لاجواب سروس باکمال لوگ، کو کس کا لگ گیا روگ


پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا قیام 1955ء میں عمل آیا۔پی آئی اے کے قیام سے پہلے اورینٹ ایئرویز واحد ایئر لائن تھی جو تجارتی بنیادوں پر کام کررہی تھی۔ اورینٹ ایئر ویز نے 1954 ءمیں جب ملکی سطح پر اپنی پروازوں کا دائرہ کار وسیع کیا تو خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال میں حکومت پاکستان نے تجویز پیش کی کہ اورینٹ ایئر ویز، نئی قومی ایئر لائن میں ضم ہوجائے۔ اورینٹ ایئرویز کے 1955ء میں ضم کیے جانے کے بعد قومی فضائی کمپنی کا نام، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن رکھا گیا۔پی آئی اے کی حقیقی ترقی کا سفرایئر مارشل نور خان مرحوم کی قیادت میں 70ء کی دہائی میں شروع ہوا جب پی آئی اے نے غیر ملکی روٹس پر بھی صحیح معنوں میں اپنی پروازوں کا آغاز کیا اور تاحال قائم رہنے والا ریکارڈ کیپٹن عبداللہ بیگ نے بنایا، جب وہ بوئنگ 720 بی کی رفتار کو 938.78  تک لے گئے۔ پی آئی اے کی ترقی کا سفر تیز رفتاری سے جاری تھا۔ ایسے میں ایئر لائنز نے مسافروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے نعرہ لگایا’لاجواب سروس باکمال لوگ‘۔ حقیقت میں ملکی و غیر ملکی فضائی مسافروں نے ملکی اور غیر ملکی فضائی سفر کے لیے پی آئی اے کو اس کی لاجواب سروس کی بنیاد پر ترجیح دینی شروع کر دی۔

پی آئی اے، جس نے کئی غیر ملکی فضائی کمپنیز کے ساتھ معاہدے کیے اور ان کو اپنے پاوں پر کھڑے ہونے میں مدد دی اور ملکی و غیر ملکی سطح پر جائیدادیں اور ہوٹل خریدے۔ اس کے خود کے قدم سیاسی عدم استحکام، سیاسی بنیاد پر کی جانے والی بھرتیوں اور بدعنوانیوں کی وجہ سے اس وقت ڈگمگائے ہوئے ہیں۔’لاجواب سروس باکمال لوگ‘ جو کبھی قومی ایئر لائنز کا نعرہ ہوتا تھا، نااہل افراد کو ایئر لائنز کا سربراہ بنانے اور نااہل افراد کو بھرتی کرنے کی وجہ سے قصہ پارینہ ہوچکا ہے۔ مسافرقومی ایئرلائن میں سفر کرتے ہوئے اب گھبرانے لگے ہیں۔ اس کا احساس ایئر لائن انتظامیہ کو بھی ہوا ہو گا۔ اسی وجہ سے پرواز سے قبل رن وے پر کالے بکرے کی قربانی دی گئی لیکن کالے بکرے کی دی گئی قربانی سے ایئر لائن کے کپتان نے یہ سبق حاصل کیا کہ دوران پروازسوجانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بکرا صدقہ کیا جاچکا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ان دنوں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ جب ایک مسافر نے کپتان صاحب کو وردی میں سوتے پایا اور جہاز کے عملے سے شکایت کی کہ کپتان صاحب کی بے خوف نیند کی وجہ سے میں خوف میں مبتلا ہوں۔ پتا یہ چلا کہ کپتان صاحب جہاز کی کمان زیر تربیت پائلٹس کے حوالے کرکے وردی سمیت کمبل تانے سو رہے ہیں۔ موصوف کیونکہ پالپا کے صدر بھی رہ چکے ہیں اس لیے واقعہ کافی دن بعد رپورٹ ہوا اور کپتان صاحب کو پروازوں پر جانے سے روک دیا گیا۔

آج ایک اور ویڈیوبھی منظر عام پر آئی ہے جب جہاز کے عملے کا ایک فرد چائنیز خاتون سے پوچھ رہا ہے کہ آپ کا فضائی سفر کیسا رہا اور کیونکہ ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت مذکورہ خاتون کو خصوصی طور پر کاک پٹ میں آنے کی اجازت دی گئی تھی اس لیے عملے کے رکن نے یہ سوال بھی پوچھا کہ پائلٹ صاحب آپ کے دوست ہیں کیا؟ اس سوال پر خاتون بر انگیختہ نظر آئیں اور کہا کہ کیمرہ ہٹاو اور ویڈیو مت بناو۔ وائرل ہوئی اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے، ایئر لائن کے ترجمان نے کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں اور ویسے کسی مسافر کے کاک پٹ میں جانے سے جہاز کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ نائن الیون کے سانحے کے بعد سے فلائٹ سیفٹی کوڈ تبدیل ہوچکا ہے اور کاک پٹ کریو کے علاوہ کوئی شخص کاک پٹ میں نہیں جاسکتا حتیٰ کہ کے جہاز کا فضائی عملہ بھی نہیں۔

ان حالات اور واقعات کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کن لوگوں کی وجہ سے ’لاجواب سروس باکمال لوگ‘ کو لگ گیا روگ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔