جنگ کے دنوں میں محبت


امریکی فوج کے مترجم نیاف ہریبد اور عراقی فوجی بتو علامی عراق جنگ کے عروج کے زمانے میں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ اس کے بعد کے 12 برس انھیں جوڑے کی صورت میں ایک ساتھ رہنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

2003 میں نیاف نے اچانک خود کر عراق میں پایا۔ وہ فائن آرٹس کے گریجویٹ تھے لیکن جب انھیں کوئی نوکری نہیں ملی تو وہ امریکی فوج میں بطور مترجم بھرتی ہو گئے۔

‘میری تعیناتی رمادی میں ہوئی، جو اس وقت بدترین جگہ تھی۔ گشت کے دوران لوگ گھریلو ساخت کے بموں اور بندوق برداروں کا نشانہ بن جاتے تھے۔ میں سوچتا تھا، میں یہاں کیوں ہوں؟ میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟’ تاہم ایک عراقی فوجی سے اتفاقی ملاقات نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

‘ایک دن میں باہر بیٹھا تھا کہ یہ شخص شاور سے باہر نکلا۔ میں نے دیکھا کہ اس کے بال بالکل سیاہ اور چمک دار تھے اور وہ مسکرا رہا تھا۔ میں نے سوچا، میرے خدا، یہ شخص کتنا حسین ہے۔ ‘مجھے لگا کہ اس بدترین جگہ میں کچھ خوبصورت بات ہو گئی ہے۔’

ہریبد خفیہ طور پر ہم جنس پرست تھے۔ وہ اس کا اظہار اس لیے نہیں کر سکتے تھے کہ عراق میں ہم جنس پرستی کی ممانعت ہے اور ہم جنس پرستوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ہریبد کو معلوم نہیں ہوا لیکن بتو علامی نے بھی ان میں کشش محسوس کی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ‘مجھے عجیب سا خیال آیا جیسے مجھے انھی کی تلاش تھی۔ میرے جذبات بڑھتے گئے اور مجھے پتہ چل گیا کہ مجھے ان سے بات کرنی ہے۔’ انھیں ایک دوسرے سے ملنے کا اس وقت موقع ملا جب انھوں نے شہر کے جنرل ہسپتال سے شدت پسندوں کو نکالنے کی کارروائی میں ایک ساتھ حصہ لیا۔

ہریبد کہتے ہیں: ‘ہم گشت کے بعد اکٹھے واپس آتے۔ ایک دن بتو نے مجھے اور دوسرے فوجیوں کو کھانے پر بلایا۔ ہم ہر رات باتیں کرتے رہے اور میری محبت بڑھتی گئی۔

‘ایک دن میں نے انھیں اپنے جذبات کے بارے میں بتا دیا کہ مجھے ان سے پیار ہو گیا ہے۔ انھوں نے مجھے بوسہ دیا اور چلے گئے۔ یہ عجیب و غریب رات تھی۔ میں نے دو دن تک کھانا نہیں کھایا۔’

اس کے بعد دونوں زیادہ سے زیادہ وقت ایک ساتھ گزارنے لگے۔ جلد ہی امریکی اور عراقی فوجیوں کو بھی پتہ چل گیا۔

‘جب بعض فوجیوں کو پتہ چلا کہ میں ہم جنس پرست ہوں تو انھوں نے مجھ سے بات چیت بند کر دی۔ ایک مترجم نے مجھے لاٹھی سے مارا جس سے میرا بازو ٹوٹ گیا۔’

2007 میں علامی اور ہیربد دونوں کو جنوبی عراق کے قصبے دیوانیہ میں تعینات کیا گیا۔ تاہم وہاں انھوں نے اپنے تعلقات چھپائے رکھے۔ ہریبد نے امریکہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی کیوں کہ امریکی فوج کی نوکری کے بعد ان کا عراق میں رہنا خطرناک ہو گیا تھا۔

بتو علامی عراقی فوج میں سارجنٹ تھے۔ ‘میں نے سوچا کہ میں چلا جاؤں تو بعد میں بتو کے لیے آنا آسان ہو جائے گا۔’

ہریبد کو سیاسی پناہ مل گئی اور وہ امریکی شہر سیئیٹل میں رہنے لگے۔ تاہم علامی کو ویزا نہیں مل سکا۔ اسی دوران علامی کے خاندان کو بھی پتہ چل گیا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں، اور وہ ان پر دباؤ ڈالنے لگے کہ وہ کسی عورت سے شادی کر لیں۔ تاہم وہ ہریبد کے ایک دوست کی مدد سے بھاگ کر بیروت چلے گئے۔ وہ دونوں روزانہ سکائپ پر بات کرتے تھے۔ اسی دوران کینیڈا کا ویزا مل گیا اور وہ ستمبر 2013 میں وینکوور چلے گئے۔

اب دونوں کے درمیان صرف سوا دو سو کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ ہریبد کہتے ہیں: ‘میں ہر اختتامِ ہفتہ اور چھٹی والے دن بتو سے ملنے جایا کرتا تھا۔’ ان دونوں نے 2014 میں ویلنٹائنز ڈے پر شادی کر لی۔ ہریبد نے علامی کے لیے امریکی ویزے کی درخواست دی، جس کے بعد بتو کو امریکہ میں رہنے کی اجازت مل گئی۔

مارچ 2015 میں ہریبد اور علامی بس میں بیٹھ کر وینکوور سے سیئیٹل آئے۔ یہاں پہنچ کر انھوں نے شادی کی ایک اور تقریب منائی۔ ہریبد کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار دن تھا۔’

اب یہ دونوں سیئیٹل کے ایک اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں۔ ہریبد اب امریکی شہری بن گئے ہیں اور گھروں کی آرائش کا کام کرتے ہیں۔ علامی کو گرین کارڈ مل گیا ہے اور وہ اگلے سال امریکی شہری بن جائیں گے۔ وہ بلڈنگ سپروائزر کا کام کرتے ہیں۔

ان کی کہانی پر ایک دستاویزی فلم ‘آؤٹ آف عراق’ بن چکی ہے، جسے گذشتہ برس لاس اینجلس فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا تھا۔

ہریبد کہتے ہیں: ‘ہم چھپنا نہیں چاہتے۔ میں گلی میں چلتے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑے رکھنا چاہتا ہوں۔’

http://www.bbc.com/urdu/world-38563293?ocid=wsurdu.social.sponsored-post.twitter.setpiece.content.IBC2_TranslatorAndSoldiee.mktg


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 475 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp