ایک صدی قبل عراق میں گزرے دو برس


 [دادا جان، بابو غلام محمد مظفر پوری، کی خود نوشت ”سفری زندگی“ کا ایک اور اقتباس قارئین کی نذر۔ اس میں انھوں نے جنگ عظیم اول کے فوراً بعد کے عراق اور بغداد کے کچھ مشاہدات بیان کیے ہیں۔ عراق میں ان کے اس قیام کا دورانیہ تقریباً دو سال پر محیط تھا۔]

سنہ 1918ء کے اخیر جب دوبارہ بطور اوورسیئر کے بھرتی ہوا تو میں نے اپنے افسر سے وعدہ لیا کہ اب مجھے اپنے کام یعنی سروے یا اوورسئیر کے کام پر بھیجا جائے گا۔ پس اس نے مجھے چند آدمیوں کے ہمراہ بصرہ میں عراق کی طرف بھیج دیا جس کے لیے ہم ماہ نومبر میں عراق جانے کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس وقت جنگ بند ہو چکی تھی لیکن جنگ کے اثرات اور بندوبست ابھی جاری تھے۔ میں مع اپنے چند سروے خلاصیوں کے براستہ کراچی چل دیا۔ ہم لوگوں نے کراچی کیمپ میں جا کر قیام کیا اورقریباً ایک ماہ یا اس سے زیادہ وہاں پر مقیم رہے ۔ میں نے اس زمانے میں کراچی میں اونٹ کا گوشت بھی کھایا کیونکہ کراچی کی طرف اونٹ کا گوشت عام یعنی ہوٹلوں میں مل جاتا ہے۔

ہم لوگ کچھ عرصہ کراچی میں رہ کر [بحری] جہاز پر سوار ہو کر بصرہ یعنی عراق کے لیے روانہ ہو گئے اور بصرہ میں جہاز سے اتر کر بذریعہ چھوٹے جہاز، جو کہ دجلہ دریا میں چلتے تھے، دجلہ سے گزر کر بغداد پہنچ گئے۔ اس وقت بصرہ بغداد ریلوے ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ وہاں پر ہم لوگوں کا کیمپ ہینڈی میں لگایا گیا جو کہ بغداد شہر سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر ملٹری کے کاموں کا مرکز تھا۔ پس میں اور میرے ساتھ ایک او ر اوورسئیر تھا، جس کا اسم شریف بھی بابو غلام محمد ہی تھا، ایک سروے پارٹی کے ساتھ لگائے گئے جس کا انچارج کیپٹن Coulson تھا۔ ہم لوگوں نے اپنا سروے کیمپ مشرقی بغداد شہر میں جا کر دجلہ دریا کے کنارے لگا لیا۔ اب ہم سب مل کر چھ سرویئر اوورسئیر اس سروے پارٹی میں شامل ہو گئے۔ دو تین مل کر باہر کام کرنے جایا کرتے تھے۔ تمام بغداد شہر کے اردگرد کی ٹاؤن کی سروے کرنی تھی کیونکہ ریلوے کی سکیم ویگن فیری بنانے کی تھی۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ مغربی بغداد سٹیشن کو مشرقی بغداد سٹیشن سے ملانا تھا۔ پس ہم لوگوں کو قریباً چھ ماہ سے زائد لگے جس کی وجہ سے بغداد شہر اور اس کے اردگرد کے علاقے سے اچھی طرح واقف ہو گئے۔

 پہلے پہل ہم لوگ عربی زبان سے بالکل ناواقف تھے۔ بعد ازاں کام کاج میں پڑ کر کافی بولنے اور سمجھنے لگ گئے تھے۔ سروے کے لیے جانے والے علاقے میں زیادہ تر باغات تھے اس لیے عام عربوں سے ملنے جلنے اور بات چیت کا اچھا موقع مل جاتا تھا۔ شروع ایام میں سنا اوردیکھا گیا کہ عرب لوگ ترکوں کو، جو کہ چند ماہ پیشتر وہاں کے حاکم تھے، بہت برا بھلا کہا کرتے کیونکہ انگریزوں نے عربوں کو ترکوں کے خلاف کافی سے زیادہ روپیہ پیسہ دے کر ورغلایا ہوا تھا۔ جب کچھ عرصہ گزر گیا اور گورنمنٹ انگلشیہ پورے طور پر وہاں جم گئی تو سرکار نے پھر کھجوروں اور عربوں کی دیگر مالیت پر ٹیکس لگانے شروع کیے تو اس وقت عربوں کی آنکھیں کھلیں اور ہوش میں آئے۔ تب پھر انگریزوں کو کافر اور برا بھلا کہنے لگے اور ترکوں کو یاد کر کے پچھتایا کرتے تھے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

 بابا گرو نانک صاحب کی نشست

ہماری سروے پارٹی تقریباً چھ ماہ بغداد کے اردگرد سروے کرتی رہی۔ وہاں پر بغداد کے گردو نواح میں قبرستان بہت تھے اور ہم لوگوں نے سب قبرستانوں کے رقبے کے بھی سروے کیے تھے ۔ یہاں پر کچھ حالات بابا گرو نانک صاحب کے متعلق بھی معلوم ہوئے، جو قلم بند کرتا ہوں۔ بغداد کے مشرق میں ایک قبرستان دیکھا گیا جس میں ایک مکان تھا جس کے آگے صحن بھی تھا۔ معلوم ہوا کہ گرو نانک صاحب مکہ شریف سے جب براستہ بغداد واپس آئے تو اس مکان میں رہائش کی تھی۔ ایک کمرے میں ان کے دوست حضرت بہلول دانا کی تربت تھی جو کہ وہاں وفات پا گئے تھے۔ دوسرے کمرے مین گرو نانک صاحب کی نشست تھی۔ گرو نانک صاحب واپس اپنے وطن ہندوستان چلے گئے تھے۔ عموماً دیکھا گیا تھا کہ جب سکھ پلٹن کے لوگ ادھر سے تبدیل ہوتے تو وہاں پر زیارت کے لیے آتے اور کڑاھ پرشاد تقسیم کرتے اور روپے بطور نذرانہ چڑھاوے چڑھاتے۔ وہاں عام طور پر عرب لوگ ہی ہوتے تھے جن کو کافی آمدنی ہو جاتی تھی اور ایک قسم کا ذریعہ معاش مل گیا تھا۔

بغداد میں مزارات

بغداد شریف میں جمعرات کے روز قبرستانوں میں کافی رونق ہوتی ہے کیونکہ عرب مستورات قبرستان میں آ کر پہلے اپنے اپنے فوت شدہ مردوں کی قبروں کے سرہانے بیٹھ کر گریہ زاری کرتیں پھر جو کچھ بطور چڑھاوے یا نذر نیاز کے طور پر لاتیں وہ متولی کے سپرد کر دیتیں جو کہ فاتحہ پڑھ کر لے جاتا۔ وہاں پر قبرستان بہت اچھی طرح سنبھالے ہوئے ہیں۔ ہر قبرستان میں باقاعدہ متولی کے لیے بنگلہ بنا ہوا ہے جو کہ رات دن وہیں رہتا ہے۔ میں نے جن بزرگوں کے مزاروں کی زیارت کی ان کے نام حسب ذیل ہیں: حضرت امام اعظم، حضرت بہلول دانا، حضرت جنید بغدادی، امام موسیٰ کاظم، روضہ زبیدہ خاتون۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کا روضہ شہر کے اندر ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مزار ہیں۔

عراق میں 1920ءمیں عربوں نے سرکار انگلشیہ کے خلاف گڑبڑ شروع کر دی۔ وجہ یہ ہوئی کہ جب ہائی کمشنر عراق کے بنگلے پر یونین جیک، جس پر ہندوستان کی گورنمنٹ کا رنگ تھا، نصب کیا گیا تو عربوں کو معلوم ہوا کہ ہم نے، یعنی عراق نے، انڈین گورنمنٹ کے ماتحت رہنا ہے کیونکہ تمام خرچہ جنگ ہندوستا ن کی طرف سے ہی ہوا تھا اور زیادہ تر فوجیں بھی ہندوستانی تھیں، اس لیے عربوں کو برا معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ ہندوستان والے تو خود غلام ہیں۔ ہم کو غلاموں کا غلام بن کر رہنا پڑے گا؟ اسی بنا پر جنگ یعنی بغاوت شروع کر دی۔ ہمارے بھولے بھالے انگریزوں کو کیا معلوم تھا کہ عراق کے عرب قابل اعتبار نہیں۔

دوسرے عربوں کے ساتھ جو وعدہ تھا کہ عرب ایمپائر بنائی جائے گی ، پورا ہوتا نظر نہ آیا۔ بعد ازاں جب معاملہ بہت نازک ہو گیا تو سرکار انگلشیہ نے امیر فیصل کو، پسر شریف حسین جو کہ انگریزوں کی فتح کا اصل موجب اور ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت کا باعث تھا، عراق کا برائے نام بادشاہ مقرر کیا جو کہ کچھ عرصہ بعد اپنی لیاقت اور کوشش سے آہستہ آہستہ خود مختار بادشاہ بن گیا۔ اس نے دوبارہ مصطفی کمال سے بذات خود مل کر دوستی پیدا کی لیکن بے چارہ کسی حادثے میں ہوائی جہاز میں ہی راہی ملک عدم ہو گیا (اناللہ و انا الیہ راجعون)۔ اس کے بعد اس کا بیٹا غازی تخت نشین ہوا۔ یہ نوجوان بادشاہ بھی بہت ہوشیار اور قابل تھا لیکن عمر نے وفا نہ کی اور موٹر کے حادثے میں بغداد میں ہی جاں بحق ہوا۔ اس کی ہر دلعزیزی کی وجہ سے چند من چلے عراقیوں نے برٹش قونصلر کو شک و شبہ کی وجہ سے ہلاک کر دیا۔

اب میں وہاں کے عرب اور یہودی باشندوں اور ان کے رسم و رواج کا ذکر کرتا ہوں جو کہ قارئین کے لیے باعث دلچسپی ہو گا۔

عراق کے عربوں اور وہاں کے ہوٹلوں یا قہوہ خانوں میں جو بات دیکھی گئی وہ قابل تحسین ہے۔ ہر ایک قہوہ خانے میں، جو کہ شام چار بجے سے پررونق ہونا شروع ہو جاتے ہیں، شور و غوغا بالکل نہیں ہوتا۔ ہر ایک آدمی، جو کہ قہوہ خانے میں ہو گا، اپنے نزدیک کے آدمی سے آہستہ آہستہ کان میں بات کرے گا۔ ہندوستان کی طرح نہیں کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہ دے۔ بغداد اور بصرہ میں عربوں اور یہودیوں کی خوب صورتی قابل تعریف ہے اور وہ لوگ عیش و آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ بیوپاری ہیں۔ گیہوں کی فصل تھوڑی بہت ہوتی ہے، اس وقت دوسری اور کوئی فصل نہیں ہوتی۔ زیادہ تر کھجوریں ہی ہوتی ہیں، بعض کھجوریں دیکھی گئیں جن میں گٹھلی نہیں ہوتی۔ وہاں پر شکر اور شراب کھجور سے ہی بنتی ہے۔ زیادہ تر لوگ کھانا گھر پر کم ہی پکاتے ہیں۔ بازار سے روٹی خرید کر اور کباب وغیرہ یا خام سبزی و چائے کے ساتھ کھا لیتے ہیں۔ مرچ مسالہ بہت کم کھاتے ہیں۔

عراق میں دریا سے دور جا کر پانی کی بہت قلت ہے بلکہ نایاب ہے۔ دجلہ و فرات ،دریاؤں کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی آبادی ہے۔ عراق کی جو چیز زیادہ قابل فخر ہے وہ رات ہے۔ رات خاص کر صحرا میں بہت اعلیٰ اور ٹھنڈی ہوتی ہے۔ بغداد بہت بڑا شہر ہے جو کہ دجلہ دریا کے دونوں طرف ہے۔ دریا کے اوپر دو پل، جو کہ کشتیوں سے بنائے گئے ہیں، قابل دید ہیں۔ شام کے وقت ان ہر دو پلوں پر آنے جانے والوں کی رونق دل کو بہت لبھانے والی ہوتی ہے۔ وہاں کے لوگ سیر و تفریح کے بہت دلدادہ ہیں۔ قریباً قریباً شام چار بجے دکانیں بند ہو جاتی ہیں۔ پھرشہری لوگ اپنا اپنا لباس بدل کر قہوہ یا چائے کا سامان لے کر باغوں میں جا بیٹھتے ہیں۔ سورج غروب ہونے کے وقت یا بعدازاں اپنے اپنے گھروں کو آتے ہیں۔ عیش و عشرت کا ہر سامان وہاں پر افراط سے ہے۔ فاحشہ عورتوں کا چکلہ الگ ہے، بازار میں نہیں۔ بلکہ الگ ایک خاص رقبہ میں وہ لوگ آباد کیے گئے ہیں۔ رات کے وقت عام لوگ وہاں پر سیر کرنے اور گھومنے آ جاتے ہیں۔ بصرہ شہر میں بھی اسی طرح سے ہے۔ 1920ء میں وہاں پر یعنی عراق میں سول سروس اور بازاروں میں ہندوستانیوں کی تعداد بہت تھی جو کہ بعد ازاں گھٹتے گھٹتے سال کے اخیر تک چند ہی ہندوستانی رہ گئے تھے۔ عام طور پر دیکھا گیا عرب لوگ ہم ہندوستانیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ عربوں کی غلامی کا باعث زیادہ تر ہندوستانی ہی ہیں۔ لیکن میرے خیال میں یہ ان کی غلط فہمی تھی۔ ان کی غلامی خود ان کی اپنی غداری کے باعث تھی جو کہ انھوں نے ترکوں کے ساتھ کی تھی۔

 بغداد شریف کا سروے کرنے کے بعد ہم لوگ بیجی شیر گھاٹ ریلوے کنسٹرکشن میں چلے گئے جو کہ موصل کی طرف تھی۔ شیر گھاٹ سے موصل تقریباً ساٹھ میل آگے تھا لیکن شیر گھاٹ تک ریلوے تیار ہو گئی تھی اور بغداد سے بیجی تک ترکوں کی بنائی ہوئی تھی۔1919ء  کے اخیر تک ہم لوگ واپس بغداد اور پھر وہاں سے بصرہ آ گئے۔ چند روز ریسٹ کیمپ میں رہ کر میں آشار فیلڈ پارک میں لگ گیا، جہاں پر اپنے ایگریمنٹ کے مہینے پورے کرکے 1920ء کے اخیر تک واپس ہندوستان آ گیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔