ڈان لیکس اور ٹویٹ: آج پاکستان کی جیت کا دن ہے


نوے کی دہائی میں پیدا ہونے والے، اور بالخصوص پاکستان کی سیاسی تاریخ کو 1997 میں اک سیاسی جماعت کی شروعات سے جاننے والے، میری نسل، جو کہ ستر کی دہائی میں پیدا ہوئی، کا دکھ محسوس ہی نہیں کر سکتے۔ کہنے دیجیے کہ شکست خوردہ مسلم ذہنیت جو پچھلی کئی صدیوں سے اک ایسے ہیولے کی تلاش میں ہے کہ جہاں اک صالح “نازل” ہو، اور آکر سب کا سب ٹھیک کر دے، اور پھر نشاۃ ثانیہ کا سورج طلوع ہو جائے۔ چھوٹے تھے تو سنا کرتے تھے کہ ملک کے حالات بہت خراب ہیں، اور “یہاں تو جی بس اک ہٹلر جیسا آنا چاہئے جو سب کچھ ٹھیک کر دے۔” تھوڑے اور بڑے ہوئے تو جنابِ خمینی صاحب کے بہت چرچے ہوئے اور انکی خواہش ہمارے ہاں بھی کی جانے لگی۔ تھوڑے اور بڑے ہوئے تو لاہور کے خلافتی علماء، قندہار جا کر یہ بھی ثابت کرتے رہے کہ مسلم خلافت کے ظہور کی تمام نشانیاں، حتی کہ جس پہاڑ کے دامن میں وہ خلافت ظاہر ہوگی، وہ جگہ قندہار ہی ہے۔ ہٹلر و خمینی صاحبان کے بعد، تمام تر صفائی و ستھرائی کا تاج، جناب ملا عمر کے سر پر آگیا۔ اور اس کے فورا بعد، جنرل پرویز مشرف صاحب اپنے سات ایجنڈا پوائنٹس لے کر نازل ہوگئے، آجکل موصوف دبئی میں ناچ گانا کرتے ہیں۔
میری کہانی سن لیجیے، یہ میری ہی دہائی میں پیدا ہونے والے ہر پاکستانی کی کہانی ہے: میری پیدائش سنہ 1972 کی ہے۔ میں پانچ سال کا تھا، جب جنرل ضیاءالحق (آہ، کیا نام تھا، اور کیا ہی کرتوت تھے!) پورے 11 سال کے لیے براجمان ہوگئے۔ وہ 1988 میں ہوا سے ہی سیدھے جنت پدھارے تو 1988 سے 1999 تک جنرل مرزا اسلم بیگ، وحید کاکڑ، جنرل آصف نواز کسی نہ کسی طریقے سیاسی حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف رہے۔ مرحوم ارشاد احمد حقانی نے لکھا تھا کہ جنرل وحید کاکڑ سے اک ملاقات میں جنرل صاحب نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی (چھوٹی انگلی) دائیں سے بائیں گھمائی اور کہا کہ میں اسکے ساتھ پاکستان گھما سکتا ہوں، اور پھر یہی الفاظ چھنگلی مبارکہ کو بائیں سے دائیں گھماتے ہوئے کہے۔ انگلی سے محبت کرنے والے انقلابیوں کی محبت بےجا بھی نہیں، صاحبو!
پھر 1999 میں مشرفی خلافت کا ظہور ہوا، جو 2008 میں اک این آر او زدہ حکومت کو لانے پر اپنے اختتام کو پہنچا، اور میں نے بحثیت پاکستان کے سیاسی شہری، اگلے 5 سال پی پی پی کی حکومت کو بھگتا۔ حساب کتاب کرتے ہیں، :
11+12+9+5 سال۔ یہ ہوگئے پورے 37 سال۔ میری سیاسی زندگی صرف 8 سال کی ہے جناب، صرف 8 سال۔
میں بحثیت پاکستانی شہری، فوجی آمریتوں اور انکی ادارہ جاتی طاقت کے مظاہرے دیکھ دیکھ کر تھک چکا ہوں۔ میں نے اپنے معاشرے کو انہی آمریتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے اک پرامن معاشرے سے، خون کے پیاسے معاشرے میں بدلتے دیکھا ہے۔ میں نے اپنا وطن تباہ ہوتے، لوگ ذبح ہوتے، ادارے برباد ہوتے دیکھے ہیں۔ تمامتر شکایات اور گلوں کے باوجود پاکستان میں اک سیاسی سفر آگے کی جانب چل رہا ہے، گو کہ انگلی کی تلاش بھی ساتھ میں مسلسل جاری ہے، مگر قوم کا اجتماعی سیاسی شعور پہلے سے بہتری کی جانب رواں دواں تھا تو ٹویٹ آ گئی، اور شدید ترین کراہت اور بےبسی کے عالم میں لکھنا ہی پڑا، کہ جنرل صاحب، یہ کیا کر دیا؟

اسی بارے میں: ۔  پاکستان کی نفرت کی تثلیث

http://<http://www.humsub.com.pk/61881/mubashir-akram-37/>

خدا شاہد کہ اتنی کراہت، بے بسی، بددلی زندگی کے بہت سے دیگر بحران بھی دیکھ رکھے، ان میں بھی محسوس نہ ہوئی، جتنی اس دن محسوس ہوئی۔ خیال آیا کہ، اے میری ماں، تُو نے مجھے کن زمینوں اور کن زمانوں میں پیدا کر دیا!
سیاست کے سفر پر بھرپور اور غیرمتزلزل یقین ہے۔ پاکستان کا اک سیاسی جمہوریت کے بغیر کوئی مستقبل نہیں۔ اگر ہوتا تو چار براہ راست مارشل لاء اور باقی ہیراپھیریاں وہ مستقبل ہم تک لا چکے ہوتے۔ نہیں لائے۔ آئندہ بھی کبھی نہیں لائیں گے کہ فوج کی سیاست میں فوج تباہ ہوتی ہے، سیاست خراب ہوتی ہے اور مجھ جیسے شہریوں کا اپنی ریاست اور اسکے اداروں پر اعتماد بھی ہل جاتا ہے۔ پڑی ہوئی دراڑ بہت مشکل سے جاتی ہے صاحب، اور کچھ دراڑیں تو جا ہی نہیں پاتیں!
آج، آئی ایس پی آر نے ٹویٹ پر چلتے اس احمقانہ معاملہ پر اک بہت مختلف اور بہت ہی میچؤر مؤقف اختیار کیا، اور پاکستان اک قدم اور آگے بڑھ گیا۔ خیال یہ آیا کہ اس سفر میں جمہوریت اور ادارے غلطیاں کرتے ہیں، مگر ان غلطیوں کو درست کرنے کی یہ اہلیت اور منشا آج سے پہلے، اپنی پوری زندگی میں نہ دیکھی۔ یہاں تو بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی قیامت ڈھاتی تھی، کجا کہ اتنی تبدیلی؟
آج ہم سب کی جیت کا دن ہے۔ آج پاکستان میں سیاسی پراسس، اور ادارہ جاتی ترقی کا دن ہے۔ آج کا دن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں سیاستدان اور فوجی ادارے اس بات کی اہمیت کو جاننا شروع ہو گئے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف سیاسی دھارے کےآگے کی جانب بڑھتے رہنے میں ہی ہے۔ میں آنے والی نسلوں کو آمریت کی حماقت میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ آمریت سہنے والے ہی اس کو سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی اور ادارہ جاتی ترقی کا سفر جاری رہا، جو کہ انشاءاللہ رہے گا، تو میرا ملک سلامت رہے گا، اس کی عزت و احترام میں اضافہ ہوگا، اور بہتری آئے گی۔
آج ایمپائر کی انگلی کی خواہش رکھنے والوں کی ہار کا دن ہے۔ آج ان جفادریوں کی شکست کا دن ہے جو میڈیا پر بیٹھ کر قیامتیں برپا کرتے رہتے ہیں۔ آج اک فرد کی خواہش رکھنے والے شکست خوردہ ذہنوں کی شکست کا دن ہے۔ آج ان جیسوں تمام کے سوگ کا دن ہے۔ وہ آج سوگ منانے میں آزاد ہیں۔ دعا ہے کہ ان کا سوگ مستقل سوگواری کی صورت اخٹیار کرے۔
آج پاکستان کی جیت کا دن ہے۔ الحمداللہ۔

اسی بارے میں: ۔  کالم نگاروں کا جذبہ شہادت اور ہمارا تعلیمی نصاب

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔