دَس او میاں، کِیتا کی اے؟


کالم کے عنوان سے اگر آپ یہ سمجھے ہیں کہ میں چار مئی کو لاہور میں پیپلزپارٹی کے احتجاج میں بلند ہونے والے اس نعرے کو لے کر حکومت پر کوئی تنقید کرنے جار ہا ہوں تو آپ درست نہیں سوچ رہے ۔یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی کے اس احتجا ج میں ”دس او میاں کیتا کی اے “کی لے پربہت کچھ کہا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نعرے کی گونج ناصر باغ کے تمام پودوں تک بھی نہیں پہنچ سکی ۔ پیپلزپارٹی نے یہ نعرہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف پر طنز کے تیر برسانے کے لئے بلند کیا تھا لیکن پیپلزپارٹی کی طرف سے یہ نعرہ بلند کرنے کے ٹھیک گیارہویں دن ان کے سیاسی مخالفین کی طرف سے لگایا گیا یہ نعرہ بالکل الٹے انداز میں مثبت طرزوں کے ساتھ وزیراعظم پر ایسا فٹ بیٹھا ہے کہ ان کے مداح تو عش عش کراٹھے ہیں لیکن پیپلزپارٹی سمیت ان کے تمام سیاسی مخالفین انگشت بدنداں ہیں اور زبان حال سے پکار پکار کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ”دس او میاں کیتا کی اے “؟۔خو دمیں نے جب کل ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سنی تو بے ساختہ میرے منہ سے بھی یہی نکلاکہ”دس او میاں کیتا کی اے “؟۔

خاکسار نے گزشتہ کالم کے اختتام پر اپنی اس معصوم خواہش کا اظہار کیا تھا کہ سیاسی او ر عسکری قیادت ایک ٹویٹ کو لے کر تصادم کی راہ اختیار کرنے کے بجائے بالغ نظری کا ثبوت دے اور مل بیٹھ کر معاملات کو طے کر لے ۔ سچی بات یہ ہے کہ خواہش کے باوجود مجھے یہ امید نہیں تھی کہ ڈان لیکس کا معاملہ اس طرح خوش اسلوبی سے حل ہو گا کہ کسی بھی شخصیت یا ادارے کی شکست کے تاثر کی بجائے اس میں سے سب کے لئے خیر برآمد ہوگی ۔ ڈان لیکس کا معاملہ جس انداز میں اپنے منطقی انجام تک پہنچا ہے اس نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت نے جس بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے اس کا سلسلہ اگر جاری رہا تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کوہمہ جہت ترقی کی منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکے گی ۔بلاشبہ ملک کی سیاسی اورعسکری قیادت یکساں طو رپر تحسین کی مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنی فہم و فراست کے سبب ملک کو ایک ایسے بحران سے نکال لیا جس کو لے کر اپوزیشن اور میڈیا کے بڑے بڑے بقراط ایک طوفان برپا کئے ہوئے تھے ۔ میڈیا ،خاص طور پر کچھ اینکر پرسنز کی تو امیدوں پر ایسی اوس پڑی ہے کہ ان کے ہاں ماتم کا سا سماں ہے ۔ دس مئی کی صبح تک یہ طبقہ ایسا ماحول بنائے ہوئے تھا کہ میاں نواز شریف کی حکومت اب گئی کہ تب گئی۔بقول ڈی جی آئی ایس پی آر اس ٹویٹ کو لے کر سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔ سیاست اور صحافت میں موجود ایک خاص طبقے کی یہ شدید خواہش تھی کہ فوج اور حکومت کے درمیان کشیدگی کو ہوا دی جائے اور اس طرح کا ماحول بنا دیا جائے کہ نظام حکومت مفلوج ہو جائے ۔

دانستہ یا نادانستہ ایک ایسی فضا پید اکرنے کی خواہش واضح طورپر نظر آرہی تھی کہ سیاسی اور عسکری قیادت ایک دوسرے سے بھڑ جائے۔ حالات کے پیش نظر جمہوری نظام کے مستقل مخالفین کا ایک ٹولہ جسے صرف آمریت کی چھتری ہی راس آتی ہے اس نے بھی پر پرزے نکالنے شروع کر دئیے تھے ۔ لیکن مقام شکر ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے حالات کا تدبر کے ساتھ سامنا کیا،ایک توقف کے بعد اپنے اپنے قومی کردار کا جائزہ لیا اور پھر قوم کے بہترین مفاد میں باہمی بات چیت سے اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے نمٹا دیا۔ حیران کن طور پر پاکستان کی تاریخ نے ایک ایسی کروٹ لی ہے کہ دس مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے اس لئے نہیں کہ انتہائی غیر متوقع طور پر پاک فوج کی طرف سے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا عجوبہ سامنے آیا ہے بلکہ اس لئے کہ پاکستان کے تمام اداروں نے بیک زبان ہو کر واشگاف انداز میں دستور کی سربلندی کو تسلیم کر لیا ہے ۔ جس طریقے سے ڈان لیکس کا معاملہ حل کیا گیا وہ اس لئے بھی حیران کن تھا کہ ہمارے نصیب میں تو آج تک ایوب خان ،یحیی خان ، ضیا ءالحق اور پرویز مشرف ہی لکھے تھے یہ اچانک بیچ میں راحیل شریف اور قمر باجوہ کا نزول ہو ااور جمہوریت کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا۔

پاک فوج کی طرف سے متنازعہ ٹویٹ کو واپس لئے جانے سے متعلق اس فیصلے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک اور طوفان بدتمیزی برپا ہے ۔ ایک حلقہ تو وہ ہے کہ جو میاں نواز شریف کی تحسین کررہا ہے اور اس تحسین میں بعض لوگ اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ وہ دانستہ یا نادانستہ طورپر پاک فوج کی تحقیر کے مرتکب ہورہے ہیں جبکہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو صاف اور سیدھے الفاظ میں اسے پاک فوج کی شکست سے تعبیر کررہا ہے ،

اور تو اور بعض اندھوں کو اس اندھیرے میں اس قدر دور کی سوجھی کہ انہوں نے ڈان لیکس کے اس معاملے کو افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستانی سرحد پر کشیدگی سے جوڑنا شروع کردیا ہے ۔ یہ ایک خطرنا ک اور منفی رجحان ہے جو سیاسی اور حکومتی امور کو سمجھنے کے لئے بالغ نظر ی سے عاری ہے ۔ گو کہ پاک فوج کا اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا سب کے لئے غیر متوقع تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج کے اس اقدام سے اس کے وقار اور عزت میں اضافہ ہو اہے ۔ قوموں کی زندگی میںافراد یا اداروں سے غلطیاں عین ممکن ہیں لیکن اس غلطی کو تسلیم کر لینا بڑے پن اور اعلٰی ظرفی کی نشانی ہے کیونکہ غلطی کو تسلیم کرنے سے ہی اس کے سدھار کاعمل شروع ہوتا ہے اور جب قومیں اپنی غلطیاں سدھار لیتی ہیں تو پھر وہ ترقی کی راہ پر آگے کی طرف چل پڑتی ہیں ۔ مقصد بات کرنے کا یہ ہے کہ اس معاملے میں پاک فوج کو مطعون کرنے کا عمل انتہائی نا پسندیدہ اور غیر حقیقی ہے ۔

پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت اپوزیشن کوبھی یہ بات اچھے طریقے سے ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اب کوئی ایمپائر پاکستان کی جمہوری اور سیاسی تاریخ کا دھار االٹنا موڑنے کی سکت نہیں رکھتا ۔سیاسی مخالفت میں اپوزیشن کو ایک حد سے آگے ہرگز نہیں جانا چاہیے ۔ سیاسی اختلافا ت ہر معاشرے میں ہوتے ہیں اور یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں لیکن دنیا کے کسی ملک میں اپوزیشن ،حکومت کے ساتھ اختلاف کی صورت میں ہر گز عسکری حلقوں کی طرف نہیں دیکھتی کیونکہ ان معاشروں نے یہ بات اچھی طرح سمجھ لی ہے کہ ہر ادارے کو اپنے دائرہ کا رمیں رہتے ہوئے ہی ملکی نظم و نسق میں اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔

کل بھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا کے غم میں مبتلا بھارتی میڈیا نے بھی 29مئی کی مذکورہ ٹویٹ پر بہت شادیانے بجائے تھے لیکن یہ معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹنے کے بعد بھارتی میڈیا کوتو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے ۔ موجودہ حالات میں بھارت کے پیٹ کا سب سے بڑامروڑ پاک چین اقتصادی راہداری ہے۔ خطے کی خوشحالی کے اس بے مثال منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے بھارت نے را کو خطیر رقم بھی مہیا کی ہے لیکن کوشش کے باوجود بھارت، پاکستان اور چین کو اقتصادی راہداری منصوبے کی تعمیر سے روک نہیں پا رہا ۔29مئی کو بھارتی میڈیا جو زبان بول رہا تھا صاف نظر آرہا تھا کہ ان کے ہاتھ ایک ایسا ایشو آگیا ہے جس کو بنیاد بنا کر وہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان خلیج پید اکرنے اور اس کو وسیع کرنے کا شدید خواہش مند ہے تاکہ پاکستان کی اقتصادی شعبے میں کامیابیوں کے سامنے روڑے اٹکائے جاسکیں ۔ لیکن آج ایک بار پھر ان قوتوں کو منہ کی کھانا پڑی ہے جو پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا چاہتی تھیں ۔ پاکستانی عوام کی یہ خواہش ہے کہ گزشتہ نو برس سے جاری جمہوری نظام اپنی خرابیوں کے باوجود جاری رہے کیونکہ وطن عزیز ایک بار پھر آمریت کا متحمل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ رہی بات جمہوری نظام میں موجود خرابیوں کی تو وقت کی چھلنی سے گزر کر جمہوری نظام کی یہ خرابیاں از خود ختم ہو جائیں گی اور پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم جمہوری دور میں داخل ہو جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔