یہ دھمکی ابصار عالم کو نہیں دی گئی


پرانے زمانے کے ایک شہر نامعلوم میں ایک بادشاہ حکمران تھا۔ ہمارا، تمہارا خدا بادشاہ۔ اب تو پاکستان کے دستور کی شق دو الف بھی یہی کہتی ہے کہ ہمارا، تمہارا خدا بادشاہ۔ مشکل یہ ہے کہ تاریخ کچھ اور بتاتی ہے۔ فیض صاحب نے کیسا قطرے میں دجلہ سمو دیا۔ ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے، بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا۔ حاکمیت عوام کی ملکیت ہے۔ یہ ملکیت چھین لی جائے تو بت نمودار ہو جاتے ہیں۔ کچھ بت سنگی ہوتی ہیں، کچھ کاٹھ کے بت اور کچھ محض مٹی کی مورتیاں۔ اردو شاعری میں اتفاق ہے کہ بت کافر ہوتے ہیں۔ یہاں کافر کو تکفیر کے معنوں میں نہیں لیا جائے۔ کہنا یہ ہے کہ بت ظالم ہوتا ہے۔ اپنے چاہنے والوں کے احساسات کا خیال نہیں کرتا۔ یہ تجربہ ہم نے صدیوں تک کیا۔ پھر بھی اقبال کو کہنا پڑا۔ تیرا دل تو ہے صنم آشنا۔ رستم کیانی ایک مصرع بہت لہک کر سنایا کرتے تھے۔ جو آنا ہے دل میں صنم بن کے آ۔ خدا بن کے آنے سے کیا فائدہ۔ تو صاحبان جھگڑا صنم اور خدا کا ہے۔ خبر یہ ہے کہ دو روز قبل وزیراعظم نواز شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ میں ایک اہم ملاقات ہوئی۔ اجلاس کا نتیجہ خوشگوار رہا۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں جمہوری نظام کے ساتھ فوج کی وابستگی کا اعادہ کیا۔ یہ بھی فرمایا کہ فوج کو جمہوریت سے اتنا ہی لگاﺅ ہے جتنا دیگر اہل پاکستان کو۔ 140 حرفوں کی وہ ٹویٹ جس نے دلوں میں اضطراب پیدا کر رکھا تھا واپس لے لی گئی۔ صاحبان شعور نے بدھ کے ان واقعات پر اطمینان کا سانس لیا۔ 6 اکتوبر 2016ءکو یہ قصہ شروع ہوا۔ اس پہ ایک فریق کی طرف سے پرویز رشید اور طارق فاطمی کو رخصت کر دیا گیا۔ راﺅ تحسین کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو گی۔ دوسرے فریق نے ٹویٹ واپس لے لی ہے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ مریم نواز کو بچا لیا گیا۔ سادھو سنت کی بات کان دھر کے سننی چاہیے اور یہ بالکل نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر خبر بے بنیاد تھی تو لیک کیا ہوا تھا؟ اور اگر خبر سچ تھی تو اس میں ایسا کیا تھا جو اس ملک کے شہری پچھلے چالیس برس سے نہیں جانتے۔ ایک جملہ بار بار دہرایا جا رہا ہے کہ ڈان لیکس کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ تہنیت کا مقام ہے۔ مگر یاد رکھئے حاکمیت اعلیٰ کے سوال ایک اجلاس میں حل نہیں ہوتے۔ ابھی تو پاناما کی جے آئی ٹی چل رہی ہے۔ فائلوں کے انبار میں کہیں میمو گیٹ بھی رکھا ہے۔ ابھی تو علاج کی غرض سے بیرون ملک تشریف لے جانے والے صاحب کی واپسی بھی واجب ہے۔ بہت خوشی کا مقام ہے کہ پاک فوج نے منتخب وزیراعظم کی اتھارٹی کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم خیال رہے کہ وزیراعظم کی اتھارٹی کے تقاضے وسیع ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ نے پیمرا کا ادارہ قائم کیا تھا۔ اس ادارے کے سربراہ کی تقرری وزیراعظم کرتا ہے۔ وزیراعظم نے ابصار عالم کو پیمرا کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ ابصار عالم ہمارے ملک کے بہترین صحافیوں میں گنے جاتے ہیں۔ ان کی خوبیاں شمار کرنے کا محل نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایک نجی چینل کا لائسنس منسوخ کرنے کی پاداش میں ابصار عالم کے دفتر میں ایک دھمکی آمیز فون کال آئی۔ فون کال کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جسے ابصار عالم نے اپنی پریس کانفرنس میں سنایا ہے۔ اس فون کال کا متن اس قدر شرم ناک ہے کہ اسے دہرانا بھی خجالت کا باعث ہو گا۔ کچھ سوالات البتہ اٹھے ہیں اور یہ ایسے سوال ہیں جنہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم نواز شریف کی خوشگوار ملاقات پر پانی پھیر دیا ہے۔ معلوم ہو گیا ہے کہ جھگڑا کسی خبر کے شائع ہونے یا رکوانے سے تعلق نہیں رکھتا۔ بنیادی نزاع یہ ہے کہ اس ملک کی پالیسیاں کون چلائے گا۔ عوام کے ووٹ کا احترام کیا ہو گا۔ منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی کی کیا صورت ہو گی۔ فون کال کرنے والے کا نام معلوم نہیں ہو سکا لیکن اس ملک میں ہزاروں لوگ ایسے موجود ہیں جنہوں نے یہ لہجہ سن رکھا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ایبٹ آباد کمیشن میں بیان دیتے ہوئے جنرل شجاع پاشا نے کہا تھا جو لوگ آئی ایس آئی سے ڈرتے ہیں، انہیں آئی ایس آئی سے ڈرنا چاہیے۔ سوال تب بھی یہی تھا کہ اس امر کا تعین کون کرے گا کہ کن لوگوں کو ڈرایا جانا مقصود ہے۔ ہم نے اس ملک میں منتخب وزرائے اعظم کو سکیورٹی رسک قرار دیا۔ باچا خان، سہروردی، فیض احمد فیض اور نواز شریف غدار کہلائے۔ کچھ غداروں کو جنوری 1978ءمیں آمر نے وطن دوستی کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔
محترم جنرل قمر جاوید باجوہ سے دست بستہ التماس ہے کہ اس ٹیلی فون کال کا فرانزک تجزیہ کرایا جائے۔ ان صاحب کی نشان دہی ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ ہمارے وزیراعظم کو اٹھا کر باہر پھینکنا چاہتے ہیں۔ محترم چیف جسٹس ثاقب نثار سے درخواست ہے کہ پیمرا کے سربراہ کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے پر ملنے والی اس دھمکی پر ازخود نوٹس لیا جائے۔ یاد رہے کہ اگر ملک کے وزیراعظم کو اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا ہے تو پھر مارچ 1981ء اور نومبر 2007 ء میں عدلیہ کو بھی باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ ٹانگیں توڑنے اور سڑک پر حادثے میں قتل کرنے کی دھمکی کیا فوجداری قانون کے دائرے میں نہیں آتی۔ معلوم ہونا چاہیے کہ ریاست کے کسی ادارے کو ایک میڈیا آﺅٹ لیٹ سے اتنی دلچسپی کیوں ہے۔ 2007 ءاور 2014ء کے تجربات نے ہمیں بتایا ہے کہ کیبل آپریٹرز کو سنسرشپ کا آلہ کار بنا دیا گیا ہے۔ قانونی طور پر نشر کئے جانے والے چینلزکے ساتھ امتیازی سلوک کا اختیار کیبل آپریٹرز کو کس نے دیا ہے؟ کیا ملک کے وزیراعظم کے بارے میں ایسے تضحیک آمیز جملوں پر سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں کوئی مذمتی قرارداد پاس کریں گی۔ عدالت عظمیٰ کے ایک محترم رکن نے پچھلے دنوں ایک اصول بیان کیا ہے کہ ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے۔ کسی صحافتی پس منظر کے بغیر خود کو پاکستان کا نمبرون چینل کہنے والوں کی دولت کے پیچھے کارفرما ’نیکی‘ پر بھی کوئی بات ہونی چاہیے۔ امریکا کی عدالتوں میں تو اعتراف جرم کئے جا رہے ہیں۔ پابندی سے پہلے ’بول‘ جتنے روز تک آن ایئر رہا اس کے پروگراموں کا لب و لہجہ بنیادی اخلاقیات، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے تقاضوں پر کس حد تک پورا اترا۔ پچاسی سالہ صحافتی تاریخ رکھنے والے ادارے ڈان کے ذمہ دار افراد کو اے پی این ایس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو نجی ٹیلی ویژن سکرینوں پر صحافت کے نام پہ بے بنیاد الزام تراشی، کردار کشی اور سیاسی فریق بننے کے معاملات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ مریم اورنگزیب فرماتی ہیں کہ ہمیں بیانیہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ بیانیہ اسی صورت میں بدلا جا سکے گا جب اس ملک کے تمام ریاستی، تمدنی اور سیاسی اداروں میں ان افراد کی نشان دہی کی جائے گی جو ملک کے آئین کی تذلیل کرتے ہیں، جمہوریت پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ ہم میکارتھی ازم کا مطالبہ نہیں کر رہے، ہم اختلاف رائے کو دبانے کی بات نہیں کر رہے، ہم صرف یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ دہشت گردوں نے اس بنیاد پر ہتھیار اٹھائے تھے کہ وہ ہمارے ملک میں جمہوریت کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں۔ جمہوری اختلاف کا حق آئین نے دے رکھا ہے۔ ہر شہری کو اپنے ضمیر کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کی حمایت کر سکتا ہے لیکن وہ کون لوگ ہیں جو اس ملک میں اخبار اور ٹیلی ویژن پر آئین کو ناکارہ بتاتے ہیں۔ جمہوریت کو گالی دیتے ہیں۔ وزیراعظم کی توہین کرتے ہیں۔ منتخب پارلیمنٹ کو چوروں اور ڈاکوﺅں کی کچھار قرار دیتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ چند برس بعد پھر ایک انکشاف کیا جائے کہ یہ لوگ را، این ڈی ایس اور موساد کے اشاروں پر کام کر رہے تھے۔ ٹانگیں توڑنے اور سڑک پر قتل کرنے کی دھمکی ابصار عالم کو نہیں دی گئی۔ حامد میر، شہزاد سلیم، حیات خان اور ارشاد مستوئی کے معاملات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ابصارعالم کا جرم تو محض منتخب حکومت کی خدمت کرنا ہے۔ اس دھمکی کے ذریعے اس خوبصورت سوچ میں بارودی سرنگ لگائی گئی ہے جس کا اظہار فوج کے سربراہ قمر باجوہ نے جمہوریت سے وابستگی کا اعلان کر کے کیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  2016ء کا آخری سورج

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔