ایمسٹرڈیم کا بازارِ حُسن


ایمسٹرڈیم میں واقع بازارِ حُسن میں ایسی کیا خاص بات ہے جو کسی اور ایسی جگہ میں نہیں۔ مختصراً، قانون کا تحفظ، صاف ستھرا ماحول، کاروبار کرنے والی لڑکیوں کی ورائٹی اور صحت کے اصولوں کی پاسداری کی شہرت۔

دنیا میں جسم فروشی کا یہ مشہور ترین بازار ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم کے سنٹرل سٹیشن سے دس منٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔

شہر کے باسی اس بازار سے زیادہ پریشان نہیں۔ کوئی اس جگہ سے بچنے کے لئےلمبا راستہ اختیار نہیں کرتا۔ دوپہر کے وقت مائیں سکول سے بچوں کو لے کر بازار کے بیچ سے گزرتی ہیں۔ میں نے سکول کی کچھ لڑکیوں کو آپس میں باتیں کرتے ہوئے یہاں سے ایسے گزرتے ہوئے دیکھا جیسے وہ کوئی عام بازار ہو۔

 کھڑکیوں میں کھڑی عورتیں خود ہی دکاندار بھی ہیں اور سامان برائے فروخت بھی۔ اس طرح گاہک اور اس کی ضرورت کے درمیان سے جسم فروشی کے پیشے کا بدنام کردار دلال غائب ہے۔

ایمسٹرڈیم کے بازار حسن کا ذکر لاہور میں بھی سنتے رہتے تھے لیکن یورپ آ کر پتہ چلا کہ اس طرح کے بازار بیلجیم کے شہروں برسلز اور آنٹورپن میں بھی ہیں۔ اور جرمنی کے شہر ہمبرگ کا بھی ذکر آتا ہے۔

یہ کاروبار شاید ہردور اور ہر خطے میں ہوا ہے لیکن جتنا آسان یہ یورپ کے چند شہروں میں بن چکا ہے غالباً اس سے پہلے کہیں بھی اور کبھی نہ تھا۔

یہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں اور بازار میں انگریزی، عربی، پنجابی، اردو، فرانسیسی، ہسپانوی سمیت بہت سی زبانیں سنی جا سکتی ہیں۔

بازار میں ریستوران ہیں جہاں قانونی طور پر فروخت ہونے والی منشیات ملتی ہیں۔ لیکن بازار میں کچھ لوگ خاموشی سے ’کوکین‘ بیچنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

اس کی شہرت کچھ ایسی ہے کہ مرد اور عورتیں سب ہی اس کا رخ کرتے ہیں۔ کم از کم مغرب کے بہت سے لوگ اپنی بیویوں اور گرل فرینڈ کے ساتھ یہاں کی سیر ضرور کرتے ہیں اور مِل کر تھیٹروں میں ’لائیو سیکس شو‘ دیکھتے ہیں۔

بازار میں سڑک کے کنارے دکانوں کے چھجوں پر سرخ رنگ کی خوبصورت ٹیوب لائٹیں آپ کا استقبال کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ سرخ روشنی وہاں پیسوں کے عوض عورتوں کی دستیابی کی علامت ہے۔

 دو خوبصورت نہروں کے اطراف پھیلے بازار حسن کی گلیوں کے جال میں یورپ کے علاوہ افریقہ اور ایشیا کی لڑکیاں بھی بہتر مستقبل کے خواب سجائے کھڑی نظر آتی ہیں۔

ن دکانوں کے شوکیس کھڑکیوں کے پیچھے دھلی، دھلائی نیم برہنہ عورتیں کھڑی نظر آتی ہیں۔ یہ مسکراتی ہیں، قریب آنے کا اشارہ کرتی ہیں، آنکھ مارتی ہیں یا کبھی بے اعتنائی برتتی ہیں۔ یہ سب گلی سے گزرنے والوں کو لُبھانے کے انداز ہیں۔

بازار میں گیارہ ستمبر 2001ء کا اثر بھی دیکھنے میں آیا۔ میں نے دو لڑکیوں کو فوجی جیکٹیں پہنے دیکھا۔ ایک آدھی دکان میں ڈاکٹر اور نرس کی وردی بھی نظر آئی۔

ان دکانوں کو ونڈوز یعنی کھڑکیاں کہا جاتا ہے۔ دکانوں کا سامنا یا فرنٹ ان کے دروازے سمیت مکمل شیشے کا ہوتا جہاں سے عورت اور اس

Amsterdam-Red-Light-District-19th-century

کے کاروبار کے اڈے کا بغور جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

 سر سری جائزے پر اندر ایک بستر نظر آتا ہے جس پر شیر، گھوڑوں یا بارہ سنگھوں کی تصویروں والی چادریں بچھی نظر آتی ہیں۔ میز پر کریمیں، لوشن وغیرہ بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ کچھ کمروں میں دو یا تین لڑکیاں بھی نظر آئیں اور وہاں سنگل کی بجائے ڈبل بیڈ پڑا ہوا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کھڑکیوں میں کھڑی عورتیں خود ہی دکاندار بھی ہیں اور سامان برائے فروخت بھی۔ اس طرح گاہک اور اس کی ضرورت کے درمیان سے جسم فروشی کے پیشے کا بدنام کردار دلال غائب ہے۔

آیا یہ لڑکیاں یہاں اپنی خوشی سے آتی ہیں یا اس کے پیچھے جبر کی داستاں ہے، یہ تحقیق کا موضوع ہے۔

ایمسٹرڈیم کے پرانے حصے میں دو خوبصورت نہروں کے اطراف پھیلے بازار حسن کی گلیوں کے جال میں یورپ کے علاوہ افریقہ اور ایشیا کی لڑکیاں بھی بہتر مستقبل کے خواب سجائے کھڑی نظر آتی ہیں۔

ان کے ساتھ پندرہ منٹ کی صحبت کا معاوضہ پچاس یورو ہے۔ لیکن سودے بازی کی گنجائش رہتی ہے جس کا انحصار عورت کی پختگی عمر یا کمزوری حسن پر ہے۔

بازار میں نسل پرستی کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آتا ہے اور اس کا شکار بدقسمتی سے یہاں بھی پھر سیاہ فام لوگ ہوتے ہیں۔

سیاحوں کی رہنمائی کے لئے ایک جریدے میں بھی غالباً اسی گلی کے بارے میں لکھا تھا کہ بازار حسن میں ذرا ہٹ کر ایک گلی ہے جس میں کم قیمت پر بھی کام ہو سکتا ہے اور اس گلی سے آگے نہ تو بٹوہ محفوظ ہے اور نہ ہی سیاح خود۔

یہ شاید واحدگلی تھی جہاں عورتوں کو زور زور سے بول کر گاہکوں کو متوجہ کرتے دیکھا گیا۔ یہ تو پیسے بھی کم مانگ رہی تھیں۔ ایک عورت کو میں نے دو لڑکوں کو پچیس یورو کی پیشکش کرتے سنا۔

عام طور پر قیمت نقد وصول کی جاتی ہے لیکن کچھ کھڑکیوں پر کریڈٹ کارڈ کے نشان بھی نظر آئے۔

سودے بازی انتہائی آسان ہے۔گاہک پسند کی لڑکی کی کھڑکی کی طرف بڑھتا ہے۔ لڑکی پنجہ دکھا کر اپنی قیمت بتاتی ہے۔ گاہک کی آمادگی پر دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور مرد کے اندر داخل ہوتے ہی دروازے پر پردہ گر جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بعض لڑکیاں ایک دن میں پانچ سے سات سو یورو تک بنا لیتی ہیں۔ ایک کھڑکی کا آٹھ گھنٹے کا کرایہ ایک سو لے کر ڈیڑھ سو یورو تک بتایا گیا۔ آٹھ گھنٹے کی شفٹ کے بعد لڑکی بدل جاتی ہے۔

کھڑکیوں کے پیچھے ہر عمر کی عورت اور بازار میں ہر عمر کا مرد نظر آتا ہے۔ دن کے وقت سکول کے لڑکوں سے لے کر لاٹھی کے سہارے چلنے والے بزرگ بازار کے چکر پر چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔

ایمسٹرڈیم کے بازار حسن میں دو یا تین ایسی نوجوان لڑکیاں بھی نظر آئیں جن پر سُرینامی ہونے کا گمان ہوتا تھا۔

واضح رہے کہ سرینام ہالینڈ کی کالونی رہی ہے۔ ہالینڈ کی حکومت نےسرینام کے حالات کے پیش نظر سینکڑوں سرینامی خاندانوں کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر اپنے ملک میں آباد کیا تھا۔

سیاحت کے لئے آنے والے نوجوان لڑکوں کے گروپ بازار میں کھڑکی کھڑکی جا کر لڑکیوں کو تنگ کر کے رونق کا باعث بنتے ہیں۔

غالباً انگلستان سے آئے کچھ اردو بولنے والے لڑکوں نے سانولے رنگ کی ایک لڑکی سے اردو میں قیمت پوچھی۔ لڑکی اس چیز کے لئے تیار نہیں تھی۔ میں اس کا جواب نہ سن سکا۔

اس طرح میں نے تین لوگوں کو پنجابی میں ایک کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے سنا کہ لڑکی ’دیسی‘ لگتی ہے۔ پھر ایک بولا کہ نہیں ’مراکن‘ ہے۔ ان میں سے ایک کا اصرار تھا کہ کم از کم ’مکس‘ ضرور ہے جس پر اسے ’اپنا شوق پورا‘ کرنے کے لئے کہا گیا۔

اس شخص نے اپنے ساتھیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور انہیں آگے بڑھنے کا کہہ کر لڑکی کی طرف بڑھ گیا۔

(اسد علی چودھری)

(وقتِ اشاعت Thursday, 19 February, 2004, 12:40 GMT 17:40 PST)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp