آپ بھی اپنے اداؤں پر ذرا غور کریں


(سلیمان یوسفزئی)۔

ہم مجموعی طورپرایک جذباتی ہجوم ہیں۔ ثابت قدمی، مستقل مزاجی اور فردشناسی میں ہم بارہا ناکام ہوچکے ہیں۔ عام پبلک چھوڑئیے ہمارے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ بھی پل میں تولہ تو پل میں ماشہ ہوتے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کے ایک بھٹکے مسافر کی طرح اپنے منزل کو پانے کی بجائے اس سے مزید دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ماضی میں ہم ایسی کئی سنگین غلطیاں کر چکے ہیں جس کا پچھتاوا آج تک ہے لیکن باوجود اس پچھتاوے کے ہم اورغلطیاںکیے جارہے ہیں۔

پاکستان کے وجود میں آنے کے فورا ہی بعد ہم نے جانبدار پالیسی اپنائی اور روس کے خلاف امریکہ کے ساتھ دوستی میں ایسی گرم جوشی دکھائی کہ امریکہ خود بھی انگشت بدنداں ہوا۔ لیکن غلطی کا احساس ہونے پرایسے دشمن ہوگئے کہ ان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے عالمی دہشتگردوں کو اپنے سٹریٹیجک اثاثے بنا ڈالے۔ اور ہمارے یہی سٹریٹیجک اثاثے تھے جنہوں نے ہمارے ہی گلیوں، کوچوں میں ہمارے لوگوں کے ساتھ ہولناک ہولیاں کھیلی کہ ان کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کرنے پڑے۔ (یہ آپریشنز کیسے تھے، آپ سب جانتے ہیں)۔

حقانی نیٹ ورک جو دیگر کئی ناموں سے جانا اور پہچانا جاتا ہے، کو مضبوط بنانے والے بھی ہم تھے۔ اور ان کی پشت پناہی میں ہم دین و دنیا کی بھلائی ڈھونڈ رہے تھے۔ ان کے وفاداری اور محبت میں اتنے آگے نکل گئے کہ سمیع الحق صاحب نے برملا ان کو اپنے بچے قرار دیا۔ لیکن سمیع الحق صاحب کے یہی بچے ہی تھے جنہوں نے اے پی ایس، باچا خان یونیورسٹی، بڈھ بیر، کوئٹہ ہائی کورٹ وغیرہ میں دن دیہاڑے ریاست کو تگنی کا ناچ نچایا۔

ان تمام واقعات کے بعد ہردفعہ ایک چہرہ نمودار ہوتا گیا اور بڑے فخریہ انداز میں اس بربریت کی ذمہ داریاں قبول کرتا رہا۔ اور ہم بے لگام سوشل میڈیا، اخبارات اور ٹی وی پر اس پر لعن طعن کرتے رہیں۔ آج اسی بندے کو ہمارے میڈیا نے ایسے پیش کیا کہ اس کے ظلم وستم کا نشانہ بننے والے لوگ بھی شاید اس کے لئے سزا میں نرمی کا مطالبہ کریں۔ سلیم صافی صاحب جس کو ہم نے ہیرو بنایا اس کے کالموں اور پروگرامز پر واہ واہ کرتے رہیں۔ آج ان کو ہی پالشی اور طرح طرح کے خطابات سے نواز رہے ہیں۔

ریاستی پالیسی ایسی کے دوست اور دشمن کا پتہ ہی نہیں چلتا، بلکہ اس پالیسی سے نہ صرف یہ رہے سہے دوست بھی کھو رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر عزت سے بھی ہاتھ دھو رہے ہیں۔ انڈیا کی دشمنی میں ایسے انتہا پر پہنچے ہیں کہ دیگر ہمسایوں کو بھی انڈیا سے قطع کرنے میں برابر لگے ہیں۔ یہ تنگ نظری صرف بین الاقوامی حد تک محدود نہیں بلکہ اپنے ملک کے باشندوں پربھی انڈیا کے ایجنٹی کے ٹاپے لگاتے نہیں تھکتے۔ بے چینی کے اس عالم میں اپنے وجود کے اعضاء کاٹ رہے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہم نے اپنے شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کرکے ان سے حق شہریت چھین کر ان کو مشکوک کر دیا ہے۔ ایسے بے شمار معاملات ہیں جس کی ذمہ داری ریاست پر بنتی ہے کہ درست سمت میں لائے ورنہ پھر ”ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی“۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔