایک قصہ ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسی لاتعداد کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اور یہ رویہ کسی مخصوص طبقے کا نہیں۔ یہ امیر و غریب سے لے کر نام نہاد تعلیم یافتہ اور ان پڑھ گھرانوں کی مشترکہ داستان ہے جہاں شادی کے پہلے مہینے سے ہی بہو کی گود بھرنے کے مطالبات حیلوں بہانوں سے سامنے آنے لگتے ہیں۔ عورت سے وابستہ امید کا محور اکثر اولاد نرینہ ہی ہوتی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے یہ مطالبہ زور پکڑنے لگتا ہے اور بعض دفعہ تو ایک ذہین، قابل اور خوبصورت انسان محض عورت ہونے کے جرم میں، تخلیقی مشینری کو اپنے وجود میں پناہ دینے کے جرم میں, زندہ درگور کر دی جاتی ہے۔ ایسے کیسز بھی سامنے آتے ہیں جس میں اولاد نہ ہونے یا اولاد نرینہ نہ ہونے کی وجہ سے خواتین پر اتنا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ نفسیاتی مریض بن جاتی ہیں۔ آپ کے گلی محلے ایسی بد بخت عورتوں سے اٹے پڑے ہوں گے۔

شاید یہ جان کر آپ کو حیرت ہو کہ یہ خواتین بدبخت نہیں ہوتیں۔ نا ہی فطرت ان کے ساتھ مذاق کرتی ہے کہ بیٹیاں پیدا کر کے ان کی رسوائی کا سامان کرے۔ فطری طور پر یہ خواتین ہر لحاظ سے ایک بہتر اور کار آمد انسان ہیں۔ لیکن مرد کے ہم شکل ایک جابر استحصالی طبقے نے مختلف ہتھکنڈوں،الوہی فرمودات اور خود ساختہ سماجی نظام کو اپنے حق میں ترتیب دے کر عورت کو اس قدر درگور کیا ہے کہ اب ہماری عورت خود اپنی ذات کو کمتر تسلیم کرنے لگی ہے۔ جب وہ خود کو قصور وار تصور کرلیتی ہے تو نفسیاتی طور پر مغلوب ہو جاتی ہے اور بغاوت نہیں کرتی ( انسان کوجب تک یہ ادراک نہ ہو کہ یہ شے میری ہے تو وہ اسکے حق میں کیسے کھڑا ہو سکتا ہے) اور تمام سزائیں بھگتنے اور تاوان ادا کرنے کے لیے قربانی کے بکرے کی طرح اپنی ہستی کو پیش کر دیتی ہے۔ ایسا کم علمی کی بدولت ہے۔

\"12784339_1065179353534128_590008161_n\"بیٹا یا بیٹی پیدا کرنے کی ذمہ دار عورت نہیں، مرد ہے۔

 مندرجہ بالا سطر کسی علامتی داستان کا پرکشش جملہ نہیں کہ جس کے غلط ہونے کا بھی اتنا ہی امکان ہوتا ہے جتنا کہ اس کے درست ہونے کا۔ یہ سائنسی سچائی ہے کہ بیٹا پیدا کرنے کی ذمہ دار عورت نہیں، مرد ہے۔ انسانی خلیے کا ڈی این اے چھیالیس دھاگا نما ساختوں میں خود کو ترتیب دیے ہوئے ہے۔ جنہیں کروموسومز کہتے ہیں۔ گویا انسانی جسم کے ہر خلیے میں چھالیس کروموسوز تئیس جوڑوں کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔مرد و عورت کے باقی تمام کروموسومز کے علاوہ صرف ایک جوڑے کا ایک رکن دونوں اصناف میں مختلف ہوتا ہے۔ یہ جوڑا تخلیقی عمل کے دوران بچے کی جنس متعین کرنے کے مظہر میں حصہ لیتا ہے۔ مرد میں یہ جوڑا ایکس اور وائے ہوتا ہے اور عورت میں ایکس ایکس۔ مرد اپنے سپرم کے ذریعے اگر وائے کروموسوم عورت کے بیضے تک پہچانے میں کامیاب ہو تو لڑکا پیدا ہوتا ہے ورنہ لڑکی۔ اس بات کو بہتر انداز میں اس تصویر میں دکھایا گیا ہے۔


ایک تو یہ ستم کہ مرد نے نا صرف اولاد کی جنس کی ذمہ داری عورت پہ ڈال کر اس کا استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اوپر سے کمال مہارت سے عورت کی اولاد کو بھی اپنی ملکیت قرار دے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیدائش کے فورا بعد اولاد مرد کی نہیں عورت کی ملکیت ہوتی ہے۔ آئیے عورت کی ملکیت کا بائیولوجیکل بنیادوں پر تجزیہ کرتے ہیں۔

 

\"12773150_1065179523534111_568522135_o\" ایک ملین میں سے محض ایک سپرم بیضے کے ساتھ عمل کر کے ایمبریو ( ایک خلیہ جس کی تقسیم سے طفل بنتا ہے) بنانے کے عمل کا حصہ بنتا ہیں۔ باقی سپرم انحطاط کا شکار ہو کر ختم ہو جاتے ہیں۔ بیضہ کا حجم سپرم سے تیس گنا زیادہ ہے۔ سپرم کی ساخت بہت خفیف ہوتی ہے۔ اس کے اجزا میں سر کے حصے میں محض ایک نیوکلئس (جس میں ڈی این اے محفوظ ہوتا ہے۔ ) اور گردن میں ایک عدد مائیٹوکانڈریا پایا جاتا ہے تاکہ سپرم کی حرکت کے لیے توانائی کا ذریعہ میسر رہے۔ سپرم کے مقابلے میں جہازی سائز بیضے میں تمام تر اجزا موجود ہوتے ہیں جو طفل کی نشوونما کے انتہائی ابتدائی مراحل میں توانائی اور خوراک فراہم کرتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں طفل اور ماں کے خون کے نظام میں ایک پل قائم ہو جاتا ہے جس کے ذریعے پورے نو ماہ تک بچہ اپنی ماں کے نظام گردش سے خوراک اور آکسیجن حاصل کرتا ہے۔ حمل کے آخری تین مہینوں میں عورت کو درکار اضافی توانائی کا تخمینہ تقریباً 500 کیلوریز فی یومیہ لگایا گیا ہے۔ پیدائش کے بعد بھی طویل عرصہ تک بچہ ماں کے دودھ پرانحصار کرتا ہے۔ یہ انحصار نفسیاتی طور پر بچے کو عورت کے زیادہ قریب اور جذباتی طور پر اس سے وابستہ کرنے کا موجب بنتا ہے ۔ یوں انتہائی ابتدائی مرحلے سے لے کر آخری مرحلے تک تمام تر کوشش، محنت، حیاتیاتی مشینری اور کاوش عورت کی ہوتی ہے۔ ایسے میں اولاد کا مرد کی ملکیت قرار پانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ (جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نسیم کوثر

نسیم کوثر سائنس کی استاد ہیں۔ وہ زیادہ تر سماجی و سائنسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ افسانہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتی رہتی ہیں۔ انہیں شاعری، موسیقی اور فکشن سے لگاؤ ہے۔ موصوفہ کو گھڑ سواری اور نشانے بازی کا بھی شوق ہے۔

naseem has 9 posts and counting.See all posts by naseem

6 thoughts on “سائنس عورت کی نجات دہندہ ہے (پہلا حصہ)

  • 25-02-2016 at 11:24 pm
    Permalink

    Very good article

  • 26-02-2016 at 9:48 am
    Permalink

    جب سوشلسٹ کہتے ہیں کہ سوشل ازم میں نجی ملکیت کا خاتمہ کر دیا جائے گا تو کچھ لوگ یہ پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ سوشل ازم میں آپکی بیویاں آپ سے چھین لی جائیں گی۔ یعنی یہ لوگ عورت کو اپنی نجی ملکیت سمجھتے ہیں۔ آپ نے بھی کچھ اس سے ملتی جلتی بات کی ہے۔ بچہ عورت کی ملکیت ہوتا ہے۔ بچہ بچہ ہوتا یار۔ اس پر تو ملکیت کا بوجھ نہ ڈالیں۔ انسان سے انسان کا محبت کا رشتہ ہونا چاہئے نہ کہ ملکیت کا۔ وہ والدین یا بچوں کے درمیان ہو، بہن اور بھائی کے دمیان ہو یا میاں بیوی کے درمیان ہو۔ انسانوں کے درمیان ملکیت کا رشتہ، آقا اور غلام کے مترادف ہے۔

  • 26-02-2016 at 9:59 am
    Permalink

    بچہ کو مرد. کی ملکیت سے چھین کر عورت کی. ملکیت میں دینے کے متعلق آپ کا اعتراض بہت دلچسپ ہے.. اگر بچہ مرد کی ملکیت نہیں.. اور عورت پر بھی اسکا بوجھ ڈالنا نا انصافی ہے تو پھر بچہ کس کا ہوا.. شائید ریاست کا… لیکن ہم یہ کیسے تسلیم کریں کیونکہ یہ تو سوشلزم کا کانسپٹ ہے کہ بچے ریاست کی ملکیت ہوں گے.. کیا ہی اچھا ہو اگر ہم یہ کہیں کہ بچے والدین کی مشترکہ ملکیت ہوتے ہیں. کیونکہ اس مضمون میں ایک خاص مردانہ سوچ کو چیلنج کیا گیا ہے اس لیے عورت کی ملکیت کا دعواہ کرنا پڑا..

  • 26-02-2016 at 4:03 pm
    Permalink

    میرے کمنٹ میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا کہ بچہ مرد کی ملکیت ہونا چاہئے یا اگر مرد کی ملکیت ہے تو بہت اچھا ہے۔ میں نے ملکیت کے لفظ کی مذمت کی ہے۔ ہاں والد اور والدہ دونوں کی ذمہ داری ضرور کہہ سکتے ہیں۔ مگر ملکیت اور ذمہ داری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

  • 26-02-2016 at 4:04 pm
    Permalink

    بچہ اگر اس وقت مرد کی ملکیت ہے تو میں اس کی بھی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔

  • 26-02-2016 at 6:32 pm
    Permalink

    After studying the delicate balance and complexity of female hormones that control the mentrual cycles and different stages of pregnancy, I concluded that females, biologically, are more advanced creatures than males.

Comments are closed.