میاں صاحبان کا طرزِ سیاست اور اقتصادی راہداری


kharralاعتماد کا ہمالہ یونہی متزلزل نہیں ہوتا۔ نہاں خانہ دل میں کچھ نہ کچھ پنپ رہا ہوتا ہے اور اسکے نتیجے میں بدگمانیاں موج مار رہی ہوتی ہیں۔ بھینس بے عقلی کا استعارہ ہے اور اس کا دودھ دینے کا ارادہ ہو تو اس کا بچہ کھونٹے سے چھوٹتے ہی سیدھا اس کے نیچے جاتا ہے۔ اور اگر بھینس کا دودھ دینے کا ارادہ نہ ہو تو اس کا بچہ اس کے نیچے نہیں جاتا، بلکہ ادھر ادھر بھاگتا پھرتا ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے.
مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی جیسے حکومت کے اتحادی اور اقبال ظفر جھگڑا جیسے حکومتی جماعت کے اپنے لوگ بھی اقتصادی راہداری کے ضمن میں حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ حکمران جماعت سے یہ بات بعید بھی نہیں ہے کہ وہ بایاں دکھا کر دایاں نہیں مارے گی۔
چونکہ ہمارے ہاں ایک خیال یہ بھی ہے کہ ’مشرف بہ سفر حرمین‘ ہونے کے بعد میاں صاحبان کے طرز سیاست میں سنجیدگی اور خلوص در آیا ہے. اس لئے اس مخلصانہ اور سنجیدہ سیاست کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے.
2011 کی بات ہے۔ برسوں سے آزمودہ نسخہ کسانوں پر استعمال کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے ان کے سامنے ‘اتحاد’ کا راگ الاپا جاتا ہے. دلکش نعروں پر فریفتہ قوم، کشاں کشاں چلی آتی ہے. وہ لوگ جن کا باوا آدم ہمیشہ ہی نرالا رہا کہ ‘عملی اتحاد’ تو درکنار جن کی سوچ کو کبھی یکسانی نصیب نہ ہوئی تھی. آنکھ جھپکنے کی دیر میں وہ صوبائی سطح سے لے کر قریہ, قریہ، بستی بستی تک منظم ہوتے چلے گئے۔
گرمی رفتار کا یہ عالم کہ ان کی ’جنبش پا‘کی تاب قومی شاہراہیں ہی نہیں، ریلوے ٹریک بھی نہ لا سکتے تھے اور پہروں بلاک رہتے تھے. ہاں البتہ شہروں کو بند کرانے کی انہیں نہ سوجھتی تھی کہ بھلا اپنے پاو¿ں پر کلہاڑی کون مارتا ہے؟ جی ہاں جب صوبے میں اپنی جماعت کی حکومت ہو اور ’اتحاد‘کی قیادت بھی بستی سے لے کر صوبائی سطح تک اپنی ہی جماعت کے باقاعدہ عہدے داروں کے پاس ہو تو پھر اپنا نقصان کرنے کی حماقت کون کرتا ہے۔
ادھر بجلی کا بحران عروج پر ہوتا ہے، ادھر ہاتف غیبی کسانوں کو پکارتا ہے کہ کسان ٹیوب ویلوں کی بجلی کے بل ادا نہیں کریں گے، تاوقتیکہ ان کے مطالبات مان نہیں لئے جاتے۔
چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ پورے پنجاب کے کسان ٹیوب ویلوں کی بجلی کے بل روک لیتے ہیں۔ واپڈا کے ملازمین کسانوں کو سمجھانے یا بجلی کا کنکشن منقطع کرنے جاتے ہیں تو کسانوں کے ہاتھوں اپنی دھنائی کروا کر واپس آتے ہیں۔ انتظامیہ کو اپنی داد رسی کے لئے آواز دیتے ہیں تو جواب آتا ہے کہ کسان متحد ہیں اور پہلے ہی سے قومی شاہراہوں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اس لئے ان کے خلاف کارروائی سے نقض امن کا خدشہ ہے۔ یوں عرصہ ڈیڑھ سال میں تقریباً چار سو ارب روپے کے لگ بھگ بجلی کے بلوں کی رقم کسانوں کے ذریعے رکوا دی جاتی ہے۔
اور جب 2013ءکے الیکشن کے بعد مرکز میں بھی ’اپنی‘حکومت تشکیل پا جاتی ہے تو پھر بجلی کے بلوں کی عدم ادائی پر کسانوں کے نہ صرف ٹیوب ویلوں کے کنکشن منقطع کئے جاتے ہیں، بلکہ ٹرانسفارمر بھی اتار لئے جاتے ہیں۔ کسانوں کا اتحاد اور ان کا سڑکوں پر موجود ہونا انہیں نہیں بچا پاتا۔ اس دور حکومت میں کسانوں کو ہر لحاظ سے ایسے برے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وطن عزیز کی تاریخ میں جن حالات سے وہ پہلے کبھی دوچار نہیں ہوئے ہوتے، مگر ان کے اس ‘اتحاد’ کا وجود کہیں نظر نہیں آتا، جس کی ’جنبش پا‘ کی تاب نہ لا کر سابق دور حکومت میں قومی شاہراہیں اور ریلوے ٹریک بلاک رہتے تھے۔
جب پردہ اٹھتا ہے اور منظر واضح ہوتا ہے تو میثاق جمہوریت کے پاس داروں کی قوم و ملک کے مفاد میں کی جانے والی اس ‘مخلصانہ اور سنجیدہ’ سیاست پر چشم بینا عش عش کر اٹھتی ہے۔
ویسے تو میاں صاحبان کے اس طرزِ سیاست کی ابتدا آئی جے آئی سے ہی ہو جاتی ہے. اور اس طرز سیاست کی مزید کئی داستانیں ان سے منسوب ہیں لیکن اب میاں صاحب کو چاہیے کہ اقتصادی راہداری کے اس عظیم منصوبے کو اپنی روایتی ‘سنجیدہ و مخلصانہ’ طرز سیاست کی نذر کرنے کی بجائے معاملات پرپڑی ابہام کی گرد جھاڑ کر واضح موقف کا اظہار کریں، کیونکہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان انہی غیر واضح اور مبہم معاملات پر شکوہ کناں ہیں۔ جس کی بازگشت جے یوآئی کی میزبانی میں ہونے والی پشاور اور بی این پی (مینگل) کی میزبانی میں ہونے والی اسلام آباد کی کل جماعتی کانفرنسوں میں سنی گئی۔
جمیعت علمائے اسلام کی میزبانی میں پشاور میں منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ ’ہم من حیث القوم یہ اعتراف کرتے ہیں کہ پاک چین دوستی اب اقتصادی دوستی میں تبدیل ہو چکی ہے اور یہ اجلاس اسے ملک و قوم کیلئے روشن مستقبل سے تعبیر کرتا ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے بعض اقدامات پر تحفظات موجود ہیں جو صوبہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کی عوام میں انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔
تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نمائندگان پر مشتمل یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ مغربی اقتصادی راہداری کا منصوبہ 28 مئی 2015 ءکو وزیراعظم کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ ضروری ہے کہ 28 مئی 2015ءکے اعلامیہ پر من و عن عمل درآمد کیا جائے۔
چونکہ یہ تجارتی راہداری ہے لہٰذا اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مغربی روٹ پر تجارتی و صنعتی زون کہاں، کہاں اور کب تک بنائے جائیں گے۔
صنعتوں کے لئے گیس پائپ لائن، بجلی ٹرانسمیشن لائن، فائبر آپٹیکل، ریلوے لائن اور مائع قدرتی گیس مہیا کرنے کا موجودہ نقشوں میں کوئی تذکرہ نہیں ہے، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ یہ محض ایک سڑک ہے، جس کی حیثیت کوریڈور کی نہیں۔ وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ مغربی روٹ کے ساتھ یہ تمام منصوبے وابستہ ہیں۔
اور اس سلسلے میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کیلئے فی الفور واضح اعلان کرے۔ ہم مکمل اقتصادی راہداری کے تصور کے ساتھ اس منصوبے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اس کی تکمیل کیلئے تمام سیاسی جماعتیں مل کر جدوجہد کریں گی اور تحفظات دور نہ ہونے کی صورت میں تمام جماعتیں متفقہ طور پر راست اقدام پر مجبور ہوں گی۔‘
پشاور میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اعلامیے کی ایک ایک شق جہاں اقتصادی راہداری کی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہے۔ وہاں اس سے وفاقی حکومت کے اقدامات پر بے یقینی اور عدم اعتماد بھی جھلک رہا ہے. اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے میاں صاحب وزیر اعلی پنجاب کی جگہ پر کھڑے نہ ہوں، بلکہ وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے چھوٹے صوبوں کے تحفظات دور کریں. تاکہ مزید بدگمانیاں جنم نہ لیں اور اسلام آباد پر چھوٹے صوبوں کا اعتماد بحال ہو۔


Comments

FB Login Required - comments