پاکستان کے روشن چہرے ملالہ یوسفزئی سے خصوصی انٹرویو -1


12 جولائی 1997ء کو مینگورہ (سوات) میں پیدا ہوجانے والی ملالہ یوسفزئی بہت کم سِنی میں نہ صرف شہرت کی بلندیوں پہ پہنچی ہے بلکہ اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلی کم عمر ترین لڑکی ہے جس نے اقوامِ متحدہ سے خطاب کیا اور اسے سب سے بڑا عالمی ایوارڈ نوبل پیس پرائز ملا۔ اس کے علاوہ بھی ملالہ کو ڈھیر سارے ایوارڈز اور اعزازات مل چکے ہیں۔ ابھی حال ہی میں اسے اقوام متحدہ کی طرف سے ’’امن کی سفیر برائے تعلیم نسواں‘‘ اور کینیڈا کی اعزازی شہریت بھی مل چکی ہے۔ اسے کینیڈا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ موجودہ دور میں مقامی، قومی اور بین لاقوامی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی شاید سب سے زیادہ تذکرہ ملالہ کا کیا گیا ہے۔ ذیل میں ملالہ یوسفزئی کا تازہ ترین انٹرویو ’ہم سب‘ کے قارئین کی نذر ہے۔


فضل ربی راہی: آپ کی کتاب I AM MALALA کو شائع ہوئے قریباً چار سال گذر چکے ہیں۔ اس میں آپ کی تعلیم کے لیے جدوجہد کے آغاز سے لے کر طالبان کی گولیوں سے زخمی ہونے اور برمنگھم منتقل ہونے تک کے واقعات پوری تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں لیکن اس کے بعد اب تک کے حالات اور واقعات سے لوگ زیادہ واقف نہیں ہیں، مختصر الفاظ میں اس دوران میں رونما ہونے والی نئی تبدیلیوں کے بارے میں بتائیں؟

ملالہ یوسف زئی: یہ کتاب میں نے یو این میں تقریر کرنے کے بعد شائع کی تھی اور یہ اکتوبر 2013ء کا سال تھا مگر اس کے بعد میری زندگی میں بہت کچھ نیا سامنے آیا ہے۔ جو اہم واقعات تھے، ان میں ملالہ فنڈ کا قائم ہونا تھا جس کے ذریعے ہم نے کئی ممالک کے وزٹکیے۔ میں نائجیریا گئی، وہاں پر میں نے ان بچوں کے حق میں بات کی جنھیں بوکو حرام نے اغوا کیا تھا۔ اس کے علاوہ ہم لبنان اور اردن گئے جہاں ہم نے شام کے بچوں کے لیے آواز اٹھائی اور اس کے ساتھ ساتھ پھر 2014ء میں مجھے نوبل پیس پرائز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ میں اسکول میں بھی اپنی تعلیم حاصل کرتی رہی۔ یہ ایک بہت ہی مصروف وقت تھا۔

راہی: ابھی حال ہی میں دو نئے اعزازات آپ کے نام کردیے گئے ہیں۔ پہلا اعزاز یہ ہے کہ آپ کو اقوامِ متحدہ کی طرف سے ’’امن کی سفیر‘‘ کے طور پر نام زد کردیا گیا ہے، جب کہ دوسرا اعزاز کینیڈا کی اعزازی شہریت ہے، یہ بتائیں کہ اقوام متحدہ کی طرف سے امن کی سفیر کی حیثیت سے آپ کوئی عملی کام بھی کریں گی یا یہ بھی کینیڈین شہریت کی طرح محض ایک اعزازی عہدہ ہے؟

ملالہ: یو این مسینجر آف پیس کا جو ٹائٹل ہے، یہ آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور آپ کو اپنے مقصد کے حصول کے سلسلے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس میں مختلف شعبے شامل ہیں۔ اس میں Environment کا شعبہ ہے جس کے لیے Titanic کے مشہور فلمی اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو (Leonardo DiCaprio) مہم چلا رہے ہیں۔ اس میں باقی لوگ بھی مختلف ایشوز پر بولتے ہیں۔ تو یہ ایک ذمہ داری ہے جو آپ کو پھر پوری کرنی پڑتی ہے کہ آپ کام کریں۔ مثال کے طور پر میرا جو ٹائٹل ہے وہ ’’یو این مسینجر آف پیس فار گرلز ایجوکیشن‘‘ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میری ذمہ داری ہے کہ میں اس شعبے میں مزید کام کروں۔

راہی: آپ اس شعبے میں پہلے سے ہی کام کر رہی ہیں، تو کیا آپ اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں سے اس کام کے لیے مزید وقت نکال سکیں گی؟ ابھی آپ نے یونی ورسٹی میں داخلہ لینا ہے اور پھر آپ کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے سلسلہ میں مزید مصروف ہونا پڑے گا؟

ملالہ: بالکل آپ نے ٹھیک کہا لیکن میں نے اپنا وقت تقسیم کیا ہوا ہے۔ اس دوران میں نے GCC بھی کیا اور اب اے لیول کا امتحان شروع ہونے والا ہے اور ان شاء اللہ یونی ورسٹی میں بھی نہ صرف اپنی تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دوں گی بلکہ مجھے جتنا بھی اضافی وقت ملے گا، اس میں تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی پوری کوشش کروں گی۔

راہی: آپ کی کتاب کو دنیا بھر میں بڑی پزیرائی ملی ہے۔ قریباً دنیا کے پچپن زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس میں کون سی ایسی خاص بات ہے جس نے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے؟

ملالہ: میرا خیال ہے میری کتاب میں جو خاصیت ہے، وہ اس میں میری کہانی ہے۔ ایک شخص کی کہانی بہت طاقت ور ہوتی ہے اور اس میں جو پیغام پوشیدہ ہوتا ہے، وہ لوگوں کے دلوں تک پہنچتا ہے۔ تو اس کتاب میں مَیں نے اپنی زندگی کے حالات اور واقعات پر مبنی کہانی شیئر کی ہے جو بہت سے لوگوں کے لیے ایک متاثر کردینے والی کہانی ہے، جس سے وہ سیکھتے ہیں کہ کس طرح کچھ بچے اپنی تعلیم کے لیے جدوجہد کرتے ہیں جس کے دوران انھیں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے سامنے دنیا کی ایک نئی حقیقت سامنے آتی ہے۔ تو اس لیے یہ کتاب لوگوں کے دلوں تک پہنچتی ہے۔ ہم نے سچ لکھا ہے اور جب آپ سچ لکھتے ہیں تو وہ لوگوں پر اثر کرتا ہے۔

راہی: کیا آپ کو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے کا خیال اس وقت آیا تھا جب طالبان نے سوات میں بچیوں کی تعلیم پر پابندی لگانے کا اعلان کیا یا اس سے قبل بھی آپ کے ذہن میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے جذبہ موجود تھا؟

ملالہ: جب میں ہر روز اسکول جاتی تھی تو میں دیکھتی تھی کہ میں ان چند بچیوں میں سے ہوں جن کو موقع ملا ہے کہ وہ اسکول جاسکیں۔ باقی میری اپنی فیملی اور محلے میں بہت ساری بچیاں تھیں جو اسکول نہیں جاسکتی تھیں۔ اس کی وجہ چاہے غربت ہو یا پھر کم عمری میں شادی۔ اور بھی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کو اسکول جانے کا موقع نہیں ملتا۔ اس لیے میرا جذبہ تھا کہ میں تعلیم کے لیے کچھ کروں لیکن جب سوات کے حالات خراب ہوگئے اور وہاں طالبان آگئے تو اس وقت میری زندگی میں بہت بڑی تبدیلی رونما ہوگئی اور میں نے بھرپور انداز میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کرنا شروع کی۔

راہی: ویسے سوات تعلیمی لحاظ سے پہلے ہی بہت آگے تھا کیوں کہ سوات کے ریاستی دور میں تو تعلیمی ادارے بہت زیادہ تھے، اس وقت تعلیم پہ کوئی پابندی نہیں تھی، میرے خیال میں جب سوات میں طالبان لائے گئے تو تعلیم کے حوالے سے مسئلے پیدا ہوگئے ورنہ سوات تو تعلیمی میدان میں بیرونِ ریاست بھی غیرمعمولی شہرت کا حامل تھا؟

ملالہ: سوات تعلیم میں اچھا تھا اور خاص طور پر لڑکوں کی تعلیم میں بہت آگے تھا لیکن مین سِٹی ایریاز جو تھے وہ بہت آگے تھے، گاؤں خصوصاً میرے آبائی گاؤں شانگلہ میں سہولیات اتنی زیادہ نہیں تھیں۔ جب آپ کے پاس سہولتیں نہیں ہوتی ہیں، اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہیں ہوتے تو پھر بچوں کی تعلیم تک رسائی بھی ممکن نہیں ہوتی۔

راہی: پہلی دفعہ کب اور کہاں آپ خوشحال اسکول سے باہر کسی تقریب میں بطور مقررہ یا تعلیم کے لیے کام کرنے والی Activist کی حیثیت سے جلوہ گر ہوئیں؟

ملالہ: مجھے تو صحیح یاد نہیں ہے کہ میں پہلی دفعہ کب اور کس موقع پہ تقریر کرنے کے لیے گئی تھی لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، میرا پہلا انٹرویو ’’ڈان نیوز‘‘ کے لیے تھا، اور پھر پشتو میں ’’خیبر نیوز‘‘ نے میرا انٹرویو لیا تھا، پشاور میں بھی ایک تقریب میں گئی تھی لیکن یہ سلسلہ 2007ء کے آخر میں شروع ہوا تھا۔

راہی: آپ کی کتاب I AM MALALA جب شائع ہوئی تو اس پر بہت سے اعتراضات سامنے آئے۔ ایک بڑا اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ تو ملالہ سے زیادہ ملالہ کے والد کی کہانی ہے، کیا آپ بھی ایسا سمجھتی ہیں؟

ملالہ: یہ میری کہانی ہے، اس میں میرا پورا خاندان شامل ہے، میرے والد کی کہانی بہت ہی انسپائرنگ ہے اس لیے اس میں مَیں نے اپنے والد کی کہانی بھی شامل کی کیوں کہ جس طرح ہمیں معلوم ہوا کہ ان کی اپنی بہنیں بھی اسکول نہیں جاسکی تھیں اور کس طرح پختون روایات سے ہٹ کر جب ہماری فیملی ٹری میں پہلی دفعہ ایک لڑکی ملالہ کا نام لکھا گیا۔ اس لیے میری والد کی کہانی بہت اہم ہے، وہ ایک مؤثر پیغام دیتی ہے کہ اپنی بچیوں کو آگے جانے دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے پَر نہ کاٹیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے بلند پرواز کرسکیں۔ یہی وجہ تھی کہ میرے والد کی کہانی کو اس کتاب میں شامل کرنا ضروری تھا اور میں تو صرف پندرہ سولہ سال کی تھی، اس لیے شاید میری کہانی اتنی لمبی نہ ہوتی اور ویسے بھی ہماری زندگی کا مقصد ایک ہی ہے یعنی تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنا، خواتین کے حقوق کے لیے جدو جہد کرنا تو میرے والد کی زندگی تو ویسے بھی پہلے سے ہی ان مقاصد کے حصول کے لیے بروئے کار تھی، اس لیے ان کی زندگی کے حالات میں دوسروں کو متاثر کرنے والے بہت سے عوامل تھے جو اس کتاب کو تقویت دینے کا باعث بنے۔

راہی:سوشل میڈیا میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے ساتھ آپ کی ایک تصویر خاصی وائرل ہوچکی ہے۔ اگرچہ محض شکل کی مشابہت کی وجہ سے مخصوص نظریہ کے حامل لوگ آپ کے خلاف پاکستانی عوام کے جذبات مشتعل کرنے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ کیا آپ وضاحت کریں گی اس تصویر میں وہ کون لوگ ہیں جن پر عام لوگوں کو اب تک گمراہ کیا جاتا ہے یا واقعتا یہ وہی افراد ہیں جس طرح کہ لوگ سمجھتے ہیں؟

ملالہ: یہ عام لوگوں میں معلومات کی کمی ہے۔ جب آپ کے پاس مکمل معلومات نہیں ہوتیں اور آپ تصدیق کیے بغیر کسی بات کو پھیلاتے ہیں تو یہ معاشرے کے لیے بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس تصویر کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں جن میں لوگوں کو پوری معلومات نہیں ملتیں۔ اس تصویر میں جس شخص کو لوگ سلمان رشدی کہتے ہیں، وہ اصل میں مارٹن شولز (Martin Schulz) ہیں جو کہ یورپی یونین کے پریذیڈنٹ ہیں۔ یہ سلمان رشدی نہیں ہیں۔ سلمان رشدی کے ساتھ ہمارا کوئی لنک، کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو تسلیمہ نسرین ہیں، ان کو سخاروف ایوارڈ ملا تھا وہ تو صرف ایک old recipient کی حیثیت سے آئی تھی۔ میں تو ایوارڈ کی انتظامیہ کو یہ نہیں کہ سکتی تھی کہ کس کو بلائیں اور کس کو نہ بلائیں۔

ضیاء الدین یوسف زئی: اصل میں پچھلے جو تمام سخاروف ایوارڈ یافتہ لوگ تھے، ان سب کو بلایا گیا تھا، تو ان میں وہ بھی شامل تھیں۔ بلکہ میں ا س میں یہ اضافہ کروں گا کہ اس وقت جب ملالہ ان سے ملی تو انھوں نے بعد میں لکھا کہ ملالہ نے مجھے کوئی توجہ نہیں دی، اس کے چہرے پہ میرے لیے کوئی خاص تاثرات نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ملالہ ان کو پہچانتی بھی نہیں تھی کہ یہ خاتون کون ہیں، اور ایک چیز اور میں بتادوں، وہ یہ ہے کہ تسلیمہ نسرین نے ملالہ کو بلاگ میں ایک خط لکھا تھا کہ آپ جس چادرکے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں، اور آپ پر جو حملہ ہواتھا، وہ تو ایک اسلامی آئیڈیالوجی کے نام پہ ہوا تھا، آپ جس طرح مذہب کا دفاع کر رہی ہیں، وہ ٹھیک نہیں ہے، انھوں نے لکھا تھا کہ کیا واقعی آپ کو چادر کی ضرورت ہے؟ اس کو اتاریں کیوں کہ یہ تو جبر کی علامت ہے۔ یعنی اس نے ملالہ پہ باقاعدہ تنقید کی تھی۔

راہی:کچھ اپنی موجودہ تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بتائیں؟ اس وقت آپ کون سے اسکول یا کالج میں پڑھ رہی ہیں اور کون سے مضامین آپ کے کورس میں شامل ہیں؟

ملالہ: اس وقت میں نے اے لیول میں اکنامکس، میتھس اور دینیات جیسے مضامین پڑھے ہیں اور اب فائنل ایگزام ہے جس کے بعد میں یونی ورسٹی میں پی پی ای کرنا چاہتی ہوں جو کہ فلاسفی، پالیٹکس اور اکنامکس کے کورس پہ مشتمل ہے۔

راہی: پاکستان اور برطانیہ کے تعلیمی نظام میں آپ نے کون سا بنیادی فرق محسوس کیا ہے؟

ملالہ: پاکستان میں اساتذہ بہت کوشش کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں اورطلباء بھی بہت زیادہ جذبہ رکھتے ہیں، ان میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے لگن موجود ہے مگر سسٹم میں تھوڑی سی خامیاں ہیں۔ مثال کے طور پر اس میں رٹا سسٹم موجود ہے یا آپ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی کہ آپ سوال کریں۔ امتحان میں سوالات کا ایک روایتی طریقہ ہے، بچے وہ یاد کرلیتے ہیں کہ امتحان میں یہی سوالات آئیں گے۔ یو کے میں طریقہ کافی مختلف ہے، یہاں پر اگر آپ ایک ٹاپک سیکھتے ہیں تو آپ سے یہ نہیں کہا جاتا کہ جو ٹاپک آپ نے سیکھا ہے، وہ دوبارہ لکھو، وہ آپ سے ایسے سوالات پوچھتے ہیں جس میں آپ کو پرکھتے ہیں کہ آ پ نے اس موضوع کو سمجھا ہے یا نہیں۔ مثلاً فزکس کا ایک باب ہے تو وہ ایسا نہیں کہیں گے کہ نیوٹن کے سارے تین لاز لکھ دو اور جتنی تفصیل لکھ سکتے ہو اتنے زیادہ مارکس ملیں گے۔ اس طرح نہیں ہے۔ یہاں پہ آپ سے مخصوص سوالات کیے جائیں گے۔ آپ کو ایک مثال دی جائے گی، ایک خاکہ دیا جائے گا، اس میں پھر آپ اپنی سمجھ کے مطابق جواب دیتے ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ نے جو کچھ سیکھا ہے، اس کا اظہار آپ کس طرح کرتے ہیں، آپ اپنا ذہن کس طرح استعمال کرتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ آپ ایک چیز سیکھتے ہیں تو آپ اس کوجانچتے ہیں اور اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بتدریج سیکھنے کے عمل سے گذرتے ہیں کہ یہ سب کچھ کس طرح ہوتا ہے مگر جانچنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی خوبیاں، خامیاں دونوں بیان کریں۔ آپ اپنی رائے اس میں پیش کرتے ہیں۔ مثلاً یہاں ہم تاریخ میں ہٹلر کو پڑھتے ہیں، تو ہٹلر کو جب ہم سٹڈی کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اقتدار میں کیسے آیا، اس کو اپنے ملک میں کتنی سپورٹ ملی، اس کی مختلف وجوہات ہوں گی جن پر آپ روشنی ڈالیں گے اور اس کا تجزیہ کریں گے کہ اس کی اصل وجوہات کیا تھیں، وہ حقیقی تھیں یا بنائی گئی تھیں۔ اس میں آپ کو مجبور نہیں کیا جاتا کہ آپ نے کسی خاص نظریہ یا سوچ کے مطابق اس کا جواب دینا ہے۔ اس میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ یہ موضوع بحث کے لیے اوپن ہے۔ اس میں آپ اپنی رائے بھی پیش کرسکتے ہیں اور اس پہ آپ مباحثہ یا مکالمہ بھی کرسکتے ہیں۔ وہ آپ پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرتے، آپ کے ذہن کو اپنے خیالات سے نہیں بھرتے۔

راہی: یہاں پہ ہر اسکول کا سلیبس الگ ہوتا ہے یا سارے اسکولوں کے لیے یکساں سلیبس کا اہتمام کیا گیا ہے؟

ملالہ: یہاں پہ حکومت کی اپنی کوئی کتابیں نہیں ہوتیں۔ یہاں پہ جنرل سا ایک آئیڈیا ہے کہ جب آپ جی سی ایس ای (میٹرک) یا اے لیول تک پہنچ جاتے ہیں تو آپ کو یہ یہ مضمون پڑھنا چاہیے لیکن تعلیم کا سسٹم بہت ہی اوپن ہے۔ مثلاً اگر ہسٹری کا مضمون ہے تو آپ سے کہا جائے گا کہ یہ ہیں سارے موضوعات، اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ ایک موضوع انٹرنیشنل ہسٹری سے لیں، ایک آپ اپنے ملک یعنی یو کے کی ہسٹری سے کچھ منتخب کریں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسکول انتظامیہ یہ فیصلہ کریں کہ چلیں ہم سٹالن کو پڑھتے ہیں اور یو کے کی ہسٹری میں ہم صرف پچاس کی دہائی سے پہلے کی تاریخ پڑھتے ہیں تو اسکول کو اپنے فیصلے میں آزادی حاصل ہوتی ہے، اس کی اپنی پسند ناپسند ہوتی ہے۔

راہی: مطلب یہ کہ کوئی مخصوص سلیبس نہیں ہے۔

ملالہ:نہیں کوئی خاص نہیں ہے۔ یہاں کی حکومت یہ نہیں کہ سکتی کہ آپ نے لازماً چرچل کو پڑھنا ہے۔ البتہ اسکول میں یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ اگر ہسٹری پڑھنی ہے تو اس میں موجودہ ہسٹری سے لے کر ماضی تک اور قومی تاریخ سے بین الاقوامی تاریخ تک سب کور کریں۔ لیکن یہ نہیں کہیں گے کہ یہ ضرور پڑھنا ہے۔ مذہب کے مطالعہ میں بھی آپ کو کھلا آپشن دیتے ہیں کہ آپ فلاسفی کو پڑھنا چاہتے ہیں، اخلاقیات کو پڑھنا چاہتے ہیں، عیسائیت کو یا کسی اور مذہب کو پڑھنا چاہتے ہیں لیکن زیادہ تر بہ یک وقت دو دو مذاہب پڑھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

اگلا حصہ: ملالہ نے نوبل پرائز کی ساری رقم پاکستان میں تعلیم کے لئے عطیہ کی-2

پاکستان کے روشن چہرے ملالہ یوسفزئی سے خصوصی انٹرویو -1

ملالہ نے نوبل پرائز کی ساری رقم پاکستان میں تعلیم کے لئے عطیہ کی-2

ملالہ انتہا پسندی، تعلیم اور وطن واپسی کے بارے میں بتاتی ہیں -3


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “پاکستان کے روشن چہرے ملالہ یوسفزئی سے خصوصی انٹرویو -1

Comments are closed.