جمہوریت اور فکر و عمل کی آزادی


  سوال اگرچہ نیا نہیں مگر آج کل ایک بار پھر شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ معاشرہ مذہبی ہوتا جا رہا ہے اسی تیزی کے ساتھ اخلاق گرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب دراصل ہمارا تصور انسان ہے۔ اخلاقی ا صول ان انسانوں کے لیے ہوتے ہیں جو آزاد اور خود مختار ہوں، عزت نفس کے احساس سے مالامال ہوں۔ اعلیٰ اخلاق صرف ان انسانوں میںپائے جاتے ہیں جو آزاد فطرت کے مالک ہوں۔ غلامانہ ذہنیت رکھنے والے کبھی اعلیٰ اخلاق پر عمل پیرا نہیں ہو سکتے۔

ہم اس بارے میں عجیب کنفیوژن کا شکار ہیں۔ ایک طرف انسان کو اللہ کا نائب قرار دیتے ہیں لیکن دوسری ہی سانس میں انسان کے جاہل، لاچار اور مجبور محض ہونے پر دلائل کا انبار لگا دیتے ہیں۔ یہ صرف ہمارے ساتھ مخصوص نہیں۔ بنی نوع انسان کا زیادہ تر فکری سرمایہ انسانی آزادی اور شرف کی نفی کرنے پر مبنی ہے۔

آئیے اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ کیا خلیفہ سے مراد اللہ کا نائب ہونا ہے؟ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اس پر فرشتوں نے کہاکیا آپ اس میں وہ مخلوق بنائیں گے جو وہاں فساد کرے گی اور خون بہائے گی۔ ہمارے بہت سے مفسرین یہاں خلیفہ کے معنی نائب کے ہی بیان کرتے ہیں اور خلیفہ سے خلیفة اللہ مراد لیتے ہیں۔ اس میں خلیفة اللہ مراد لینے سے عربی زبان کس طرح روکتی ہے، یہ مسائل تو لغت ہائے حجازی کے ماہرین کے فیصلہ کرنے ہیں۔ ایک عام قاری کے طور پر میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فرشتوں نے خلیفہ کا مطلب نائب ہی سمجھا تھا؟ اور اگر انھوں نے اللہ کا نائب ہی سمجھا تھا تو پھر اللہ کے نائب کے متعلق ان کی رائے اس قدر خراب کیوں تھی۔

آیت پر تھوڑا غور اور توقف کرنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فرشتوں نے اس لفظ کو نائب کے معنوں میں نہیں لیا تھا بلکہ ایک ایسی مخلوق مراد لی تھی جو صاحب ارادہ و اختیار ہو گی اور جس کے پاس انتخاب کی آزادی ہو گی۔ اس اختیار اور انتخاب کی آزادی کو پیش نظر رکھتے ہوئے انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جہاں اختیار ہو گا وہاں اس کا غلط استعمال بھی ہو گا۔ اگر اختیار کا غلط استعمال ہو گا تو اس کے نتیجے میں خوں ریزی ہو گی اور فساد برپا ہو گا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی بات کو غلط قرار نہیں دیا بلکہ صرف یہ کہا میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہیں ہو گا کہ یہ ارادہ اور اختیار ہی ہے جو انسان کو دوسری مخلوقات سے ممیز کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو لائق تکریم قرار دیا ہے۔ یعنی ہر فرد اپنی جگہ ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ وہ زندگی میں نیکی یا بدی سے کوئی بھی راستہ انتخاب کرنے میں آزاد ہے۔ اس لیے ہر فرد اپنے عمل کا ذمے دار اور جواب دہ ہے۔ کوئی کسی دوسرے کے عمل کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور نہ اٹھائے گا۔

 کتنے افسوس کا مقام ہے کہ بنی نوع انسان کے زیادہ تر مفکرین نے انسانوں کو اعلیٰ اور ادنی کے درجوں میں تقسیم کرنے پر دلائل کا انبار لگایا ہے اور سیاہی کے دریا بہائے ہیں۔ عربی کا محاورہ ہے کہ العوام کالانعام۔ یعنی عوام ڈھور ڈنگروں کی طرح ہوتے ہیں۔ جس کے ہاتھ میں ان کی نکیل ہو گی وہ ان کو ادھر لے جائے گا یا جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو گی وہ ان کو اپنی مرضی کے راستے پر ہانکے گا۔ تاریخ انسانی کا بہت ہی ذہین انسان، افلاطون، بھی عام انسانوں کے لیے لیڈر کی اس قدر اہمیت کا قائل ہے کہ کسی کو کسی وقت بغیر لیڈر کے اذن کے کوئی کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ عام انسانوں کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ وہ سب سے کم قیمت پر جو چیز فروخت کرتے ہیں وہ اپنی آزادی ہوتی ہے۔ اہل اقتدار تحفظ فراہم کرنے کے نام پر آزادی سلب کرتے ہیں اور اہل مذہب جہنم کی آگ سے بچانے کا لالچ دے کر آزادی سے محروم کرتے ہیں۔

دوستوئیفسکی کے مشہور زمانہ ناول” کرامازوف برادران “میں ایک باب محتسب اعلیٰ پر ہے جو اہل مذہب کے رویے کو بہت عمدگی سے بیان کرتا ہے۔ محتسب اعلیٰ کہتا ہے: ”ہم آ خر کار انھیں[عام انسانوں کو] قائل کر دیں گے کہ وہ اپنے آپ پر نازاں نہ ہوں، ۔۔۔ ہم ان پر ثابت کر دیں گے کہ وہ کمزور ہیں۔ محض قابل رحم بچے ہیں لیکن یہ بچگانہ خوشی شیریں ترین ہوتی ہے۔ وہ خوف زدہ ہو جائیں گے، وہ ہمارا زبردست احترا م کریں گے اور ہمارے ساتھ اس طرح چمٹ جائیں گے جس طرح چوزے مرغی سے چمٹ جاتے ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ کر حیرت زدہ ہو جائیں گے۔۔۔ وہ ہمارے غیظ و غضب سے لرزہ بر اندام ہو جائیں گے،ان کے دماغوں میں بزدلی اور پست ہمتی بھر جائے گی، ان کی آنکھیں بچوں اور عورتوں کی طرح اشک آلود ہو جائیں گی، لیکن ہمارے ایک اشارے پر وہ ہنسنے، شگفتہ مزاجی کا مظاہرہ کرنے، خوشی و مسرت کا اظہار کرنے اور بچوں کی طرح ناچنے کودنے اور گانے لگیں گے۔۔۔ ہم انھیں گناہ کرنے کی بھی اجازت دے دیں گے کیونکہ وہ کمزور اور ناتواں ہیں اور گناہ کی اجازت مل جانے پر وہ ہمارے ساتھ بالکل اسی طرح محبت کرنے لگیں گے جس طرح کہ بچے کرتے ہیں۔ ہم انھیں بتائیں گے کہ ہر گناہ کی تلافی ہو جائے گی بشرطے کہ وہ ہماری اجازت سے کیا گیا ہو؛ ہم انھیں گناہ کرنے کی اجازت اس لیے دیں گے کیونکہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں اور جہاں تک گناہوں کی سزا کا تعلق ہے خیر ہم اس کا بار خود اٹھا لیں گے۔ اس پروہ محسنوں کی طرح ہماری پرستش شروع کر دیں گے جنھوں نے خدا کے سامنے ان کے گناہوں کا بوجھ خود اٹھا لیا ہے۔۔۔ وہ ہرچیز، ہر بات، ہر مسئلہ، ہر راز ہمارے پاس لائیں گے، ہم سب کچھ حل کر دیں گے، اور وہ ہمارے فیصلے دل و جان سے قبول کریں گے کیونکہ وہ اس ذاتی اور آزادانہ انتخاب کے عظیم بوجھ سے، جس کے نیچے وہ آج کل دبے ہوئے ہیں، اور اس بھیانک اذیت سے، جس میں وہ آج کل مبتلا ہیں، خلاصی حاصل کر لیں گے۔“ (اردو ترجمہ از شاہد حمید، ص 418)

انسانوں کی عزت نفس کو کچلنا، انھیں پست ہمت بنانا اور کیڑے مکوڑوں کی طرح اپنے سامنے زمین پر رینگنے پر مجبور کرنا اہل مذہب اور اہل اقتدار کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ اصحاب فکر کی ایک بہت بڑی تعداد بھی اس کار بد میں ان اہل اقتدار کی شریک رہی ہے۔ افلاطون سے لے کر دور حاضر تک کتنے ہی فلسفی ہیں جو اس بات کی تبلیغ کرتے ہیں کہ انسان کی عقل کی کوئی وقعت نہیں۔ اسے بس کسی نہ کسی اتھارٹی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ عقل اسی لیے گستاخ کہلاتی ہے کہ وہ سوال کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ سوال اٹھانا اہل مذہب کے نزدیک گمراہی اور اہل اقتدار کے نزدیک سرکشی کی علامت ہوتا ہے۔

آج کل بعض لوگ سائنس اور نفسیات سے دلائل لاتے ہوئے انسان کی آزادی کو فریب اور واہمہ قرار دیتے ہیں اور یہ اصرار کرتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہے وہ انسان کے جینز ( genes)میں ہے۔ یہ سائنس کا بہت غلط اور ناروا استعمال ہے۔ جینز کا تعلق انسان کی جسمانی ساخت سے ہوتا ہے یعنی اس کا قد کتنا ہو گا، اس کی آنکھوں اور بالوں کا کیا رنگ ہو گا، اسے کس قسم کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ نیکی یا بدی، راستی یا چالبازی کے کوئی جینز نہیں ہوتے۔ جدید نظریہ ارتقا کے بانیوں میں سے ایک سائنس دان ڈوبژ نسکی نے کہا تھا کہ زبان کے لیے کوئی جینز نہیں ہیں۔ زبان بولنے کی صلاحیت طبعی ہے لیکن انسانی بچہ کون سی زبان بولے گا، اس کا فیصلہ اس کا ماحول کرتا ہے۔ اگر کسی انسانی بچے کو پرورش پانے کے لیے انسانی ماحول میسر نہیں آئے گا تو وہ کوئی بھی زبان بولنے سے قاصر ہو گا۔

اگرچہ جینز کا تعلق انسانی بدن کی ساخت کے ساتھ ہے لیکن مسٹریونیورس بھی بنا بنایا ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اسے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر یہ دعویٰ ہے کہ انسانی علوم، اخلاق و اقدار بھی جینز کا نتیجہ ہیں یعنی کسی کا سائنس دان اور کسی کا شاعر بننا بھی جینز کا شاخسانہ ہے، توکسی بچے کا، جس نے مستقبل میں سائنس دان بننا ہو، جین لے کر اسے ڈی کوڈ کرکے یہ بتا دیا جائے کہ وہ مستقبل میں کون سی نئی تھیوری پیش کرے گا اور اس کی بنا پر نوبل انعام کا حق دار ٹھہرے گا، یا کوئی بچہ، جس نے شاعر بننا ہو، کون سی غزلیں اور نظمیں لکھے گا۔ اگر کسی دن ایسا ہو گیا تو مجھے یہ تسلیم کرنے سے کوئی انکار نہیں ہو گا کہ انسان کی آزادی محض ایک واہمہ یا علت و معلول کے سلسلے سے ہماری عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کسی فطرت پر پیدا نہیں کیا بلکہ اسے اختیار اور انتخاب کی آزادی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسی میں شرف انسانی مضمر ہے۔ اختیار اور انتخاب کی آزادی کی سب سے بڑی دلیل گزشتہ چند ہزار سال کی انسانی تاریخ ہے۔ اس عرصے میں انسان نے جس تہذیب و ثقافت کو جنم دیا ہے، فلسفہ اور سائنس کے جو خزانے تخلیق کیے ہیں، شعر و ادب، مصوری، مجسمہ سازی، موسیقی کی صورت میں فنون لطیفہ کی جو دنیا تخلیق کی ہے، کھانا پکانے اور کھانے کے عمل تک کو آرٹ کا درجہ دے دیا ہے۔ یہ سب کچھ انسان کی اسی آزادی کا ایک مظاہرہ ہے۔

اگر ہم اس معاشرے میں جمہوریت کا عمل مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی نسلوں کی تربیت اس طرح کرنی ہو گی کہ وہ آزادی اور انتخاب کس مطلب خوب اچھی طرح سمجھتے ہوں اور اس کو استعمال کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہوں۔انھیں اپنی زندگی کا راستہ خود متعین کرنے کا اختیار دینا ہو گا۔ جمہوریت اختیار اور ذمہ داری کے امتزاج کا نام ہے۔ جمہوریت غلاموں کو زیبا نہیں ہو سکتی۔ یہ مرداں حریت کیش کا شیوہ ہے۔ اگر ہم فکر اور عمل پر پہرے بٹھائے رکھیں گے تو پھر غلامی ہی ہمارا مقدر رہے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔