استاد کی دو کوڑی کی عزت اور ڈنڈے والے حاکم


آپ جانتے ہی ہوں گے کہ اب وہ جاہلیت کا دور تو رہا نہیں ہے جب استاد کی ایسی بدمعاشی اور دبدبہ ہوا کرتا تھا کہ والدین اپنے بچے کو اس کے حوالے کرتے ہوئے کہتے تھے کہ چمڑی تمہاری، ہڈیاں ہماری۔ یعنی بس ہڈی مت توڑنا، باقی جو مرضی سلوک کرو بچے کی تربیت اب تمہارے حوالے ہے، ہم تمہارے ڈر سے اف نہیں کریں گے۔ اساتذہ کا ایسا احترام ہوا کرتا تھا کہ استاد کو سڑک پر دیکھ کر شاگرد اپنی سواری سے اتر کر احترام سے کھڑے ہو جاتے تھے۔ پولیس کی اندھی طاقت سے ٹکرا جانے والے طلبہ کے مشتعل جلوس کو استاد دو لفظوں کا حکم دیتا تھا اور وہ چپ چاپ منتشر ہو جاتا تھا۔

شکر ہے کہ اب جہالت کا یہ دور ختم ہوا۔ یہ استاد خود کو بادشاہ سمجھنے لگے تھے۔ سمجھتے تھے کہ جو چاہے کریں ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ ہمارے دوراندیش بادشاہ اورنگزیب نے اسی لئے تو اپنے مقید باپ شاہجہاں کی بچوں کو پڑھانے کی خواہش مسترد کر دی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ استاد کتنے شریر لوگ ہوتے ہیں۔ اب بادشاہ اورنگ زیب کی ایک روحانی بیٹی عفت النسا نامی کوٹ مومن کی بادشاہ مقرر کی گئی ہیں کہ رتبہ ان کا اسسٹنٹ کمشنر کا ہے اور وہ قانون کی حکمرانی کا عَلم قوم کے اس بگڑے ہوئے طبقے یعنی اساتذہ پر بھی بلند کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔

ٹی وی خبروں، اور کوٹ مومن کے مقامی اساتذہ کے مطابق، قانون کی یہ عظیم رکھوالی کچھ عرصہ قبل ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی اسسٹنٹ ڈائریکٹری کر رہی تھی اور اساتذہ اس کے تلوے چاٹتے تھے۔ یہ ہمارا بیان نہیں ہے بلکہ کوٹ مومن کے بدمعاش اساتذہ کے مطابق عفت النسا صاحبہ نے خود ان اساتذہ کو ان کا مقام یاد دلاتے ہوئے یہ سنہرے الفاظ کہے ہیں۔ تو بہرحال وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹری سے اسسٹنٹ کمشنری کرنے لگیں اور کوٹ مومن ان کی قلمرو میں شامل ہوا۔

اب کل عفت النسا صاحبہ امتحانات میں چھاپہ مار کارروائی کر رہی تھیں کہ باغیوں کے گڑھ یعنی کوٹ مومن ڈگری کالج پہنچ گئیں۔ سیدھا پرنسپل کی کرسی پر قبضہ کر لیا اور راج کرنے لگیں۔ بگڑے ہوئے اساتذہ کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے ان کو حکم دیا کہ اپنا حاضری رجسٹر تو دو، دیکھوں تو کوئی کام کاج بھی کرتے ہو یا بس مفت کی روٹیاں توڑتے ہو۔ باغیوں کا سرغنہ ایک اظہر شاہ نامی پروفیسر تھا۔ قانون اٹھا لایا اور حجتیں پیش کرنے لگا کہ نہ تو پرنسپل کی سیٹ پر بیٹھنا آپ کا استحقاق ہے اور نہ حاضری چیک کرنا۔ یہ آپ کے دائرہ اختیار سے باہر آتے ہیں۔ (نوٹ: اے سی اپنی تحصیل کا کوئی بھی سرکاری ادارہ چیک کر سکتا ہے مکمل اختیار رکھتا ہے۔ یکم جنوری سے جو اختیارات ان کو ملے ہیں یہ بھی ان میں شامل ہے)

مغل شہزادی صاحب اس پر لال پیلی ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کے سسرال میں علاقے کے نامی گرامی کوتوال گزرے ہیں اور میاں بھی تھانیدار رہے ہیں۔ کہیں بغاوت کا معمولی سا شائبہ بھی دیکھیں تو ترنت پولیس بلا لیتی ہیں۔ انہوں نے ڈگری کالج میں بھی پولیس بلا لی اور باغی پروفیسر اظہر شاہ کو تھانے اٹھا کر لے گئیں۔ اساتذہ اس زعم میں تھے کہ تعلیمی ادارے کی حدود میں پرنسپل حاکم ہوتا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر پولیس اندر قدم نہیں رکھ سکتی۔ ان کو علم ہو کہ یہ انگریز کے دور غلامی کی روایت تھی۔ اب نہ تو انتظامیہ غلام ہے اور نہ پولیس بلکہ وہ جو چاہے وہ کریں، وہ قانون قاعدے سے آزاد ہیں۔

یاد رہے کہ کوٹ مومن ادھر سرگودھے کی طرف واقع ہے جہاں کے قانون شکن مشہور ہیں۔ محمد خان ڈاکو کا نام آپ نے سنا ہی ہو گا۔ وہ سرگودھے کے نواح کا ہی تھا۔ یہ استاد بھی غنڈہ گردی پر اتر آئے۔ بدمعاشی کرنے لگے کہ ہم قانون پر چلیں گے۔ ہمارے پروفیسر کو چھوڑو۔ اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے شہزادی صاحبہ کے محل کے آگے دھرنا دے دیا کہ جب تک ان کا تبادلہ نہیں ہو گا وہ وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ بلکہ سرگودھا ٹیچرز ایسوسی ایشن نے تو ایف اے اور بی اے کے امتحانات لینے سے ہی انکار کر دیا ہے۔

کہاں اساتذہ کی یہ بدمعاشی اور کہاں ڈنڈے والوں کی کسر نفسی۔ ڈنڈے والے کہہ رہے ہیں کہ نہ تو کوئی پروفیسر گرفتار ہوا ہے اور نہ ہی ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ اب آپ خود انصاف سے خدا لگتی کہیں، ہم کوٹ مومن کے معزز تھانیدار کی معتبر گواہی پر یقین کریں یا پھر ضلعے بھر کے ان بدمعاش اساتذہ کی؟

اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سیانے بیوروکریٹ نے یہ من گھڑت اصول بھی بیان کر ڈالا کہ ’جس افسر کا دفتر ہو اس دفتر کی کرسی اسی کی ہوتی ہے، سینئر سے سینئر افسر بھی آئے گا تو سامنے بیٹھے گا، اگر کسی سینئیر افسر کو عقل ہو تو کسی جونئیر کے دفتر میں اس کی کرسی پر بیٹھنا اصل میں اپنے آپ کو ڈی گریڈ کرنا ہے‘۔ لیکن ان کا یہ اصول اس واقعے پر منطبق کرنا غلط ہے۔ شہزادی صاحبہ خود کو ہرگز بھی ڈی گریڈ کرنے کی مرتکب نہیں ہوئی ہیں۔ وہ تو محض اقبال کا شاہین بننے کی خواہاں تھیں جو کہہ گزرے ہیں کہ ’نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز، یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے‘۔ پرسوز جان والی اس سوختہ دل شہزادی نے خود کو ڈی گریڈ نہیں بلکہ اپ گریڈ کیا تھا کیونکہ ان کا اپنا گریڈ سترہ ہے اور پرنسپل کی جس کرسی پر وہ قابض ہوئیں وہ انیسویں گریڈ کی ہے۔

راوی بیان کرتے ہیں کہ اس سے کچھ عرصہ قبل کوٹ مومن میں ایک اور اسسٹنٹ کمشنر کا گزر بھی ہوا تھا کہ بخاری صاحب کہلاتے تھے۔ ایک دن ان کے جی میں آئی کہ اساتذہ قوم کی بیٹیوں کو اسلامی اخلاقیات پڑھانے سے قاصر ہیں۔ سو وہ گرلز ڈگری کالج میں بنفس نفیس طالبات کو اسلامی اخلاقیات کا درس دینے کو تشریف لائے۔ سترہ گریڈ کے اس اعلی افسر نے اپنے سامنے موجود سترہویں سے انیسویں گریڈ کی خواتین اساتذہ پر ان کی اخلاقی حالت واضح کرنے کے لئے بتایا کہ دیکھیں آپ تو یہ بھی نہیں جانتیں کہ ایک بڑا آدمی آپ کے سامنے آیا ہے تو آپ کو کھڑے ہو جانا چاہیے۔ اساتذہ تو ہوتے ہیں بدمعاش ہیں، خواہ خواتین ہی کیوں نہ ہوں، کہنے لگیں کہ کیا ازروئے اسلام خواتین پر کسی مرد کے احترام میں کھڑا ہونا واجب ہے؟ بدقسمتی سے اس پوائنٹ پر بخاری صاحب کا اسلامی علم ختم ہو گیا ورنہ ان خواتین اساتذہ کو خوب لیکچر دیتے۔ لگتا ہے کہ کوٹ مومن کوئی نہایت ہی بگڑی ہوئی جگہ ہے اور ادھر چن چن کر نابغے ہی اسسٹنٹ کمشنری کرنے بھیجے جاتے ہیں۔

سرگودھا ہے ہی ایسا علاقہ جہاں اساتذہ بدمعاشی کرتے پھرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہی ایک سابقہ ممبر اسمبلی کو جس کا بیٹا حالیہ ممبر اسمبلی تھا، ایک استاد کی بدمعاشی کا نشانہ بننا پڑ گیا تھا۔ استاد نے خود اپنی دونوں ٹانگیں توڑی ہوں گی اور نام ناحق اس معزز عوامی نمائندے کا بدنام ہو گیا تھا۔ ہمیں تو یہی گمان ہے۔ عوامی نمائندے اور سرکاری افسر تو بدمعاشی نہیں کرتے ہیں، بدمعاشی تو استاد کرتے ہیں۔

بہرحال اساتذہ کو اب معلوم ہو جانا چاہیے کہ ان کی بدمعاشی کا دور ختم ہوا۔ اب وہ ہڈی کیا بچے کی چمڑی کی طرف بھی نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ بچہ بڑا ہو کر اسسٹنٹ کمشنر بن سکتا ہے اور ان اساتذہ کی ساری ہیکڑی نکال سکتا ہے۔ یا اس سے بھی برا ہو سکتا ہے۔ یہ بچہ ڈنڈے والا بن سکتا ہے اور ان پر ناجائز اسلحے اور بلاسفیمی کا کیس درج کر کے ہتھکڑیاں ڈال سکتا ہے۔ آپ کو یقین نہیں آتا ہے تو کراچی کے پروفیسر حسن ظفر عارف یا ڈاکٹر ریاض سے پوچھ لیں۔ ڈاکٹر ریاض کی ابھی حال ہی میں ضمانت ہوئی ہے۔ پروفیسر اظہر شاہ صاحب اور سرگودھا کے دیگر اساتذہ بھی زر ضمانت جمع کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہو گا۔

اساتذہ کی عزت تو جاہل قومیں کرتی ہیں۔ ہم تو حاکم کی عزت کرنے والی قوم ہیں۔

اسی بارے میں: کوٹ مومن کی اسسٹنٹ کمشنر عفت النسا کا سرکاری موقف

نیچے وقت نیوز کی اس واقعے پر ویڈیو کوریج اور جوہر آباد پوسٹ گریجویٹ کالج کے اساتذہ کی طرف سے احتجاج کا پرچہ موجود ہے۔

 

اسی بارے میں: کوٹ مومن کی اسسٹنٹ کمشنر عفت النسا کا سرکاری موقف 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 665 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “استاد کی دو کوڑی کی عزت اور ڈنڈے والے حاکم

Comments are closed.