عمران خان نااہلی کیس میں کیا ہوا؟


مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی آف شور کمپنیوں کے معاملے میں غلط بیانی اور ٹیکس چوری پر نااہلی کیلئے درخواستیں تو گزشتہ برس نومبر میں ہی دائر کی تھیں مگر سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پانامہ پیپرز کیس کے ساتھ سننے کی استدعا قبول نہیں کی اور پھر چھ ماہ بعد ان درخواستوں کو دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کیا گیا۔ اس دوران مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں نے مختلف پریس کانفرنس اور بیانات کے ذریعے سپریم کورٹ کو حنیف عباسی کی درخواستیں سننے کی یاد دہانی کرائی۔

تین مئی کو سماعت کے دوران چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے سامنے درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل کا آغاز کیا۔ بولے، دو نومبر کو درخواستیں دائر کی تھیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا سننے سے پہلے کچھ چیزیں طے نہ کر لیں؟ کیس کی سماعت کے دوران اس پر میڈیا میں تبصرے اور عدالت کے باہر گفتگو کی روایت کو روکنا چاہیے، ابھی کیس پر دلائل ہو رہے ہوتے ہیں اور سپریم کورٹ کے احاطے میں اس پر بحث مباحثہ میڈیا کے ذریعے شروع ہوجاتاہے، کیا تمام فریق اس پر متفق ہیں کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ وہ ایسی گفتگو نہیں کرتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل اگر چاہیں تو اپنے دلائل کے مطابق میڈیا پر گفتگو کرسکتے ہیں۔

اس کے بعد وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ وہ وزارت داخلہ کو فریق بنانا چاہتے ہیں کیونکہ تحریک انصاف ممنوعہ غیر ملکی فنڈز لینے والی جماعت ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس مرحلے پر فریق بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، جب موقع آئے گا تو مناسب سمجھیں گے فریق بنانے کی اجازت دیں گے، مناسب سمجھا تو احتساب بیورو کو بھی بلا کر پوچھ لیں گے۔اکرم شیخ نے چار دن دلائل دیے، ان کا پہلا نکتہ یہ تھاکہ تحریک انصاف نے امریکا میں ایل ایل سی نامی ایک کمپنی رجسٹرڈ کرکے وہاں کے شہریوں سے فنڈز اکھٹے کیے اور اس کی دستاویز امریکی حکومت کے اداروں نے جاری کی ہے کیونکہ قانون کے مطابق ایسی رقم جب دوسرے ملک بھیجی جاتی ہے تو اس کو فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (فارا) کے تحت لایا جاتاہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ فارا قانون کے تحت دستیاب دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ تحریک انصاف نے امریکی شہریوں سے مختلف اوقات میں کل تین لاکھ چوراسی ہزار ڈالرز اکھٹے کیے۔ جبکہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کیلئے موجود قانون (پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002) کی شق چھ کے تحت غیرملکی فنڈز لینا ممنوع ہے، دوسرے ملک سے ممنوعہ فنڈز لینے والی جماعت کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگ جاتاہے۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے اپنی نشست پر کھڑے ہوکر کچھ بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے کہاکہ پرسکون ہوکر اپنی باری کا انتظار کریں، سنے جانے کا کسی کا کوئی حق ختم نہیں کیا جا رہا ہے۔

وکیل اکرم شیخ نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی امریکا میں رجسٹرڈ ایل ایل سی کمپنی کے سات میں سے پانچ ڈائریکٹرز امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ دہری شہریت کے حامل ہوں، امریکا کے علاوہ پاکستانی شہریت بھی رکھتے ہوں۔ وکیل نے کہا کہ امریکا کے ساتھ دہری شہریت نہیں رکھی جا سکتی۔ دوہزار دس سے لے کر دوہزار چودہ تک تحریک انصاف نے امریکی شہریوں سے فنڈز حاصل کیے، پارٹی کے چیئرمین عمران خان نے اکتوبر دوہزار چودہ میں الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفیکیٹ جمع کرایا تھاکہ کوئی بیرونی فنڈنگ نہیں لی، یہ بیان حلفی جھوٹا تھا اس لیے ان کے خلاف غلط بیانی پر کارروائی کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا اطلاق کیاجائے کیونکہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے اس قانون کی تشریح کرنا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے پوچھا کہ کیا درخواست گزار نے عمران خان کی اہلیت کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا تھا؟۔ وکیل بولے کہ نہیں کیا تھا مگر یہ بات مجھے سپریم کورٹ آنے سے نہیں روکتی، تحریک انصاف کے سربراہ رکن قومی اسمبلی ہیں اور ان کی جماعت غیرملکی فنڈز لیتی ہے اس لیے اس کے خلاف عدالت عظمی آ سکتا ہوں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس چیز کے ثبوت درکار ہوں گے کہ تحریک انصاف نے امریکی کمپنی کے ذریعے غیرملکی ممنوعہ فنڈز حاصل کیے۔ اکرم شیخ نے کہاکہ تمام تفصیلات موجود ہیں کہ کب کتنے ڈالرز پاکستان منتقل کیے گئے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ فنڈز کس نے دیے۔ وکیل بولے کہ ثابت کروں گا دینے والے پاکستان کے شہری نہیں ہیں، یہ دستاویزات امریکا کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہیں، اگر دو ڈالرز بھی حاصل کیے تو غیر قانونی کام کیا گیا ہے۔

عدالت کے باہر مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں کی جانب سے میڈیا گفتگو پر لگی پابندی پر سوال اٹھائے گئے تو دوسرے دن کی سماعت کے آغاز پر وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ عدالت کے کہنے کے مطابق ہم نے مقدمے کے بارے میں میڈیا ٹاک نہ کی لیکن تحریک انصاف کے رہنماﺅں نے عدالتی احکامات کو نہیں مانا۔ جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ کیس کو رپورٹ کرنے کیلئے میڈیا مکمل آزاد ہے، مگر کوئی سیاسی رہنما سپریم کورٹ میں جاری سماعت کو استعمال کرتے ہوئے اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے، ہماری باتوں کو توڑ مروڑ کرعدالت اور ججوں کو بدنام نہ کیاجائے، کوئی تیسرا فریق ہمارے بارے میں گفتگو نہ کرے۔ وکیل اکرم شیخ بولے کہ حنیف عباسی تیسرا فریق نہیں بلکہ مقدمے میں درخواست گزار ہیں۔جسٹس عمر عطا نے کہا کہ سیاسی شخصیات کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ اس مقدمے کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرے، عدالتی کارروائی کی میڈیا میں تشریح کرنی ہے تو بہترہے کہ وکیل بات کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ادب، آداب ہوں، لحاظ اور وضع داری ہو، یہ ادارے کیلئے اہم ہے۔ ایک امریکی قانونی مفکر نے کہاتھاکہ سیاسی سوالات عدالتوں میں لانا درست نہیں ہے اور عدالتوں کو ایسا مقدمات نہیں سننے چاہئیں، لیکن اب یہ سیاسی سوالات ہمارے یہاں عدالت میں آگئے ہیں توہم ان کو دیکھیں گے، ہم اپنے عدالتی فرائض پورے کریں گے، مگر اس طریقے سے کہ وضع داری اور ادارے کا وقار برقرار رہنا چاہیے۔

وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ عوامی نمائندگی کے قانون کی شق 32 کی جانب توجہ مبذول کراﺅں گا کیونکہ ممنوعہ غیرملکی فنڈز کے علاوہ بنی گالہ اراضی کی خریداری اور آف شور کمپنی بناکر لندن میں فلیٹ خریدنے کے معاملے پربھی عمران خان کی نااہلی چاہتا ہوں کیونکہ انہوں نے پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے ان معاملات پر جھوٹ بولا۔ اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے نیازی سروسز کمپنی کی ملکیت کو تسلیم کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ ایک تسلیم شدہ بات ہے مگر کیا کسی پاکستانی کے بیرون ملک جائیداد لینے پر کوئی پابندی ہے؟۔ وکیل بولے کہ کوئی بھی پاکستانی بیرون ملک جائیداد خرید سکتا ہے مگر ایسی جائیداد کا یہاں ٹیکس گوشوارے میں ظاہرکیا جانا ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جب بیرون ملک خریدی گئی جائیداد اس ملک کے قانون کے مطابق ہوئی تو پھر کیا مسئلہ ہوسکتاہے؟ اگر ٹیکس گوشوارے میں ظاہر نہیں کی گئی تو اس کے نتائج ہوسکتے ہیں، وہ کیا ہوں گے اس کو قانون کے مطابق دیکھیں گے، بیرون ملک کوئی کماتا ہے ، وہاں رہتا ہے، خرچ کرتا ہے، کیا اس پر کوئی پابندی ہے، یہ سوالات ذہن میں رکھیں اور پھر بتائیں کہ آپ کا اس پر مقدمہ کیاہے؟۔

(نوٹ: اب تک کی عدالتی کارروائی کو تین اقساط میں سمونے کی کوشش کی جائے گی)۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔