مستونگ میں دھماکا، 25افراد شہید، مولانا عبدالغفور حیدری زخمی


بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سڑک کنارے بم دھماکے میں25 افرادشہید جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جے یو آئی کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔شہید ہونے والوں میں مولانا عبدالغفوری حیدر ی کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔ ڈپٹی ایم ایس مستونگ اسپتال نے دھماکےمیں 25 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ 30 سے زائد زخمیوں کومستونگ اسپتال لایا گیا ہے۔

 پولیس کے مطابق دھماکا مستونگ میں اس وقت ہوا جب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری مدرسے میں دستار بندی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے۔ دھماکے کے بعد ریسکیو عملہ اور سیکورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔

 جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفورحیدری کا کہنا تھا کہ دھماکا انتہائی شدید نوعیت کا تھا، میں خیریت سے ہوں، میرے پورے جسم پر زخم آئے ہیں،ساتھیوں کےجاں بحق ہونے پرافسوس ہے۔ دھماکے کے بعد مستونگ سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں متعدد گاڑیوں کونقصان پہنچا جن میں سڑک کنارے گزرنے والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ ترجما ن بلوچستان حکومت انور الحق کا کڑنے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ جمعہ کی نماز کے بعد مولانا مسجد سے باہر آئے اور اس دوران دھماکا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا عبدالغفورحیدری کی حالت ٹھیک ہے اور انہیں کوئٹہ شفٹ کیا جارہا ہے۔

 صدرمملکت ممنون حسین نے مولانا عبدالغفور حیدری پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کاخاتمہ کرکے عوام کے مال وجان کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے مولانا کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ پر حملے اور دھماکےمیں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی مذمت اور اظہارافسوس کرتے ہوئے دھماکےکے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنےکی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے جے یو آئی (ف) کے رہنما مولاناعبدالغفورحیدری کی جلد صحت یا بی کی دعا بھی کی۔ ادھر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مستونگ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہارکیا ہے۔

 

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔