پاکستان پریس کلب مانچسٹر میں استحکام پاکستان کانفرنس


(مظہر چوہدری)

پاکستان پریس کلب (رجسٹرڈ ) مانچسٹراپنے قیام 2002 ء سے ہی مانچسٹر اور لنکا شائر میں ادبی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے ۔راقم بھی اس پریس کلب کے ابتدائی ارکان میں شامل ہے جنہوں نے جناب وسیم الطاف خواجہ (چیئرمین ) کے ساتھ مل کر کام کیا ہے ،گزشتہ روز پریس کلب کے زیر اہتمام پاکستان کمیونٹی سنٹر مانچسٹر میں، استحکام پاکستان کانفرنس، کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممبر یورپین پارلیمنٹ (اور امیدوار برائے ایم پی ) افضل خان،اوورسیز پاکستانی فاﺅنڈیشن کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک،وسیم الطاف خواجہ معروف سماجی ویارکشائر لیبر پارٹی کے راہنما گوہر الماس خان اور پاکستان پریس کلب کے نومنتخب صدر شکیل قمر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

میرا ذاتی طور پر نقطہ نظر یہ رہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی جو گونا گوں معاشی وخوانگی اور معاشرتی مسائل کا شکار رہتی ہے کے لئے جب بھی کوئی تقریب منعقد کی جائے تو وطن عزیز کے حوالے سے ممکنہ حد تک مثبت باتیں ہی زیر بحث رہنی چاہئیں، بلاوجہ کی سنسنی پھیلانے اور منفی باتوں سے اگر پرہیز کر لیاجائے تو اس طرح کی تقریبات کا اصل مقصد حاصل ہو سکتا ہے جو ظاہر ہے ہم سب کے اجتماعی مفاد کا ہے ۔بدقسمتی سے اطلاعات کے اس انقلابی دور میں سوشل میڈیا اور اس پر مستزادپاکستانی و مقامی ٹی وی چینلز چوبیس گھنٹے سنسنی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں اور لگتا ہے کہ وطن عزیز میں کوئی خیر کی خبر نہیں ہے ،جب ہم نے صحافت کی تعلیم حاصل کی اور عملی طور پر رپورٹنگ کا آغاز کیا تو ہمارے سینئرز بتایا کرتے تھے کہ صحافت معاشرے کی عکاس ہوتی ہے ۔ یعنی جو کچھ معاشرے میں ہوتا ہے وہی کچھ دکھایا جاتا ہے لیکن اب تو سچی بات ہے یوں لگتا ہے کہ صحافت معاشرے کی عکاس نہیں رہ گئی بلکہ صحافی (یا اینکر) کی عکاس بن چکی ہے، جس طرح کا صحافی یا اینکر ہے اسی طرح کا پاکستان پیش کیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال کی روح سے معذرت کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے ، جیسے انہوں نے فرمایا تھا۔’ شاہین کا جہان اور ہے کرگس کا جہاں اور‘۔

بعینہ آج یہ کہنا مناسب لگتا ہے کہ اس اینکر کا پاکستان کوئی اور ہے اور اس صحافی کا پاکستان کچھ اور۔  بہرکیف بات ہو رہی تھی استحکام پاکستان کانفرنس کی تو میرے لئے اطمینان کی بات یہ تھی کہ یہاں پر مجموعی طور پر مثبت اور حقائق پر مبنی باتیں ہوئیں جس کا آغاز پریس کلب کے صدر شکیل قمر نے یہ کہہ کر کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میںیہ خیال جڑ پکڑ رہا ہے کہ ان کو پاکستان کے جنرل الیکشن میں ووٹ کا حق دیا جائے۔ لیکن کوئی اس بات کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ آخر یہ کس طرح ممکن ہو گا ۔کیا اس سے قبل کسی ملک میں اس طرح کا کوئی اہتمام کیا گیا ہے ؟ کم و بیش پنجاب و کے پی کے ہر ضلع، اور سندھ و بلوچستان کے نمایاں شہروں کے تارکین وطن بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کے لئے کس طرح کوئی بندوبست کیا جا سکتا ہے جبکہ پاکستانی قونصل خانوں میں ابھی تک مناسب طور پر بیٹھنے اور پارکنگ کی جگہ کا بھی فقدان ہے۔ راقم کے خیال میں بھی اس طرح کے انتظامات ابھی ممکن نہیں ہیں ۔دراصل جب بیرون ملک لوگوں کو پاکستان میں جا کر ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہے تو وہ شوق سے جائیں پاکستان اور دیں ووٹ اپنے پسندیدہ راہنماﺅں کو ۔ کون ان کو روکتا ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک انڈیا ، افغانستان، بنگلہ دیش ، ایران اور سری لنکا کے تارکین وطن بھی یہاں موجود ہیں انہوں نے تو کبھی اس طرح کا کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے ہماری کمیونٹی میں مزید انتشار بڑھے گا ۔

جناب وسیم الطاف خواجہ نے بھی اس موضوع پر جاندار گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ہم قومی و صوبائی اسمبلیوں میں چند مخصوص نشستوں کا مطالبہ کریں، انھوں نے کہا کہ پاکستان اب اپنے خالص جمہوری راستے پر گامزن ہو چکا ہے، امید ہے کہ تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دیتے رہیں گے ۔ بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ او پی ایف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لئے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر آپ کو پاکستان جاتے ہوئے یا وہاں رہتے ہوئے کوئی مسئلہ دارپیش ہو تو بلا جھجھک ہم سے رابطہ کریں ہماری فاﺅنڈیشن اس ضمن میں ہر طرح سے مدد و رہنمائی کر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت غالباً پہلی حکومت ہے جس نے تارکین وطن کے مسائل کے حل کے لئے کوئی ٹھوس اقدام کیا ہے اور وزیر اعظم پاکستان مزید کچھ بہتر کرنے میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں ۔

ممبر یورپین پارلیمنٹ اور آئندہ الیکشن میں لیبر پارٹی کے امیدوار برائے ایم پی افضل خان نے کہا کہ آج تو حالات بہت بہتر ہیں ایک وقت تھا کہ ہمارے پاس اپنا کوئی پلیٹ فارم نہیں ہوتا تھا جہاں پر ہم بیٹھ کر اپنی کمیونٹی کے مسائل پر بات کر سکیں ، آج الحمد اللہ ہم لوکل کونسل سمیت پارلیمنٹ اور ہاﺅس آف لارڈز میں بھی موجود ہیں، اپنی مساجد ، کمیونٹی سنٹر اور پریس کلب بھی کام کر رہے ہیں لیکن اب ہماری اگلی جنریشن کے لئے کچھ مختلف مسائل درپیش ہو ں گے اس کی طرف اب توجہ مبذول کرنی پڑے گی ،ان میںسر فہرست بچوں کی تعلیم ، ان کی دیگر کمیونٹیز سے انٹرایکشن،یہاں کی فلاحی و سماجی تنظیموں میں فعال شرکت اور سیاسی جماعتوں میں شمولیت بہت اہم ہیں۔ اگر اپنی شناخت برقرار رکھنے کا جذبہ موجود ہے تو آپس میں ایک اجتماعی مقصد کے لئے اتفاق کرنا ہو گا ۔نسلی اور علاقائی تعصبات سے اوپر اٹھ کر دیکھیں گے تو ہی ہماری آنے والی نسلیں یہاں کامیاب اور پر امن زندگی گزار سکیں گی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض اصغر محمود چودھری نے احسن طریقے سے ادا کئے اور لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔