اسلامی فوجی اتحاد کے اجلاس میں شرکت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ سمیت 41 سربراہ مدعو، ایران نظر انداز  


 سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے سربراہی اجلاس میں سعودی اسلامی فوجی اتحاد کے تمام رکن ممالک سمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کودعوت نامے ارسال کردیئے گئے ہیں۔ پاکستان بھی 41 رکنی اسلامی فوجی اتحاد کا رکن ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے قائم کیا گیا ہے جس کی کمانڈ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کررہے ہیں۔

عرب نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سربراہی اجلاس میں ”نفرت انگیز“ مسائل پر بات کی جائے گی اور صدر ٹرمپ متوقع طور پر اس موقع کو امریکا کی جانب سے اسلام یا مسلمانوں کی مخالفت نہ کرنے کا یقین دلانے کے لیے استعمال کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 4 مئی کو اعلان کرچکے ہیں کہ وہ رواں ماہ سعودی عرب اور اسرائیل کا دورہ کریں گے جہاں وہ خطے میں روایتی اتحاد کی بحالی پر کام کریں گے۔

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عدیل الجبیر نے ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کو تاریخی قرار دیا تھا اور اس دوران مذکورہ سربراہی اجلاس میں شرکت کا عندیہ دیا ۔عالمی ذرائع ابلاغ کی جانب سے توقع کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسلامی فوجی اتحاد کے اجلاس میں شرکت کریں گے تاہم ابھی تک امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ‘وائٹ ہاﺅس یا براہ راست ٹرمپ کی جانب سے اس کا اعلان نہیں کیا گیا- سعودی عرب کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دعوت نامے الجیریا، یمن، ترکی، عراق، تیونس، متحدہ عرب امارات کے صدور، بنگلہ دیش اور پاکستان کے وزرائے اعظم اور بحرین، مراکش اور سوڈان کے بادشاہوں اور دیگر ممالک کو بھیجے گئے ہیں۔

سربراہی اجلاس 21 مئی کو منعقد ہوگا۔پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف پہلے ہی اجلاس میں شرکت کا اعلان کرچکے ہیں –


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔