احترام رمضان کا نیا قانون


پھر کچھ ایسا ہوا کہ سینیٹ کی مذہبی امور کی کمیٹی نے احترام رمضان کا ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کے تحت سرعام کھانے پینے اور سگریٹ پینے پر کڑی سزائیں مقرر کی گئیں۔ وزیر مذہبی امور کی سفارش پر رمضان میں ایک مہینے کے لئے ملک بھر میں تمام سینما بھی بند کر دیے گئے۔ چند دن بعد بذریعہ پولیس یہ قانون نافذ العمل ہوا اور جج صاحب کی عدالت میں کیس پیش ہوئے۔

اس شخص پر کیا الزام ہے؟

یہ رمضان میں سرعام کھانا کھا رہا تھا۔

پانچ سو روپیہ جرمانہ۔ تین ماہ قید۔ اگلا کیس۔

پچاس لوگ کمرے میں پیش کیے جاتے ہیں۔

ان پر کیا الزام ہے؟

یہ سرعام کھانا کھا رہے تھے۔

کہاں سے پکڑا ہے؟

لاہور ملتان روڈ پر بھائی پھیرو کے ناکے سے۔ بہانہ بنا رہے تھے کہ سفر میں ہیں، روزے کی چھوٹ ہے۔ ہم نے ان کی بس تھانے میں بند کر دی ہے جس میں بیٹھ کر یہ کھا رہے تھے تاکہ ان کا سفر کا عذر ختم ہو جائے۔

فی کس پانچ سو روپیہ جرمانہ اور تین ماہ قید۔ اگلا کیس۔

جج صاحب یہ سرعام گاڑی میں سگریٹ پی رہا تھا۔ اسی ناکے پر پکڑا گیا ہے۔ بہانہ بنا رہا ہے کہ سفر پر تھا اس لئے روزہ نہیں رکھا۔

پانچ سو روپیہ جرمانہ، تین ماہ قید۔ اگلا کیس۔

ایک عورت گود میں شیر خوار بچہ اٹھائے پیش کی جاتی ہے۔

اس پر کیا الزام ہے؟

اعانت جرم کا جج صاحب۔ یہ بچہ سرعام اس عورت کی مدد سے فیڈر سے دودھ پی رہا تھا۔

بچے کو سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔ اس کے حصے کی سزا اس عورت کو دی جاتی ہے۔ پانچ سو روپے جرمانہ، تین ماہ قید۔ اگلا ملزم پیش کیا جائے۔

ایک نہایت ضعیف شخص پیش کیا جاتا ہے۔

جج صاحب یہ بابا پانی پی رہا تھا۔ بہانہ بنا رہا تھا کہ گرمی کی شدت سے غشی طاری ہو رہی تھی۔

اسی بارے میں: ۔  ڈسکہ کے شرم و حیا والے باکردار تاجر

اس کی عمر دیکھو اور حرکتیں دیکھو۔ پانچ سو روپے جرمانہ اور تین ماہ قید۔ اگلا کیس۔

چند مزدوروں جیسے حلیے والے لوگ پیش کئے گئے۔

جج صاحب یہ ایک زیر تعمیر عمارت میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ بہانہ بنا رہے ہیں کہ سخت مزدوری کرنی پڑتی ہے اور اتنی زیادہ گرمی اور تیز دھوپ میں کھانے پانی کے بغیر ان کا گزارا نہیں ہے۔ مزدوری کیے بغیر چارہ بھی نہیں ہے کہ کوئی دوسرا کام انہیں آتا نہیں ہے اور روز جو کماتے ہیں انہیں سے اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہیں۔

اتنے کسرتی جسم تو ہیں ان کے اور سولہ گھنٹے کی بھوک پیاس برداشت نہیں کر سکتے ہیں؟ فی کس پانچ سو روپیہ جرمانہ اور تین ماہ قید۔ یہ ائیر کنڈیشنر تیز کر دو، آج گرمی زیادہ ہے۔

ایک پچیس برس کا نوجوان پیش کیا جاتا ہے۔

جج صاحب یہ سر عام چاکلیٹ کھا رہا تھا۔ بہانہ کر رہا ہے کہ شوگر کا مریض ہے اور شوگر لیول گرنے کی وجہ سے فوراً کچھ کھانے کی ضرورت تھی ورنہ مر بھی سکتا تھا۔

سب ایسے ہی بہانے کرتے ہیں۔ اچھا بھلا ہٹا کٹا تو دکھتا ہے، شوگر والے ایسے ہوتے ہیں؟ پانچ سو جرمانہ اور تین ماہ قید۔

تیل آلود کپڑوں میں ملبوس ایک شخص پیش کیا جاتا ہے۔

اس پر کیا الزام ہے؟

جج صاحب یہ بھی کھلے عام سموکنگ کر رہا تھا۔

جج صاحب میں معصوم ہوں۔ میں تو موٹر مکینک ہوں، گاڑی دھواں چھوڑ رہی تھی، اسے ٹھیک کر رہا تھا۔

قانون نے سموکنگ پر سزا مقرر کی ہے خواہ سگریٹ سے سموکنگ کرو، حقے سے یا کسی اور ذریعے سے دھواں نگلو۔ پانچ سو جرمانہ اور تین ماہ قید۔

عدالت برخواست کی جاتی ہے۔

قانون بن گیا۔ قانون پر ویسے ہی اندھے طریقے سے عمل ہو گیا جیسا کہ پاکستان میں رواج ہے کہ پولیس بھی پاکستانی ہے اور عدلیہ بھی۔ عقل محو تماشا تھی۔ سوچنے لگی کہ کیا مسافر، مریض، دودھ پلانے والی عورت، حاملہ عورت، بوڑھوں وغیرہ پر بھی لازم ہے کہ وہ روزے رکھیں یا دین میں ان کے لئے قضا روزے رکھنے یا ترک کرنے کی چھوٹ بھی موجود ہے۔

اسی بارے میں: ۔  دکھاوے کے لیے رکھی چیزیں

قرآن مجید میں مذکور ہے

”رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے ، اس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو ، تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے ۔186 اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو ۔ 187“۔ البقرہ

حدیث پاک میں آتا ہے

”(دین میں) آسانی کرو اور سختی نہ کرو، لوگوں کو خوشخبری سناؤ اور (زیادہ تر ڈرا کر انہیں) متنفر نہ کرو“۔ صحیح بخاری۔ باب ”علم کا بیان“۔

اب علما ہی بیان کریں کہ احترام رمضان کا یہ نیا قانون ان دینی احکامات کے مطابق ہے یا ان کے مخالف ہے۔ خدا اور رسولؐ کا ارادہ تو ہمارے ساتھ سختی کا نہیں ہے، مگر حکومت کا ارادہ ایسا ہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 733 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar