ٹویٹ پر استعفے مانگنے والوں کے کھیل



ڈان لیکس کا معاملہ کیا تھا، ایک خبر تھی جس کے میڈیا میں پہنچنے کے بعد قومی سلامتی کے اداروں نے اپنے تحفظات ظاہر کیے، انکوائری کا مطالبہ ہوا کہ یہ خبر کس نے اور کیسے اخبار کو دی۔ حکومت نے انکوائری کمیٹی بٹھا دی۔ اس کمیٹی کے ادھورے نوٹیفیکیشن پر آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک معترض ٹویٹ آئی اور بعد میں رپورٹ مکمل ہونے پر اسے تسلیم کر لیا گیا اور ٹویٹ کو واپس لے لیا گیا۔ اس تسلیم و رضا میں ان کے لیے بہت صدمہ تھا جو گھر کی رونق کو ہمیشہ کسی ہنگامے پر ہی موقوف سمجھتے ہیں۔ سیاست کے کھیل میں کسی حد مخالفت سمجھ میں آتی ہے لیکن کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے قسم کا رویہ نری بددماغی ہے۔ افسوس ناک صورت حال ہے کہ اس رویے کا عظیم الشان مظاہرہ ڈان لیکس والا معاملہ ختم ہونے پر ہوا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا تفصیلی بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے وضاحت کر دی کہ ایک پریس ریلیز کو بنیاد بنا کر فوج اور حکومت کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا گیا حالانکہ ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا دوسرے پاکستانی کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومتی اقدامات کی تعریف کی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ بحیثیت ایک ادارہ، فوج جمہوریت کے فروغ میں کوشاں رہے گی اور جو اس کے لیے بہتر ہو گا وہ کرتے رہیں گے۔ وزیر اعظم کو فائنل اتھارٹی مانتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق وہ جو بھی حکم دیں اس پر عمل ہونا چاہئے۔

اب اس پر محترم اعتزاز احسن کا بیان آیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ کن اخلاقی گراونڈز پر دینا چاہئے، کس ادارے میں ایسی مثال موجود ہے کہ ایک بیان کو لے کر استعفیٰ دیا گیا ہو؟ سوئس کیسوں کا پنڈورا باکس کھلتا تھا، ریمنڈ ڈیوس والا بحران اٹھا، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن والا واقعہ ہوا، امریکیوں کو ویزے جاری ہوئے، سندھ میں آج تک کوئی ڈھنگ کا ترقیاتی کام نہیں ہوا، کسی نے کسی سے استعفیٰ مانگا؟ بات یہ ہے کہ اس طرح کے بیانات جو بظاہر بہت نڈر اور اور دبنگ قسم کے دکھائی دیتے ہیں ان کے پیچھے صرف ایک خواہش ہوتی ہے کہ جس کی مخالفت ہو رہی ہے وہ اتنا بھڑک جائے کہ ساری بساط چوپٹ کر دے۔ ایسا نہیں ہے، بحیثیت مجموعی پیپلز پارٹی کے پاس شاید کھونے کے لیے کچھ نہ ہو لیکن محترم آصف علی زرداری سے آج بھی معاملہ فہم لوگوں کو بہت سی اچھی امیدیں ہیں، ان کی جمہوریت سے وابستگی اس طرح کے بیانات سے ملیامیٹ نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ پھر اسی بیان کے اگلے حصے میں کہا گیا کہ حکومت مریم نواز کو بچانے میں کامیاب ہو گئی۔ گویا یہ طے ہو گیا کہ اصل مجرم محترمہ مریم نواز تھیں اور ان کے ملوث نہ پائے جانے پر بھی انہیں افسوس ہوا۔ ایک خبر تھی، صرف ایک خبر جس کی گرد بیٹھ چکی لیکن اچھالنے والے اچھالے چلے جاتے ہیں۔

محترم خورشید شاہ صاحب نہ جانے اصل ذمہ دار کسے قرار دے رہے ہیں اور انہیں کون سی سزا کس قانون کے تحت دلوانا چاہتے ہیں۔ گویا وہ ٹویٹ جو ریجیکٹ ہو چکا اسے شاہ صاحب اب تک اینڈورس کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم ہاو¿س کو کسی بھی بہانے سے ایک بار پھر ٹانگا جائے۔ لیکن وہ میرے خواب، میرے خواب، میرے خواب۔ ہماری نسل بچپن سے یہی کھیل دیکھ کر جوان ہوئی ہے، بڑے سے بڑا کوڑھ مغز بھی کسی سیاسی بیان کے پیچھے چھپی خواہشات جان سکتا ہے، اور وہ کیوں کی جاتی ہیں، یہ بھی جانتا ہے۔ اگلے الیکشن کے لیے پیپلز پارٹی کے پاس جو بھی تیاری ہو، ایک برس رہ گیا ہے، جیسے تیسے برداشت کیجیے، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ویسے یاد آیا وہ ایک میمو گیٹ بھی ہوتا تھا، ڈان لیکس پر بات کرنے والے اسے اتنی جلدی کیسے بھول گئے، وجوہات بھی آپ کے سامنے ہیں اور نتائج و عواقب بھی آپ کے دیکھے ہوئے ہیں، اس کے باوجود اگر بیانات کی چاند ماری ہی مقصود ہے تو فبھا۔

محترم عمران خان صاحب نے فوراً سہ ٹویٹی بیان جاری کیا جس کی رو سے ڈان لیکس قومی سلامتی کا معاملہ قرار پایا اور انہوں نے سفارش کی کہ بتایا جائے اس میں ایسا کیا تھا جو ’حل‘ کیا گیا۔ اور اس حل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے طاقتور کے لیے قانون کوئی اور ہے اور کمزور کے لیے دوسرا قانون ہے۔ ان دونوں کے درمیانی ٹویٹ میں ہیلری کلنٹن کے الیکشن ہارنے کی وجہ ان کی ای میل لیکس قرار دی گئیں اور یہ وہ بات ہے جو ہر بات کے پیچھے ہوتی ہے اور وہی ساری بات ہوتی ہے۔ اگر یہ سمجھا جائے کہ ڈان یا پانامہ لیکس میں پھنسا کر نواز حکومت کو اگلے الیکشن میں ہرایا جا سکتا ہے تو یہ نری غلط فہمی ہے۔ اگلے الیکشن میں پیش کرنے کے لیے تحریک انصاف کے پاس بھی صرف بیانات ہیں جو ایک ارب درختوں یا دس ارب روپوں کے درمیان ڈولتے رہتے ہیں۔ کے پی میں کی گئی پولیس اصلاحات بہت گلیمرائزڈ کر کے پیش کی گئیں لیکن مشال خان کا واقعہ جس طرح ڈیل ہو رہا ہے اور ابھی دو دن پہلے جو ذہنی معذور نوجوان اندھا دھند فائرنگ سے مارا گیا ہے یہ سب کچھ دیکھ کر اصلاح فی الحقیقت نظر نہیں آتی۔ رجعت قہقری ہے اور روز افزوں شدید تر ہے۔ الیکشن کے پیمانے پر ہر چیز تولنے سے پہلے ذاتی پلڑا بھارا رکھا جائے تو نتیجہ بہتر آنے کا امکان ہوتا ہے۔

ایک انتہائی سادہ سا معاملہ ہے، نہ کسی کی ہار ہے، نہ کسی کی جیت ہے، محترمہ مریم نواز کو بچایا تو جب جائے اگر ان کا نام کہیں آیا ہو، وہ تو انکوائری رپورٹ تک میں کہیں نہیں تھا۔ ویسے بھی حکومت اپنے دو اہم ترین سیاست دان اس معاملے کی بلی چڑھا چکی ہے، مزید اس میں سے کیا کچھ اور کتنا نکالنا ہے؟ دوسری طرف ہیئت مقتدرہ کو محسوس ہوا کہ یہ ٹویٹ ان کی پروفیشنل اپروچ پر سوالیہ نشان بنا رہا ہے تو انہوں نے برملا وضاحت کر دی معاملہ صاف ہو گیا۔ وزیر اعظم کی سپرمیسی انڈورس کر دی، سو بسم اللہ، آئین کے مطابق طے شدہ بات ہے، اور یہ امر قابل تعریف ہے۔ کل کو بلاول وزیر اعظم بنیں، مریم بنیں یا عمران خان صاحب بنیں سبھی کو سپریم کمانڈ مانا جائے گا لیکن فی الحال یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔ سیاست دانوں کو اپنی اپنی باری پر ڈیلیور کرنے کی عادت اب ڈالنی ہو گی، خالی پیلی بیانات کی گرد اڑا کر سب لوگ محترم شیخ رشید جیسا مقام ہرگز نہیں حاصل کر سکتے، وہ اپنے فن میں یکتا ہیں اور اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔

ایک چیز ہمیں جاننا ہو گی۔ جمہوریت ایک ادارہ ہے اور وزیر اعظم اس ادارے کا ایک رکن ہے۔ یہ ایک سیٹ ہے جو عوام کا منتخب کردہ سپریم لیڈر سنبھالتا ہے۔ تو اگر اس سیٹ کے احترام کا دفاع کیا جائے گا، اس کے حق میں لکھا جائے گا، اس کے فیور میں بات کی جائے گی، تو یہ ہم سب کے ووٹوں کی طاقت مضبوط کرنے کے لیے ہو گا۔ اگر اس عہدے کی لالچ میں کوئی دوسرا ہمارے ووٹوں پر قدم رکھ کر الٹی سیدھی باتیں کرے گا تو درخواست کی جانی چاہئے کہ سرکار، یہ کھڑا اگلا الیکشن، یہ رہی وزیر اعظم کی سیٹ، یہ رہے آپ کے حلقے، ہم عوام سب غلام، لیکن امپائر کی انگلی کی طرف دیکھنا یا ایویں کھڑے کھڑے استعفے مانگ لینا یہ طریقے سیاست میں زیب نہیں دیتے، بہت مشکل سے یہ مقام اس بدقسمت ملک نے دیکھا ہے جہاں ایک منتخب حکومت اپنی ٹرم پوری کرتی ہے اور دوسری کو اس کی امید ہے۔ ورنہ تو پچاس پچپن برس جون ایلیا کے اسی شعر کی طرح کٹے تھے؛
اس کی امید ناز کا، ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجیے، عمر گزار دی گئی!

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 297 posts and counting.See all posts by husnain