استاد کا امتحان اب حوالدار لیا کرتے ہیں


نہ جانے کیوں پرویز مشرف مارشل لائی حکومت نے سمجھ لیا کہ معاشرے میں ان سے زیادہ استاد کی عزت کی جاتی ہے۔ یعنی جس کے پاس بندوق نہیں ہے، وردی نہیں ہے، بڑے بڑے بوٹ نہیں ہیں، ان کی عزت کی جاتی ہے لیکن مارشل لائی حکام کی کوئی عزت نہیں کی جاتی۔ چنانچہ جیسے ہی انہیں موقع ملا تو انہوں نے استاد کی عزت دو کوڑی کرنے کی ٹھان لی۔ انہوں نے استادوں کی حاضری اور سکول کے معاملات کی نگرانی کے لئے پاک فوج سے ریٹائر ہونے والے سپاہیوں کو دوبارہ بھرتی کرنا شروع کر دیا اگرچہ اس سے پہلے سات آٹھ قسم کے افسران پہلے ہی استادوں کو چیک کر رہے تھے۔ان ریٹائر شدہ سپاہیوں کے ذمے فرض یہ تھا کہ وہ سکولوں میں جا کر استادوں کی حاضری چیک کریں۔ اب استاد چھٹی پر بھی جاتا ہے کہ وہ ایک انسان بھی ہے اس کو بھی کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے جس کے لئے چھٹی لینا ضروری ہے لیکن چونکہ فوجی کے پاس زیادہ آپشن نہیں ہوتے اس لئے اس نے استاد کو چھٹی پر دیکھ کر اپنے ریکارڈ میں غیر حاضر ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ اور اس کی رپورٹ براہ راست سیکرٹریٹ لاہور اور متعلقہ ضلعی مانیٹرنگ افسر کو بھجوانے لگا۔

ہر مہینے کے شروع میں ڈپٹی کمشنر اپنے دفتر میں محکمہ تعلیم کے افسران کو طلب کرتے ہیں اور ان سے محکمہ تعلیم کے معاملات ڈسکس کرتے ہیں جس میں ضلعی مانیٹرنگ آفیسر بھی اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ اب ہونے یوں لگا کہ سب سے پہلے تو ضلعی مانیٹرنگ آفیسر اپنی رپورٹ پیش کرتا جس میں لکھا ہوتا کہ گذشتہ ماہ پاک فوج کے ریٹائر جوانوں نے اوسطاً تین ساڑھے تین سو استادوں کو غیر حاضر پکڑ لیا اور ان کی رپورٹ پیش خد مت ہے۔ یہ رپورٹ دیکھتے ہی ڈپٹی کمشنر صاحب کا پارہ آسمان کو چھونے لگتا۔ اتنی غیر حاضریاں؟ استاد تو حرام میں تنخواہ لے رہے ہیں۔ جب محکمہ تعلیم افسران وضاحت پیش کرنے کی کوشش کرتے تو ڈی سی صاحب انہیں بھی اساتذہ کے جرم میں برابر کا شریک ٹھہرا دیتے۔ چنانچہ محکمہ تعلیم کے افسران نے اساتذہ کے چھٹیاں لینے پر ہی پابندی لگا دی۔

یہاں تک رہتے تو گذارا ہو سکتا تھا۔ لیکن سپاہی جوان اسی پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ استاد کیسے پڑھا رہا ہے۔ اگرچہ ہر سکول میں پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات پنجاب ایگزامینیشن کمیشن لاہور لیتا ہے اور بچوں کو دور دراز کے امتحانی مراکز میں بلوا کر امتحان لیا جاتا ہے اور نتائج کا اعلان بھی تخت لاہور سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ ٹیچر ایجوکیٹر بھی ماہانہ کی بنیاد پر تیسری چوتھی اور پانچویں کلاس کے بچوں کا ایک ٹیسٹ لیتا ہے جو لاہور سے تیار کر کے بھیجا جاتا ہے۔ لیکن مانیٹرنگ سیل نے سوچا کہ وہ بھی کیوں اس معاملے میں پیچھے رہیں۔

انہوں نے اپنا ایک ٹیسٹ شروع کیا جس کا نام رکھا لٹریسی اینڈ نیومریسی ڈرائیو۔ چونکہ یہ ایک مشکل نام ہے چنانچہ اس کا مخفف ایجاد کیا گیا۔ اور یہ ٹیسٹ LND کے نام سے مشہور ہوا۔ فوجی جوان ہر ماہ کسی بھی دن سرکاری سکول میں جاتے ہیں تیسری کلاس کے بچوں کو ایک ٹیب دکھاتے ہیں جس کی سکرین پر چند جملے انگریزی زبان میں لکھے ہوتے ہیں اس کے بعد ایک سوال ہوتا ہے نیچے تین جواب ہوتے ہیں۔ بچے نے سوال کا جواب اوپر جملوں میں سے تلاش کر کے نیچے درست جواب پر انگلی رکھنا ہوتی ہے۔اردو اور ریاضی کا بھی اسی طرح کا ٹیسٹ ہوتا ہے۔ اگر بچے نے سوال نہیں سمجھا۔ یا غلطی سے اس کی انگلی کسی غلط جواب پر چلی گئی ہے تو وہ فیل ہو جائے گا۔ اب وہ دیہاتی بچہ جس نے ٹیب دیکھا ہی پہلی بار ہے۔اور ٹیب مانیٹرنگ کرنے والے فوجی کے ہاتھ میں ہے۔ بچہ سکرین کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہا دیکھ رہا ہے تو اس کو سمجھ کچھ نہیں آ رہا۔ وہ عام طور پر درست کی بجائے غلط جواب پر انگلی لگا دیتا ہے۔

مانیٹرنگ سیل کے جوان اس ٹیسٹ کے  دوران کلاس ٹیچر کو پاس بھی نہیں آنے دیتے اور ٹیسٹ کے بعد سکول سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ سکول ٹیچر کو ایک ماہ کے بعد اچانک نوٹس ملتا ہے کہ تمہاری کلاس کا ٹیسٹ لیا گیا تھا جس کا نتیجہ معیار سے کم پایا گیا لہٰذا اب تمہیں ایک تربیتی ورکشاپ میں شرکت کرنا ہو گی جس کے بعد بھی تمہاری کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو تمہیں سکول سے فارغ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اب استاد کرتا یہ ہے کہ وہ ایک ٹیب خریدتا ہے۔ LND ڈاؤن لوڈ کرتا ہے اور بچوں کو ٹیب پر مشق کرانے لگتا ہے۔ اب استاد کی عزت تبھی بچ سکتی ہے اگر اس کا LNDدرست پایا جائے۔ اب استاد نصابی کتب کو پڑھانے کی بجائے ٹیب پر بچوں کو مشق کراتا رہتا ہے۔ ہوم ورک دینے یا چیک کرنے کا اسے کوئی ہوش نہیں۔ نصابی کتب میں کیا لکھا ہے اور یہ بچوں کو پڑھانا ہیں استاد اس عمل سے لاتعلق ہو گیا ہے۔ استاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ ڈنڈے والے حاکم کا LND ٹیسٹ بچوں کو تیار کرائے۔ اگر ٹیسٹ میں بچوں نے کم نمبر لئے تو شامت استاد کی آنی ہے بچوں کی نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف تیسری جماعت کے بچوں کو فوکس کیا جاتا ہے شائد اس سے بڑی جماعت کے بچوں کو اس لئے فوکس نہیں کیا جاتا کہ وہ کافی ذہین اور لائق ہوتے ہیں۔ اس کی جو بھی وجہ ہے استاد اس وجہ کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔