ملالہ نے نوبل پرائز کی ساری رقم پاکستان میں تعلیم کے لئے عطیہ کی-2


راہی: برطانیہ ایک ترقی یافتہ اور فلاحی ملک ہے۔ یہاں کی طرزِ زندگی پاکستان سے بہت مختلف ہے۔ آپ نے یہاں چار سال سے زائد عرصہ گزارا ہے۔ آپ کیا سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں ہم ترقی کیسے کرسکتے ہیں اور اسے فلاحی مملکت بنانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

ملالہ: میرے خیال میں جب ملکوں کی ترقی کی بات کی جاتی ہے تو اس کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ لوگوں کو ملک کا سب سے بڑا اور اہم اثاثہ سمجھا جائے۔ لوگ ہی ملک کا سب سے اہم کیپٹل ہوتے ہیں۔ یہاں پر لوگوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ورکر کے رائٹس ہیں، بچوں کے رائٹس ہیں، بڑوں کے رائٹس ہیں اور عورتوں کے رائٹس ہیں، غرض سب کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ریاست کا نظام اس بات پہ استوار ہوتا ہے کہ آپ بلا تفریق لوگوں کا خیال رکھتے ہیں اور ان کے مسائل اور ضروریات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ پھر حکومت لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے، وہ لوگوں کے لیے ایک نظام چلاتی ہے، وہ ٹیکس اکھٹا کرتی ہے، لوگوں کی فلاح و بہبود پر اسے خرچ کرتی ہے اور اس طرح ریاست کے دیگر اخراجات ہوتے ہیں۔ اسکول اور ہسپتال بنائے جاتے ہیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ معاشرے کا یہ سسٹم متوازن انداز میں چلتا رہے تو آپ کو لوگوں کا خیال رکھنا پڑے گا اوراس اَمر کو یقینی بنانا پڑے گا کہ ملک میں تمام لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں۔ یہاں پہ ہم نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ بجلی چلی گئی ہے، پانی نہیں آ رہا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے جب ہم سوچتے ہیں، اگر آپ کے گھر میں سات آٹھ گھنٹے بجلی نہ ہو، صاف پانی کی سہولت نہ ہو، معیاری تعلیم کے مواقع نہ ہوں، صحت کی بہتر سہولتیں موجود نہ ہوں، تو زندگی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔ دراصل یہاں عام آدمی کے مسائل کو خصوصی توجہ کے قابل سمجھا جاتا ہے۔

راہی: معلوم ہوا ہے کہ آکسفورڈ یونی ورسٹی نے آپ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے غیر مشروط داخلہ کی پیش کش کی ہے، کب آپ آکسفورڈ یونی ورسٹی میں اپنی تعلیم کا باقاعدہ آغاز کرنے والی ہیں، نیز آپ وہاں کون سے مضامین پڑھیں گی؟

ملالہ: پہلی بات تو یہ ہے کہ پیش کش غیر مشروط نہیں ہے۔ اس کے لیے کم از کم تین اے گریڈ لینے پڑتے ہیں۔ میں تو بہت خوش ہوں کیوں کہ یہاں پر آکسفورڈ یا کسی دوسری یونی ورسٹی سے آفر ملنا بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ چاہے وہ مشروط کیوں نہ ہو۔ جب مجھے آکسفورڈ سے ای میل ملا تو اس دن میں بہت زیادہ خوش تھی، لیکن اس کے لیے تھری ایز کا لینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ میرا ایک ٹیسٹ اور انٹرویو بھی ہوا تھا۔

ضیاء الدین یوسف زئی: کیا آپ بتاسکتی ہیں کہ ٹیسٹ کیسا تھا، اس میں کیسے سوالات تھے؟

ملالہ: بہت مشکل سوالات تھے۔ انٹرویو میں بھی مشکل سوالات کیے جاتے ہیں۔ پالیٹکس کا الگ انٹرویو تھا، پھر اکنامکس کا تھا، پھر ایک انٹرویو فلاسفی کا تھا، فلاسفی میں انھوں نے بہت زیادہ مشکل سوالات پوچھے تھے۔

راہی: پالیٹکس کی بات آگئی ہے تو پاکستان کی سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو ہارورڈ کے علاوہ آکسفورڈ میں بھی زیر تعلیم رہی ہیں۔ وہ پہلی ایشائی خاتون ہیں جو آکسفورڈ یونین کی صدر بھی رہیں۔ کیا آپ ان کی پیروی کرتے ہوئے آکسفورڈ یونی ورسٹی کی غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں گی اور ان کی طرح کوئی غیرمعمولی کردار ادا کریں گی؟

ملالہ: یہ تو میری اپنی خواہش ہے کہ مجھ سے جتنا بھی ہوسکے، میں آکسفورڈ میں ہر قسم کی سرگرمی میں حصہ لوں اور یہ ایک طالب علم کے لیے بہت اہم ہوتا ہے کہ آپ نہ صرف اپنی سٹڈیز میں مصروف رہیں بلکہ غیرنصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں کیوں کہ یہ آپ کے جنرل سِکل اور کمیونیکیشن سِکلز کو ڈویلپ کرتی ہیں۔ جب آپ دوسروں سے سنتے ہیں تو معاشرے میں آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ اگر بے نظیر بھٹو صاحبہ نے کچھ خاص نہ کیا ہوتا تو میں پھر بھی ان سرگرمیوں میں حصہ لیتی۔ مجھے آکسفورڈ یونین کا نہیں پتا کیوں کہ اس میں ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوں گی، اس لیے میں نے اس کے بارے میں ابھی سوچا نہیں ہے۔

ضیاء الدین یوسف زئی: آپ نے اِج باسٹن اسکول میں قریباً چار سال گزارے ہیں، اس دوران میں آپ ایک معمول کی طالب علم رہیں، آپ نے وہاں غیرنصابی سرگرمیوں میں کتنی دل چسپی لی؟

ملالہ: میں آکسفورڈ یونی ورسٹی میں آکسفورڈ یونین کی صدارت ملنے کی توقع نہیں کر رہی کیوں کہ ہمارے اسکول میں جب ہیڈ گرل کے لیے الیکشن ہو رہے تھے تو اس وقت بھی مجھے لگا تھا کہ اگر میں نے اس میں حصہ لیاتو میں جیت نہیں پاؤں گی کیوں کہ ہمارے اسکول میں اور بھی بچے بہت قابل اور ذہین ہیں لیکن پھر بھی میں نے اپلائی کردی، اپنے اسکول کے پرنسپل کو ایک لیٹر میں نے بھی بھیج دیا، اسے منظور کرلیا گیا اور مجھے انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ لیڈر شپ کی ٹیم نے میرا انٹرویو لیا، پھر ٹیچرز نے انٹرویو لیا اور پانچ امیدواروں کو منتخب کرلیا گیا جن میں ایک میں بھی تھی۔ پھر پانچ لڑکیوں کا فائنل سپیچ ہوا اور پھر اس فائنل سپیچ کے بعد سینئر اسکول میں ووٹنگ ہوئی اور اس کے بعد جب رزلٹ آگیا تو میں نہیں جیت سکی تھی۔ اس کے بعد دوسری ووٹنگ ہوئی تو اس میں مَیں ڈپٹی ہیڈ گرل منتخب ہوگئی۔ تو میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حصہ لینا ضروری ہے، آپ مقابلہ میں شامل ہوں، خواہ آپ جیتیں یا نہ جیتیں۔

راہی:تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ عملی زندگی میں محض ایک سوشل ورکر اور تعلیمی ایکٹویسٹ کی حیثیت سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی یا پاکستان کی سیاست میں عملی حصہ بھی لیں گی جس کا اظہار آپ نے اپنی کئی تقریروں اور انٹرویوز میں بھی کیا ہے؟

ملالہ: یقیناً میں نے پاکستان کی سیاست میں حصہ لینے کے سلسلے میں دل چسپی ظاہر کی ہے لیکن یہ ایک لانگ ٹرم پلان ہے، فی الحال تو میں اپنی تعلیم پر توجہ دوں گی، جب یونی ورسٹی کی تعلیم مکمل کروں گی تو پھر میں اپنی تعلیم کی مہم میں زیادہ وقت صرف کروں گی، اس لیے عملی سیاست کے بارے میں ابھی کچھ خاص نہیں سوچا ہے۔

راہی: ملالہ فنڈ کے کی اب تک کی کارکردگی پر کچھ روشنی ڈالیے؟

ملالہ: ملالہ فنڈ کے ذریعے زیادہ توجہ پاکستان پر دی جا رہی ہے اور وہاں پر ہی زیادہ پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ رفیوجی چلڈرن (پناہ گزین بچوں) کی تعلیم ہے، تو ان دونوں پہ ہم بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اگر میں ملالہ فنڈ کے کام کو تقسیم کروں تو ہمارے پاس تین چیزیں ہیں جو ہمارے پیش نظر ہیں۔ پہلی چیز ایڈوکیسی اور کمپیننگ ہے تاکہ ہم تعلیم کی کمپین کو دنیا کے لیڈرز تک پہنچائیں۔ دوسرا اگر اقوامِ متحدہ میں بولنے کا موقع ملتا ہے تو میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں بات کروں۔ اس مقصد کے لیے میں نے اقوام متحدہ میں باقاعدہ مہم چلائی ہے جس میں ہم نے بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ میں نے یو این کے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بارہ سال تک کی مفت اور معیاری تعلیم ہر بچے اور بچی کو دیں۔ اس کے علاوہ ہماری تیسری ترجیح پناہ گزین بچوں کی تعلیم ہے جس کے لیے میں نے بہت سارے کانفرنسوں اور سیمیناروں میں بات کی ہے۔ اس مقصد کے لیے میں نے ڈونر ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اس مد میں کافی رقم بھی خرچ کی ہے۔ لبنان اور اردن میں شام کے پناہ گزین بچوں کے لیے ہم نے اسکول بنائے ہیں۔ اس کے علاوہ نائجیریا میں بھی ہم نے ان بچوں کے لیے کام کیا ہے جو بوکو حرام کے چنگل سے فرار ہوئے تھے۔ پاکستان میں ہم نے سب سے زیادہ رقم سوات اور شانگلہ میں خرچ کی ہے۔

راہی: ملالہ فنڈ کے تحت شانگلہ میں ایک بڑا تعلیمی پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے، اس کے بارے میں کچھ تفصیل سے بتائیں؟

ملالہ: جب مجھے نوبل پیس پرائز ملا تو اس ایوارڈ میں ملنے والی ساری رقم ہم نے شانگلہ کے لیے مختص کردی۔ اس کے علاوہ بھی ملالہ فنڈ سے مزید رقم لے کر اس سے ضلع شانگلہ میں ایک بڑا تعلیمی پروجیکٹ شروع کیا جس میں ہم شانگلہ کی بچیوں کو تعلیم دیں گے۔ یہ پراجیکٹ ہم ایک مقامی ادارہ ’’خپل کور فاؤنڈیشن‘‘کے ذریعے کرا رہے ہیں۔ اس پہ باقاعدہ کام شروع ہوچکا ہے، بنیادیں تعمیر ہوئی ہیں، دیواریں بن گئی ہیں اور اس کی پہلی چھت مکمل ہوچکی ہے۔ ان شاء اللہ اگلے سال مارچ میں اس میں باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

راہی:کیا اس طرح کا کوئی پراجیکٹ سوات میں بھی زیر غور ہے؟ کیوں کہ سوات کے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ملالہ عالمی سطح پر سوات کا نام استعمال کرتی رہتی ہیں لیکن انھوں نے سوات میں کوئی بڑا تعلیمی پراجیکٹ شروع نہیں کیا ہے؟

ملالہ: میں دو تین باتیں واضح کرنا چاہوں گی۔ وہ یہ کہ لوگ ملالہ کو کچھ اس طرح سمجھتے ہیں جیسے وہ کچھ بھی کرسکتی ہے اور اس کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے جس کو گھماتے ہوئے وہ کہے کہ پاکستان میں تین سو اسکول بن جائیں اور وہ فوراً بن جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک اسکول بنانے پر بھی بہت زیادہ خرچہ آتا ہے۔ اس کے لیے پہلے زمین لینی پڑتی ہے، پھر اس کو بنانا پڑتا ہے اور اس کے بعد اس کو ریگولیٹ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے اور جب آپ فری تعلیم دیتے ہیں تو آپ کو ٹیچرز کی تنخواہ دینی پڑتی ہے، اس کے دیگر اخراجات پورے کرنا پڑتے ہیں تو لوگوں کو حقیقت پسند ہونا چاہیے اور یہ کہنا کہ ملالہ نے سوات یا شانگلہ کے لیے کچھ نہیں کیا تویہ ایک بہت غیر حقیقت پسندانہ موقف ہے۔ لوگوں کو زمینی حقائق پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ میرے پاس جو سب سے بڑی طاقت ہے، وہ میری آواز ہے اور میں کوشش کرتی ہوں کہ جتنے بھی ہمارے ورلڈ لیڈرز ہیں، پاکستان کے لیڈرز ہیں یا ہمارے لوکل لیڈرز ہیں، ان سب سے یہ کہوں گی کہ آپ لوگوں سے ٹیکس کے جو پیسے لیتے ہیں، آپ اس کو لوگوں پر ہی خرچ کریں، آپ اس سے تعلیمی ادارے بنائیں، آپ یہ یقینی بنائیں کہ آپ لوگوں پر انویسٹ کریں اور اس میں جو سب سے بڑی انویسٹمنٹ ہے، وہ تعلیم ہے۔ تو یہی میرا کام ہے۔ اس کے علاوہ ملالہ فنڈ کے ذریعے ہمیں جتنی بھی ڈونیشنز ملتی ہیں، ان سے ہم اسکول بناتے ہیں اور ایڈوکیسی کرتے ہیں۔ مجھے مختلف ایوارڈز کے جو پیسے ملے ہیں، وہ میں نے تعلیم کو دیے ہیں۔ ایک ایوارڈ کے پیسے میں نے فلسطین میں بچوں کو دیے ہیں، نوبل پیس پرائز کی رقم شانگلہ میں لگائی ہے، باقی جتنی ڈونیشنز ہیں، ان سے ہم نے ’’گل مکئی نیٹ ورک‘‘ لانچ کیا ہے جس کے ذریعے ہم لوکل لیڈرز کو ایمپاؤر کرتے ہیں۔

راہی : گل مکئی نیٹ ورک کی اب تک کی کیا کارکردگی ہے؟

ملالہ: گل مکئی نیٹ ورک میں ہمارے پاس دس لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ چا ہتے ہیں کہ ہم ان کا نام لیں لیکن کچھ لوگ سکیورٹی کے حوالے سے خود کو محفوظ نہیں سمجھتے، اس لیے ہم ان کا نام ظاہر نہیں کرتے۔ اس کے لیے ہم نے کچھ مخصوص علاقوں کا انتخاب کیا ہے۔ پاکستان، افغانستان اور سیریا، ترکی اورمشرق وسطیٰ کا علاقہ۔ میں اور میرے والد جب تعلیم کے لیے کچھ کرناچاہتے تھے تو اس وقت ہم صرف دو تھے لیکن ہماری طرح اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو اپنی کمیونٹی میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور جو لوکل ایڈووکیسی کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم نے مشہور سوشل ورکر گلالئی اسماعیل کو سپورٹ کیا ہے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگ ہیں جن کو ہم سپورٹ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اپنے مقامی لوگوں کو ایمپاور یعنی با اختیار کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے معاشرے میں تبدیلی لاسکیں۔ باہر کے ممالک سے آنے والے ماہرین کے پاس چوں کہ متعلقہ علاقوں کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہوتیں، اس لیے وہ تبدیلی نہیں لاسکتے۔ اپنے لوگوں کے ذریعے ہی کسی معاشرے میں تبدیلی لانا ممکن ہے۔ میرا فوکس یہ ہے کہ میں لوکل لیڈرز کو با اختیار کروں، ہم لڑکیوں کو با اختیار بنانا چاہتے ہیں، ان کو سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ا نھیں مواقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی آواز اٹھائیں تاکہ ان میں یہ بیداری آجائے کہ وہ اپنے معاشرے میں کس طرح تبدیلی لاسکتی ہیں۔

ہم پاکستان میں کام کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں اور شانگلہ کے بعد ہماری سب سے زیادہ فنڈنگ بھی سوات ہی میں ہوگی۔ سوات نوے کلے میں باچا خان فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والا اسکول ملالہ فنڈ کے ذریعے سپورٹ کیا جا رہا ہے۔ ہم ’’خپل کور فاؤنڈیشن‘‘ کے ساتھ مزید پراجیکٹ بھی کر رہےہیں، ہم نے مقامی طور پر بہت سے اداروں کو سپورٹ کیا ہے لیکن جن کو ہم ڈونیشن دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ سے ڈونیشن لیں گے لیکن ملالہ فنڈ کا نام لینا ہمارے لیے خطرے سے خالی نہیں۔ اس لیے ہمیں لوگوں کے تحفظ کا احساس ہے اور نہیں چاہتے کہ ہم اس حوالے سے کوئی تشہیر کریں۔

راہی: نوبل پیس پرائز بلاشبہ پاکستان اور خصوصاً پختونوں کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے، جب آپ کو ناروے میں ایوارڈ کی کمیٹی کی طرف سے یہ ایوارڈ دیا جا رہا تھا تو اس وقت آپ کے کیا احساسات تھے؟

ملالہ: میں تو اس وقت بہت زیادہ خوش تھی، فخر محسوس کرر ہی تھی۔ یہ ایوارڈ صرف میرے لیے نہیں تھا، یہ ان تمام بچوں اور بچیوں کے لیے تھا جو تعلیم سے محروم ہیں۔ کبھی کبھی اپنے محسوسات بیان کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن جب میں اسٹیج پر تھی تو مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے میں نہیں بچے بول رہے ہوں۔ میں ان کی آواز ہی میں لیڈرز سے مخاطب ہوں، کیوں کہ اگر ہم دیکھیں تو دس سال پہلے تعلیم کا مسئلہ اتنا نمایاں نہیں تھا، جتنا اب سامنے آ رہا ہے۔ اس وقت اور بھی لوگ، عالمی لیڈرز، این جی اوز اور مقامی لیڈرز، سب تعلیم کواہمیت دے رہے ہیں، اس پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ جتنی رقم دوسرے مسائل میں صرف کی جا رہی ہے، مثلاً ایڈز وغیرہ پر، وہ بھی اہم ہیں لیکن تعلیم کو ایک حد تک باکل نظر انداز کردیا گیا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

راہی: پاکستان کے عام لوگ خود سوچنے سمجھنے کی بجائے عموماً سنی سنائی باتوں پر زیادہ یقین کرتے ہیں۔ آپ کے حوالے سے میڈیا میں بڑے نازیبا الزامات لگائے جا رہے ہیں جیسے ملالہ یہودیوں کی ایجنٹ ہیں، مغرب کی پروردہ ہیں، وہ اسلام اور پاکستان کو بدنام کر رہی ہیں۔ اگرچہ ملالہ نے تو پختونوں اور پاکستان کا ایک سافٹ امیج ہی دنیا میں متعارف کرایا ہے۔ آپ اپنی صفائی میں کیا کہنا چاہیں گی؟

ملالہ: میں ضرور یہ کہنا چاہوں گی کہ یہ بالکل ایک خیالی بات ہے کہ ہم امریکا یا یہودیوں کے ایجنٹ ہیں کیوں کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ امریکا کو آپ دیکھیں کس طرح وہاں ایڈمنسٹریشن تبدیل ہوگئی، اوبامہ سے ٹرمپ تک، وہاں پہ نئے لوگ آگئے ہیں، ان کا اپنا ایک طریقہ کا ر ہے۔ ہم جیسے لوگ ان کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔ اس بارے میں لوگوں نے اپنے ذہنوں میں ایک خیالی دنیا بسائی ہوئی ہے۔ میں تو خود وہاں جاتی رہی ہوں، ان سے ڈرون کے بارے میں بات کرتی رہی ہوں، انھیں یہ کہتی رہی ہوں کہ آپ تعلیم میں اینوسٹمنٹ نہیں کرر ہے ہیں، اس میں آپ کو مزید اینوسٹمنٹ کرنی چاہیے۔ میں نے تو کئی مواقع پہ یہ کہا ہے کہ بڑے ممالک جتنا سرمایہ جنگی اسلحہ پہ خرچ کرتے ہیں، اگر صرف آٹھ دنوں کے لیے جنگی ساز و سامان پر خرچ کرنا بند کیا جائے اور یہ رقم بچالی جائے تو اس سے دنیا کے تمام بچوں کو ایک سال تک تعلیم دی جاسکتی ہے۔ میں نے تو ہمیشہ اپنی بات کھل کر کہی ہے، چاہے وہ کسی بھی لیڈر سے ہو، کسی بھی ملک کے سربراہ سے ہو، میں نے کبھی تذبذب سے کام نہیں لیا ہے۔ لوگوں نے سراہا بھی ہے جب میں نے اوبامہ کے سامنے ڈرون کی بات کی۔ امریکا کے نئے صدر ٹرمپ کو بھی میں نے اس وقت واضح پیغام دیاتھا جب انھوں نے بعض مسلمان ممالک کے لوگوں پر پابندی لگائی تھی۔ میں نے ایک موقع پہ کہا تھا کہ ٹرمپ کو اردن، شام یا ترکی میں ایک رفیوجی کیمپ کا دورہ کرنا چاہیے، وہ دیکھیں گے کہ ایک رفیوجی کیمپ میں زندگی کیسے ہوتی ہے، وہ لوگ جو جنگوں کی وجہ سے بے گھر ہوجاتے ہیں، وہ ایک بہت مشکل زندگی گزارتے ہیں اور اس کو ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنما سمجھ نہیں پاتے۔ اس کے بعد اگر لوگ تھوڑا سا سوچیں، غور کریں تو انھیں خود ہی سمجھ آجائے گا کہ یورپ، امریکا یا یہودیوں کے اصل ایجنٹ کون ہیں۔

ضیاء الدین یوسف زئی: کیا یہ جواب کافی ہے ان لوگوں کے لیے جو ہمیں ایجنٹ کہتے ہیں؟

ملالہ: میں اور کیا کہوں لوگوں کے پاس اگر کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو وہ پیش کریں کہ ہم امریکا یا یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ اگر وہ محض الزامات لگاتے ہیں اور ہوائی باتیں کرتے ہیں تو میں ان کو بھلا کیا کہ سکتی ہوں۔

راہی: ایسا بھی نہیں ہے کہ پاکستان کے سارے لوگ اس طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ وہاں اچھے لوگ بھی موجود ہیں جو ملالہ کو سمجھتے ہیں، ان کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں، ان کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان کے حق میں لکھتے بھی ہیں۔ بڑے لکھنے والوں میں غازی صلاح الدین صاحب اور محمد حنیف صاحب شامل ہیں، ’’ہم سب‘‘ کی ویب سائٹ پہ بہت سے محترم لکھاری ملالہ کے حق میں لکھتے رہتے ہیں اور ان کے مخالفین کو مدلل جواب دیتے رہتے ہیں۔

ملالہ: اس لیے تو میں اس حوالے سے بات بھی نہیں کرتی۔ کیوں کہ بہت کم لوگ ہیں جو اس طرح سوچتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں اپنے خلاف دیے جانے والے منفی تبصرے کبھی نہیں دیکھتی اور میں ایسے لوگوں کو کوئی توجہ بھی نہیں دیتی۔ مجھے پتا ہے کہ بعض لوگ میرے خلاف ضرور ہیں لیکن بعض اوقات جب دو لوگ آپ کے خلاف بات کرتے ہیں تو دو ہزار آپ کے ساتھ بھی ہوتے ہیں لیکن وہ خاموش رہتے ہیں۔

اگلا حصہ: ملالہ انتہا پسندی، تعلیم اور وطن واپسی کے بارے میں بتاتی ہیں -3

پاکستان کے روشن چہرے ملالہ یوسفزئی سے خصوصی انٹرویو -1

ملالہ نے نوبل پرائز کی ساری رقم پاکستان میں تعلیم کے لئے عطیہ کی-2

ملالہ انتہا پسندی، تعلیم اور وطن واپسی کے بارے میں بتاتی ہیں -3


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔