عبداللہ حسین سے ایک نصف صدی پرانا نایاب انٹرویو


سوال: عبداللہ صاحب، آپ یہاں ایک خاصی بڑی فیکٹری سے متعلق ہیں۔ آٹھ سال کے عرصے میں آپ نے فیکٹری کی زندگی سے خاصی واقفیت حاصل کر لی ہو گی۔ اس کے علاوہ آپ کو امریکا اور کینیڈا کی فیکٹریاں دیکھنے کا اتفاق بھی ہؤا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ پاکستانی فیکٹریوں کے مسائل پر کچھ روشنی ڈالیں۔

جواب: مجھے جو بات سب سے اہم معلوم ہوتی ہے، وہ خودداری یا غیرت مندی کا مسئلہ ہے۔ ہمارے مزدور اور مکینک اور مستری خودداری کے احساس کو کھو چکے ہیں۔ اس کے برعکس امریکی مزدور بڑے خوددار ہوتے ہیں۔ اس خودداری کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری اور مستعدی سے کرتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دن میں جتنا کام ان کے ذمے ہو وہ اسے ختم کر کے جائیں۔ آج کا کام کل پر چھوڑنا۔۔۔ یہ انہیں نہیں آتا۔ دراصل اپنی عزت آپ کرنے کا احساس ہی ایسی چیز ہے جو ہمیں راستبازی سے فرائض انجام دینا سکھاتا ہے، جو آدمی غیرت مند ہو وہ اس امر کی تاب نہیں لا سکتا کہ کوئی دوسرا اس کی بے عزتی کرے۔ اس کی ہر ممکن کوشش یہی ہو گی کہ وہ کام کو خوش اسلوبی سے انجام دے اور افسرانِ بالا کو بگڑنے کا موقع نہ دے۔

سوال: آپ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے مزدور خوددار نہیں ہیں اور امریکی مزدور خوددار ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

جواب: امریکا کے معاشرتی طبقوں کے معیارِ زندگی میں فرق تو ضرور ہے مگر بہت بڑا فرق نہیں۔ مثلاً فیکٹری کے افسر کار میں بیٹھ کر کام پر آتے ہیں۔ اکثر مزدور بھی اپنی کاروں میں کام پر آتے ہیں۔ افسروں اور مزدوروں دونوں ہی کے گھروں میں ٹیلی وژن، ریفریجریٹر اور ٹیلی فون وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ اس بنا پر نہ تو افسر مزدوروں کو بہت گھٹیا اور حقیر مخلوق سمجھتے ہیں اور نہ مزدور افسروں کو اَن داتا۔ خاصا برابری کا سلوک ہوتا ہے۔ مزدوروں کو انسان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں مزدوروں اور افسروں کے معیارِ زندگی میں اتنا زبردست فرق ہے کہ دونوں کے درمیان انسانی سطح پر کوئی رابطہ ممکن نہیں۔ مزدوروں کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔ انہیں بات بات پر ڈانٹا جاتا ہے بلکہ پیٹا بھی جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد مزدور اپنی عزت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے اور اس کی غیرت اور خودداری بھی رخصت ہو جاتی ہے۔ وہ کام چور بن جاتا ہے۔ اُسے پتا ہے کہ پورا کام کرے گا تو قدر کوئی نہیں ہوگی اور کام نہ کرے گا تو کیا فکر ہے۔ زیادہ سے زیادہ چند گالیاں اور لاتیں کھانے کو مل جائیں گی اور ان کی اِسے عادت ہو جاتی ہے۔ وہ خود کو کسی بات کے لیے جواب دہ محسوس نہیں کرتا۔ اسے کوئی پروا، نہیں ہوتی کہ کام ہو رہا ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  اک دانشِ نورانی، اک دانشِ برہانی

سوال: گویا آپ کے نزدیک یہ ایک معاشری مسئلہ ہے؟

جواب: میرے نزدیک تو یہ صنعتی مسئلہ ہے۔

سوال: وہ کیسے؟

جواب: سنیئے، افسر مزدوروں کو آدمی نہیں سمجھتے۔ مزدور بھی خود کو آدمی نہیں سمجھتے۔ کام سے جی چرانا ان کی عادت بن جاتا ہے۔ مارپیٹ، ڈانٹ پھٹکار کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان باتوں سے تو صرف غیرت مند آدمی ہی گھبراتا ہے۔ جب مزدور کام نہیں کرتے تو اس سے کارگزاری پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ در حقیقت جب تک یہ یہ صورتِ حال نہیں بدلے گی ہماری صنعتی کارگزاری دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے ہمیشہ پست رہے گی۔

میری رائے میں معیارِ زندگی کو بلند کرنا بہت بعد کی بات ہے۔ سب سے پہلے ہمیں سلیم الطبع انسان بن کر اپنا معیارِ طرز عمل بلند کرنا چاہیے۔ جب تک ہم فیکٹری میں کام کرنے والوں کو یہ باور نہیں کرائیں گے کہ وہ انسان ہیں اور باعزت آدمی ہیں ہماری صنعت و حرفت خاطر خواہ ترقی نہیں کر سکے گی۔ پہلے ان کی خودداری بحال کیجئے، پھر معیارِ زندگی بلند کرنے کی فکر کی جا سکتی ہے۔

سوال: خودداری کے فقدان کا نکتہ آپ نے اچھا ڈھونڈا۔ کیا اسی کے اثرات آپ کو ہماری معاشرتی زندگی میں بھی نظر آتے ہیں یا یہ کیفیت خالصتاً کارخانوں تک محدود ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ یہ ہماری معاشرتی زندگی پر بھی محیط ہے اور ایک نوعیت کا ذہنی مزاج ہے جس میں بزرگ اور اعلٰے طبقے کے لوگ اپنے چھوٹوں یا ادنیٰ طبقے کے لوگوں کا وجود تسلیم کرنے سے یا اس وجود کو کوئی اہمیت دینے سے منکر ہو جاتے ہیں۔ اپنے سے چھوٹوں کو بے حقیقت سمجھنے کا یہ چکر بچپن میں گھر سے شروع ہوتا ہے اور سکولوں اور کالجوں تک چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ آدمی ذہنی طور پر ۔۔۔ رہ جاتا ہے۔

بچے کا سب سے فطری جذبہ تجسس ہے۔ وہ ہر چیز کے بارے میں کچھ نہ کچھ جاننا چاہتا ہے۔ ہمارے ملک میں عموماً ان سوالات کے جوابات نہیں دیے جاتے۔ بچے کو جھڑک یا ٹال دیتے ہیں۔ یہ تو بچپن کی بات تھی۔ لڑکپن میں کسی معاملے یمں لڑکے یا لڑکی کی رائے کو وقیع سمجھنا تو درکنار سننے کے قابل بھی نہیں سمجھا جاتا، چاہے وہ رائے بڑوں کی رائے سے زیادہ وزن دار ہو۔ سکولوں اور کالجوں میں بھی استاد اور پروفیسر شاگردوں کے سوالات اور آراء کا کم ہی احترام کرتے ہیں۔ اس سے خودداری مجروع ہوتی ہو یا نہ ہوتی ہو خود اعتمادی میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مرد ظالم ہے اور عورت مظلوم: ہٹ فارمولا!

امریکا میں اپنی ذات کے اظہار کو کچلا نہیں جاتا۔ میں نے وہاں سکول کے طالب علموں کو اپنے استادوں سے اس طرح سوال کرتے دیکھا ہے کہ اگر ویسی ہی بات کوئی طالب علم یہاں اُستاد سے پوچھ بیٹھے تو اُستاد ہمیشہ کے لیے اس کا دشمن بن جائے۔

میری یہ باتیں شاید کچھ دُوراز کار معلوم ہوں اس لیے میں اس کا ثبوت خود ’’نصرت‘‘ ہی سے پیش کروں گا۔ اسی سال نصرت کے ’’شمارۂ آزادی‘‘ میں کرنل محمد خاں کا، جو خود ماہر تعلیم ہیں، مضمون ’’جب لفیٹنی نازل ہو گئی‘‘ چھپا تھا۔ اس کے ایک حصے کو میں اپنی تائید میں پیش کر سکتا ہوں۔

’’لیکن ہم نے اپنے استادوں کی نسبت اپنے انگریز ہم جماعتوں سے وہ کچھ یکھا جس کی آج تک خبر نہ تھی۔۔۔ یوں تو ہم سب برابر تھے لیکن جماعت میں ان انگریز طلباء کا طرزِ عمل ہم دیسیوں سے بے حد مختلف تھا۔ وہ جماعتوں میں استادوں کے ساتھ یوں ہمکلام ہوتے جیسے عام مجلس میں دوستوں کے ساتھ گفتگو کر رہے ہوں۔ ادب ضرور کرتے لیکن خوف نہ کھاتے۔ ان سے کوئی انسٹرکٹر سوال پوچھتا تو جواب دینے سے پہلے آرام سے پائپ کا کش لگاتے، پھر اسے ڈیسک پر رکھتے اور کرسی پر ذرا نیم دراز ہو کر جو کچھ کہتے اس انداز سے کہتے کہ اگر ہمارا جواب درست ہے تو خیر، اگر نہیں تو کوئی حرج نہیں۔ بخلاف اس کے ہم دیسیوں کے دلوں میں ہر وقت چور سا رہتا جواب آتا تو جواب دینے میں بے تابی، اگر نہ آتا تو احساسِ جرم اور چھپنے کی سی کوشش۔ ان لوگوں کی خود اعتمادی اور پختگی ان کے کردار کا حصہ تھی اور یہ غالباً ان کی ابتدائی تعلیم کا فیض تھا اور ہمارا احساسِ کمتری ہماری اپنی ابتدائی تعلیم کا عطیہ تھا۔ وہی تعلیم جس میں شاگردوں کو مرغا بنانا استاد کی بہترین teaching aid ہے اور تھپڑ مار مار کر لال کر دینا انفرادی توجہ دینے کا ثبوت ہے۔۔۔‘‘

تو یہ تھے وہ دو مسائل جو میری نظر میں اہم ہیں: خودداری کی کمی! خود اعتمادی کی کمی!

٭٭٭  ٭٭٭

(عبداللہ حسین سے یہ انٹرویو محمد سلیم الرحمٰن  نے لیا اور یہ ہفت روزہ ’’نصرت ‘‘ میں 25دسمبر 1961 کے شمارے میں شائع ہوا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔