یہاں بچے، رکشے اور انصاف کرائے پر دستیاب ہے


کہانی کچھ یوں ہے کہ عرفان ننکانہ صاحب کا رہنے والا تیرہ سال کا ایک بچہ ہے۔ عرفان کے والدین کے پاس اپنے سارے بچوں کو پالنے کے لیے وسائل نہیں ہیں اور انہیں اپنے سارے بچوں کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ تو انہوں نے عرفان کو ایک کھاتے پیتے گھر کو کرائے پر دے دیا۔ ظاہر ہے اس سے دونوں پارٹیوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ والدین کے پاس فالتو چیز ہے یعنی بچہ اور اسے کرائے پر دینے سے کچھ پیسے مل جاتے ہیں اور کرائے پر لینے والے شخص کو ایک انتہائی سستا اور غلام نما ملازم مل جاتا ہے۔ بچے کا بھی اس میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اس طرح سے وہ امن سکون سے باقاعدہ کام شروع کر دیتا ہے اور پڑہائی یا کھیل کود میں اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے ایک مفید شہری بن جاتا ہے۔ اچھا کھانا بھی مل جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ اچھے کھانے کا بچا کھچا بھی تو اچھا ہی ہوتا ہو گا۔

اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بچہ اس گھر میں ملازمت کرتا تھا تو آپ کی سوچ غلط ہے۔ اپنی درستی فرما لیں۔ آپ اسے ملازمت نہ کہیں کیونکہ اس سے “چائلڈ لیبر” کا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا اور وہ پاکستان میں غیر قانونی ہے۔ دوسرا یہ کہ نوکری کا مطلب ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے کہیں کام کرے اور اسے کام کا ایک مقرر شدہ معاوضہ ملے۔ لیکن آپ اگر کوئی چیز استعمال کرتے ہیں اور اس کے بدلے ایک طے شدہ رقم اس چیز کے مالکان کو دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے وہ چیز کرائے پر لے رکھی ہے۔ بالکل اس طرح عرفان وہاں پر کام کرتا تھا تو اس کا معاوضہ ہر مہینے عرفان کے والدین کو مل جاتا تھا۔

عرفان کو جنہوں نے کرائے پر لے رکھا تھا وہ اچھے، نیک اور امیر لوگ ہیں۔ اس طرح کے امیر لوگوں کی ہمارے ملک میں کوئی کمی نہیں ہے۔ آپ نے ایسے لوگوں کو اکثر ریستوران میں بھی دیکھا ہو گا۔ وہ شریف لوگ جنہوں نے بچے کرائے پر لے رکھے ہوتے ہیں وہ ان کا اچھی طرح خیال رکھتے ہیں۔ جب وہ خود گھر سے باہر کسی اچھی جگہ کھانے کے لیے جاتے ہیں تو ان بچوں کو بھی ساتھ لے جاتےہیں تاکہ وہ گھر پر اکیلے بور نہ ہوں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ فیملی سکون سے کھانا کھاتی ہے اور کرائے کے بچے بیگم صاحبہ کے بچوں کا خیال رکھتے ہیں۔ کرائے کے بچے جب ریستوران پر لائے جاتے ہیں تو وہ کوئی بھوکے تو نہیں رہتے، کھانا تو انہیں بھی ملتا ہی ہو گا۔ اگر آپ نے انہیں وہاں کھانا کھاتے نہیں دیکھا تو شک میں نہ پڑ جائیں۔

خیر واپس آتے ہیں عرفان کی کہانی کی طرف۔ تو بتاتا چلوں کہ میرا اندازہ ہے کہ عرفان نے اچھا بچہ ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔ اس نے بڑوں کی بات نہیں مانی اور بھینسوں کو چارہ ڈالنے سے پہلے خود کھانا کھانے کی ضد کی۔ ظاہر ہے اس بات پر اس کی مالکن یعنی وہ نیک دل خاتون جو اس کے والدین کو ہر مہینے کرایہ بھیجتی ہے انہیں تھوڑا سا غصہ تو آیا۔ اب کیا تھا غصے میں ان سے کچھ ایسا ہو گیا کہ عرفان کا دائیں ہاتھ کٹ گیا۔ بس پھر کیا تھا ایسا طوفان مچا کہ رہے نام خدا کا۔ حالانکہ کوئی اتنی قیامت نہیں آ گئی تھی، عرفان کی دونوں ٹانگیں اور بائیں ہاتھ بالکل ٹھیک ہیں اور ابھی بھی وہ کرائے پر دیا جا سکتا ہے۔

تو عرفان اور اس کے والدین نے جو ہر مہینے عرفان کا کرایہ تو بڑے شوق سے وصول کرتے تھے شور مچانا شروع کر دیا کہ ان کے ساتھ جیسے کوئی بہت بڑا ظلم ہو گیا ہو۔ وہ تو پولیس کے پاس ہی پہنچ گئے کہ وہ اس نیک دل خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں۔ خیر ہماری پولیس اچھی ہے۔ وہ لوگوں میں امن اور راضی نامے کی خواہاں ہوتی ہے اور غریبوں کے وقتی غصے کو ٹھنڈا کرنا جانتی ہے۔ تو پولیس نے کچھ ٹائم لیا اور پھر مقدمہ درج کر لیا۔

اب اس سے پہلے کہ وہ نیک دل خاتون کرائے کے ایک نافرمان بچے کا صرف ایک ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے جیل پہنچ جاتی، ہماری ماتحت عدلیہ نے اپنی فرض شناسی کا بھرپور ثبوت دیا۔ عرفان کے والدین مقدمہ درج کروا کے ابھی تھانے کے گیٹ سے باہر نہیں نکلے تھے کہ اس نیک دل خاتون کی ضمانت منظور ہو چکی تھی۔ اس طرح سے وہ خاتون گرفتار ہونے بچ گئی اور ساتھ ساتھ ہماری عدلیہ پر سست ہونے کا جو الزام تھا وہ بھی دھل گیا۔ جو پھرتی اس کیس میں عدلیہ نے دکھائی ہے وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ فوری انصاف دستیاب ہے صرف آپ کا رتبہ انصاف لینے کے قابل ہونا چاہیے۔ ویسے بھی کرائے کے بچوں کی نافرمانیوں کے کیسز میں ہماری ادنی عدلیہ فوری ایکشن کی ماہر ہے۔ آپ کو کچھ عرصہ پہلے ہونے والا وہ کیس بھی یاد ہو گا جس میں کرائے کی ایک نافرمان بچی نے جج صاحب کی بیگم صاحبہ کو غصہ دلا دیا تھا۔ اس میں ادنی عدلیہ نے بہت پھرتی کا مظاہرہ کر کے کیس نمٹانے کی کوشش کی تھی۔

عرفان کے بارے میں ہماری پنجاب حکومت کو پتا چلا تو وہ فورا سرگرم ہو گئے۔ دس لاکھ کا چیک ہاتھ میں لیا اور جا پہنچے ننکانہ۔ عرفان کے والدین کو ہمارے خادم اعلی سے مل کر بڑی خوشی ہوئی اور خادم اعلی بھی بہت مطمئن نظر آ رہے تھے۔ عرفان کی مفت تعلیم اور اس کے لیے مصنوعی ہاتھ کے بندوبست کا وعدہ بھی کر دیا۔ اور سب سے بڑھ کر کمیٹی بھی بنا دی۔

عرفان کی طرح کے کیس ہر روز ہوتے ہیں۔ دو چار مہینے میں ایک آدھ میڈیا میں آ جاتا ہے۔ حکومت فراخدلی سے چیک دیتی ہے، کمیٹی بناتی ہے اور بڑے فخر سے اس بچے کی تعلیم کا بندوبست اپنے ذمے لیتی ہے۔ حکومت کو اس بات کا شاید علم نہیں ہے کہ اصل میں سب بچوں کی تعلیم حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ لیکن چلو پھر بھی جو کیس میڈیا پر آتا جائے ان کی ذمہ داری پوری ہوتی گئی تو اگلے چند ہزار برس میں حکومت سارے بچوں کی ذمہ داری لے چکی ہو گی۔

بتاتا چلوں کہ پاکستان میں مزدور بچوں کی تعداد کا کسی کو صحیح علم نہیں، البتہ مختلف اندازے ہیں۔ ڈان میں چھپنے والی 13 جون 2016 کی ایک خبر کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ پچیس لاکھ بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں اور ان میں دو لاکھ چونسٹھ ہزار بچے عرفان کی طرح کرائے پر لوگوں کے گھروں میں کام کرتے ہیں۔ چلو اگلے کیس کے میڈیا پر آنے کا انتظار کرتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 133 posts and counting.See all posts by salim-malik