بولان سے جمنا تک (دوسرا حصہ)


usman Qaziاگلے روز صبح چھ بجے ہمیں راجستھان کی راجدھانی جے پور روانہ ہونا تھا چنانچہ منہ اندھیرے اپرنا، ان کے ابا اور اپرنا کے بیٹے منن کی نیند میں خلل ڈالتے ہوئے کہ یہ وضع داری کے مارے لوگ ہماری خاطر اپنی خواب گاہ خالی کر کے نیچے لاﺅنج میں فرش پر سو رہے تھے، آٹو میں سوار ہو کر ریلوے سٹیشن پہنچے۔ دہلی سے ہندوستان کے بڑے شہروں کے لیے نہایت تیز رفتار، آرام دہ اور پابند وقت ریل گاڑیاں چلتی ہیں اور شتابدی کہلاتی ہیں۔ بکنگ کا نظام کمپیوٹرائزڈ اور باقاعدہ ہے۔ ہوائی جہاز کی طرز کی آرام دہ نشستیں، صاف ستھرے ڈبے اور غسل خانے اور وقفے وقفے سے فراہم کی جانے والی پرتکلف اشیائے خورونوش اور پانچ گھنٹے کے سفر کا یک طرفہ کرایہ مبلغ ساڑھے تین سو بھارتی روپے۔ ہم نے بہت عرصے سے پاکستانی ریل گاڑی میں سفر نہیں کیا۔ دوستوں سے سنا ہے کہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے مگر یہ سہولیات تو بعض پہلو سے پی آئی اے کو بھی مات کرتی ہیں۔

ہم جیسے ہی راجستھان کی حدود میں داخل ہوئے تو امڈ کر گھٹائیں چھا گئیں اور موسلا دھار مینہ برسنے لگا۔ بعد میں راجستھان کے لوگوں سے پتہ چلا کہ وہاں بڑے عرصے سے خشک سالی پڑ رہی تھی اور مسجدوں، مندروں میں دعاﺅں اور چڑھاوﺅں کا سلسلہ جاری تھا۔ لوگوں نے ہماری آمد کو بہت نیک شگون قرار دیا۔ ہم نے سوچھا کہ ہماری مبارک قدمی کا اثر ہمارے پیارے وطن بلوچستان پر کیوں نہیں ہوتا۔ پھر یاد آیا کہ روایتوں کے مطابق حضرت عیسیٰ نے اپنے گاﺅں میں کسی مردے کو زندہ نہیں کیا اور اکثر معجزات ان سے گھر سے باہر سرزد ہوئے تھے۔ راجستھان کو دیکھ کر اپنے تھرپارکر کا نہری علاقہ یاد آگیا۔ چنری کے ملبوسات، سرخ ریت، گول جھونپڑیاں۔

وہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں

Jaipur 1جے پور کو دنیا بھر میں گلابی شہر یا پنک سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پرانے فصیل والے حصے اور نئے شہر پر مشتمل ہے۔ انیسویں صدی میں شہنشاہ اکبر کے سپہ سالارراجہ مان سنگھ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے راجاﺅں نے جے پور کا نقشہ نہایت سائنسی انداز میں تیار کیا تھا۔ شہر کی فصیل کے سات دروازے ہیں اور تمام سڑکیں اور گلیاں ایک دوسرے کی بالکل سیدھ میں ہیں۔ تمام بازاوں میں دو رویہ برآمدے بنے ہوئے ہیں۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں برطانیہ کے پرنس البرٹ کی جے پور آمد کے موقع پر پورے شہر کو گلابی رنگ سے رنگا گیا تھا اور تب سے آج تک یہ روایت برقرار ہے۔ موجودہ راجہ صاحب نے شہر کے گردونواح میں واقع اپنے اکثر محلات کو ہوٹلوں میں تبدیل کر دیا ہے مگر مرکزی محل یا سٹی پیلس کے ایک حصے میں وہ خود رہائش پذیر ہیں اور باقی حصہ عجائب گھر ہے جس میں قدیم دور کے نوادرات، شاہی ملبوسات اور ہتھیار رکھے ہوئے ہیں۔ ایک مہاراجہ صاحب عالمی سطح کے ماہر فلکیات ہو گزرے ہیں اور انہوں نے سورج، ستاروں، سیاروں وغیرہ کے مشاہدے کے لیے ایک رصدگاہ بنوائی تھی جو جنتر منتر کہلاتی ہے۔ اس میں آسمان پر ستا روں کے مقام اور دھوپ چھاﺅں کے امتزاج سے نہایت درست حساب کتاب کیا جاتا تھا اور اکثر آلات آج بھی ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس رصدگاہ میں دوربین نام کی کوئی چیز نہیں۔ صدیوں پرانے اس علم کو آج بھی قابل عمل دیکھ کر عقل حیران ہوتی ہے۔

جے پور سے ذرا باہر ایک اور عجوبہ روزگار محل پانی کی جھیل کے بیچوں بیچ کھڑا ہے اور ’جل محل‘ کہلاتا ہے۔ اس سے آگے ایک دشوار گزار وادی کے عین بیچ میں واقع پہاڑی پر قلعہ امبیر ایستادہ ہے۔ میرے محدود مشاہدے کے مطابق اگر فضائی جنگ نہ ہو تو آج بھی یہ قلعہ ناقابل تسخیر ہے۔ چاروں جانب بلند و بالا پہاڑوں کی قدرتی فصیل کے اوپر دیوار چین کی طرز کی دیوار ہے۔ بیچ کی پہاڑی کے چاروں پانی سے بھری خندق ہے اور پھر قلعہ کی سپاٹ اور بلند دیواریں۔ قلعہ کے اندر فوجیوں کی رہائش، خوراک کے گوداموں اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے خاطر خواہ انتظامات۔ یہ قلعہ راجہ مان سنگھ کا تھا جہاں وہ اپنی بارہ عدد رانیوں کے jaipur0ہمراہ رہتے تھے۔ یہ قلعہ دیکھ کر اکبر بادشاہ کی ذہانت اورتدبر کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ اس نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر مان سنگھ کو بات چیت کے ذریعے اپنا وفادار حلیف بنا کر اپنے نورتنوں میں شامل کیا۔ اس کی بہن جودھا بائی سے شادی کی جو اس کے اکلوتے بیٹے جہانگیر کی ماں بنی۔ مان سنگھ اور اس کے جری راجپوت سپاہی سلطنت تیموریہ کے بازوئے شمشیرزن بنے اور سلطنت کی توسیع کے لیے کابل سے بہار تک فتح مند جنگیں لڑیں۔ اگر اکبر مسائل کو حل کرنے کے لیے قوت کا استعمال کرتا اور کسی طرح راجستھان کے مضبوط قلعوں کو تسخیر کا بظاہر ناممکن کام سرانجام بھی پاتا تو نہ صرف اس میں ہزاروں جانیں ضائع جاتیں بلکہ خون کا ایک ناقابل عبور دریائے نفرت ہمیشہ کے لیے مغلوں اور راجپوتوں کے درمیان حائل ہو جاتا۔

بے اختیار دھیان ہمارے وطن کی خوفناک صورت حال کی جانب لوٹتا ہے جہاں حکمران وزیرستان، خضدار، کیچ وغیرہ میں اس سے کہیں کم درجے کے اختلاف کو ننگی جارحیت سے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کاش وہ اور کچھ نہیں تو اکبر اعظم کے طرز حکومت کا مطالعہ کریں اور سبق سیکھیں۔ اس سے پہلے کہ یہ درد، درد لادوا بنے اور مداوا ممکن نہ ہو پائے ….

جے پور سے ذرا فاصلے پر ”چوکھی ڈھانی“ نام کی ایک تفریح گاہ ہے۔ یہ ایک بڑا سا قطعہ زمین ہے جس میں راجستھان کی ثقافت، دست کاری، رہن سہن کی عکاسی اور راجستھان کی روایتی خوراک کا انتظام ہے۔ ٹکٹ داخلہ 180 روپے فی کس ہے جس میں یہ سب میلا ٹھیلا اور کھانا شامل ہے۔ طرح طرح کے روایتی ناچ دیکھتے، دست کاری کا مشاہدہ کرتے ہم طعام گاہ میں پہنچے جہاں ہمیں زمین پر بٹھا کر لکڑی کی چوکیوں پر پتوں سے بنے برتنوں میں انتہائی لذیذ کھانا مع اصلی گھی اور لسی کھلایا گیا۔ راجستھان میں جناب، صاحب وغیرہ قسم کے القاب کی جگہ لفظ ”سا“ استعمال ہوتا ہے جو شاید ”صاحب“ اور انگریزی کے ”سر“ کا امتزاج ہے۔ راجستھانی عبا، چنری کے چوغے اور رنگین دستار میں ہم نے بھی تصویر کھنچوائی۔ رات گئے واپس گنگو ر ہوٹل پہنچے جو غیر سیاحتی موسم ہونے کی وجہ سے ہمیں نہایت Jaipur2مناسب داموں پر دستیاب ہو گیا تھا۔

اگلے روز ہلکی ہلکی بارش میں ہم بس سٹیشن پہنچ گئے اور ہمیں جو ٹکٹ ملا وہ عام بغیر ایئر کنڈیشنر والی بس کا تھا۔ اس کی روانگی میں ذرا سی دیر تھی چنانچہ ہم وہیں بس اڈے پر بیٹھ گئے۔ یہ محلہ تقسیم ہند کے وقت سندھ سے اجڑ کر آنے والے ہندوﺅں کے لیے کیمپ کا کام دیتا تھا چنانچہ سندھی کیمپ کہلاتا ہے۔ یہاںسائن بورڈ پڑھ کر آتے جاتے لوگوں کی گفتگو سن کر یو پی ، دلی وغیرہ سے یہاں کے ذرا سے ثقافتی فرق کا احساس ہوتا ہے جبکہ دلی میں سلام کے الفاظ آپ ہیلو، ہائے، یو پی میں نمستے یا آداب ہیں۔ یہاں آتا جاتا ”رام رام سا“ کہتا ہے۔ دوسرے جہاں عام اردو ہندی میں تکلف کا رواج ہے، ادھر ایک دیہاتی طرز کی سادگی ہے مثلاً باقی جگہوں پر بورڈ لگا ہوتا ہے ’زنانہ شوچالے‘ یا ’جائے ضرورت‘ یا ’بیت الخلا‘ جبکہ جے پور کے بس اڈے پر سیدھا سیدھا لکھا ہے ’مہیلا پیشاب گھر“۔ بارش کا لطف اٹھاتے، سواریاں چڑھاتے اتارتے ہم قریباً پانچ گھنٹے میں آگرہ پہنچ گئے۔ ہمارے ایک ہمراہی بھارتی بزرگ کا بھتیجا انہیں لینے آیا تھا۔ ہماری مدد کی درخواست پر انہوں نے ہمیں اپنی جیپ میں ایک ہوٹل پر اتار دیا جہاں ذرا سی گفت و شنید کے بعد ہمیں کمرہ مل گیا۔ بتایا گیا کہ تاج محل سات بجے شام بند ہو جاتا ہے ۔ سن کر بڑی مایوسی ہوئی کہ ہم تو حساب کر کے چاندنی رات کو پہنچے تھے۔ خیر یوں بھی بادل چھائے ہوئے تھے۔ سائیکل رکشہ لیے ہم تاج محل پہنچے۔ بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ تھی۔ پھر موبائل فون اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ دو جگہ جامہ تلاشی ہوتی ہے اور پھر تاج محل کا نظارہ نصیب ہوتا ہے۔ ہم آپ کو سچ بتائیں؟تاج محل Jal-Mahal-Jaipur3نے ہم پر کوئی ایسی کیفیت طاری نہیں کی کہ اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ جائے۔ پتا نہیں اس میں ہماری کور ذوقی کا دخل ہے یا اس بات کا کہ بچپن سے ایک چیز کے بارے میں سنتے سنتے ہمارے ذہن میں بلند و بالا توقعات پیدا ہوجاتی ہیں یا ان تلاشی، ٹکٹ اور بھیڑ بھاڑ کے مراحل نے طبیعت مکدر کر دی۔ اچھا ہے، بلکہ بہت اچھا مگر ….

سودا جو تیرا حال ہے ، ایسا تو نہیں وہ
کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بولان سے جمنا تک (دوسرا حصہ)

  • 27-02-2016 at 1:47 am
    Permalink

    سرکار آپ نے مشورہ تو بڑا اچھا دیا ہے کہ اکبر کی طرح مان سنگھ کی بہن سے شادی کر لیں اور پھر ستے خیراں لیکن آج کل کے حاکم وزیرستان کیچ اور خضدار کے لوگوں کی نسلیں ہی تبدیل کرنا چاہتے ہیں جیسے جنرل ٹائیگر نے بنگال میں اور میجر جس کا میں نام بھول گیا ہوں بلوچستان میں ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ کیا تھا جس کی سزا پاکستان کے سب سے بڑے حامی نواب اکبر بگٹی کو ملی کہ اسکی قبر کا بھی پتہ نہیں کہ ہے بھی یا کہ نہیں ہے

Comments are closed.