مولانا طارق جمیل ہی کو سیکیورٹی رسک کیوں سمجھا جاتا ہے؟


شاہد آفریدی اپنی این جی او یعنی شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کینیڈا میں ایک چیرٹی ایونٹ کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ ممتاز مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل کے ساتھ براستہ دبئی ٹورنٹو جا رہے تھے کہ دبئی ائیرپورٹ پر مولانا طارق جمیل کو طیارے سے آف لوڈ کر دیا گیا۔ شاہد آفریدی نے اس حوالے سے بتایا کہ کینیڈین حکام نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے مولانا طارق جمیل کو طیارے سے آف لوڈ کیا ، ان کی سکیورٹی کلیئرنس کے لئے دبئی میں حکام سے مذاکرات جاری ہیں۔

اس ایونٹ کے بارے میں شاہد آفریدی نے ایک ٹویٹ بھی کی تھی۔ جب ان کے اکاؤنٹ پر جاتے ہیں تو ٹویٹر کا پیغام دکھائی دیتا ہے کہ اس ٹویٹ میں حساس مواد موجود ہو سکتا ہے۔ اسے دیکھنے کے خواہش مند کو اس پر کلک کرنا پڑتا ہے تو پھر وہ حساس مواد دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے نہایت سہم کر اس پر کلک کیا۔ اندر سے یہ معصوم سا اشتہار نکلا۔ اس اشتہار میں شاہد آفریدی کے علاوہ جانے کیا چیز حساس ہے۔ اسی اشتہار والے ایونٹ میں شرکت کے لئے جاتے ہوئے مولانا طارق جمیل کو بھی سیکیورٹی خدشات کی بنا پر آف لوڈ کیا گیا ہے۔

مولانا طارق جمیل کبھی دہشت گردوں کے حق میں بیانات نہیں دیتے۔ ان کی گفتگو تو جنت کے مناظر اور ان سے متعلقہ نعمتوں کی تفصیل کے لئے مشہور ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کینیڈین حکام کی نظر میں وہ سیکیورٹی رسک قرار پائے ہیں؟

آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ مولانا طارق جمیل اور تبلیغی جماعت پاکستان میں بھی سیکیورٹی رسک مانے جاتے ہیں۔

ستمبر 2011 میں ایک خبر سامنے آئی تھی کہ تبلیغی جماعت، حزب التحریر، سنی تحریک اور دعوت اسلامی پر کینٹونمنٹ ایریاز میں کسی بھی قسم کی سرگرمی کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وہ کوئی اجتماع نہیں کر سکتی ہیں۔ اخبار ’دا نیشن‘ کی خبر کے مطابق ایک سورس نے بتایا کہ آرمی کے انٹرنل انٹیلیجنس یونٹس بشمول ملٹری انٹیلیجنس، ایف آئی یو اور ملٹری پولیس کسی بھی قسم کے تبلیغی گروہوں کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں۔ یہ تبلیغی گروہ وہاں طبع شدہ لٹریچر اور پمفلٹ تک نہیں بانٹ سکتے ہیں۔

بعد میں اگست 2016 میں خاص طور پر مولانا طارق جمیل کا نام لے کر یہ نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا کہ مسلح افواج کے اداروں میں مولانا طارق جمیل کو تقریر کرنے، لیکچر دینے، درس دینے، موٹیویشنل گفتگو کرنے کے لئے مدعو کرنے کی کلیئرنس نہیں ہے۔

اطلاعات کے مطابق بعد میں ایک اور نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جس میں یہ وضاحت کی گئی کہ نہ صرف مولانا طارق جمیل بلکہ کسی بھی قسم کی ایسی سرگرمی کرنے والے پر پابندی ہے۔

پاکستان سے لے کر کینیڈا تک تبلیغی جماعت کو دہشت گردی سے کیوں نتھی کیا جا رہا ہے؟ اس پر کیوں پابندیاں لگائی جا رہی ہیں؟ تبلیغی جماعت سے منسلک افراد کو اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ تبلیغی جماعت کو دہشت گردی اور انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف ایک واضح موقف اختیار کرنا ہو گا ورنہ بظاہر کچھ کیے بغیر بھی وہ مجرم ٹھہرائے جائیں گے۔ کرتے دوسرے ہیں اور پکڑے مولانا طارق جمیل جاتے ہیں۔

لیکن ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ تبلیغی جماعت یا دوسری جماعتوں کے کینٹونمنٹ ایریاز میں ایسی سرگرمیاں کرنے پر پابندی عائد ہے کیونکہ وہ انتہا پسندانہ سوچ پیدا کر کے سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ لیکن پھر یہ پابندی صرف کینٹ ایریاز میں ہی کیوں ہے؟ کیا باقی ماندہ ملک میں انتہا پسندانہ سوچ کا پیدا ہونا ٹھیک ہے؟

ایک طرف ان افراد اور گروہوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ دوسری طرف ہم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ایسے افراد کو دیکھ رہے ہیں جو ببانگ دہل اپنی تحریر و تقریر میں انتہا پسندی کی تعلیم دے رہے ہیں۔ وہ لوگوں پر بلاسفیمی تک کے بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر وہ ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کی جان لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان پر پابندی کیوں نہیں ہے؟ چلیں باقی ماندہ ملک کو تو چھوڑیں، کیا انتہا پسندی کی ترویج کرنے والے یہ اخبارات اور ٹی وی چینل کینٹومنٹ ایریاز میں نہیں دیکھے جاتے ہیں؟ کیا ان کے ذریعے انتہا پسندی وہاں پیدا نہیں ہو گی؟

ہمیں تو یہی سمجھ آ رہی ہے کہ انتہا پسندی کی ترویج اگر چند سو افراد کے چھوٹے سے اجتماع میں چند فٹ کے فاصلے سے کی جائے تو غلط ہے، لیکن اگر وہ ٹی وی کے ذریعے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو کی جائے تو وہ درست ہے۔

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔ
اب آگے تیری خوشی ہے ’جسے‘ سرفراز کرے


مولانا طارق جمیل اور جاوید غامدی پڑھے لکھے طبقے میں کیوں مقبول ہیں؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 764 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “مولانا طارق جمیل ہی کو سیکیورٹی رسک کیوں سمجھا جاتا ہے؟

Comments are closed.