جادو نگری سے آیا ہے کوئی جادوگر


آج مغرب تک تو حبس اور پسینے سے برا حال تھا لیکن اکتوبر کی اس پہلی بارش نے ہی موسم کے ساتھ ساتھ احساس کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ رات کے بارہ بج چکے ہیں اور حبس کا زور ٹوٹ چکا ہے۔ بارش تو ایک گھنٹے بعد ہی رک گئی تھی لیکن لائٹ ابھی تک نہیں آئی۔

میرے پاؤں تو چھت پر ہیں لیکن میں خود کو آندھی کی طرح تیز اور اپنے ساتھ چھوٹی چھوٹی بوندیں لے کر آنے والی آوارہ مزاج ہوا کے سپرد کر دینا چاہتا ہوں، لاکھوں میل دور سے سفر کر کے آنے والی ہلکی ٹھنڈی چاندنی کو اپنے سینے کی ان گہری گھاٹیوں میں اتار لینا چاہتا ہوں، جہاں گُھپ اندھیرا ہے۔ آسمان پر تیرہویں کا چاند کھڑا مسکرا رہا ہے۔ کبھی ٹکڑوں میں بٹے سرمئی بادلوں کی اوٹ میں چلا جاتا ہے اور کبھی کسی مرمریں چہرے والی حسینہ کی طرح آہستہ آہستہ رخ سے نقاب اتارتے ہوئے اپنا منور مکھڑا لیے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ اپنے پیروں میں گھنگرو باندھے سردیوں کی آمد کی اطلاع دینے والی شمال کی تازہ ہوا بلا تکلف گلے ملتی جا رہی ہے، جسم میں جھرجھری پیدا کرنے والے ٹھنڈے بوسے کی طرح گردن سے لپٹتی جا رہی ہے، نرم گداز انگلیوں کی طرح بالوں کو بے ترتیب کرتی جا رہی ہے۔

چاند کی روشنی میں دور دور تک پھیلی چاول کی فصلیں دکھائی دے رہی ہیں۔ آج اونچی نیچی چھتوں پر چارپائیاں بھی کم ہی دکھائی دے رہی ہیں۔ شاید لوگ آج چھتوں کی بجائے کمروں، برآمدوں یا ڈیوڑھیوں میں سوئیں گے۔

گاؤں کے پُرسکون ماحول کی یہ ایک طلسماتی رات ہے، صرف ستاروں کی آنکھیں کھلی ہیں لیکن وہ بولتے کب ہیں، ہر طرف ایک سکوت چھایا ہوا ہے، سناٹا ہے اور تیز ہوا کی سرسراہٹ ہے۔
کبھی کبھار اس پُر اسرار سناٹے کو کسی بھولی بھٹکی ٹٹیری ( ٹٹیولی) کی آواز توڑ رہی ہے۔ ﭨِﭧ ﭨِﭧ ﭨﭩﺎ، ﭨِﭧ ﭨِﭧ ﭨﭩﺎ کا شور مچاتی ہوئی یہ نازک سی ٹٹیری اپنی ڈار سے جدا ہو چکی ہے۔ میں چھوٹا ہوتا تھا تو یہی سوال پوچھا کرتا تھا کہ یہ کیوں چاندنی راتوں میں پاگلوں کی طرح چکر کاٹتی اور شور مچاتی رہتی ہے، یہ اپنے گھر کیوں نہیں جاتی؟

تایا ابو بڑے پیار سے سمجھایا کرتے تھے کہ یہ اپنے خاندان سے بچھڑ گئی ہے اور یہ اپنے ساتھیوں کو آوازیں دیتی رہتی ہے کہ تم کدھر ہو، تم کدھر ہو؟ اب میں سوچتا ہوں کہ انسان بھی تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ جن سے محبت ہوتی ہے، جو آپ کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں، جدائی کے بعد آپ ساری زندگی انہی کے تذکرے کرتے ہیں، انہی کی باتیں ہوتی ہیں اور بند ہونٹوں کی سلاخوں کے پیچھے خودکشی کرنے والی خاموش سسکیاں انہی کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہیں۔

یہ صرف پچیس برس پہلے کی بات ہے کہ ہم اکتوبر میں ہی رضائیاں نکال لیتے تھے۔ اکتوبر کی شامیں اور صبحیں اپنے ساتھ خنکی بھری سرد ہوائیں لے کر آتی تھیں۔ اکتوبر نومبر میں دھان کی فصل کٹتی تھی تو ہر کوئی پرالی (چاول الگ کرنے کے بعد بچ جانے والے سٹرا) اپنی اپنی چھتوں یا گھر کے کسی کونے میں رکھ لیتا تھا۔ صبح صبح ٹھنڈ لگتی تو چادر اوڑھے اور ٹھٹھرتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ چائے کی پیالیاں ہاتھوں میں پکڑ کر پرالی پر بیٹھ جاتے۔

بارش کی وجہ سے سردی زیادہ ہوتی تو حویلیوں یا کچے صحن والے گھروں میں ہی پرالی اور اُپلوں کو آگ لگائی جاتی اور ہاتھ سینکنے کا عمل شروع ہو جاتا۔ جن کو حقہ پینے کا شوق ہوتا، وہ وہیں سے حقے کے لیے آگ لے لیتے، حقہ تازہ کرتے اور پھر گُڑ گُڑ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ لیکن یہ پچیس برس پہلے کی بات ہے۔ تب کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ مستقبل کا اکتوبر اتنا گرم ہو گا۔ تب تو کوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے نام تک سے واقف نہ تھا۔

ابھی آدھ گھنٹہ پہلے تک بڑی باجی اور امی چھت پر میرے ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔ ان کو پتہ ہے کہ میں ماضی کے قصے بڑے شوق سے سنتا ہوں اور وہ دونوں ہی میری انگلی پکڑ کر ماضی کی سیر کروا رہی تھیں۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میں اپنی چھت پر ہوں لیکن میری روح پچاس ساٹھ سال پہلے کے کچے مکانوں کے اُن صحنوں میں پہنچ چکی ہے، جہاں سُکھ چَین کے گرے پتے بکھرے پڑے ہیں، اُپلوں سے آگ جلائی جا رہی ہے، چارپائیوں پر تکیے رکھ دیے گئے ہیں، ایک طرف بکریاں بندھی ہوئی ہیں، مٹی والی بڑی ہنڈیا میں دودھ کاڑھا جا رہا ہے، کوئی نلکے سے منہ ہاتھ دھو رہا ہے، کوئی بھینسوں کے لیے چارہ کاٹ رہا ہے اور بچے دنیا و مافیہا سے بے خبر کوکلا چھپاکی کھیل رہے ہیں۔

امی بتا رہی تھیں کہ شادی کے بعد وہ پھمہ سراء آئیں تو بے بے ورک (چودھرائن) نے انہیں چائے پر بلایا۔ وہاں چائے کی پیالیوں کے ساتھ بھی کچھ رکھا ہوا تھا۔ انہیں اور دادی کو پتہ ہی نہ چل رہا تھا کہ اسے کھاتے کیسے ہیں؟ وہ شرمندگی سے پوچھ بھی نہیں رہی تھیں کہ اسے کیوں پلیٹ میں رکھا ہے؟ پھر بے بے ورک نے خود ہی بتایا کہ اسے رس کہتے ہیں اور اسے چائے میں ڈبو کر کھاتے ہیں۔ چائے بھی اس وقت صرف گُڑ کی بنتی تھی اور چینی ایک لگژری آئٹم تھی۔

اس زمانے میں زیادہ تر لوگ اپنا سفر پیدل، گھوڑوں یا پھر سائیکلوں پر کرتے تھے۔ امی کہتی ہیں کہ نہروں کے ساتھ ساتھ چلنے والے کچے راستے بنے ہوتے تھے، میکے یا کسی دوسرے رشتہ دار کے پاس جانے کے لیے وہ سب تہجد کے وقت سر پر گٹھڑیاں اٹھائے پیدل نکل کھڑے ہوتے اور پچاس پچاس میل پیدل سفر کرتے۔ پھمہ سراء سے پیدل چلتے تو ٹھٹھہ قلندر شاہ (امی کے گھر) تک جاتے۔ اندھیرے میں وہ تواتر سے یہ آواز لگاتے جاتے، ”جاگتے رہنا، ہم مسافر ہیں“۔ موسم خراب ہوتا تو رات کے وقت کسی بھی گاؤں میں ٹھہر جاتے تھے۔ گاؤں میں پہنچ کر مسافر یہ آواز لگایا کرتے، ”ہم مسافر ہیں، رات رہنا ہے“۔ کسی نہ کسی گھر میں مسافروں کو ٹھہرا لیا جاتا تھا، کھانے اور دودھ وغیرہ سے تواضع بھی کی جاتی، پنجاب کے زیادہ تر دیہات کا یہی رواج تھا۔ امی جی چمکتی آنکھوں سے یہ قصے سنا رہی تھیں، شاید انہیں اپنا ماضی، اپنے سیاہ بال، اپنے ماں باپ، ان کی محبت اور اپنی سَکھیاں یاد آ رہی تھیں۔

امی بتا رہی تھیں کہ تب لوگ دودھ فروخت کرنا اپنی توہین سمجھتے تھے، یہ فقرہ عام ہوتا تھا، ”دودھ اور بیٹے بیچے نہیں جاتے“، امی جی بتاتی ہیں کہ پورے گاؤں میں صرف تمہارے ابو کے پاس ریڈیو ہوتا تھا اور لوگ شام سات بجے کی خبریں سننے کے لیے پہلے ہی اپنے حقے ساتھ لیے ہمارے گھر کے صحن میں جمع ہونا شروع ہو جاتے تھے۔

ایک پادری گاؤں سے گذر کر کسی دوسرے گاؤں جایا کرتا تھا۔ وہ پھٹ پھٹی (موٹر سائیکل) پر سفر کرتا تھا تو گاؤں کے بچے اور کئی دوسرے لوگ اسے دیکھنے کے لیے پہلے ہی ہر اتوار کو سیم والے بڑے نالے کے قریب کھڑے ہو جاتے تھے۔ پورے علاقے میں دھوم تھی کہ پادری کے پاس پھٹ پھٹی ہے۔

امی شوق سے بتاتی رہیں کہ کیسے سائیکلوں اور گھوڑوں پر تمہارے ابو کی بارات گئی۔ پہلے سفر طویل ہونے کی وجہ سے بارات دلہن کی طرف ایک رات قیام بھی کیا کرتی تھی۔ اور جب دلہن آتی تھی تو اُس کے لیے لازمی ہوتا تھا کہ وہ گاؤں کے ہر گھر میں ملنے کے لیے جائے۔ اسے کُمائی ڈالنا کہتے تھے۔

امی بتاتی رہیں کہ ڈیروں پر رہٹ چلتے تھے، مٹی کے کوزوں سے پانی پیتے تھے۔ پہلے پنجابی لڑکیاں اور لڑکے سبھی کُھسّے اور ہاتھ سے بنی چمڑے کی چپلیں ہی پہنتے تھے جبکہ خواتین بھی نہ صرف تہبند باندھا کرتی تھیں بلکہ گھوڑوں پر سفر بھی کرتی تھیں۔ جب پہلی مرتبہ مردوں اور عورتوں کے پلاسٹک کے جوتے آئے تو ان سب کا رنگ صرف گلابی ہوتا تھا۔

امی سناتی رہیں اور میں ایک دس سالہ بچے کی طرح حیرت سے سنتا رہا۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرا وہ بچپن واپس لوٹ آیا ہو، جب ہم کچی چھتوں پر بیٹھ کر باجی رضیہ سے جِنّوں، پریوں اور طوطا مینا کی کہانیاں سنا کرتے تھے، راتوں کو چھت پر جگنو پکڑا کرتے تھے اور دن کو تتلیوں کے پیچھے بھاگا کرتے تھے۔

باتیں پاکستان بننے سے پہلے کی چل نکلی ہیں اور امی بتا رہی ہیں کہ سِکھ کس طرح مسلمان عورتوں کا احترام کیا کرتے تھے۔ جب کوئی مسلمان عورت کھیتوں سے چارہ وغیرہ سر پر اٹھا کر لا رہی ہوتی تو وہ راستہ ہی تبدیل کر لیا کرتے تھے۔ سِکھ ڈیروں پر شراب بناتے اور وہاں پر ہی پی کر لیٹے رہتے تھے۔ رمضان کا احترام بھی بہت کرتے تھے اور کسی مسلمان کے سامنے کھاتے پیتے نہیں تھے۔

جاٹ اس دور میں بھی مال ڈنگر چوری کرتے تھے لیکن یہ اصول ہوتا تھا کہ اپنے گاؤں سے پچاس میل کے دائرے میں چوری نہیں کرنی۔

پھر امی جی ایک دم افسردہ سی ہو گئیں کہ کس طرح تقسیم ہند کے وقت سِکھوں کو مارا گیا تھا، طاقتور جاٹوں نے کس طرح ان کے گھروں کا سامان لوٹا تھا۔ کس طرح پھمہ سراء کے جاٹ ان کو سرحد پار کروانے کے بہانے لے کر جاتے تھے اور فاروق آباد والی بڑی نہر کے قریب ان سے زیور وغیرہ چھین کر انہیں قتل کرتے اور نہر میں پھینک دیتے تھے۔ امی کی باتیں جاری رہتیں لیکن انہوں نے کچھ دیر بعد اٹھ کر تہجد پڑھنی ہے اور وہ نیچے چلی گئی ہیں۔

رات کا دوسرا پہر ہے اور لائٹ بھی آ چکی ہے۔ کاش نہ آتی۔

میں ان طلسماتی لمحوں کو قید کر لینا چاہتا ہوں لیکن لمحے تو نہر میں بہتے ہوئے پانی کی طرح ہیں، سورج کی تپش سے پگھلتی ہوئی برف کی طرح ہیں، بھلا کیسے قید ہوں؟ دور کھیتوں میں واقع کسی ڈیرے یا حویلی میں سے کبھی کبھار کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آ رہی ہے یا کبھی کبھار کسی گدھے کے ہیچوں ہیچوں کرنے کی آواز آ جاتی ہے۔

میں بھی اٹھ کر نیچے کمرے میں آ گیا ہوں۔ بیٹھک میں لگا چھت والا پنکھا بغیر کسی منزل کے بس گھومتا چلا جا رہا ہے۔ ایک مخصوص وقفے کے بعد پیدا ہونے والی اس کی گھُوں گھُوں کی آواز نے ایک عجیب سے کیفیت طاری کر رکھی ہے۔

بے ڈھنگے خیالات کسی دریا میں صدیوں سے پڑے پتھر پر جمی کائی کی طرح ذہن سے چمٹے ہوئے ہیں، میں باہر سے آنکھیں بند کرتا ہوں تو اندر سے درجنوں بھولی بسری یادیں اپنی آنکھیں کھول لیتی ہیں۔

کروٹ بدل کر دیکھتا ہوں تو بیٹھک کی جالی دار کھڑکی سے چاندنی کے ساتھ ساتھ ماضی کے کئی مبہم اور لرزاں چہرے بھی اندر جھانکنا شروع کر دیتے ہیں، اسی بیٹھک کی جگہ بیٹھ کر کبھی کسی گول مٹول کلائیوں والے ایک سانولے سے چہرے کے لیے پہلا شعر لکھا تھا۔ جب میں کسی کے نشیلے نین دیکھ کر یہ گنگنایا کرتا تھا، ’’لے کے پہلا پہلا پیار، بھر کے آنکھوں میں خُمار، جادو نگری سے آیا ہے کوئی جادو گر‘‘ اور میں غیر محسوس طریقے سے گاتا تھا، ’’کوئی ساوی ونگ ماہیا، سانوں تے پسند آیا تیرا سانولا رنگ ماہیا ‘‘۔ ہائے ہائے! جنم سے پہلے ہی مرجانے والی ان کہی خواہشوں اور محبتوں کیا بنا؟

اچانک ذہن میں میرا اپنا ہی مستقبل گھوم رہا ہے۔ کیا ابو جی کی طرح میرا چہرہ بھی ایک دن اسی طرح بے نام و نشاں ہو کر محض ماضی کا ایک قصہ بن کر رہ جائے گا؟ کیا میں بھی کبھی امی جی کی طرح بچھڑ جانے والوں، رفتہ رفتہ وقت کی ریت میں دفن ہو جانے والوں، قبر کی گود میں سو جانے والوں کو ایسے ہی حسرت بھری آہوں کے ساتھ یاد کروں گا تو آنکھیں نم ہو جایا کریں گی؟ یا ہو سکتا ہے کہ کوئی مجھے بھی یاد کیا کرے تو اس کی آنکھیں بھی نم ہو جایا کریں، یا ہو سکتا ہے کوئی یاد ہی نہ کرے، کون جانے کیا ہوگا؟

میں ان خیالات کو جھٹک رہا ہوں لیکن یہ آنکھ مچولی جاری ہے۔ جھینگر (تریڈی) کا شور تیز ہوتا جا رہا ہے، جالی والی کھڑکی سے گم گشتہ چہرے ابھی بھی جھانک رہے ہیں، چھن چھن کرتی چاند کی کرنیں بیٹھک میں دھمال ڈال رہی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔