محترم انورغازی اور دو قومی نظریہ ….



shakil chadhriانورغازی صاحب کے ’ہم سب‘ میں شائع شدہ مضمون ’دوقومی نظریہ کس طرح اسلامی ہے؟‘ کے حوالے سے کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دوقومی نظریہ کے بارے میں مفتی شفیع صاحب کا فتویٰ تحریک ِپاکستان کی اہم ترین دستاویز ہے۔ کیا وہ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں کسی مورخ کا حوالہ دے سکتے ہیں؟ اس فتوے کا متن یا ذکر تحریک پاکستان پر لکھی جانی والی کتنی کتابوں میں موجود ہے؟ کچھ اسی طرح کا دعویٰ جماعت اسلامی والے مولانا مودودی کی دو قومی نظریہ پر لکھی گئی کتاب کے بارے میں بھی کرتے ہیں۔ اس بارے میں غازی صاحب کیا کہتے ہیں؟ انہیں ایک اور معاملہ میں ہماری رہنمائی کرنی چاہیئے اور وہ یہ کہ تحریک پاکستان کے حوالے سے کمیونسٹوں، بریلویوں‘ شیعوں اور احمدیوں نے کیا کردار ادا کیا تھا۔

غازی صاحب فرماتے ہیں کہ ’علما کے ایک طبقے کا خیال تھا کہ برصغیر کو تقسیم نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے خطے پر ہماری بالادستی ہونی چاہیے۔ حکومت کے اہم ترین عہدے مسلمانوں کے پاس ہی ہونے چاہیے۔ مسلمانوں ہی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا ہے۔ انگریز نے مسلمانوں ہی کی حکومت پر قبضہ کیا تھا‘ لہٰذا اب یہ حکمرانی ہمیں ہی ملنی چاہیے۔ ان علمانے خطے کی تقسیم کی مخالفت کی تھی، اسلامی ریاست کے قیام کے مخالف ہر گز نہ تھے۔ اس نکتہ نظر کے حامل علما میں مولانا حسین احمد مدنی‘ مولانا محمد میاں‘ مولانا کفایت اللہ وغیرہ تھے جبکہ دوسرے علما کا خیال تھا کہ چونکہ انگریز نے برصغیر پر ڈیماکریسی نافذ کردی ہے۔ اس ڈیماکریسی کے نفاذ کے بعد کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے کہ اس خطے پر مسلمانوں کا غلبہ ہوسکے‘ لہٰذا ہمیں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی ضرورت ہے۔ اس نکتہ نظر کے حاملین میں مولانا اشرف علی تھانوی‘ مفتی شفیع‘ مولانا ظفر احمد عثمانی وغیرہ شامل تھے۔ علما کے دونوں ہی گروہ اور طبقے اس خطے میں اسلام کا غلبہ اور نفاذ اور مسلمانوں کی بالادستی چاہتے تھے۔‘

مسلمانوں کی بالادستی کیوں ضروری ہے اورحکومت کے اہم ترین عہدے ان کے پاس ہی کیوں ہونے چاہییں؟ اس کا مطلب ہے کہ علما کا کوئی طبقہ بھی جمہوریت اور مختلف مذہبی طبقات کےلئے برابری کے حقوق پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ کیا مولانا حسین احمد مدنی یا ان کے کسی ساتھی نے کبھی ایسی بات کی؟ کیا مسلم لیگی اور دیگر مسلمان بھی یہی سوچ رکھتے تھے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسی سوچ کے باعث پاکستان میں جمہوریت جڑ نہیں پکڑ سکی ہے؟ یہاں میں غازی صاحب نے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا پہلا وزیر قانون ایک ہندو ‘ جوگندر ناتھ منڈل‘کو کیوں بنایا گیا ؟ یہ عہدہ مولانا شبیر احمد عثمانی کو کیوں نہ دیا گیا؟ اور پھر وزیر خارجہ جیسا کلیدی عہدہ سر ظفراللہ خان ( احمدی) کو کیوںسونپا گیا؟ پاکستان کی مسلح افواج کے اولین سربراہ مسیحی کیوں تھے؟ غازی صاحب اگر یہ وضاحت فرمادیں کہ حکومت کے اہم ترین عہدے کون کون سے ہوتے ہیں تو بہت سو ں کا بھلا ہوگا۔

کیا واقعی انگریزوں نے مسلمانوں ہی کی حکومت پر قبضہ کیا تھا؟ کیا انگریزوں کی آمد سے پہلے پنجاب پر سکھوں کی حکومت نہیں تھی؟ کیاانگریزوں کو پنجاب سکھوں کے حوالے کرکے جانا چاہیئے تھا؟ غازی صاحب ‘ یہ بھی فرمادیں کہ انگریزوں کی مغلوں سے کتنی جنگیں ہوئی تھیں اور مرہٹوں سے کتنی؟ غازی صاحب کی نظر میں انگریزوں نےہندوستان میں جمہوریت متعارف کرواکرایک بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔ اگر وہ یہ نہ کرتے تو کیا کرتے؟ کیا وہ مغل سلطنت بحال کرکے جاتے؟ کیا یہ سلطنت سکڑ کر دہلی کے لال قلعہ تک محدود نہیں ہوچکی تھی؟ پھروہ مرہٹوں اور سکھوں کو کیا دے کر جاتے؟ ایک وقت میں مرہٹہ سلطنت اٹھائیس لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط تھی۔ اگرغازی صاحب نے سنجیدگی سے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ کبھی ایسی بات نہ کرتے۔

غازی صاحب نے کس بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ صرف مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی تھی؟ کیا ہندوو¿ں اور سکھوں نے تحریک آزادی میں بالکل حصہ نہیں لیا تھا؟ سرسیداحمد خان انگریزی اقتدار کو برصغیر کے لوگوں کے لئے نعمت کیوں سمجھتے تھے؟ اقبال اور بے شمار دوسرے مسلمانوں نے سر ‘ خان بہادر اور دیگر خطابات کیوں قبول کئے؟ جن نواب صاحب کے گھر پر ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی وہ بھی اور اس جماعت کے پہلے صدر ‘آغاخان‘ دونوں ’سر‘ تھے۔ تحریک پاکستان کے ایک رہنما ایسے بھی تھے جن کے والد اور سسر دونوں ’سر‘ تھے۔ ان کا نام تھا حسین شہید سہروردی۔ وہ تقسیم سے پہلے متحدہ بنگال کے وزیراعلیٰ تھے اور بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔

اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ فقہااور علماکا متفقہ فیصلہ ہے کہ ”دنیا بھر کے مسلمان ایک ملت اور ایک قوم ہیں اور دنیا بھر کے کافر الگ ملک اور قوم ہیں“۔ ان فقہا اور علما کا تعلق کس ملک اور مکتب فکر سے ہے اور انہوں نے یہ فیصلہ کب سنایا؟ کیایہ فیصلہ کرنے والوں میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اور شیعہ فقہا اور علما بھی شامل تھے؟ اس بارے میں پولیٹکل سائنس کیا کہتی ہے؟ کیا ہندوستانی ‘ پاکستانی ‘ بنگلہ دیشی ‘ ایرانی اور سعودی قومیت کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا چین‘ جاپان‘ روس‘ کوریا‘ ہندوستان‘برطانیہ‘ امریکہ‘کیوبا اور وینزویلا کے غیر مسلم واقعی ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں؟ اگرواقعی ایسا ہے تو وہ اپنی مختلف قومیتوں کی بات کیوں کرتے ہیں ؟ مولانا حسین احمد مدنی نے کیوں کہا تھا کہ آج کل قومیں اوطان سے بنتی ہیں؟ اور ہاں ایک اورسوال: کیا یہ درست ہے کہ اقبال ہندوو¿ں کو کافر نہیں سمجھتے تھے؟

فرید زکریا کی ایک کتا ب ’فیوچر آف فریڈم‘ کا حوالہ دیتے ہوئے غازی صاحب نے انہیں نیویارک اور ٹائمز کا ا یڈیٹر اور سابق صدر بش کی پانچ رکنی کیبنٹ کے ممبر کا قرار دیاہے۔سبحان اللہ! یہ لکھ کر غازی صاحب نے چہار دانگ عالم میں اپنے علم کی دھاک بٹھا دی ہے۔ غازی صاحب‘ ہم آپ کے انتہائی ممنون ہوں گے اگر آپ ہمیں یہ بتادیں کہ فرید زکریا کب نیویارک اور ٹائمز کے ایڈیٹر اور صدربش کی کابینہ کے رکن بنے تھے؟ کیا نیویارک اور ٹائمز رسائل کے نا م ہیں؟

غازی صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان بنا نے کا مقصد لا الہ الا اللہ کی سربلندی تھی۔ اگر واقعی یہ بات تھی تو پھر مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد نے قیام پاکستان کی مخالفت کیوں کی تھی؟ جہاں تک ’پاکستان کا مطلب کیا‘ لا الہ الا اللہ‘ کے نعرے تعلق ہے تو یہ ’ترانہ پاکستان‘کے عنوان سے لکھی گئی ایک نظم کا حصہ تھاجو سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان شاعر اصغر سودائی (1926-2008) نے1944میں لکھی تھی۔14دسمبر 1949ءکو خالق دینا ہال کراچی میں مسلم لیگ کے ایک اجلاس کے دوران جناح صاحب نے اس نعرے سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھا۔ اس کی تفصیل سردار شوکت حیات کی کتاب قوم گم گشتہ اور پنجاب کے سابق وزیر تعلیم ملک غلام نبی کی کتاب’ داغوں کی بہار‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔غازی صاحب کے اس مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برصغیر پاک وہند پر مسلمانوں نے کم وبیش ایک ہزار سال تک حکومت کی جبکہ ان کی تعداد پانچ فی صد سے زیادہ نہ تھی، مسلمان اقلیت میں تھے۔ لیکن ان کے زیر سایہ تمام غیرمسلم بھی بالکل آزادی سے رہتے تھے۔غازی صاحب کو اگر موقع ملے تو کسی سکھ سے مل کر پوچھ لیں کہ ان کے ہم مذہب مغل حکمرانوں اور بالخصوص اورنگ زیب کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ آج بھی آپ کو ایسے سکھ مل جائیں گے جو کسی بھی اورنگ زیب نامی شخص سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے۔

غازی صاحب نے میثاق مدینہ کا ذکرکرتے ہوئے پوری طرح دیانت داری سے کام نہیں لیا ہے۔ کیا میثاق مدینہ میں یہ لکھا گیا تھا کہ ’ سب مسلمان ایک امت اور ایک قوم سمجھے جائیں گے‘ یا مسلمانوں اور یہودیوں کو ایک امت قرار دیا گیا تھا؟ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ پاکستان کی طرح اسرائیل بھی نظریاتی ملک ہے۔وہاں لوگوں کو بچپن سے یہودیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے تعلیمی اداروںمیں نظریہ پاکستان نہیں سکھایاجاتا۔ میں غازی صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اسرائیل کا اساسی نظریہ اپنی اصل میں سیکولر نہیں تھا؟ کیاوہاں بھی پاکستان کی طرح سیکولرازم کو ایک گالی سمجھاجاتاہے؟ کیا وہاں بھی توہین مذہب کے ضمن میں سزائے موت کا کوئی قانون موجود ہے؟ کیا وہاں ارکانِ پارلیمنٹ کو بلاتفریق مذہب و مسلک یہ حلف اٹھانا پڑتا ہے کہ ’میں یہودی نظریہ کے تحفظ کے لئے کوشاں رہوں گا جو کہ تخلیق اسرائیل کی بنیاد ہے‘؟

غازی صا حب فرماتے ہیں کہ ’ جب ہم یہ کہتے ہیں پاکستان کو سیکولر ہونا چاہیے تو درحقیقت ہم بابائے قوم کی تمام تقاریر کو دانستہ طور نظر انداز کرتے ہیں۔‘ جی نہیں‘ یہ بات قطعاً درست نہیں۔ انہوں نے 7 فروری 1935ءکو مرکزی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذہب کو سیاست میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ جنا ح صاحب نے اپنی مشہور ترین تقریر میں کہا تھا کہ مذہب کا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے یہ تقریر 11 اگست 1947ءکو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں کی تھی، کسی جلسہ میں نہیں۔

اس تقریر کے بارے میں پاکستان مسلم لیگ کے پہلے صدر‘ چودھری خلیق الزمان‘ نے اپنی سوانح عمری ’شاہراہ پاکستان‘ میں لکھا ہے کہ اس میں جناح صاحب نے دوقومی نظریہ کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ اس موضوع پر آل انڈیا مسلم لیگ کے خزانچی را جہ صاحب آف محمود آباد کے خیا لات بھی شاید غازی صاحب کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں۔ ’اسلامی ریاست کی میری وکالت نے جناح صاحب سے میرا تصادم کروا دیا تھا۔ انہوں نے پوری طرح واضح کر دیا تھا کہ وہ میرے خیالات کے حق میں نہیں۔ انہوں نے مجھے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اس طرح کے خیالات کا اظہار کرنے سے منع کر دیا تھا کہ لوگ کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ ان سے متفق تھے اور یہ کہ ان کے اظہار کے لئے انہوں نے مجھے کہا تھا۔‘غازی صاحب‘ یہ بات بھی شاید ان کی دلچسپی کی ہو کہ جناح صاحب نے مئی 1947میں ماو¿نٹ بیٹن کو لکھا تھا کہ ’عزت مآب سمجھ نہیں رہے کہ پنجابی ایک قوم ہیں اوربنگالی بھی۔ پنجابی یا بنگالی ہندو یا مسلمان ہونے سے پہلے پنجابی یا بنگالی ہوتا ہے۔ اگر آپ ہمیں یہ صوبے دے رہے ہیں تو پھر کس بھی صورت انہیں تقسیم نہ کریں۔ اگر آپ نے انہیں تقسیم کیا تو پھر آپ انہیں معاشی طور پر تباہ کردیں گے اور بے پایاں خون خرابے اور فسادکو دعوت دے رہے ہوں گے۔‘ اس کے جواب میں ماو¿نٹ بیٹن نے کہا تھا کہ آپ نے ہندوستان کو متحد رکھنے کے لئے مجھے بہت اچھی دلیل مہیا کردی ہے۔

غازی صاحب نے یہ وضاحت نہیں کہ وہ سیکولرازم کو اتنا برا کیوں سمجھتے ہیں۔ اگر یہ واقعی اتنی بری چیز ہے تو پھر جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند اس کے حق میں کیوں ہیں؟ کچھ عرصہ پہلے جماعت اسلامی ہند کے اس وقت کے امیرمولانا سراج الحسن پاکستان تشریف لائے تھے۔ فرائی ڈے سپیشل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے سیکولرازم کے حق میں بات کرکے انٹرویو کرنے والے صحافی کو حیران کردیا تھا۔ انہوں نے سیکولر ازم کی تعریف کچھ یوں کی تھی ’مذہب کی بنیاد پر عدم امتیاز‘۔

آخر میں غازی صاحب کی توجہ مولانا مودودی کے ایک تاریخی ارشاد کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ ان سے درخواست ہے کہ وہ اس کے بارے میں ہمیں اپنی رائے سے نوازیں۔ ’لیگ کے قائدا عظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرز فکر رکھتا ہو اور معاملات کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔‘

(شکیل چودھری نے بین الاقوامی تعلقات اور میڈیا کی تعلیم بالترتیب اسلام آباد اورلندن میں حاصل کی۔ وہ انگریزی سکھانے والی ایک ذولسانی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان کاای میل پتہ یہ ہے shakil.chaudhary@gmail.com )


Comments

FB Login Required - comments

شکیل چودھری

(شکیل چودھری نے بین الاقوامی تعلقات اور میڈیا کی تعلیم بالترتیب اسلام آباد اورلندن میں حاصل کی۔ وہ انگریزی سکھانے والی ایک ذولسانی کتاب ’ہینڈ بک آف فنکشنل انگلش‘ کے مصنف ہیں۔ ان کاای میل پتہ یہ ہے shakil.chaudhary@gmail.com )

shakil-chaudhari has 5 posts and counting.See all posts by shakil-chaudhari

6 thoughts on “محترم انورغازی اور دو قومی نظریہ ….

  • 26-02-2016 at 5:30 pm
    Permalink

    Agreed.

  • 26-02-2016 at 10:32 pm
    Permalink

    I could not agree more, Shakeel

  • 27-02-2016 at 12:39 am
    Permalink

    ان تمام حقا ئق کے باوجود آپ غازی صاحب کو نہیں تسلیم کرواسکتے کہ جناح صاحب ایک سیکولرشخصیت تھے اور پاکستان کے بننے کا دو قومی نظریہ سے کوئ تعلق نہیں- میرے خیال میں دو قومی نظریہ خود اسلام کی روح کے خلاف ہے-اسلام میں جب علاقے اور ریاست کی بات آتی ہے تو خدا رب العالمین اور رسول رحمتہ اللعا لمین کا لقب اختیار کرتے ہیں–ریاست کا مفہوم یہ ہے کہ اسے لوگوں کا گروہ اپنے مفاد کے آئین کے تحت جنم دیتا ہے اور اس میں ہر عقیدے کے لوگ شامل ہوتے ہیں—-ریاست اگر ایک خاص مذہب کے نام سے ہوگی تو دوسرے عقیدے کے لوگ کہاں جائیں گے-اسی لئے جناح نے مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ ھندو، سکھ اور عیسائیوں کا ذکر اپنی تقریر میں کیا ——اگر ہم اسی تصور پر قائم رہے تو پھر اسلام میں خدا کے رب العالمین اور رسول کے رحمتہ اللعالین ہونے کا تصور کہاں جائے گا–لیکن اس کے لئے بھی ہم کہیں سے حوالہ تلاش کرکے عقل و حقیقت کو جل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے———–دو قومی نظریہ اس وقت تک ہے جب تک مسئلہ کشیر ہے یہ مسئلہ ختم ہو تے ہی اس نظریہ پر یہ لوگ بات بھی نہیں کریں گے——
    قمر ساجد

  • 27-02-2016 at 6:44 pm
    Permalink

    ایک نہایت عمدہ اور مدلل تحریر ہے ۔ اور ان تمام نکات کا نہایت جامع جواب ہے جو کچھ علماء کرام کی طرف سے اٹھائے جاتے ھیں

  • 24-03-2016 at 7:52 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ،،،، شکیل صاحب ، مدلل تحریر،، دیکھتے ھیں اب غازی صاحب کیا جواب تحریر کرتے ھیں

  • 04-05-2016 at 10:35 pm
    Permalink

    اس مضمون کے حوالے سے ایک درستی ضروری ہے۔ جناح صاحب نے ’پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ‘ کے نعرے سے لاتعلقی کا اظہار۱۴دسمبر ۱۹۴۷ کوخالق دینا ہال کراچی میں آل انڈیامسلم لیگ کے آخری اجلاس کے دوران کیا تھا۔ مولانا جمال میاں فرنگی محلی کے بقول وہ خود اس اجلاس میں شریک تھے اور یہ دودن چلتا رہا۔ انہوں نے دونوں دنوں کی تقریروں میں حصہ لیا۔ ’’چونکہ ان کی تقریر تنقیدی تھی لوگوں نے بڑی تعریف کی اور حکومت پر آوازیں بھی کسی گئیں۔ شرم‘ شرم کے نعرے بھی بلند ہوئے۔ لوگوں میں بڑا جوش وخروش تھا اور جس طرح حکومت چل رہی تھی وہ قابل تعریف طریقہ نہیں تھا۔‘‘

    ان کے مطابق ایسی حکومت کو مسلم کہنا لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف تھا۔ ’’پاکستان کو اگر آپ مذہبی ریاست بنائیں گے تو یہ بات بڑے فتنوں کا باعث بنے گی۔ اس سے مسلمانوں کا بڑا نقصان ہوگا۔ اسلام کا لفظ استعمال کرکے آپ لوگوں کی توقعات کو بہت اونچا کرتے ہیں مگرآپ میں ان توقعات کو پورا کرنے صلاحیت نہیں۔ لہٰذا آپ اس بات کو چھوڑ دیں۔‘‘ (بحوالہ قائداعظم کے رفقاء سے ملاقاتیں)

Comments are closed.