امبرٹو ایکو کے ناول ’فوکوکا پنڈولم‘ سے ایک اقتباس


aasim bakhshi”کیا تم کسی یونیورسٹی میں جاتے ہو یا پڑھائی وغیرہ کرتے ہو؟“
” مانو یا نہ مانو لیکن ضروری نہیں کہ یہ دونوں قضایا باہم متناقض ہوں۔ میں ٹمپلر فرقے پر ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کے آخری مراحل میں ہوں۔“
”کیا بکواس موضوع ہے،“اس نے کہا۔ ”میرا سمجھتا تھا کہ پاگل لوگ ہی اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں۔“
”نہیں، میں اصل چیز پڑھ رہا ہوں۔ ان پر چلنے والے مقدمے کی دستاویزات۔ خیر، تم ٹمپلر فرقے کے بارے میں کیا جانتے ہو؟“
”میں ایک اشاعتی ادارے کے لئے کام کرتا ہوں۔ ہمیں پاگل اور عاقل، دونوں قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کچھ عرصے بعد ایک مدیر کو خود بخود پاگلوں کی پہچان ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی بھی ٹمپلر فرقے کا موضوع چھیڑ دے تو وہ تقریباً ہمیشہ پاگل ہی ثابت ہو گا۔“
”کیا میں نہیں جانتا! ان کا نام ہی شیطانی ہے۔ لیکن تمام پاگل تو ٹمپلر کی بات نہیں کرتے۔ باقیوں کو تم کیسے پہچانتے ہو؟“

”میں ابھی وضاحت کرتا ہوں۔ میں نے تمہارا نام تو پوچھا ہی نہیں؟“

”کاسوبون۔“

”کاسوبون۔ وہ تو Middlemarch کا ایک کردار نہیں تھا؟“

”میں نہیں جانتا۔ نشاة ثانیہ کے دور میں اسی نام کا ایک ماہرِ لسانیات بھی گزرا ہے، لیکن میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں۔ “

”اگلا دور میری طرف سے ہو گا۔ دو اور جام دینا، پیلادے۔ اچھاتو قصہ یوں ہے کہ اس دنیا میں چار قسم کے لوگ بستے ہیں: بدحواس، احمق، گھامڑ اور پاگل۔ “

”اور اس میں سب شامل ہیں؟“

”ہاں بالکل۔ ہمارے سمیت۔ یا کم ازکم میرے سمیت۔ اگر تم بغور جائزہ لو تو ان اقسام میں ہر کوئی شامل ہو جاتا ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی وقت بدحواس، احمق، گھامڑ یا پاگل میں سے کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ ایک عام ذی شعور انسان ان تمام اجزا کا ایک مناسب مجموعہ ہوتا ہے، ان چار مثالی اقسام کا۔ “
”Idealtypen۔“
”بہت خوب۔ تو تم جرمن جانتے ہو؟“
”بس اتنی کہ کتابیات نگاری کے لئے کام چل جائے۔“
Umberto Eco”جب میں اسکول میں تھا تو کہا جاتا تھا کہ جسے جرمن آتی ہے وہ کبھی گریجویشن نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ ایک عمر لگ جاتی تھی جرمن آتے آتے۔ سنا ہے آج کل یہی معاملہ چینی زبان کے ساتھ ہے۔ “
”میری جرمن اتنی اچھی نہیں لہٰذا گریجویشن کر ہی لوں گا۔ لیکن واپس تمہاری زمرہ بندی کی طرف آتے ہیں۔ غیرمعمولی ذہنوں کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ مثال کے طور پر آئن سٹائن؟“
” ایک غیرمعمولی ذہن ان میں سے ایک جزو کو پوری چکا چوند سے اس طرح استعمال کرتا ہے کہ دوسرے اجزا کو اسے لئے ایندھن کے طور پر استعمال کرتا ہے۔“ وہ اپنے جام کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا۔ ”کیا حال ہے جانم،“ اس نے کہا۔ ”تمہاری وہ خود کشی کی کوشش کہاں تک پہنچی ؟“
” کہیں نہیں،“ لڑکی نے سامنے سے گزرتے ہوئے جواب دیا۔”میں اب اپنی مدد آپ کی خاطرایک جگہ کچھ لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگی ہوں۔“
”اچھا ہے، تمہارے لئے،“بیلبو نے کہا۔ پھر واپس میری طرف مڑا۔ ”یقینا بندہ کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر اجتماعی خود کشی بھی تو کر سکتا ہے۔ “
”واپس پاگلوں کے موضوع پر آو¿۔“
”دیکھو میری بات کو بہت لغوی انداز میں نہ دیکھو۔ میں پوری کائنات کو کسی ضابطے میں باندھنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ میں صرف اشاعتی ادارے کے تناظر میں ایک پاگل کی بات کر رہا ہوں۔یہ بس ایک وقتی سی تعریف ہے۔“
’ٹھیک ہے۔ میری باری۔“
”ٹھیک ہے، پلادے، برف کم۔ ورنہ بہت جلدی خون میں مِل جاتی ہے۔ بدحواسوں کی بات کرتے ہیں۔بدحواس بات تک نہیں کر سکتے، وہ بس کچھ ہکلاتے ہیں یا بڑبڑاتے ہیں۔ تم نے دیکھا ہی ہو گا،جیسے وہ آدمی جو بدحواسی میں اپنے ماتھے پر آئس کریم مار لیتا ہے یا گھومتے دروازے میں غلط جانب سے داخل ہو جاتا ہے۔“
”یہ ممکن ہی نہیں۔“

”بدحواسوں کے لئے ممکن ہے۔ لیکن بدحواسوں سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں: یہ کبھی اشاعتی اداروں کے دفاتر کا رخ نہیں کرتے۔ تو ان کا ذکر چھوڑو۔ “
”ٹھیک ہے۔“
”احمق ہونا ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ یہ ایک قسم کا سماجی طرزِ عمل ہے۔احمق وہ ہے جو ہمیشہ اپنے جام سے باہر کی بات کرتا ہے۔ “
”کیا مطلب؟“
”اس طرح۔“ اس نے سامنے کاو¿نٹر پر پڑے جام کی طرف اشارہ کیا۔ ”وہ اپنے جام کے اندر موجود چیز کی بات کرنا چاہتا ہے لیکن کسی نہ کسی طرح اس میں ناکام ہوتا ہے۔ یہ وہ آدمی ہے جو ہمیشہ اپنی ہی د±م پر پیر رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ کسی ایسے بندے سے علیک سلیک کی خاطر اس کی بیوی کا حال پوچھ بیٹھے گا جس کی بیوی اسے ابھی ابھی چھوڑ کر گئی ہو۔ “
”ہاں، میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں۔“
”احمقوں کی بڑی مانگ ہے، بالخصوص میل جول کے موقعوں پر۔ وہ ہر ایک کو شرمندہ کرتے ہیں لیکن گپ شپ کے لئے موضوع فراہم کر دیتے ہیں۔ اپنی مثبت شکل میں وہ سفارت کار بن جاتے ہیں۔ عین کسی سے غلطی سرزد ہونے کے موقع پر جام سے باہر کی بات کرنا موضوع تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ لیکن احمقوں سے بھی ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ کبھی تخلیقی نہیں ہوتے، ان کی تمام فن کاری مانگے کی ہوتی ہے، لہٰذا وہ کبھی ناشرین کو مسودے جمع نہیں کراتے۔ احمقوں کا یہ دعوی نہیں ہوتا کہ بلیاں بھونکتی ہیں لیکن وہ اس وقت بلیوں کا موضوع چھیڑ دیتے ہیں جب ہر کوئی کتوں کی بات کر رہا ہوتا ہے۔ وہ گفتگو کے تمام اصول توڑتے چلے جاتے ہیں اور جب آزادی کی انتہا پر ہوں تو پرشکوہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک مرتی ہوئی نوع ہے، تمام بورژوا اخلاقیات کی تجسیم۔ انہیں تو مادام ورٹ ڈورین (Verdurin) کی بیٹھک میں ہونا چاہیئے یا پھر کہیں گہیرمونت (Guermantes) کے ساتھ۔ کیا تم طالب علم اب بھی ایسی چیزیں پڑھتے ہو؟“
”میں تو پڑھتا ہوں۔“
04”بس پھر یوں سمجھ لو کہ احمق کوئی ژواکیم مورات (Joachim Murat)ہے جو اپنے افسروں کی پریڈ کا معائنہ کر رہا ہے۔ وہ اپنے سامنے مارتینیک (Martinique)سے تعلق رکھنے والے ، سینے پر میڈل سجائے ایک افسر کو دیکھتا ہے۔ ’کیا تم سیاہ فام ہو؟‘ مورات پوچھتا ہے۔ ”جی جناب!“ وہ افسر جواب دیتا ہے۔ اور مورات کہتا ہے:’شاباش، شاباش، جاری رکھو!‘ یا اسی طرح کچھ۔ تم میری بات سمجھ رہے ہو نا؟معاف کرنا لیکن آج میں اپنی زندگی کے ایک تاریخی فیصلے کی خوشی منا رہا ہوں۔ میں نے پینا ترک کردیا ہے۔ اک اور دور؟ جواب نہ دینا، تم مجھے شرمندہ کر دو گے۔ پلادے!“
”اور گھامڑ؟“
”آہ، گھامڑ کبھی غلطی نہیں کرتے۔ ان کا استدلال خلط ملط ہوتا ہے۔ اس آدمی کی طرح جو کہتا ہے کہ تمام کتے پالتو ہوتے ہیں اور تمام کتے بھونکتے ہیں، اور چونکہ بلیاں بھی پالتو ہوتی ہیں لہٰذا وہ بھی بھونکتی ہیں۔ یا یوں کہ ایتھنز کے تمام باسی فانی ہیں اور پیرایوس کے تمام رہنے والے فانی ہیں لہٰذا پیرایوس کے رہنے والے تمام لوگ ایتھنز کے باسی ہیں۔ “
”جو کہ وہ ہیں“۔
”ہاں، لیکن صرف حادثاتی طور پر۔ گھامڑ کبھی کبھار درست بات بھی کرتے ہیں لیکن ان کا استدلال غلط ہی ہوتا ہے۔ “
”تمہارا یہ مطلب ہے کہ غلط بات کہنے میں کوئی مسئلہ نہیں جب تک استدلال درست ہو۔“
”ظاہر ہے۔ ورنہ ذی شعور حیوان ہونے کا مطلب ؟“
”تمام عظیم بن مانس حیات کی پست تر انواع سے ارتقا کا نتیجہ ہیں ، انسان بھی حیات کی پست تر انواع سے ارتقاکا نتیجہ ہے، لہٰذا انسان ایک عظیم بن مانس ہے۔ “
”بہت خوب۔ اس طرح کے تمام دعووں کو دیکھ کر شک پڑتا ہے کہ کچھ غلط ہے لیکن کیا اور کیوں، یہ واضح کرنا محنت طلب ہے۔ گھامڑ عیار ہوتے ہیں۔ تم احمق کو فوراً شناخت کر لو گے (بدحواس کو تو خیر چھوڑو) لیکن گھامڑ کا استدلال تقریباً تمہارے جیسا ہی ہوتا ہے، دونوں کے بیچ لامتناہی حد تک کم فاصلہ ہے۔ گھامڑ منطقی مغالطوں کا ماہر ہوتا ہے۔ ایک مدیر کے لئے یہ بری خبر ہے۔ گھامڑ کی شناخت میں اس کی عمر لگ سکتی ہے۔ بہت سے گھامڑوں کی کتابیں شائع ہوتی چلی جا رہی ہیں کیوں کہ وہ پہلی نظر میں بہت معقول لگتے ہیں۔ مدیر گھامڑ چھانٹنے پر تو مامور نہیں۔ اگر سائنسی اکیڈمیاں یہ نہیں کر رہیں تو اسے کیا پڑی ہے؟“
”فلسفی بھی ایسے ہی ہیں۔ مثال کے طور پر سینٹ آنسلم کا وجودی استدلال سراسر گھامڑ پن ہے۔ خدا کا ہونا لازم ہے کیوں کہ میں اسے ایک ایسی ہستی کے طور پر تصور کر سکتا ہوں جو بشمول خاصیتِ وجود ہر اعتبار سے کامل ہو۔سینٹ نے فکر میں کسی شے کے ہونے اور حقیقت میں کسی شے کے ہونے کو خلط ملط کر دیا ہے۔ “
” یہ بات درست ہے لیکن گانیلن کا لکھا گیا ردّ بھی تو گھامڑ پن ہی ہے۔ میں سمندر میں ایک جزیرے کو تصور کر سکتا ہوں چاہے وہ اصل میں وجود نہ رکھتا ہو۔ وہ امکانی تصورات اور ناگزیر تصورات کو خلط ملط کر رہا ہے۔“
”گھامڑوں کے بیچ مقابلہ۔“
”بالکل۔ اور خدا اس مقابلے کے ایک ایک منٹ کا حظ اٹھاتا ہے۔ وہ آنسلم اور گانیلن کو گھامڑ ثابت کرنے کے لئے ناقابلِ تصور ہستی بننے کا انتخاب کرتا ہے۔ تخلیق کا کیا ہی ارفع مقصد ہے، یا یوں کہہ لو کہ خدا اسی لئے موجود ہے کہ کونیاتی گھامڑ پن کو آشکار کیا جا سکے۔“
”ہم گھامڑوں میں گھرے ہوئے ہیں۔“
”میرے اور تمہارے علاوہ ہر کوئی گھامڑ ہے۔ بلکہ اگر گستاخی نہ سمجھو تو یوں کہوں کہ تمہارے علاوہ۔ “
”نہ جانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ نظریہ گوڈل کا اس سارے مسئلے سے کوئی تعلق ہے۔“
”میں کیاجانوں، میں تو ایک بدحواس ہوں۔پلادے!“
”میری باری۔“
”کوئی مسئلہ نہیں، ہم آدھے آدھے کر لیں گے۔ کریٹ کے اپیمنیدس کا قول ہے کہ کریٹ کے تمام باسی جھوٹے ہیں۔ یہ یقیناً سچ ہو گا کیوں کہ وہ خود بھی کریٹ ہی کا رہنے والا ہے اور اپنے ہم وطنوں سے خوب واقف ہے۔“
” یہ گھامڑ پن پر مبنی تفکر ہے۔“
”سینٹ پال۔ ٹائٹس کے نام خط۔ دوسری طرف اپیمنیدس کو جھوٹا ماننے والے تمام لوگوں پر لازم ہے کہ وہ یہ سمجھیں کہ کریٹ کے تمام لوگ جھوٹے نہیں ہیں، لیکن کریٹ کے باسی کریٹ کے باسیوں پر بھروسہ نہیں کرتے لہٰذا کریٹ کا کوئی بھی باسی اپیمنیدس کو جھوٹا نہیں کہتا۔ “
”کیا یہ گھامڑ پن نہیں؟“
”تم فیصلہ کرو۔ میں تو بتا چکا ہوں کہ ان کی شناخت بہت مشکل ہے۔ گھامڑ تو نوبل انعام بھی جیت سکتےہیں۔“
”ذرا رکو۔ ان سب میں سے جو یہ نہیں مانتے کے خدا نے سات دنوں میں کائنات تخلیق کی، کچھ بنیاد پرست نہیں ہیں۔ لیکن ان سب میں سے جن کا یہ ماننا ہے کہ خدا نے سات دنوں میں یہ کائنات تخلیق کی، کچھ بنیاد پرست ہیں۔ لہٰذا جو یہ نہیں مانتے کہ خدا نے سات دنوں میں کائنات تخلیق کی، کچھ بنیاد پرست ہیں۔کیسا ہے؟“
”میرا خدایا، اگر میں سچ سچ کہوں تو میں نہیں جانتا۔ گھامڑ پن ہے یا نہیں؟“
”یقیناً ہے، چاہے یہ سچ بھی ہو۔ یہاں قیاسِ استخراج کے ایک بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہو رہی ہے: عمومی نتائج دو مخصوص قضایا سے اخذ نہیں کئے جا سکتے۔“
”اور اگر تم گھامڑ ہوئے تو ؟“
”تو میں تو ایک شاندار معیت میں ہوں گا۔ “
”تم ٹھیک کہتے ہو۔ اور شاید ہم سے مختلف کسی منطقی نظام میں ہمارا گھامڑ پن دانشمندی کہلائے۔منطق کی تمام تاریخ گھامڑ پن کے کسی قابلِ قبول تصور کی تعریف کی کوششوں سے عبارت ہے۔ جو ایک بہت ہی وسیع منصوبہ ہے۔ ہر عظیم مفکر کسی اور کے نزدیک گھامڑ ہے۔“
”فکر گھامڑ پن کا ایک منظم اظہارہے۔“
”زبردست۔دو بج گئے ،پلادے کی جگہ بس کسی بھی وقت بند ہوا چاہتی ہے اور اب تک ہم پاگلوں پر نہیں پہنچے۔“
”بس میں اسی پر آ رہا تھا۔ پاگل کو باآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔ وہ ایک ایسا گھامڑ ہے جو بس ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے۔ گھامڑ اپنا نظریہ ثابت کرتا ہے، اس کے پاس بہرحال ایک منطق ہوتی ہے چاہے وہ کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو۔ لیکن پاگل کا منطق سے کچھ لینا دینا نہیں، وہ چور راستوں سے مدد لیتا ہے۔ اس کے ہاں کوئی بھی چیز کسی بھی چیز کے اثبات میں لائی جا سکتی ہے۔ ایک پاگل سر تاپا پیش قیاسی مفروضات میں جکڑا ہوتا ہے اور اس کے سامنے آنے والی ہر حقیقت اس کے پاگل پن کو ثابت کرتی چلی جاتی ہے۔ آپ عقلِ عامہ کے ساتھ اس کے کھلواڑ اور اس کے القائی دعووں سے اسے پہچان سکتے ہیں، اور اس واقعے کی مدد سے بھی کہ جلد یا بدیر وہ ٹمپلر فرقے کا موضوع چھیڑ ہی دیتا ہے۔
”ہمیشہ؟“
”ایسے پاگل بھی ہوتے ہیں جو ٹمپلروں کی بات نہیں چھیڑتے لیکن جو چھیڑتے ہیں وہی سب سے زیادہ عیار ہیں۔شروع میں وہ بالکل ٹھیک ٹھاک لگتے ہیں لیکن پھر اچانک۔۔۔“ ٹمپلر فرقے کا ذکر چھڑا تو ابھی کل ہی کی بات ہے ایک شخص مجھے اسی موضوع پر ایک مسودہ دے گیا۔ ایک پاگل، لیکن چہرہ انسانوں جیسا۔ کتاب کی ابتدائ تو کافی معقول ہے۔ تم دیکھنا پسند کرو گے؟“
”مجھے بہت خوشی ہو گی۔ شاید میں اس میں سے کچھ اپنے مقالے کے لئے بھی استعمال کر سکوں۔“
”مجھے اس پر شک ہی ہے۔ لیکن اگر آدھا گھنٹہ نکال سکو تو آ جانا۔ سینسیر رےناتو سے آتی ہوئی بس نمبر ۱۔ تمہارا آنا تم سے زیادہ میرے لئے مفید ہو گا۔ تم بتا سکو گے کہ کتاب کسی کام کی بھی ہے یا نہیں۔“
” تم مجھ پر کیوں بھروسہ کر رہے ہو؟“
”کون کہتا ہے کہ میں تم پر بھروسہ کر رہا ہوں؟ لیکن اگر تم آئے تو بھروسہ کر لوں گا۔ میں تجسس پر بھروسہ کرتا ہوں۔ “
ایک طالبعلم غصے سے لال ہوتا ہوا اندر داخل ہوا۔ ”کامریڈز! نہر کے اس طرف سے فاشسٹ آ رہے ہیں!“
”چلو ان کی خبر لیں،“ تاتاری مونچھوں والے اسی آدمی نے کہا جس نے مجھے کروپسکایا (Krupskaya) والی بات پر دھمکی دی تھی۔ ”آ جاو¿، کامریڈز!“ اور وہ سب باہر نکل گئے۔
”تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے ذرا شرمندگی محسوس کرتے ہوئے کہا۔ ”ہم بھی ساتھ دیں؟“
”نہیں،“ بیلبو بولا۔ ”پلادے جگہ خالی کروانے کے لئے یہ حربے استعمال کرتا ہے۔ ویگن میں پہلی رات گزارنے کے لئے تو میں بہت زیادہ نشے میں ہوں۔ شاید ایک دم ترک کر دینے کے باعث یہ مسئلہ ہو رہا ہے۔ اب تک میں نے جو بھی کہا وہ جھوٹ تھا۔ شب بخیر، کاسوبون۔ “


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 48 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

One thought on “امبرٹو ایکو کے ناول ’فوکوکا پنڈولم‘ سے ایک اقتباس

  • 28-02-2016 at 8:20 pm
    Permalink

    Maza Aa gaya Bakhshi sb

Comments are closed.