ایک نظر فلم” نور“ پر


ایک اور جمعہ ایک اور فلم ریلیز۔  حال ہی میں رہلیز ہونے والی فلم” نور“ جو کہ ایک پاکستانی مصنفہ صبا امتیاز کے خوبصورت شاہکار Karachi you are killing me سے ماخوذ ہے۔  جبکہ فلم میں یہی موضوع Mumbai you are killing me کے نام سے روشناس کرایا گیا ہے۔  جبکہ اس فلم کے سکرین پلے کے لکھنے میں بھی صبا امتیاز کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس فلم کو ڈائریکٹ سنیل سپینی کیا ہے۔ اور اس کے پرڈیوسر بھوشن کمار، کشن کمار اور وکرم ملہوترا ہیں۔ فلم کے ڈائےلاگ اشےتا ملہوترا نے لکھے ہیں۔ فلم کے نمایاں کرداروں میںسوناکشی سنہا ،پورب کوہلی ،منےشا چوہدری، کنان گل اور سنی لیون شامل ہے۔  فلم کی کہانی بڑے شہروں کی روشنیوں کی جگمگا ہٹوں کے پیچھے اندھیروں ہونے والی برائیوں کو سامنے لانے کی ا یک اچھی کوشش ہے۔ سوناکشی سنہا اس فلم کے مرکزی کردار کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔ اور ایک غیر سنجیدہ صحافی کے کردار میں بڑی کامیابی سے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ فلم کی کہانی سوناکشی کے گرد گھومتی ہے جو ایک صحافی کے رول میں اپنے آپ کو کچھ الگ کر کے منوانا چاہتی ہے۔ مگر مناسب موقع نہ ملنے کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی۔

دبنگ سے اپنا کیریئر شروع کرنے والی سوناکشی جو اس سے پہلے اپنے شائقین کو ”اکیرا، راﺅڈی راٹھور اور لٹیرا “جیسی خوبصورت اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں مگر پھر بھی ان کی اداکاری نور میں ان کے پچھلے سارے کیریئر پر بھاری پڑ جاتی ہے۔

فلم کا پہلا ہاف خاصا مضبوط ہے۔ جس میں لائٹ سی کامیڈی ،گلابی آنکھوں جیسے گانوں کا ری مکس اور کچھ رومانٹک سین پہلے ہاف میں لوگوں کو فلم دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مگر انٹرول کے بعد فلم کا سکرین پلے بری طرح سے بکھرتا نظر آتا ہے۔ فلم کا موضوع ایک گردہ بیچنے والے ڈاکٹر کے اوپر ہے۔ دوسرے ہاف میں جس مضبوطی ،لاﺅڈ اور ایک صحافی کے قلم کی طاقت کی توقع کی جارہی تھی وہ بالکل نظر نہیں آرہی۔ سیکنڈ ہاف میں ایکشن کی بہت زیادہ ضرورت نظر آتی ہے مگر ایکشن بالکل بھی نظر نہیں آتا۔ اور بلاوجہ سوناکشی کا رومانس سیکنڈ ہاف میں شائقین کا سارا تجسس خراب کر دیتا ہے۔ ڈائریکٹر سارا مسالہ ڈالنے کے چکر میں موضوع سے بہت دور نظر آئے۔ خاص کر اگر فلم کے اختتام پر بات کی جائے تو گردہ چور جو کہ فلم میں ایک بہت بڑا مافیا دکھایا جارہا ہے۔ بہت آسانی کے ساتھ پولےس ان کو پکڑ کر لے جاتی ہے۔

فلم کی سب سے خوبصورت چیز Mumbai you are killing me کا وہ آرٹیکل ہے جو فلم کے اختتام سے کچھ دیر پہلے سوناکشی لکھتی ہیں اور اس کے بعد وہ چھا جاتی ہیں۔  ویسے تو سارے کردار فلم میں انگوٹھی میں نگینے کی طرح بالکل فٹ نظر آتے ہیں۔ پورب کوہلی کی اداکاری کو بالکل بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اداکاری کے معاملے میں فلم کا ایک کردار جو کہ سوناکشی کے گھر میں کام کرنے والی ایک عورت ہے۔ ڈاریکٹر نے جس قدر خوبصورتی سے اس عورت کی آنکھوں میں چھپی بے بسی کی عکاسی کی ہے اس کی مثال پوری فلم میں اور کہیں نہیں ملتی۔ اس طرح ٹوٹل دو گھنٹے دورانیے اور انتہائی محدود بجٹ کی فلم ہونے کے باوجود اس کا اچھا میوزک مکمل مسالہ اور شانداراداکاری شائقین کو اپنی سیٹوں پر بیٹھنے میں مجبور کر دے گی۔ ویسے تو یہ بات یقینی ہے کہ یہ فلم کئی سو کروڑ کا بزنس تو نہیں کر پائے گی مگر بڑے شہروں کے مسائل کو جس طرح اجاگر کروایا گیا ہے وہ شائقین کے دلوں میں ضرور جگہ بنائیں گے۔ میری رائے میں میں اس فلم کو 2.5 ریٹ کروں گا۔

 

 

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایس ایم اشعر کی دیگر تحریریں
ایس ایم اشعر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں