مشال خان کے والد کی عمران خان پر تنقید ، چیف جسٹس آف پاکستان کا شکریہ


مشال خان کے والد اقبال خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ جنگل کا قانون نہیں بننے دیں گے لیکن حکومت نے ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

مردان یونیورسٹی میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننےکے بعد لاش کی بے حرمتی کیے جانے والے مشال خان کے والد نے مشال قتل کیس پر سوموٹو ایکشن لینے پر چیف جسٹس آف پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مشال کے والد اقبال خان نے کہا کہ میں سوموٹو ایکشن لینے پر چیف جسٹس کا شکر گزار ہوں۔ میرا بیٹا تو واپس نہیں آ سکتا لیکن میں دیگر مشال کو بچانا چاہتا ہوں۔

 انہوں نے کہا کہ مرکزی ملزمان کی گرفتاری سے پاکستان کا تصور بہتر ہو گا۔ مشال خان قتل کیس کے فنکار تو پکڑے گئے لیکن ہدایتکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئیے۔ اقبال خان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مشال خان قتل کیس کی ایف آئی آر تاحال درج نہیں کروائی۔

عمران خان نے ملاقات میں کہا تھا کہ جنگل کا قانون نہیں بننے دیں گے لیکن حکومت نے ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ مشال خان کے وکیل سلیم خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پولیس مشال خان قتل کیس میں بہانوں سے کام لے رہی ہے۔ مشال خان کے قتل کی اصل ذمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی اس کیس میں شامل تفتیش کیا جانا چاہئیے۔

اسی بارے میں: ۔  مفتی پوپلزئی دبئی میں ہیں

انہوں نے کہا کہ مردان پولیس پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں ہے ۔ مشال خان کے خلاف جلسوں کا این او سی پولیس کی جانب سے جاری کیا جا رہا ہے۔ ایک ماہ ہو گیا اس معاملے کو لٹکایا جا رہا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ مشال خان قتل کیس میں طاقتور مافیا ملوث ہے۔ پولیس نے بھی واقعہ کی بروقت رپورٹ درج نہیں کروائی جس سے یہ معاملہ مزید تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔