توحید سہیل کا اسکول اور بچوں کی کہانیاں


اس ملک کے مسائل کا حل تعلیم ہے۔ جب پاکستان پڑھ لکھ جائے گا تو ترقی بھی کرے گا۔ ابھی دیکھیں ناں اس ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے۔ لیکن یہ بچوں کو پڑھائے گا کون؟ یہ تو جی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم تو اپنے ٹیکس ادا کرتے ہیں اب اس سے زیادہ کیا کریں؟

ہم میں سے کتنے ہی لوگ اٹھتے بیٹھتے یہ گردان کرتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اس ضمن میں حقیقت میں کچھ کرنے کو تیار ہیں؟

اس کا جواب ہے توحید سہیل!

2015 کے اوائل میں تدریس کے شعبے سے وابستہ اس خاتون نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔ جی 11 کی کچی بستی والوں سے توحید نے ان کے بچوں کی پڑھانے کا وعدہ کیا۔ بستی والے پہلے کتنے ہی وعدے سن چکے تھے۔ کتنے لوگ تھے جو آئے تھے اور امید کی کرن دکھا کر کہیں کھو چکے تھے۔ لیکن توحید ان لوگوں میں سے نہ تھی۔ اگلے ہی دن سخت گرمی میں، کھلے آسمان کے نیچے، کچھ کرسیوں، کچھ کتابوں، اور ایک وائٹ بورڈ کے ساتھ توحید نے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ بستی والوں کا، ان کے دوستوں کا، خاندان والوں کا، وہاں کے مکینوں کا، اور وہاں سے گزرنے والوں کا خیال تھا کہ کچھ دن کا جوش ہے ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ پھر یہ خاتون بھی بہت سے اور لوگوں کی طرح تھک ہار کر یہ کام چھوڑ دیں گی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بچوں کی تعداد 2 سے بیس ہونے میں کچھ وقت نہ لگا۔ بستی کے سامنے واقعہ ایک گھر کے مکینوں نے اپنے گیراج کے دروازے توحید اور ان کے بچوں پر کھول دیے۔ کچھ گرمی کا زور کم ہوا اور ایک آدھا پنکھا بھی لگ گیا۔

توحید نے کبھی کسی سے اسکول چلانے کے لئے ایک روپیہ بھی طلب نہیں کیا۔ اپنی جیب سے وہ کتابیں کاپیاں اور پنسلیں خریدتی رہیں۔ جب لوگوں کو احساس ہونے لگا کہ توحید اپنے عزم کی پکّی ہیں تو خود بخود ان کے دوستوں، خاندان والوں، اور کولیگس نے عطیات دینے شروع کر دیے اور یہ اسکول چل نکلا۔ آج اس اسکول میں 40 سے زیادہ بچے ہیں اور بے شمار ویٹنگ لسٹ پر ہیں۔ بچوں کی عمریں 4 سال سے لے کر 15 سال تک ہیں۔ توحید ان کو نرسری سے لے کر جماعت دوم تک کا نصاب پڑھا رہیں ہیں۔ پچھلے دو سالوں میں توحید نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ یہاں پڑھنے والے بچوں نے کبھی چھٹی نہیں کی۔

یہ بچے کون ہیں؟ کچی بستی کے مکین یہ بچے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لئے اسی علاقے کے پوش گھروں میں کام کرتے ہیں۔ گھروں میں جھاڑو پونچھا سے لے کر کھانا پکانے کا کام ان سے لیا جاتا ہے۔ جو گھروں میں کام نہیں کرتے وہ مرکز میں گاڑیاں دھوتے ہیں، اتوار بازار میں ٹھیلے لگاتے ہیں، اور گھر گھر جا کر چیزیں بیچتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے بچے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اپنے ماں باپ، اور مالکوں کے زبانی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ ہیں یہاں پڑھنے والے بچے! یہ بچے اس لئے چھٹی نہیں کرتے کیوں کہ یہ اسکول نہیں ہے، یہ ان کے لئے ایک پناہ گاہ ہے۔ مالکوں کے نہ ختم ہونے والے کاموں سے ایک پناہ گاہ، تشدد سے بچنے کی ایک پناہ گاہ، ماں باپ کی ڈانٹ پھٹکار اور مار سے بچنے کی ایک پناہ گاہ۔ یہ اسکول امید کی ایک کرن ہے اس گھپ اندھرے میں جس میں وہ اپنی آنے والی زندگی دیکھتے تھے۔ توحید ایک استاد نہیں ہیں ایک سرپرست ہیں، ان بچوں کی دوست ہیں اور ان کے لئے وہ روشنی ہیں جو گھپ اندھیرے میں ان کو راہ دکھاتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  سائنس کی درسی کتابوں میں سائنس پڑھائی جا رہی ہے کہ دینیات؟

لیکن کیا یہ سب اور لوگ بھی دیکھتے ہیں؟ جواب ہے نہیں۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ توحید کا وہاں بچوں کو پڑھانا وہاں کے کچھ مکینوں کو سخت نا گوار گزرتا ہے۔ جہاں ان نیک دل لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے ان اپنا گیراج پڑھانے کے لئے دیا، عطیات کی بوچھاڑ کی، اور وقتاً فوقتاً اسکول کے لئے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کیں، وہیں کچھ کٹھور دل بھی موجود ہیں جو اس اسکول اور توحید کی کوششوں کو محض وقت کا زیاں سمجھتے ہیں۔ بدقستمی سے جس گھر میں یہ اسکول قائم تھا اس کے مکینوں کو کہیں اور جانا پڑا۔ اسکول دوبارہ سے دھوپ میں کھلے آسمان کے نیچے واپس آ گیا۔ سخت گرمی کی وجہ سے توحید نے ایک عارضی بانس کا چھپپر کھڑا کر لیا۔ جب یہ چھپپر بن رہا تھا تو ایک محلے دار آ کر بولے “یہ آپ ٹینٹ جو لگا رہے ہیں اس سے ہمارے گھر میں شور آے گا ذرا کچھ دور کر لیجیے”۔ اسی گھر میں توحید کے اسکول میں پڑھنے والا ایک بچہ کام بھی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ چھپر سڑک کے پار کچی بستی میں بنایا جا رہا تھا نہ کہ کسی گھر کے پاس۔ اسلام آباد کے سرکاری گھروں میں گھرا یہ ٹینٹ اسکول وہاں کے مکینوں کے لئے شور کا سبب ہے۔ جن کے اپنے بچے اے سی والے اسکول، گاڑی اور گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے ان کے دل کسی کے بچے کے تپتی دھوپ میں پڑھنے پر نہیں دکھتے۔

اسی بارے میں: ۔  آخر کار سعودی مردوں کو پرفیکٹ عورت مل گئی

ان بچوں کا ایک چھوٹا سا سپورٹس ڈے پاس کے پارک میں کروانے کی کوشش کی گئی تو ایک اور ایک خدائی فوج دار تشریف لائے۔ کہنے لگے “بھئی یہ بچے تو پارک گندا کر دیتے ہیں۔ آپ کسی این جی او کی ہوں گیں یقیناً۔ صفایاں تو ہمیں کروانی پڑتی ہیں”۔ غالباً ان صاحب کو کبھی ایلیٹ اسکولوں کے باہر کھڑی بڑی گاڑیوں سے کوڑا پھینکتے لوگ نظر نہیں آئے۔ پاس پڑے کوڑا دان سے باہر گری پیپسی کی بوتلیں اور برگر کے ریپر منہ چڑاتے دکھائی نہیں دیے۔ لیکن کیوں کہ یہ بچے صاف ستھرے کپڑے نہیں پہنتے تو یقیناً سارا گند انہی کا پھیلایا ہوا ہے۔۔۔

سچ تو یہ ہے کہ توحید نے یہ اسکول شروع کر کے مکینوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایک خاتون نے اپنی دس سال کی نوکرانی سے توحید کا نمبر طلب کیا۔ فون کرکے عرض کیا کہ ’’یہ جو آپ 2 گھنٹے بچی کو اسکول میں پڑھاتی ہیں ذرا اس کو کم کر کے 1 گھنٹہ کر دیجیے۔ میرے چار بچے ہیں۔ میرے لئے ان کو اکیلے سنبھالنا مشکل ہے۔ ویسے تو میں چاہتی ہوں یہ اپنی تعلیم مکمل کرے لیکن ہماری بھی مجبوری دیکھیں ناں۔ ہم کیسے گزارا کریں؟ ہم ذیادتی والے لوگ نہیں ہیں۔ مبلغ 4000 بچی کو دیتی ہوں۔ صبح 8 بجے سے صرف رات کے 10 بجے تک بچی کام کرتی ہے۔ اور تو اور سنڈے کی چھٹی اور کھانا وانا بھی میں کرتی ہوں۔ تو آپ کی مہربانی اپنے اسکول کا ٹائم ذرا 1 گھنٹہ کر دیجیے تاکہ یہ وقت پر واپس آ سکے۔‘‘

یہ پڑھے لکھے وہ لوگ ہیں جو ان بچوں پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں کہ اپنے بچے ان سے پلوا رہے ہیں۔ لیکن ان کے لئے اتنا نہیں کر سکتے کہ ان کو پارک میں کھیلنے دیں، اسکول میں پڑھنے دیں، تعلیم حاصل کرنے دیں، کچھ خواب دیکھنے دیں۔ توحید سچ کہوں آپ کی اصل لڑائی ناخواندگی سے نہیں بلکہ اس ملک میں بھرے ہوئے پڑھے لکھے کھاتے پیتے جاہلوں سے ہے۔ آپ ثابت قدم رہیں۔ ہم جیسے بہت سے خاموش پرستار آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آپ کی جدوجہد کو سلام!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔