وسعت اللہ خان معاشرے میں کنفیوژن اور خوف کا راج دیکھتے ہیں


عدنان کاکڑ :آپ چار دہائیو ں سے صحافت کر رہے ہیں۔ 1978 ء میں آپ کی صحافت شروع ہوئی تھی جنرل ضیاء کے دور میں ۔ اس وقت سے اب تک لکھتے ہوئے آپ کو صحافت میں کیا تبدیلیاں محسوس ہو رہی ہیں۔ کیا اُس وقت آپ لکھتے ہوئے زیادہ احتیاط سے کام لیتے تھے یا اب؟

وسعت االلہ خان: بنیادی طور پر شروع کے برسوں میں میں نے نہیں لکھا۔ میں یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہتا تھا۔ پیسو ں کی ضرورت تھی تو ہاسٹل کا خرچہ نکالنے کے لیے پچیس روپے دیہاڑی پر مشرق میں سب ایڈیٹر کے طور پر کام کرتا تھا ۔ پھر اس کے بعد کسی اور اخبار نائٹ شفٹ پہ یا سبنگ میں کر لیا، پھر کسی اور میں۔ شروع میں اس طر ح کے کام میں نے کیے ہیں۔ لکھنے کا میرا کام صحیح معنوں میں 1988 ء سے شروع ہوا۔ ایک اخبار نکلتا تھا سویرا۔ اس میں میں نے باقاعدہ کالم لکھنا شروع کیا۔ اس کا عنوان ’الٹی سیدھی باتیں‘ تھا۔ اس وقت میرے ذہن میں خوف نہیں تھا۔ حالانکہ آج نہ جنرل ضیاء ہے نہ کوئی اور بات ہے لیکن فضا میں جو آج کل خوف محسوس ہوتا ہے وہ اس زمانے میں نہیں تھا یا کم از کم مجھے نہیں لگتا تھا۔

عدنان کاکڑ : 1988 ء میں ضیا آمریت کا سایہ تھا۔ ضیاء کا دور ختم ہو گیا لیکن ابھی ایک چیز چلی آرہی تھی جبر کی روایت کا تسلسل۔ اس میں آپ کو اتنی تنگی نہیں ہوتی تھی، اتنی احتیاط کا عالم نہیں تھا؟

وسعت االلہ خان:چیزیں کھلی ہوئی تھیں۔ دیکھیں ناں پتہ تھا کہ کوڑے پڑنے ہیں تو کوڑے پڑنے ہیں۔ جیل جانا ہے تو جیل جانا ہے۔ شاہی قلعے جانا ہے تو جانا ہے۔ چیزیں واضح تھیں۔ اور واضح چیزیں خواہ بری ہوں یا اچھی ہوں تو اس میں خوف نہیں ہوتا۔ جب ہر چیز ایک دوسرے میں مکس ہو جائے اور غیر واضح ہو جائے تو پھر اس کنفیوژن سے خوف پیدا ہوتا ہے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے۔

عدنان کاکڑ : سنہ اسی کی دہائی میں ہم نے دیکھا کہ اس وقت معاشرے میں اتنی کفیوژن نہیں تھی، نوے کی دہائی میں بھی نہیں تھی اب جتنی بڑھ چکی ہے۔ حالانکہ کہ اب تو تعلیم عام ہو گئی ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ہر آدمی ہر چیز دیکھ سکتا ہے۔ سنسرشپ کا عالم نہیں ہے جوکہ پہلے ہوا کرتا تھا۔ لیکن کنفیوژن اب کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے۔ آپ کی رائے میں اس کی کیا وجوہات ہیں؟

وسعت االلہ خان: کنفیوژن شاید اس لیے بڑھ گئی ہے کہ ابھی تک ہم اندھیرے میں ہاتھ پاؤں چلا رہے ہیں۔ بھٹو کے زمانے تک شاید ہمیں یہ گمان تھا کہ ہم ہاتھ پیر مار کے کہیں نہ کہیں پہنچ جائیں گے۔ لیکن اس کے بعد نوے میں کنفیوژن کا عالم لگنے لگا۔ حتی کہ ضیاء کے جانے کے بعد بھی ایسا محسوس ہوا کہ ہم کبھی ادھر جا رہے ہیں کبھی ادھر جا رہے ہیں۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ بلیک کیا ہے وائٹ کیا ہے۔ اچانک سے وہ بلیک ہو جاتا ہے پھر وہ وائٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے پھر بلیک ہو جاتا ہے۔ وہ جو ایک ان سکیورٹی پیدا ہوئی وہ حالانکہ ’شکستگی نے دی گواہی بجا ہے اپنی یہ کج کلاہی، سنو کہ اپنا کوئی نہیں ہے، ہم اپنے سائے میں پل رہے ہیں‘۔ اور ہم انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اس سٹیٹ آف مائنڈ سے مستقل گزر رہے ہیں۔ تو کبھی ہمیں پتہ نہیں چلتا اور ہم خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ کبھی کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ کبھی بغیر وجہ کے دلیر ہو جاتے ہیں۔ کبھی بغیر وجہ کے اپنے اندر سمٹ جاتے ہیں۔ حتی کہ کنفیوژن میں اب بزدلی اور بہادری بھی واضح نہیں کہ کس وقت کیا ہو جائے گایا ہم کیا کر لیں گے ۔ ایک عجیب خوف کی حالت سے ہم لوگ گزر رہے ہیں۔

عدنان کاکڑ : سوویت یونین کا دور آپ نے دیکھا تھا۔ اس وقت ہمارے نوجوان انقلاب لانے کے خواہش مند تھے۔ جتنے نوجوان اسلامی انقلاب لانے کے حامی کے تھے اتنے ہی آ پ کو لیفٹ والے طلبہ ملتے تھے جو کہتے تھے کہ انسانوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے کمیونزم یا سوشلسٹ سٹیٹ کی طرف جائیں۔ وہ والا فیکٹر ختم ہوا ہے۔ ماضی میں جو تکثیریت ہمارے نوجوانوں میں تھی وہ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اس میں ہمارے پاس یہ چوائس تو ہے کہ ہم کتنی انتہا پہ جاتے ہیں، کم انتہا پہ جاتے ہیں یا زیادہ انتہا پہ جاتے ہیں۔ لیکن نظریے کی چوائس ہمارے پاس ختم ہو گئی ہے۔ کیا اس موجودہ کنفیوژن کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہمارے پاس صرف ایک ہی نظریہ باقی بچا ہے؟

وسعت االلہ خان:اس کا تعلق چوائس سے نہیں ہے اور وہ جو آپ کو لیفٹ اور رائٹ کا ایک واضح زمانہ لگتا ہے اس میں بھی ہم کوئی انقلاب وغیرہ نہیں لانا چاہ رہے تھے۔ نہ کوئی اسلامی انقلاب لانا چاہ رہا تھا نہ کوئی کمیونزم لانا چاہ رہا تھا۔ وہ یہ تھا کہ ایک رومانٹک سایہ چاہیے تھا کسی چیز کا۔ جس میں ہم اپنے خیالات کا سماج، ایک یوٹوپیا بنائے ہوئے تھے۔ یہ ہمارے ذہنوں میں تھا اور یوٹوپیا کا تصور خاصا رومانٹک ہوتا ہے۔ اس میں آپ اپنے یوٹوپیا کے آپ خود مالک ہوتے ہیں۔ اس میں آپ ترمیم کر سکتے ہیں، بڑھوتری یا کٹوتی جیسا بھی کرنے کا آپ کا دل چاہے، آپ خود مالک ہوتے ہیں۔ دراصل ہماری نسل اس یوٹوپیا کے مزے لے رہی تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی سنجیدگی سے ایسا سوچتا تھا۔ ہو سکتا ہے انفرادی طور پر لوگ کوشش کر رہے ہو ں، جنہوں نے ماریں کھائیں یا جنہوں نے اپنے آپ کو ایک آئیڈیل کی تلاش میں بالکل برباد بھی کر لیا۔ لیکن بحیثیت مجموعی جو ہم دیکھتے ہیں تو وہ تو یوٹوپیا کا رومانٹک سیزن تھا بھلے وہ اسلامی جمعیت طلبا تھی یا این ایس ایف تھی۔

عدنان کاکڑ : ایک نوجوان جب بھی بلوغت کی عمر یا کالج ایج میں آتا ہے اس کے بعد اس کو ہمیشہ ایک یوٹوپیا چاہیے ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میں تن تنہا دنیا کو بدل دوں گا۔ یا تین دوست ساتھ ملا لوں گا۔ میری رائے میں جس وقت ہمارے تعلیمی اداروں میں لیفٹ اور رائٹ کی ڈیوائڈ موجود تھی تو دو یوٹوپیا تھے ہمارے پاس۔ اب ہمارے پاس صرف ایک ہی ہے۔ اب ہمارے پاس صرف یہ انتخاب رہ گیا ہے کہ ہم ایک اسلامی جمہوری نظام بنا لیں یا پھر ہم داعش کی طرح خلافت کا نظام بنا لیں۔ ہمارے پاس اب صرف دو یوٹوپیا رہ گئے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ بات درست ہے۔

وسعت االلہ خان: میرے خیال میں ایک بھی یوٹوپیا نہیں رہا۔ بے سہارا ہونے کی کیفیت ہے۔ یوٹوپیا جب تک تھا تو یوٹوپیا پہ تکیہ تھا ہمارے پاس۔ اب جو مار رہا ہے اس کو بھی دھوکا دیا جا رہا ہے اور جو مر رہا ہے اس کو تو دھوکا بھی نہیں دیا جا رہا۔ اصل میں یوٹوپیا کا تعلق آپ کی زمین کی زندگی سے ہوتا ہے۔ اس میں کچھ خواب ہوتے ہیں کہ ہم ایسے ہو جائیں گے۔ یوٹوپیا پورے کا پورا میٹا فزیکل نہیں ہوتا ۔ کچھ چبھن والی چیزیں ہوتی ہے جس کی بنیاد پہ آپ یوٹوپیا تعمیر کرتے ہیں۔ یہاں چیزیں ایک دوسرے میں اتنی گھس چکی ہیں کہ اس کو آپ فکری انارکی کا دور تو کہہ سکتے ہیں۔ کسی بھی طرف آپ دیکھ لیں۔ اس فکری انارکی میں ہم جو اپنی سوچ کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یار اس کو اس طرح لکھا جائے، اس کو اس طرح دیکھا جائے تو وہ ہم تک ہی محدود ہوتا ہے۔ اس ترتیب سے باہر نکلتے ہیں تو پھر ایک انارکی کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ سوال پہلے کبھی نہیں پوچھا گیا جتنا آج پوچھا جا رہا ہے کہ کیا کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی چیز ڈیفائن نہیں ہے اور دور دور تک ڈیفائن نظر نہیں آرہی۔ بس ایک ہی سوال غلبہ پا چکا ہے کہ کیا کریں۔ یہ تو بڑا بدقسمت دور ہے کہ جس میں یوٹوپیا تک نہیں ہے۔

عدنان کاکڑ : اس فکری کنفیوژن کو ختم کرنے کے لیے، یہ یوٹوپیا واپس لانے کے لیے، نوجوانوں میں ایک منطقی سوچ لانے کے لیے، آپ کیا اقدامات آپ تجویز کریں گے۔

وسعت االلہ خان: یہ چیزیں اقدامات وغیرہ سے تو نہیں ہوتیں۔ سارا جو کھیل ہے وہ آرگینک ہے۔ میری زندگی میں جو واحد ڈھارس ہے وہ یہ ہے کہ میں اب یہ فرض کرنا شروع کر دوں کہ چیزیں گردش میں ہوتی ہیں تو یہ بھی بدل جائیں گی۔ اب مجھے نہیں پتا کہ گزریں گی یا نہیں گزریں گی لیکن یہ خیال میری تسلی کے لیے بہت ہے۔

عدنان کاکڑ : یعنی ہم تبدیلی لانے کے لئے خود سے کچھ کوشش نہیں کر سکتے ہیں۔ بس بے بسی سے اپنی نیا کو منجدھار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں، جہاں بھی موجیں لے جائیں۔

وسعت االلہ خان:دیکھو کوشش بھی مجھے تو لگتا ہے ایک سراب ہے۔ چونکہ ہم صبح اٹھتے ہیں لہٰذا ہم سوچتے ہیں کہ ہم یوں چلے جائیں، ہم یہ کام کر لیں گے یا یوں ہو جائے گا، کسی حد تک ہو بھی جاتا ہے۔ لیکن بہت سارے بیرونی عوام بھی ہیں جو ہماری اس کوشش کو آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں یا اسے پسپا کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔ یا اسے بکھیر رہے ہوتے ہیں یا اسے بنا رہے ہوتے ہیں۔ آخر میں یہ ہوتا ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ سارا پہاڑ ہم نے خود سر کیا ہے، اگر سر کر لیا ہے۔ لیکن کوشش کے بغیر چھٹکارا بھی نہیں ہے۔ اگر آپ کوشش بھی نہیں کریں گے تو پھر کیا کریں گے لہٰذا آ پ کو کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ کوئی آپشن نہیں ہے اس کے علاوہ۔

عدنان کاکڑ : اس کوشش میں ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا اس میں تبدیلی کرنے سے بہتر آ سکتی ہے؟

وسعت االلہ خان: دیکھئے ہم اندرسے کون ہیں؟ جیسے ہم اندر سے ہیں ویسا ہی ہم نظام بنانے کی کوشش کریں گے۔ اگر میں باہر سے روشن خیال ہوں لیکن اندر سے تاریک خیال ہوں تو میں دونوں صورتوں میں کیسا نظام بناؤں گا؟ سیاسی نظام، عدالتی نظام یا تعلیمی نظام یا جو بھی نظام ہو۔ یہ ہو سکتا ہے کہ یا تو میں باہر سے بھی تاریک خیال ہوں اور اندر سے بھی تاریک خیال ہوں۔ تو پھر میں اپنے خیال سے ویسا ہی کچھ بنا لوں گا۔ یا پھر باہر اور اندر دونوں سے روشن خیال ہوں تو میں ویسا بنانے کی کوشش کروں گا۔ اسے سے فرق نہیں پڑتا کہ خواہ اس میں کامیاب ہو جاؤں یا ناکام ہو جاؤں۔ لیکن میں کوشش کروں گا۔

مجھے ایسے لگتا ہے کہ ہمارے اندر انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر سپلٹ پرسنالٹی کا سنڈروم ہے۔ اب سپلٹ پرنالٹی والے کو یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ دن میں کیا بنانا چاہتا ہے اور رات میں کیا بنانا چاہتا ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ اسے یہ بھی نہ پتا ہو کہ وہ سپلٹ پرسنالٹی میں چل رہا ہے۔ کبھی کبھی مجھے ایسا بھی لگتا ہے کہ ہم سب پریکٹیکلی نیند میں چل رہے ہیں لیکن ہمیں ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم جاگتے ہوئے چل رہے ہیں۔ ایک جگہ جا کے ذہن مطمئن ہو گا یا کوئی ایسا ماحول نظر آئے جو قدرتی طور پر ہی ہو گا۔ جہاں ایسے لگے کہ یہاں کچھ ذرا دم لے کے سوچا جائے کہ کہاں سے آیا اور میں جا کہاں رہا ہوں۔ اس وقت میں کیا کر رہا ہوں۔ میں تو ایسی تیز رفتار کنویئر بیلٹ پر چڑھا ہوا ہوں کہ مجھے تو دم لینے کا وقت ہی نہیں مل رہا۔ میں اپنے آپ کو ہی بیلنس کر لوں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت بڑی بات ہو گی۔ اس میں پھر اس طرح کی باتیں کرنا کہ نظام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو گویا آپ نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ایک استحکام ہے جس میں ہم نظام کی اینٹ رکھ سکتے ہیں یا بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ مجھے تو یہ سوچنا بھی عیاشی لگ رہی ہے۔

عدنان کاکڑ : روشن خیال اور تاریک خیال سے آپ کی کیا مراد ہے۔

وسعت االلہ خان: میں روشن خیالی یا تاریک خیالی کسی آئیڈیالوجی کو نہیں سمجھتا ہوں۔ آپ کے اندر ایک تصور ہے اور آپ کے اندر ہی ایک روشن فہمی نے جگہ لی ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ تصور کس طرح نکلتا ہے آپ میں سے اور اس کی بنیاد پہ آپ کا خود سے اور سامنے والے سے کیا سلوک ہوتا ہے۔ وہ سلوک یہ طے کرے گا کہ آپ روشن خیال ہیں یا آپ تاریک خیال ہیں۔ صرف کہنے سے یا دعویٰ کرنے سے، یا اس کے نام پہ کوئی پارٹی بنا لینے سے کچھ نہیں ہوتا۔

عدنان کاکڑ :کیا ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ شخص یا تصور جو انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کرے وہ روشن خیال ہے۔

وسعت االلہ خان: جو بھلائی کے لیے سوچے۔ مطلب اس کی مثبت سوچ ہونی چاہیے چیزوں کے بارے میں۔ اور اس خیال میں منفیت کم سے کم جھلکنی چاہیے۔

عدنان کاکڑ : یعنی تشدد کا عنصر نہ ہو، برداشت اور محبت ہو۔ ابھی آپ مختلف یونیورسٹیز میں مختلف نوجوانوں کے ساتھ کافی انٹریکشن کر رہے ہیں، چیزیں دیکھ رہے ہیں، ان کے خیالات سمجھ رہے ہیں۔ ادھر آپ کو کیا منظر دکھائی دیتا ہے۔

وسعت االلہ خان: وہ بھی اسی منظر کا حصہ ہے جس کی ہم بات کر رہے ہیں۔ وہ بھی اسی بڑی تصویر کا حصہ ہے جس پہ ہم بات کر رہے ہیں۔ ہر سمت ایک کنفیوژن کا عالم طاری ہے۔

(جاری ہے۔ اگلے حصے میں وسعت اللہ خان ادب پر گفتگو کرتے ہیں)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 635 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar